کچھ اصولِ تحقیق کے بارے میں:- رشید حسن خان

رشید حسن خاں

کچھ اصولِ تحقیق کے بارے میں

رشید حسن خاں

نوٹ:جہانِ اردو کی درخواست پر محترمہ آسیہ تنویر نے یہ مضمون ٹائپ کرکے ہمیں ارسال کیا ہے۔جن کے ہم ممنون ہیں۔امید کی جاتی ہے کہ دیگر احباب جو ٹائپ کرنا جانتے ہیں وہ منتخب مضامین ہمیں ارسال کریں گے تاکہ گوگل پر اردو کا زیادہ سے زیادہ موادپیش کیا جاسکے۔
رشید حسن خاں میدانِ تحقیق کے مردِ مجاہد ہیں۔ان کی تحقیقی کاوشیں اظہر من الشمس ہیں۔یہ مضمون ان کی معرکۃ الآرا تصنیف ’’ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ ‘‘ سے ماخوذ ہے ۔وہ طلباجو ریسرچ کرنا چاہتے ہیں اس مضمون کا بغور مطالعہ کریں۔وہ ریسرچ اسکالرز جنھوں نےتحقیق کا بیڑہ اٹھایا ہے وہ بھی اس مضمون کا نہایت گہرایٔ اور گیرایٔ سے مطالعہ کریں۔کیوں کہ تحقیق بقول شاعر کہ
یہ عشق نہیں آساں بس اتنا سمجھ لیجیے
ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
—–
حقائق کی بازیافت تحقیق کا مقصد ہے۔اِس کو یوں بھی کہا گیا ہے کہ:”تحقیق کسی امر کو اُس کی اصلی شکل میں دیکھنے کی کوشش ہے”(قاضی عبدالودود)اِس کے لیے یہ ماننا ہوگا کہ حقیقت واقعہ (یا اصلی شکل ) بہ ذات ِ خود موجود ہوتی ہے.خواہ معلوم نہ ہو ۔ اِسی بنا پر یہ بات بھی ماننا ہوگی کہ ایسی رائیں جو تاویل اور تعبیر پر مبنی ہوں . واقعات کی مرادف نہیں ہوسکتیں ؛کیوں کہ وہ نفسہہ کسی کی اصلی شکل نہیں ہوتیں ۔ تعبیرات پر حقائق کا اطلاق نہیں کیا جاسکتا . یہی صورت قیاسات کی ہے۔
کسی امر کی اصلی شکل کا تعیّن اُ س وقت ہوگا جب اُس کا علم ہو۔ یہ صحیح ہے کہ کسی چیز کا معلوم نہ ہونا . اُس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا. لیکن ادبی تحقیق میں کسی امر کا وجود بہ طورِ واقعہ اُسی صورت میں متعیّن ہوگا جب اصولَ تحقیق کے مطابق اُس کے متعلق معلومات حاصل ہو۔
واقعے کا چھوٹا بڑا ہونا یا اہم اور غیر اہم ہونا ادبی تحقیق میں کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتا۔یہ صفاتی الفاظ صرف اُس صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں اُس واقعے سے کام لیا جاریا ہے۔ جو بات ایک جگہ کم اہمیّت رکھتی ہے.بہ خوبی ممکن ہے کہ دوسری جگہ زیادہ اہمیّت رکھتی ہو۔تحقیق میں ہر واقعہ بجائے خود ایک حیثیت رکھتا ہے اور اُس کے متعلق ضروری معلومات حاصل کی جانا چاہیئے۔ اُس معلومات سے کہاں .کس طرح اور کس قدر کام لیا جائے؛ یہ دوسری بات ہے اور اِس کا تعلق ترتیبِ واقعات کے تقاضوں سے ہوگا، اِس بات کو ایک اور طرح بھی کہا جاسکتا ہے؛ شاعرانہ مرتبے کے لحاظ سے سب شاعر یکساں حیثیت نہیں رکھتے. مثلاًآبرؔواورناجؔی بہ حیثیتِ غزل گو میؔر ودرؔد کے ہم پلّہ نہیں اور یہ بات اپنی جگہ پر بالکل درست ہے؛ لیکن تاریخی ادوارکے لحاظ سے اپنے دور میں اِن کی اہمیّت ہے اور ارتقائے زباں کی بحث قواعدِ زباں و بیاں اور ترتیبِ لغت کئ نقطۂ نظر سے آج اِن شعرأ کی بہت زیادہ اہمیّت ہے۔ آبؔرو اور ناؔجی تو خیر اُس دور کے معروف شاعر تھے، اُن سے کچھ کم درجہ شعرأ کے دواوین بھی آج لسانی مباحث کے لیے بڑی حیثیت رکھتے ہیں۔
کسی امر کی اصلی شکل کی دریافت اِس لیے ضروری ہوتی ہے کہ صحیح صورتِ حال معلوم ہوسکے۔ اِس سلسلے میں جو شہادتیں مہیّا کی جائیں اور جو معلومات حاصل کی جائے، وہ ایسی ہونی چاہیے کہ استدلال کے کام آسکے تاکہ واقعات کی ترتیب میں صحیح طور پر اُس سے مددملے اور حدودِ تحقیق کے اندرنتائج نکالے جاسکیں ۔ اِس لیے یہ لازم ہوگاکہ جن امور پراستدلال کی بنیاد رکھی جائے ، وہ اُس وقت تک کی معلومات کے مطابق ، بہ ظاہر حالات شک سے بری ہوں اور جن مآخذسے کام لیا جائے، وہ قابلِ اعتماد ہوں۔ غیرمتعیّن ، مشکوک اور قیاس پر مبنی خیالات کا مصرف جو بھی ہو؛ اُن کی بنیاد پر تحقیق کے نقطۂ نظر سے قابلِ قبول نتائج نہیں نکالے جاسکتے ۔ ایک مثال سے اِس کی وضاحت ہوسکے گی:
یہ بات سچ ہے کہ امیر خسؔرونے "ہندوی” میں بھی شعر کہے ہیں۔ اس سلسلے میں اُن کا اپنا بیان موجود ہے؛ لیکن یہ نہیں معلوم کہ وہ شعری سرمایہ کہاں ہے۔خسرو کی مستند تصانیف ہمارے پاس ہیں، ان میں یہ ” ہندوی کلام” موجود نہیں۔ معاصر تصانیف بھی ایسے کلام سے خالی ہیں۔اب صورتِ حال یہ ہے کہ بہت سا کلام اُن سے منسوب کیا جاتا ہے(دو ہے، پہیلیاں، کہ مکرنیاں وغیرہ) مگر آج تک کسی شخص نے ایسی کوئی سند نہیں پیش کی ہے جس کی بنا پر اُس کلام کا انتساب صحیح مانا جاسکے ۔ جو حوالے دیے گئے ہیں ، وہ اِس قدر موخّر ہیں کہ معتبر ماخذ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ سب سے قدیم حوالہ ایک دوُہے کے سلسلے میں سب رس کا پیش کیا جاتا ہے، جو معروف دکنی تصنیف ہے۔ دیگر بحث طلب امور کے علاوہ بڑی بات یہ ہے کہ اِس کتاب کی تصنیف اور امیر خسرو کے عہد میں کم و بیش تین سو سال کا زمانی فصل ہے اور درمیان کی کڑیاں غائب ہیں۔ میؔر کے تذکرے نکاتُ الشعرأ میں ایک قطعہ خسؔرو سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہاں بھی وہی صورت ہے کہ سیکڑوں برس پر مشتمل زمانی فصل موجود ہے۔ میؔر نے اپنے مآخذ کا حوالہ دیا نہیں اور خود اُن کا تذکرہ خسؔرو کے سلسلے میں واحد ماخذ بننے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ محمد حسین آزاؔد نے مقدّمۂ آبَ حیات میں متعدد پہیلیاں (وغیرہ) خسؔرو سے منسوب کی ہیں اور حسبِ معمول حوالہ نہیں دیا، یہاں بھی وہی صورتِ ہے۔
غرض یہ کہ امیر خسرؔو کا ہندوی میں شعر کہنا مسلّم ، مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ذخیرہ کہاں ہے، اُس کا کچھ حال معلوم نہیں ۔ یہ اب تک کی معلومات کا حاصل ہے ۔جب تک اِس سلسلے میں نئی معلومات حاصل نہ ہو، اُس وقت تک یہی صورتِ حال برقرار رہے گی۔ اگر کوئی شخص نئے قابلِ قبول شواہد کے بغیر ، روایت کے طور پر خسؔرو سے منسوب ہندوی کلام کو پیش کرتا ہے تو اُسے قبول نہیں کیا جائے گا۔
تحقیق ایک مسلسل عمل ہے ، نئے واقعات کا علم ہوتا رہے گا، کیوں کہ ذارئعِ معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کون سی حقیقت کتنے پردوں میں چھپی ہوئی ہے۔ اکثر صورتوں میں ہوتا یہ ہے کہ حجابات بالتّدریج اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق میں اصلیت کا تعین اُس وقت تک حاصل شدہ معلومات پر مبنی ہوتا ہے ۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس سے نئی معلومات کے امکانات کی نفی نہیں ہوسکتی، لیکن یہ بات بھی اس قدر وضاحت کے ساتھ سمجھ لینا چاہئے کہ محض آیندہ کے امکان کی بنا پر اُن باتوں کو بہ طور واقعہ نہیں مانا جاسکتا جو اُس وقت محض قیاس آرائی کا کرشمہ ہوں ۔ جب بھی ایسی نئی معلومات حاصل ہوگی جو اصولِ تحقیق کے مطابق قابلِ قبول ہو ، تو اُسے لازماًقبول کر لیا جائے گااور اُس کے مطابق صورتِ حال کوتسلیم کرلیا جائے گا؛ خواہ وہ نئی معلومات پچھلے مسلّمات کی تکذیب کرتی ہو یا اُن کی مزید تصدیق کرتی ہو یا اُس کی مدد سے اضافے ممکن ہوں۔ دریافت کا عمل اِسی طرح جاری رہے گا اور ردّو قبول کے احکام بھی اسی طرح کار فرما رہیں گے۔
تحقیق میں دعوے سند کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوتے اور سند کے لیے ضروری ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ہونا ، مختلف حالات میں مختلف امور پر منحصر ہوسکتا ہے۔ اِس کی قطعی حد بندی تو مشکل ہے، لیکن اِس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ بہ ظاہر حالات حوالہ مشکوک نہ معلوم ہوتا ہو اور دلیل منطق کے خلاف نہ ہو۔ روایت کے سلسلے میں اسکی بڑی اہمیت ہے کہ راوی کون ہے ۔ اس کے ساتھ اکثر صورتوں میں یہ معلوم ہونا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کن حالات میں روایت کی گئی تھی؛ خاص طور پر اُن بیانات کے سلسلے میں جو کوئی شخص اپنے متعلق یا اپنے متعلّقین و اسلاف کے متعلّق دیا کرتا ہے (کیوں کہ ایسی صورتوں میں دانستہ یا نا دانستہ غلط بیانی کا احتمال بہت کچھ رہا کرتا ہے۔) مرزا غاؔب نے ہندوستانی فارسی دانوں پر جس طرح اعتراضات کیے تھے اُس کا ردِّعمل ہونا ہی تھا پھر خود اُن کے ہندوستانی ہونے اور بے اُستاد ہونے کی بحث بھی اُٹھنا ہی تھی۔جب انھوں نے ایک "جلیلُ القدر امیر زادۂ ایران ” ہرمزدثمّ عبدالصمد کے ہندوستان آنے اور اُن کا مہمان بننے اور پھر اُن کو فارسی کے اسراسورموز سکھانے کا دعوا کیا تو قدرتی طور پر یہ خیال پیدا ہونا چاہیے تھاکہ یہ اچانک انکشاف کہیں "بے مرشد ہونے” کے اُس اعتراضات کا جواب تو نہیں!تحقیق کی نگاہیں آج تک اُس” جلیل القدر امیر زادۂ ایران” سے آشنأ نہیں (؎۱) ہوسکی ہیں اور بظاہر سارے حالات اُس پر دلات کرتے ہیں کہ عبدالصّمد غالؔب کا مخلوقِ ذہنی تھا، اُس مشہور قول کے مطابق کہ ؛ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے۔
یہ عین ممکن ہے کہ اچّھے خاصے محتاط آدمی کو کسی خاص موضوع سے ایسا جذباتی تعلّق ہوکہ وہ اُس موضوع کی حد تک احتیاط کے تقاضوں کو پوری طرح ملحوظ نہ رکھ سکے۔ مثلاً پروفیسر سیّد مسعود حسن رضوی (مرحوم) احتیاط کے قائل تھے ، محنت اور لگن کے ساتھ کام کیا کرتے تھے؛ اِس کے باوجود محمد حسین آزاد اور واجد علی شاہ کا ذکر آتے ہی وہ بہت جذباتی ہوجایا کرتے تھے۔ اِن دونوں کے سلسلے میں اُن تحریروں کا بھی یہی احوال ہے۔ دیوانِ فائؔز کی ترتیب اور فائز کے حالات کی تحقیق میں انھوں نے جس احتیاط پسندی سے کام لیاہے، (یہ بات اِشاعتِ ثانی کو پیشِ نظر رکھ کر لکھی جارہی ہے) آزادؔ اور واجد علی شاہ کے سلسلے میں اُس طریقِ کار اور اُس اندازِ نظر سے وہ کام نہیں لے سکے ہیں ۔ اور میری رائے میں اِس کی اصل وجہ جذباتی تعلقِخاطر ہے۔ ان دنوں موضوعات کے سلسلے میں اگر مرحوم کی تحریروں سے استفادہ کیا جائے تو اِس پہلو کو خاص طور پر پیش ِ نظر رہنا چاہیے۔
راوی کی شخصیت بہت اہمیّت رکھتی ہے ۔ جن لوگوں کے متعلّق معلوم ہے کہ وہ واقعہ تراشی اور داستاں سرائی سے بھی بلا تکلّف کام لیا کرتے تھے، یا کوئی صاحب اِس قدرخوش گمان اور زود یقین ہیں کہ تحقیق کی مشکل پسندی کے حریف نہیں ہوسکتے؛ تو ایسے مولّفین اور راویوں کے فرمودات اور مختارات کو اُس وقت تک بناے استدلال نہیں بنایا جانا چاہیے جب تک کہ کسی معتبر ذریعے سے تصدیق نہ ہو جائے(اس کی مفصّل بحث "غیر معتبر حوالے” اور تبصرۂ تاریخِ ادبِ اردو ” میں ملے گی)۔
بالواسطہ روایت پر انحصار اگر ضرورہ ہوتو بہت احتیاط کے ساتھ استفادہ کرنا چاہیے۔ اگر ماخذ قابلِ حصول ہوتو بہ راہِ راست استفادہ کرنا چاہیے اور اِس کو لازم سمجھنا چاہیے۔ بالواسطہ استفادے سے آدمی بعض اوقات بے طرح مبتلاے غلط فہمی ہوجایا کرتا ہے۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہوسکے گی: یہ بات کہی گئی تھی کہ حیدرآباد کی آصفیہ لائبریری میں مطبوعہ دیوانِ غاؔلب کا ایک ایسا نسخہ محفوظ ہے جس کی اغلاط کی تصحیح غالب نے اپنے قلم سے کی تھی۔ مالک رام صاحب نے جب دیوانِ غالب مرتّب کرنا چاہا تو بجاے اِس کے خود اُس نسخے کو دیکھتے اور فیصلہ کرتے(کیوں کہ اُس سے بہ راہِ راست اور بہ آسانی استفادہ کیا جاسکتا تھا) یہ کیا کہ نصیر الدّین ہاشمی (مرحوم) کو خط لکھا کہ؛ ” یہ دیوانِ غالبؔ اِس لیے بھیج رہا ہوں کہ آپ کے وہاں جو نصخة۔۔۔۔ ہے اور جس پر خود غالب کے ہاتھ کی تصحیحات ہیں۔۔۔ اُسے دیکھ کر تمام اختلافات اِس پر درج فرمادیں "۔ لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ آصفیہ لائبریری میں وہ نسخہ موجود نہیں۔ بالواسطہ اطّلاعات پر بھروسہ کیا گیا اور غلط فہمی کا بہت زیادہ سروساماں فراہم ہوگیا۰ مفصّل بحث تبصرۂ ” دیوانِ غالب صدی اڈیشن ” میں ملے گی۔
یہ لکھا جاچکا ہے کہ تعبیرات کو واقعات نہیں کہا جا سکتا اور تحقیق کا مقصود حقائق کی دریافت ہے؛ اِس لیے ایسے موضوعات جن میں تنقیدی تعبیرات کا عمل دخل ہو ، تحقیق کے دائرے میں نہیں آتے۔ تنقیدی صداقت ، تنقیدی تعبیرات کا نتیجہ ہوا کرتی ہے، یہی وجہہ ہے کہ ایک ہی مسئلے پر مختلف لوگ مختلف رائیں رکھتے ہیں ، جب کہ تحقیق میں اختلاف ِ راے کی اِس طرح گنجائش نہیں۔ اِس زمانے میں یہ رحجان فروغ پارہا ہے کہ تحقیقی مقالوں کے لیے ایسے موضوعات منتخب کے جائیں جو اصلاً تنقید کے دائرے میں آتے ہیں۔یہ تحقیق اور تنقید دونوں کی حق تلفی ہے۔ تنقید کے مقابلے میں تحقیق کا دائرۂ کار محدود ہوتا ہے۔ تحقیق، بنیادی حقائق کا تعین کرے گی اور اُن کی مدد کرے گی اور ان کی مدد سے ایسے نتائج نکالے جاسکیں گے جن میں شک یا قیاس یا تاویل یا ذاتی رائے کا عمل دخل نہ ہو۔ اخذِ نتائج میں جہاں سے تعبیرات کی کار فرمائی شروع ہوگی اور اُن پر مبنی اظہارِ رائے کا پھیلاو شروع ہوگا ، وہاں تحقیق کی کار فرمائہ ختم ہوجائے گی۔
زندہ لوگوں کو موضوعِ تحقیق بنانا بھی غیر مناسب ہے ، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مختلف اثرات کے تحت حقائق کا صحیح طور پر علم نہیں ہو پائے گا۔ ذاتی اثرات ، غیر معتبر رواتیں ، گروہ بندی اور مذہبی یا سیاسی وابستگیوں کی پیدا کی ہوئی مصنوعی عقیدت؛ یہ ایسے عوامل ہیں کہ اِن کا پھیلایا ہوا غبار زندگی میں ابہام کا دھند لکا پھیلائے رکھتا رکھتا ہے۔ بالفرض سب کچھ معلوم ہوجائے، تب بھی ہندوستان کے موجودہ معاشرتی حالات میں بظاہر اس کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ اُن سب حقائق اور اُن کی تفصیلات کو بے کم و کاست پیش بھی کیا جاسکے گا۔ اِس کے سواٗ زندگی مجموعی طور پر ایک اکائی ہے اور یہ عمل و ردِّ عمل کا طویل پیچیدہ سلسلہ ہے جو زندگی میں کسی ایک جگہ ختم نہیں ہوتا۔ آدمی جب تک زندہ رہے گا اِس کا امکان ہے کہ وہ فکرو عمل کی تبدیلیوں سے دوچار ہوتا رہے اور ایسی تبدیلوں کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا۔ اسی لیے زندہ آدمی کے اعمال و افکار کا مکمل تجزیہ ممکن نہیں اور مکمل تجزیے کے بغیر کسی شخص کے ساتھ انصاف کیا ہی نہیں جا سکتا‪.‬زندہ آدمی کی شخصیت نقاب پوش رہتی ہے ، خاص طور پر اُس صورت میں اُس کو زندگی کے کسی شعبے میں خاص حیثیت حاصل ہو۔ موت آکر سارے رکھ رکھاو کاخاتمہ کردیا کرتی ہے، اِس کے باوجود حقائق کو پوری طرح بے نقاب کے لیے موت کے بعد بھی ایک اچھا خاصا وقفہ درکار ہوتا ہے۔ اِس حقیْت کو ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے اور مناسب یہی ہوگا مرحومین کے سلسلے میں بھی ایک خاص وقفے سے پہلے اِس طرف توجّہ نہ کی جائے۔۔ ایک بات اور: اب تک یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جن زندہ لوگوں کو موضوعِ تحقیق بنایا گیا تو اُس انتخاب میں دنیاداری کی کسی مصلیحت کو ضرور دخل تھا۔ بہ ظاہر حالات خیال یہ ہے کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ عملی طور پر یہ بھی ایک اندازِ ستائش گری ہے(مستثنیات اگر ہیں تو اُن سے بحث نہیں )َ
حافظہ جس طرح مدد کیا کرتا ہے اُسی طرح دھوکا بھی دیا کرتا ہے۔ بارہا یہ ہوا ہے کہ یاداشت پر بھروسا کیا گیا اور کتاب دیکھنے پر معلوم ہوا ہے کہ یاداشت صورتِ حال مختلف تھی۔ حافظے سے مدد لینا چاہیے، آنکھیں بند کرکے اُس پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے اور کتاب دیکھے بغیر کسی بھی بات کو حوالۂ تحریر نہیں کرنا چاہیے۔ قاضی عبد الودود صاحب نے آقاے پورداوّد کے حوالے سے لکھا ہے؛ قزوینی نے مرزبان نامہ کی ترتیب و تصحیح میں بڑی احتیاط سے کام لیا تھا لیکن جب اُن کامرتّبہ نسخہ ایران پہنچا تو بہت سی غلطیاں نکالئ گئیں۔قزوینی کو اس بات کا علم ہوا تو اُنہوں نے عہد کیا کہ سورۂ اخلاص کی آیت بھی آیندہ نقل کرنی ہوگی تو دیکھ لوں گا کہ قرآن میں کس طرح ہے۔ ظاہر اسب یا بیشتر اغلاط کا ذمّے دار اُن کا حافظہ تھا۔ اُنھوں نے اُس پر اعتماد کیا اور اُس نے دیا”۔ ( آج کل اردو تحقیق نمبر ۱۹۶۷ ؑ ) ۔
تحقیق کی زبان کو امکان کی حد تک آرایش اور مبالغے سے پاک ہونا چاہیے اور صفاتی الفاظ کے استعمال میں بہت زیادہ احتیاط کرنا چاہیے۔ اردو میں تنقید جس طرح انشا پردازی کا آرایش کدہ بن کر رہ گئی ہے ، وہ عبرت حاصل کرنے کے لیے کافی ہے اور تحقیق کو اس حادثے کا نشانہ نہیں بننے دینا چاہیے۔ قاضی عبد الودود صاحب نے لکھا: محقّق کو خطابت سے احتراز واجب ہے اور استعارہ و تشبیہ کا استعمال صڑف توضیح کے لیے کرنا چاہیے۔۔۔ تناقص و تضاد اور ضعف ِ استدلال سے بچنا چاہیے۔۔۔ شبلی کی جو کتاب عالمگیر پر ہے اس کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے۔” فلسفۂ تاریخ کا ایک راز ہے کہ جو بات جتنی مشہور ہوتی ہے ، اتنی ہی غلط ہوتی ہے۔” یہ صریحاً غلط ہے اور شبلی یہ کہنا چاہتے ہوں گے کہ شہرت صحّت کی ضامن نہیں”۔ ( آج کل اُردو تحقیق نمبر)
—–
‬۱؎‫‬ – قاضی‬ عبد الودود صاحب نے اپنے مضمون ” غالبؔ کا ایک فرضی استاد” ( علی گڑھ میگذین غالب نمبر) میں اس پر مفصّل بحث کی ہے ۔ مولانا امتیاز علی خاں عرشی نے بھی ایک مضمون میں جو غالباً فاران کراچی کی کسی اشاعت میں ہوا تھا ، یہی خیال ظاہر کیا ہے مکاتیب ِ غالب کے ایک حاشیے میں بھی یہی لکھا ہے ( طبعِ ششم ص ۶۷۴ )۔ اِس سلسلے میں مولانا حالیؔ کا یہ قول بھی قابلِ توجّہ ہے: ” اگرچہ کبھی کبھی مرزا کی زبان سے یہ بھی سنا گیا ہے کی ” مجھ کو مبدی فیاض کے سوا کسی سے تلّمذ نہیں ہے اور عبد الصّمد محض ایک فرضی نام ہے چوں کہ لوگ مجھ کو بے استاد کہتے تھے اُن کا منہ بند کرنے کو میں نے ایک فرضی استاد گڑھ لیا ہے”۔ ( یاد گارِ غالب اوّل،س ۱۴ )۔
——
tahqeeq00011

tahqeeq0002

tahqeeq0003

tahqeeq0004

tahqeeq0005