مغنی تبسم : میں عجب شہرہوں معمورہوں ویرانوں سے ۔ ۔ ۔ علامہ اعجازفرخ

مغنی تبسم
پروفیسرمغنی تبسم
ALLAMA AIJAZ FARRUKH SAHAB
علامہ اعجازفرخ

پروفیسرمغنی تبسم
میں عجب شہرہوں معمور ہوں ویرانو ں سے

علامہ اعجازفرخ – حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09848080612
ای میل :
– – – – – – –
نوٹ : استادِ محترم پروفیسرمغنی تبسم (۱۹۳۰۔ ۲۰۱۲) ممتاز نقاد ‘ شاعر‘محقق اور ایک شفیق استاد کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔جامعہ عثمانیہ حیدرآباد سے آپ نے نہ صرف ایم اے کیا اور فانی بدیوانی پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی بلکہ بحیثیت پروفیسر اور صدر شعبہ اردو کی خدمات بھی انجام دیں۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وہ وزیٹینگ پروفیسر رہے ہیں۔آپ کے شعری مجموعوں میں نواے تلخ ‘ پہلی کرن کا بوجھ ‘ مٹی مٹی میرا دل اور ایک کلیات ’’درد کے خیمے کے آس پاس ‘‘شائع ہوچکے نیزتنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ’’بازیافت‘‘ اور’’ لفظوں سے آگے ‘‘ کے علاوہ تحقیقی مقالہ فانی بدایونی بھی شائع ہوکرادبی دنیا میں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔اپنی آخری سانس تک ادارہ ادبیات اردو کو فروغِ علم و ادب کا مرکز بناے رکھا ‘ماہنامہ سب رس کو اپنی ادارت میں ایک اعلیٰ مقام عطا کیا اور ڈاکٹرزورؔ کے مشن کو آگے بڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پروفیسر شہریارکے ساتھ مجلہ ’’شعر و حکمت ‘‘کے کئی ایک ضخیم شمارے نکالے۔ انہیں کئی ایک قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا گیا۔وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے ۔ کمرۂ جماعت میں تدریس کا ان کا ایک منفرد اندازتھا۔ تحقیق کا معیار ہمیشہ ان کے پیش نظر رہا۔ وہ ہمیشہ گہرے سمندر کی طرح دکھائی دیتے تھے کم سے کم لفظوں میں معی کے دریا بہادینے کا فن انہیں خوب آتا تھا۔ پروفیسر مغنی تبسم کی چوتھی برسی(۱۵ فروری) قریب ہے اوراس حوالے سے علامہ اعجاز فرخ کا ایک دلچسپ مضمون احباب کی نذر ہے ۔ بقول مغنی تبسم
چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا
کسی پہ کُھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زندگی صرف چہرے نہیں کہ چہروں پر نقابیں بھی ملتی ہیں۔زندگی کو اس کے نہاں خانوں میں اتر کر دیکھئے تو اس کے پیچ و خم اس کی بھول بھلیاں ایک ہی انسان کو صدیوں کا فرزند بناکر اپنے جلو میں ساری حشرسامانیوں کے ساتھ تاریخ اوروہ بھی زندگی کی تاریخ کو کہیں روشن اورکہیں نیم روشن جھملاتی دکھائی دیتی ہے اورکہیں کہیں ایسا بھی ہوجاتاہے کہ انسان خودکو صرف کچھ دیر خوابیدہ محسوس کرے اورآنکھ کھلے توبستیاں‘مکان ‘کوچے‘ دروبام‘ چہرے‘سب کے سب بدل گئے‘ جو رہ گئی تو صرف ذات کی تنہائی کہ اس تنہائی کی مونس وغمخوار خود تنہائی ہے۔یہ سفر نقل مکانی نہیں ہے کہ جہاں زمین اپنی بساط تہ کرلیتی اور ذہن آن واحد میں جست لگاکر مکاں سے لامکاں کی حد امکان تک پہنچ جاتا ہے‘ لیکن اس کا ذوق سفر اس کو’’کہیں اور‘‘ کی تمنا میں منتظر بھی رکھتا ہے۔کبھی کبھی یہ کیفیت بھی گزرتی ہے کہ ذہن کے اجنبی جزیرے آہستہ آہستہ نامانوس تخلیق سے مانوس قالب اختیارکرلیں۔ایسی صورت میں جو کیفیات پیدا ہوتی ہیں اس سے کچھ بے نام رشتے بھی وجود میں آتے ہیں۔ان رشتوں اور افکار کے سوانحی حالات اور شخصیت کی تشکیل اپنی جگہ مسلم ہے،لیکن اصل بات قوت اظہار کی ہے‘ جس کے تحت دیگر تمام عوامل فن میں اپنی جگہ پاتے ہیں۔بے مکانی اور تنہائی کا غم کوئی نیا نہیں ہے۔یہ تو میراث آدمیت ہے کہ جنت مکانی سے زمین کا سفر بے مکانی اسے مسلسل گھر کی تلاش میں محو سفر رکھے ہوئے ہے اور اگر الف لیلیٰ ہزار راتوں کی داستان ہے تو یہ دُکھ ہزار دکھوں کا ایک دُکھ ہے۔اس میں سے ہر دکھ کا کہیں نہ کہیں ‘کسی نہ کسی درد سے رشتہ ہے۔یہ رشتہ درد کے خیموں کے آس پاس کسی مانوس خوشبو کی تلاش میں ہزار ہزار آبلہ پائی کے باوجود اسے محو سفر رکھتاہے۔اس سفر میں سر خار کی تیزی اور اس پردانستہ قدم قدم زندگی خوداذیتی کی رہگزر سہی ‘لیکن لبوں پر ایک آسودہ تبسم اور وجود میں غنائیت کے کیف و کم یوں ہزار آتشہ کردیتی ہے کہ اس خار کی چبھن کے آگے ہر نشہ پھیکا سا لگے اور ہونٹوں پر تبسم مقابل کو ہمیشہ اس فریب مسلسل میں اسیر رکھے کہ اک گونہ بے خودی اسے دن رات میسر ہے‘ جس کی آرزو نے حرف تمنا کے اظہار میں خود سے زیادہ اس کے غم کو بے ردا کیا جسے ذات کے ہزار نہاں خانوں میں چھپا رکھا تھا۔
مغنی تبسم صاحب سے میرا رشتہ بہت پرانا ہے ۔یہ رشتہ بھی وہی رشتہ ہے کہ جہاں ذہن کے اجنبی جزیرے نامانوس تخلیق سے مانوس قالب اختیار کرلیں تو جو بے نام رشتے وجود میں آتے ہیں‘ وہی بے نام رشتہ مغنی صاحب سے میرا بھی ہے۔یہ غالباً ۱۹۵۸ء کی بات ہے‘ جب آندھراپردیش ساہتیہ اکیڈمی کے زیر اہتمام’’حیدرآباد کے شاعر‘‘ کی پہلی جلد خواجہ حمید الدین شاہد نے مرتب کی تھی۔اس وقت میں نویں جماعت کا طالب علم تھا اور مغنی صاحب پیشہ تدریس سے وابستہ ہوچکے تھے اور ڈاکٹر جان گلکرائسٹ کی ادبی خدمات پر پی ایچ ڈی کررہے تھے۔میں چنچل گوڑہ ہائی اسکول کا طالب علم تھا۔مغنی صاحب مجھ سے نہ صرف عمر میں۱۴ برس بڑے تھے‘ بلکہ سماعتوں کے ہجوم میں ان کی آواز ایک ایسی سماعت کی تمنائی تھی ‘جو زیر و زبر کرتی ہوئی مادی ناہمواریوں میں اخلاقی استواری کی تلاش میں مصروف رہی ہو۔اس فضائے جزرومد اور اس ہوائے گرم و سرد میں یہ آواز ظن و تخمین کے بجائے یقین کی آواز رہی ہے۔چنانچہ اس کیفیت میں یہ منزل بھی آئی کہ انہوں نے کہا:
رستہ ہے سخن کا بند تجھ سے
اب اپنے خدا سے گفتگو ہے

میں سوچ رہاہوں‘ تو نہیں ہے
میں دیکھ رہا ہوں اور تو ہے

آئینہ خیال بن گیا ہے
اک چہرہ یقیں کا روبرو ہے

دُنیا کے سوال سارے مجھ پر
چپ ہوں کہ مرا جواب تو ہے
جس لڑکپن اور جوانی کے چھٹپٹے سے میں گزر رہاتھا اس وقت مجھے ساحرؔ کی’ تلخیاں‘ پوری زبانی یاد تھی۔سعید شہیدی جب غزل سراہوتے تو لگتا تھا کہ سرخ گلاب کی ٹہنی پر چودہویں کی شب بلبل چہک رہا ہے‘ لیکن سوز ایساہوتا کہ لگتا ٹہنی کا کانٹا بلبل کے سینے میں دھنس کر گلاب کے لئے سرخی سینچ رہا ہے۔مخدوم کو سن کر میں رات بھر یہی سوچتا کہ یہ کیسے لفظ ہیں جو’’ہم شہیدوں کے تن‘‘ سے وہ کیفیت پیدا کردیتے ہیں کہ مسامات سے خون پھوٹ پڑے اور پھر وسرے ہی لمحے اک چنبیلی کے منڈوے تلے کلی کے چٹکنے کی سرگوشی اورکھوبڑے کے جوڑے کی مصنوعی احتجاج آمیز خود سپرد گی کا آہنگ پیدا کرسکیں۔
میں اُردو کے ایک پروفیسر کی طرح پارسائی کادعویدار نہیں ہوں کہ کبھی رسالہ’’’شمع‘‘ نہیں پڑھا‘ بلکہ علی باقر کی فرانسواس کو نیلے لباس میں ملبوس ماگراف اور اس کے بدن کی ملی جلی خوشبو بھی پہلے پہل ان ہی اوراق میں محسوس کی اور کرشن چندر نے بھی میری ملاقات لالی اور گل سے ایک عورت ہزار دیوانے کے عنوان سے ان ہی صفحات میں کروائی اور مٹی خراب کرنے میں ڈاکٹر مجاور حسین جو اس وقت ابن سعید تھے ‘راہی معصوم رضا جو شاہد اختر تھے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔پھر بھی نہ جانے کیوں احمد ندیم قاسمی کا یہ شعر اچھا لگتا ہے کہ:
سر بچا لائے ہو لیکن یہ زیاں تو دیکھو
کتنا ویران ہے تا حدِ نظر منظرِ دار
یہی کشمکش توازن آمادہ ہوئی تو مجھے مغنی تبسم تک کھینچ لائی۔مغنی صاحب۱۲ برس کی عمر سے شعر کہتے ہیں، لیکن ان کااستقلال اور قوت برداشت زندگی کے اس طویل سفر میں ان کا زاد راہ رہا ہے۔وہ حالات سے نبرد آزما ہوتے رہے اور زندگی کو زندگی کی طرح برتتے بھی رہے۔جب مغنی صاحب جان گلکرائسٹ پرمقالہ مکمل کرنے کی منزل میں تھے پروفیسر جعفر حسین جو بحیثیت ڈین اپنے فرائض انجام دے رہے تھے‘ مانع ہوئے۔پروفیسر عبدالقادر سروری،ثمینہ شوکت کو پی ایچ ڈی کروانا چاہتے تھے۔انہیں بھی تیار مواد کی ضرورت تھی۔مغنی تبسم پھر پیچھے رہ گئے۔انہوں نے موضوع بدل کر ہاشمی بیچاپوری پر کام کیا۔ڈاکٹر حفیظ قتیل نے کام رکوادیا۔مغنی صاحب سمجھ گئے کہ جب تک ثمینہ شوکت کی ڈاکٹریٹ مکمل نہیں ہوجاتی، ان کی سعی لاحاصل رہے گی۔آخر کار سروری صاحب کے بعد جب مسعود حسن خاں نے جائزہ حاصل کیا تو ان کی زیر نگرانی مسعوود حسن خاں نے فانی بدایونی حیات اور شخصیت عنوان دیا ‘لیکن جب مقالہ مکمل ہوگیا تو انہوں نے کہا صرف حیات سے کیا ہوتاہے‘ اصل چیز تو شاعری ہے اور اس کی تکمیل کے لئے صرف تین ماہ باقی رہ گئے تھے۔مغنی صاحب نے بلاتنخواہ تین ماہ کی رخصت لی اور بڑی تنگدستی میں گزارے اور بالآخر۲۸؍ دسمبر۱۹۶۶ء سے وہ ڈاکٹر مغنی تبسم کہلانے لگے۔۱۹۸۳ء میں وہ پروفیسر ہوگئے اور۱۹۹۰ء میں عثمانیہ یونیورسٹی ہی سے وظیفہ پر سبکدوش ہوئے۔
میں خود کو اس بات کااہل نہیں پاتا کہ ان کی شخصیت‘ شاعری یا نقد و تحقیق پر کوئی خامہ فرسائی کرسکوں‘ اس لئے کہ یہ میری حسرت ناتمام رہی کہ میرا شمار مغنی صاحب کے شاگردوں میں ہوتا‘ لیکن میں نے اس کے ازالہ کی یہی صورت اختیار کی ہے کہ میں گزشتہ صدی کے طالب علموں کی طرح آج بھی انہیں’’صاحب‘‘ کہہ کر اپنی تسکین کا سامان کرلیتا ہوں۔مغنی صاحب کی شاعری ان کے خوش ذوق قاری کو جہاں ان کے اندر کے آدمی کی غنائیت سے روشناس کرواتی ہے‘ وہیں ایک بربطہ افسردہ کے تاروں کو دُھن سے افسردہ بھی کرتی ہے‘ لیکن ان کے ہونٹوں پر تبسم کی لکیران سے ملنے والوں کے لئے طلسم کا ساتواں در کھولتی ہے۔وہ اپنے دوست سے زیادہ اپنے نقاد کے معترف ہیں اور اپنے نقاد سے بڑھ کر اپنے دشمن کے قدر داں ہیں۔میں نے تین شخصیتوں کے اندر درد بیکراں کو ان گنت خیموں میں خیمہ زن پایا۔راشد آزر کے پاس بھی یہ کیفیت ملی کہ:
تجھ کو کھوکر جو کچھ پایا
تجھ کو پاکر کھوسکتا تھا
یا پھر
مکین چھین کے مجھ سے مکاں دیا مجھ کو
مجھے تو اس سے یہ اُمید تھی کہ گھر دے گا
جب کہ مغنی کے پاس یہ کیفیت’’چیز دیگرے‘‘ کی مانند ہے۔ان کی یہ نظم شاید کسی حد تک درد کے ایک خیمہ کامنظر دکھلا سکے۔
اب کوئی رات نہیں آئے گی
خواب ٹوٹے ہوئے لفظوں کے بکھر جائیں گے
نام آنکھوں میں ٹھہر جائیں گے
کوئی آواز نہ آئے گی نظر
کوئی چہرہ نہ سنائی دے گا
دشت قدموں کو نہیں پائیں گے
تو میری یاد سے آہستہ گزر
مغنی وہ قاتل ہے‘جو محبت سے قتل کرے اور اجنبیت سے زخموں کے اندمال کا سامان بھی پہنچائے۔یہی وہ مغنی ہے جو آواز کو بدن اور چہرے کو موسیقی میں بدل سکتا ہے۔وہ تیسرا شخص جو درد کے خیموں کے آس پاس رہتا ہے‘ اسے آپ خود تلاش کرلیجئے‘ میں پتہ جانتا تو اسے اپنے گھر لے جاتا لوگ کہتے ہیں کہ مونا لیزا کی مسکراہٹ ہر ذہن و فکر کے لئے ایک مفہوم رکھتی ہے۔صدیاں تو لمحوں میں بدل جاتی ہیں‘ لیکن لمحہ جب صدی بنتا ہے تو وقت کے دامن میں ریشم کے تار اور سوت کے دھاگے کا درمیانی فرق بھی باقی نہیں رہ جاتا۔میں نے کبھی مونالیزا کی تصویر نظر بھر کر نہیں دیکھی‘ اس لئے کہ اس کے رنگ مصور ہی جانے‘ لیکن مغنی کے تبسم کے تفسیر کے لئے:
انگلیاں فگار اپنی خامہ خونچکاں اپنا
اور پھر اس پر بھی ستم ایسا کہ: یہ ایک تبسم بھی کسے ملتا ہے
مغنی تبسم کی بساط نقد پر کچھ لکھنے کے لئے میرا قد بہت چھوٹا ہے۔میری علمی ناداری کی وجہ سے میں یہ سمجھتا رہا ہوں کہ ایک اچھا فنکار ایک اچھا نقاد نہیں ہوسکتا یا اس بات کو الٹ کر بھی کہئے کہ اچھا نقاد اچھا فنکار نہیں ہوسکتا۔لیکن عصر حاضر میں دونازک فنکار مغنی تبسم اور وحید اختر بیک وقت نازک فنکار اور اچھے نقاد رہے ہیں‘ لیکن دونوں کی شخصیت ‘ فن اور نقد میں ایک واضح فرق یہ نظر آتا ہے کہ وحید اختر کا پندارانا تکبر کی سرحدوں سے سے قریب تھا‘ جب کہ مغنی تبسم کے پاس ضبط وتحمل کی کمی نہیں۔وحید اختر تنقید میں سفاک اور سادیت پسندSadist رہیہیں‘ جب کہ مغنی تبسم مساکیت پسند یا خود اذیتی میں سکون محسوس کرتے ہیں‘ وہ جراحت برائے زندگی کے قائل ہیں۔
میرا ادب سے کوئی تعلق نہیں‘نہ میں شاعر ہوں‘ نہ ادیب‘ نہ نقاد‘ نہ صحافی‘ نہ محقق‘ نہ دانشور‘ نہ قاضی عبدالودود کے قواعد تحقیق سے واقف ‘نہ شارب رُدَولوی کے اصول نقد سے آشنا۔فقیر ہوں مگر کشکول بدست نہیں۔بس اتنی سی رچی بسی ہے کہ’’کبھی جو ہوگیا پھیر ا صدا سنا کے چلے‘‘
مغنی صاحب کے تبسم میں معلوم نہیں کیا اثر ہے کہ۷۸ برس کے سن و سال میں بھی ان کا حسن انگشت تراش ہے یا شاید کچھ تاثیر زلیخائی بھی درپیش ہو۔زندگی کے ایک ایسے لمحے میں جب میرا جی چاہتا ہے بس اب پلکیں موندلوں‘ انہوں نے بساط نقد میرے نام معنون کرکے انہیں دیدۂ حیراں کرکے رکھ دیا۔میں تو صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ:
دیدہ و دل کو سنبھالو کہ سر شام فراقؔ
تازہ سامان بہم پہنچا ہے رسوائی کا

۵ thoughts on “مغنی تبسم : میں عجب شہرہوں معمورہوں ویرانوں سے ۔ ۔ ۔ علامہ اعجازفرخ”

Comments are closed.