چکبست کی شاعری میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی :- قریشی زیتون بانو

قریشی زیتون بانو

چکبست کی شاعری میں حب الوطنی اور قومی یکجہتی

قریشی زیتون بانو
جز وقتی لکچرر و ریسرچ اسکالر
ایم ۔ایو ۔کالج اودگیر ضلع لاتور(مہاراشٹر)
mob: 97 66 27 64 37

ہندوستان کی سر زمین صوفی سنتوں ،رشی منیوں ،ویدوں ،حکیموں اور ادیبوں شاعروں سے ہمیشہ معمور رہی ہے ۔اردو شعر وادب کے گلستاں کی آبیاری میں بلاتفریقِ مذہب وملت ،ہندو مسلم شعراء نے اپنا خونِ جگر صرف کیا ہے ۔جس کا اشارہ ماہر اقبال جگن ناتھ آزاد کے درج ذیل شعر سے ہوتا ہے ۔

ریاض ہند میں اردو وہ ایک خوش رنگ پودا ہے
جسے ہندو ،مسلم نے خونِ جگر سے سینچاہے
خونِ جگر سے سینچے ہوئے گلزار ادب میں راقمہ کی نظر ایک ایسے شاعر پر جا ٹہر تی ہے جسے قومیت اور حب وطن کا گل سرسبد کہا جاسکتا ہے۔ میری مرادبرج نرائن چکبست سے ہے جنھوں نے ادب، قومیت اور انسانیت کے پلڑے کو اپنی شاعری سے گراں قدر کیا ہے۔ پنڈت برج نرائن چکبست کی ولادت 19 جنوری 1882فیض آباد میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم لکھنؤ میں بذریعہ مولوی صاحب سے حاصل کی جو فارسی اور اردو کا درس دیا کرتے تھے ۔1902میں کیننگ کالج سے F.Aکی ڈگری حاصل کر کے B.Aمیں داخلہ لیا۔بعد ازاں L.L.Bکا امتحان پاس کر کے وکالت کے پیشہ سے وابستگی اختیار کی ۔
چکبست نے جس عہد میں شاعری شروع کی اس وقت لکھنوی رنگ غالب تھا لیکن مغربی ادب سے آگاہی ،اساتذہ کلا م کا مطالعہ اوروطنی رجحانات کے مشاہدے سے حقیقت آمیز شاعری کی طرف مائل ہوئے ۔ان کی شاعری میں غالب کا تفکر ،علامہ اقبال کا فلسفہ اور خواجہ حیدر علی آتش اور میر انیس کے انداز بیان کے نقوش ملتے ہیں ۔انگریزی مفکر ہڈسن نے لکھا ہے کہ :
ؒ ؒ Literature is the product of society ” ٍ "
ادب سماج کی پیداوار ہے ۔‘مذکورہ قول چکبست کی شاعری کا ترجمان ہے ۔ان کے کلام میں قومی وملکی ،سیاسی ومذہبی ،سماجی واخلاقی مضامین ملتے ہیں ۔ان کی شاعرانہ بصیرت افروزی نے مشکل پسندی اور دقیانوسیت کی طرف راغب ہونے نہیں دیا ۔مبا حثہ گلزار نسیم کے ایک مضمون میں چکبست نے اپنے بارے میں لکھا ہے کہ :
’’جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میرے علم سے ایک فقرہ بھی ایسا نہ نکلے گا جس سے کسی بندۂ خدا کی
توہین ہو ۔‘‘
اس کے علاوہ ان کا ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
ادب آموز ہے ہر ایک ذرہ اپنی وادی کا
نہیں ممکن کی گرد اڑ کر پڑے رہرو کے دامن پر
چکبست کے گنجینۂ ادب میں مجموعہ کلام’صبح وطن‘’مضامین چکبست‘ ’جنت کی ڈاک ‘ اور ڈرامہ’ کملا ‘شامل ہیں۔ ان کی شاعری کے موضوعات میں آبرو ؤ وطن ،ناموس وطن ،آبروؤ قوم ،سہاگ قوم ،وطن اور اہلیان وطن کی شکستہ حالی ،طوق غلامی ،حکمراں وقت کی ستم ایجادی ،آزادی کی تڑپ ،فغان اردو ،رہبران قوم وعوام کی داستاں ،ایثار وقربانی ،کبھی اذاں کا نعرۂ دلکش تو کبھی ناقوس کی نغمگی ،تہذیب نو اور خدمات انساں وغیرہ موجود ہیں۔چکبست نے اپنی بصیرت افروزی سے مذکورہ موضوعات کو شاعری میں وسعت دی ۔حب وطن سے متعلق ان کی نظمیں خاک ہند ،وطن کا راگ ،فریاد قوم ،نالہ درد ،،ہمارا وطن دل سے پیارا وطن ،وطن کوہم وطن ہم کو مبارک،اور قومی مسدس ہیں۔ہندو شاعر ہونے کے باوجود اردو شعر وادب سے گہری دلچسپی تھی۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ انہوں نے شاعری میں ہندو تہذیب کو نمایاں کرنے کے ساتھ مسلم تہذیب کو بھی اجاگر کیا ہے۔جو قومی یکجہتی کی بہترین مثال ہے ۔فرقہ ورانہ تعصبات کو دور کرکے اتحاد واتفاق سے رہنے کی تلقین ٗ ان کی شاعری کا اہم حصہ ہے ان کے نزدیک تصور انسانیت اہم شئے ہے جو ہر مذہب وملت میں موجود ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ
دردِ دل ،پاسِ وفا ،جذبۂ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا ہے
چکبست قومی شاعر تھے ان کا کلام حب وطن اور انسان دوستی کی عمدہ مثال ہے ان کی نظموں میں سیاسی وسماجی حالات پر تبصرہ، حکومت کو للکارنے کا عزم اور آتش بیانی ہندوستانی قوم کے آگ لگانے کا کام انجام دیتی ہیں ۔چکبست نڈر اور بے باک شاعر تھے جن کی جراء ت اور جوانمردی نے آزادی کے نغمے بکھیرے ہیں ۔غزل کے چنداشعار ملاحظہ ہوں :
مٹنے والوں کی وفا، کا سبق یاد رہے
بیڑیاں پانوں میں ہوں اور دل آزاد رہے
باغباں دل سے وطن کو یہ دعا دیتا ہے
میں رہوں یا نہ رہوں یہ چمن آباد رہے
دوسری طرف چکبست بیان کرتے ہیں کہ :
زبان کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں
میرے خیال کو بیڑی پنھا نہیں سکتے
چراغ قوم کا روشن ہے عرش پہ دل کے
اسے ہوا کے فرشتے بجھا نہیں سکتے
چکبست قوم کو نوجوانوں کو بیدار کرنے کا گر بھی جانتے ہیں ۔انہیں ذلت وپستی کا احساس دلاتے ہیں ،وہ قوم کو سر بلند نہیں کرنا چاہتے ہیں اس لئے دل دردمندی سے پکا راٹھتے ہیں کہ
قوم کی شیرازہ بندی کا گلہ بیکار ہے
طرزِہندو دیکھ کر ،رنگِ مسلماں دیکھ کر
نئے جھگڑے نرالی کا وشیں ایجاد کرتے ہیں
وطن کی آبرو، اہل وطن، برباد کرتے ہیں
چکبست کی شاعری میں وطن سے محبت اور یک جہتی کی فضا قائم رکھنے کا حسین امتزاج نظر آتا ہے ۔’خاک ہند ‘مسدس کی ہےئت میں آتھ بند پر مشتمل نظم ہے فنی اسلون کے لحاظ سے دلکش اور خوبصورت ہے جس میں انہوں نے خاک ہند کی عظمت کے گیت گائے ہیں اور دعا گو ہیں کہ مرنے کے بعد کفن کے لئے وطن کی خاک نصیب ہو ۔اس کے علاوہ اس نظم میں ہندوستان کی بڑائی بیان کر کے کوہِ ہمالیہ کی عظمت ورفعت کو پر خلوص انداز میں پیش کرتے ہے ۔چند اشعار مذکورہ خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں:

اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے
دریاے فیض قدرت تیرے لئے رواں ہے
تیری جبیں سے نور حسنِ ازل عیاں ہے
اللہ رے زیب وزینت کیا اوجِ عزوشاں ہے
ہر صبح ہے یہ خدمت خورشیدِ پر ضیا کی
کرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیہ کی (خاک ہند ۔1905)
نظم کا آخری بہت دلفریب ہے ۔وطن سے شدید محبت کو ظاہر کرتا ہے ۔شعر ملاحظہ ہو
گرَدو غبار یاں کا خلعت ہے اپنے تن کو
مر کر بھی چاہتے ہیں خاکِ وطن کفن کو (خاک ِ ہند)
چکبست نے شاعری میں جہاں مسلم تہذیب کو نمایاں کے ہے وہاں’ جلوہ معرفت‘ نظم میں اللہ تعالی کی وحدانیت اور نورِ خدا کے تصور کو پیش کیا ہے ۔قدرت کے مناظرسے خدا اور رسول ؐ کی کبریائی وبڑائی’ کے اشعار ’جلوہ صبح ‘نظم میں موجود ہیں۔کہتے ہیں عالم ہستی میں چمن کے پرندوں کی علی الصباح بیداری اللہ کے ذکر سے معمور ہے ۔شبنم کا قطرہ بھی تسبیحِ خدا ہمہ تن محو ہے ۔جہاں غنچوں کی رعنائی و خوبصورتی اللہ پاک کی حمد وثنا کی مظہر ہے وہیں اس کے چٹکنے میں چکبست نے صل علی کی آواز سے تشبیہ دی ہے ۔درج ذیل اشعار ملاحظہ ہوں :
مرغانِ چمن عالم ہستی میں سَحر دم ہے
وصفِ چمنِ آرا اے جہاں کرتے تھے باہم
شاخیں تھیں کہیں گردنِ تسلیمِ صفت خم
تسبیح خدا میں ہمہ تن محو تھی شبنم
غنچوں کے بھی تھی ورد زبان حمد خدا کی
آتی تھی چٹکنے میں صدا صلِ علی کی (جلوۂ صبح)
دوسری نظم ’خاکِ وطن ‘میں جہاں چکبست نے رانا پرتاب کی شجاعت وبہادری کی تعریف کی ہے وہیں اکبر کی اعتدال پسندی اور فراخ دلیکا تذکرہ بھی کیا ہے ۔گوتم بدھ کے ذریعے ہندوستان کو آبرو دینے کی بات بھی کہی ہے ۔ ناقو س کی فغاں کے ساتھ اذان کی میٹھی آواز کی بھی تعریف کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ وطن کی بقا وترویج میں ہر قوم ،ہر مذہب نے حصہ لے کر اس چمن کو آباد رکھا ہے ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
گوتم نے آبرو دی اس معبد کہن کو
سرمد نے اس زمیں پر صدقے کیا وطن کو
اکبر نے جامِ الفت بخشا اس چمن کو
سینچا لہو سے اپنے رانا نے اس چمن کو
اب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہے
فردوسِ گوش اب تک کیفیت اذاں ہے (خاکِ ہند )
چکبست کے اس جذبۂ حریت اور قومیت کے متعلق اثر لکھنوی نے لکھتے ہیں کہ :
’’صرف چکبست ہی وہ قومی شاعر ہیں جس نے کل ہندوستان کے جذبات ونظریات کی بلا امتیاز تفریقِ مذہب ترجمانی کی ہے‘‘۔
چکبست کی قومی شاعری غنائیت اور موسیقی سے لبریز ہے ۔ بچوں سے متعلق قومی نظمیں تحریر کی ہیں ۔شیریں اور رواں زباں کے ذریعے گلستاں ہند کی منظر کشی کی ہے ۔درختوں کا جھو منا ،پھولوں کا مہکنا ،چڑیوں کا چہکنا ،ساون کی گٹھاکی بہار، برسات کی ہلکی پھوہار ،گنگا جمنا کی لہروں کا زور وغیرہ کو نظموں میں تحریر کر کے وطن کی عظمت و محبت کے گیت گائے ہیں ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں
یہ پیاری انجمن ہم کو مبارک
یہ الفت کا چمن ہم کو مبارک
وطن کو ہم ،وطن ہم کو مبارکآ جو چڑیاں صبح کو گاتی ہیں اکثر
اسی کا راگ ہے ان کی زبان پر
وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک
چکبست شاعری میں ہندؤوں اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہیں اور دونوں مذاہب کے لوگوں کو اپنے اسلاف کی عظمت کا واسطہ دے کر وطن کی آزادی کے لئے جوش وامنگ کا پیغام دیا ہے ۔جس سے چکبست کی وسیع النظری ،عمیق مشاہدہ فکر ،رواداری ومساوات کا پتہ چلتا ہے ۔ہندو مذہب میں جہاں بھیشم وارجن کی شجاعت وبہادری کو سراہا ہے وہین نبیؐ کے خلق ومروت کے ورثہ دار کہ کر مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے اورغفلت کی نیند سے بیدار ہونے ،قومیت کا احساس دلانے ،وطن کے تئیں فرض وفا کو پہچاننے کا پیغامان کی نظم ’فریادِ قوم ‘سے ہوتا ہے ۔چند اشعار ملاحظہ ہوں
بھنور میں قوم کا بیڑ اہے ہندوؤ ہشیار
اندھیری رات ہے کالی گٹھا ہے اور منجھدار
اگر پڑے رہے غفلت کی نیند میں سرشار
تو زیرِ موج فنا ہوگا آبرو کا مزار
مٹے گی قوم پہ بیڑا تمام ڈوبے گا
جہاں میں بھیشم وارجن کا نام ڈوبے گا
دوسری طرف لکھتے ہیں کہ :
دکھادو جوہرِ اسلام اے مسلمانو !
وقارِ قوم گیا ،قوم کے نگہبانو
ستون ملک کے ہو قدرِ قومیت کو جانو
جفا وطن پہ ہے فرضِ وفا کو پہچانو
نبی کے خلق ومروت کے ورثہ دار ہو تم
عرب کی شانِ حمیت کے یادگار ہو تم (فریادِ قوم)
چکبست نے مذاہب کی رنگا رنگی کو قوسِ قزح سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ تمام رنگ میں جب ایک نور پیدا ہو تو روشنی کی کرنیں ہر سو پھیلنے لگے گی وطن جگمگا اٹھے گا فرقہ واریت اور منافرت کا خاتمہ ہوگا ۔اتحاد واتفاق کی فضا قائم ہوگی ۔نظم ’آوازۂ قوم ‘کے اشعار حسب ذیل ہیں ۔
رقیب کہتے ہیں کہ رنگِ وطن یکساں نہیں
بنا ہے قوسِ قزح خاکِ ہند کا داماں
جو ہوم رول پہ ،یہ چشم شوق شیدا ہو
تمام رنگ ملیں ،ایک نور پیدا ہو (آوازۂ قوم )
چکبست کو وطن سے اور ہم وطنوں سے گہری عقیدت تھی ۔وہ قوم کی ہر مصیبت کو اپنی مصیبت اور قوم کی ہر خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے تھے ۔جس کا اندازہ ان کی نظموں ’آوازۂقوم (1916)’ہم ہونگے عیش ہوگا اور ہوم رول ہوگا (1916)اور وطن کا راگ (1917)سے ہوتا ہے ۔انڈ ین ہوم رول لیگ برِ صغیر کی قومے وسیاسی تنظیم تھی اس لیگ کے سربراہ اینی بسنٹ ،محمد علی جناح ،اور بال گنگا دھر تلک تھے ۔جس وقت اینی بسنٹ کی گرفتاری ہوتی ہے تو چکبست کہہ اٹھتے ہیں کہ
پنھانے والے اگر بیڑیاں پنھائیں گے
خوشی سے قید کے گوشے کو ہم بسائیں گے
جو سنتری درِ زنداں کے سو بھی جائیں گے
یہ راگ گا کے انھیں نیند سے جگائیں گے
طلب فضول ہے کانٹے کی پھول کے بدلے
نہ لیں بہشت بھی ہم ہوم رول کے بدلے (وطن کا راگ )
مختصر یہ کہ وطن کی محبت چکبست کی رگ وپے میں بسی ہوئی تھی انہیں یہاں کی ذرے ذرے سے بے پناہ عقیدت تھی ۔ان کی شاعری میں وطن اور قوم کی محبت کے علاوہ تاریخی واقعات ،دلفریب مناظر ،مذہبی عقائد ،اور کائنات کے حقائق کے انکشافات جیسے مو ضوعات ملتے ہیں ۔ان کا کلام دیگر شعراء ادب کے مقابلے میں انفرادیت کا حامل ہے ۔بحثیت قومی شاعر ان کے لفظ لفظ سے حب الوطنی اور قومی یک جہتی کے چشمے ابلتے ہیں جسے قاری پی کرسیراب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
—–
حواشی
اردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ سنبل نگار
کلیات چکبست کالی داس گپتا رضا 1981
مضامین چکبست چکبست لکھنوی 1955
چکبست نمبر ڈاکٹر شجاعت علی سندیلوی 1977
چکبست حیات اور ادبی خدمات ڈاکٹر افضال احمد 1975