پیکرعلم واخلاق : پروفیسرسر تھامس واکرآرنلڈ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد رفیع کلوری عمری

سر تھامس آرنلڈ Thomas Arnold
سر تھامس آرنلڈ

پیکرعلم واخلاق : پروفیسرسر تھامس واکرآرنلڈ

محمد رفیع کلوری عمری
نائب مدیر ماہ نامہ راہ اعتدال، عمرآباد
Cell: 09994395129

ای میل :

پروفیسر آرنلڈ فلسفہ کے مشہور عالم تھے۔عربی واسلامیات کا وسیع مطالعہ رکھتے تھے، اور ان کی نظر مسلمانوں کی تہذیب وثقافت اور تاریخ وتمدن پربھی بڑی گہری تھی۔ان کی علم دوستی کے سلسلے میں علامہ سید سلیمان ندویؒ (1884-1953)کایہ بیان کافی ہے :
’’وہ مجسم علم تھے اورعلم کی خدمت کے سوا ان کا کوئی اورمطمحِ نظر نہ تھا‘‘۔ (حیاتِ شبلی، ص:۱۳۹)

آرنلڈ کا پورا نام Sir Thomas Walker Arnold ہے۔ 19؍اپریل1864ء کو Devonport (لندن، انگلینڈ)کے ایک غریب گھرانے میں پیداہوے اورغربت ہی میں پلے بڑھے۔ سٹی اسکول آف لندن اور میگڈلین (Magdalene) کالج ، کیمبریج یونی ورسٹی میں تعلیم پائی۔ یونانی اورلاطینی ادبِ عالیہ میں آنرز کیا۔ انھیں مختلف زبانیں جاننے کا بڑا شوق تھا۔چناں چہ جرمن، اطالوی، فرانسیسی، روسی، ولندیزی، پرتگالی اورہسپانوی زبانوں پر دسترس حاصل کی۔ اس کے علاوہ عربی ، فارسی اورسنسکرت بھی بڑی محنت سے سیکھی تھی۔ حد تو یہ کہ عربی لغت کے تعلق سے قیامِ لاہور کے دوران ایک کتاب ’’سواء السبیل الی معرفۃ الدخیل‘‘ تصنیف کی۔ ان کے شاگرد شیخ عنایت اللہ ایم.اے (اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز لندن) نے لکھاہے:
’’کچھ عرصہ سے ایک عربی گرامر کی کتاب ترتیب دینے میں مصروف تھے، مگرافسوس کہ کئی ایک دیگر کاموں کی طرح یہ مفید کام بھی انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ وہ اس بات کے سخت مخالف تھے کہ… نصابِ تعلیم میں…مشکل کتابوں کو خواہی نہ خواہی داخل کیاجائے، وہ کتابیں جن کی سب سے بڑی خصوصیت اوروجہِ شہرت محض یہ ہے کہ ان میں مُغلق الفاظ کی بھرمار ہے۔ ایسی کتابوں کو وہ طالب علموں کی ترقی میں سخت حارج سمجھتے تھے….. اورافسوس کیاکرتے تھے کہ ہندوستان میں ابھی تک ذمے دار لوگ …اس قدیم طرزِ تعلیم کی غلطی پر متنبہ نہیں ہوے اوراسی قسم کے غلط طریقہ ہاے تعلیم کو ہندوستان میں علومِ عربیہ کی موجودہ پستی اور کساد بازاری کا ایک قومی سبب جانتے تھے‘‘۔
پروفیسر آرنلڈ 1888ء میں ہندوستان آئے اور 1898ء تک محمڈن اینگلواورینٹل کالج علی گڑھ میں استاذ رہے۔ دس سال بعدعلی گڑھ سے مستعفی ہوکر لاہور پہنچے اور فروری1898ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ کے پروفیسر مقرر ہوے۔پھراپریل 1899ء میں پنجاب یونی ورسٹی منتقل ہوے، جہاں اورینٹل فیکلٹی کے ڈین کی حیثیت سے اپریل1903 ء تک خدمت انجام دی۔1904ء میں لندن واپس ہوے اوروہاں انڈین آفس لائبریری (لندن)سے منسلک ہوکر اسسٹنٹ لائبریرین کی حیثیت سے 1909 ء تک برسرخدمت رہے۔1909ء سے 1920ء تک وہ انگلستان میں ہندوستانی طلبہ کے تعلیمی مشیر (Educational Addviser to Indian Students in Britain) کے عہدے پر فائز رہے، اور 1921ء سے تاحیات( 1930تک) لندن یونی ورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز میں عربی اور اسلامیات کے پروفیسر کی حیثیت سے خدمت انجام دی۔ کچھ عرصہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کے ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔یہ پہلے انگریز اورغیرمسلم تھے جنھوں نے انسائیکلو پیڈیا آف اسلام کی تالیف میں شرکت کی۔ ان ہی علمی وتعلیمی خدمات کی بنیاد پر1921ء میں انھیں ’’سر‘‘کے خطاب سے نوازا گیا۔ 9؍جون 1930ء کو وفات پائی۔ان کے شاگرد شیخ عنایت اللہ ایم.اے کے بقول:
’’انتقال سے ایک دن پہلے تک ہر کسی نے ان کو اسکول میں اپنے فرائض میں مشغول اور ملاقاتیوں سے حسبِ معمول بہ جبینِ خنداں ملتے دیکھاتھا‘‘۔(ماہ نامہ معارف، جنوری:۱۹۳۱ء)
پروفیسر آرنلڈمنظم زندگی گزارنے کے عادی تھے۔اصول پسند اور وقت کے بڑے قدر شناس تھے۔ وقت کی قدردانی ان میں کس حد تک پائی جاتی تھی اوروہ کس قدر مطالعے کے دل دادہ تھے، اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جاسکتا ہے، جس کا ذکر علامہ شبلیؒ (1857-1914)نے اپنے سفرنامے میں کیا ہے۔واضح رہے کہ اس سفر میں پورٹ سعید تک دونوں کی یک جائی رہی۔شبلیؒ لکھتے ہیں:
’’ ۱۰؍مئی ۱۸۹۲ء کی صبح کو میں نیند سے جاگاتو ایک ہم سفر نے کہا کہ جہاز کااِنجن ٹوٹ گیا۔ میں نے دیکھا تو واقعی کپتان اورجہاز کے ملازم گھبرائے ہوے پھرتے تھے اوراس کی درستی کی تدبیریں کررہے تھے۔ انجن بالکل بے کار ہوگیاتھا اورجہاز نہایت آہستہ ہوا کے سہارے چل رہا تھا۔ میں سخت گھبرایا اور نہایت ناگوارخیالات دل میں آنے لگے۔اس اضطراب میں اور کیا کرسکتا تھا، دوڑا ہوا مسٹر آرنلڈ کے پاس گیا۔ وہ اُس وقت نہایت اطمینان کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کررہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ’’ آپ کو کچھ خبر بھی ہے‘‘؟ بولے: ’’ہاں! انجن ٹوٹ گیا ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ’’آپ کو کچھ اضطراب نہیں؟ بھلایہ کتاب دیکھنے کا کیاموقع ہے‘‘؟ فرمایا کہ ’’اگر جہاز کو برباد ہی ہونا ہے تو یہ تھوڑا ساوقت اور بھی قدرکے قابل ہے اورایسے قابلِ قدر وقت کو رائیگاں کرنا بالکل بے عقلی ہے۔ ان کے استقلال اورجرأت سے مجھ کو بھی اطمینان ہوا۔ آٹھ گھنٹے کے بعد انجن درست ہوا اوربدستور چلنے لگا….‘‘. (سفرنامہ روم ومصر وشام، از شبلیؒ ، صفحہ:۱۴)
آرنلڈ فطرتًا علم دوست تھے۔سیکھنے سکھانے کا مزاج رکھتے تھے۔قیامِ علی گڑھ کے دوران انھوں نے علامہ شبلیؒ سے عربی سیکھی اورانھیں فرنچ پڑھائی۔ اس زمانے کا ایک واقعہ شبلیؒ نے یوں بیان کیاہے:
’’آرنلڈ صاحب ہر روز صبح چھے بجے میرے مکان پر مجھے سبق پڑھانے کو تشریف لایا کرتے تھے۔ ایک دن چھے سے صرف پانچ منٹ زیادہ گزرگئے، اورمیں دیکھتا کیاہوں کہ مسٹر آرنلڈ سرپٹ بھاگے چلے آرہے ہیں۔ مکان پر پہنچتے ہی میرے سامنے عاجزانہ کھڑے ہوکر فرمانے لگے: ’’مولوی صاحب! ہم آپ کا مجرم ہے، ہم نے آج دیر کی ،آپ جو چاہیں مجھے سزا دیں‘‘۔
(حیاتِ شبلی، ص:۱۳۸)
علامہ سید سلیمان ندویؒ ،جنھوں نے 1920ء میں آرنلڈ سے لندن میں ملاقات کی تھی،لکھتے ہیں:
’’آرنلڈ اورشبلی کے سلسلۂ کلام کی دو حکایتیں مولانا [شبلیؒ ]کی زبان سے سنی ہوی مجھے یاد ہیں۔ فرماتے تھے کہ’’ ایک مرتبہ کوئی پورپین فاضل علی گڑھ آکر مجھ سے ملا۔ اس کاذوق فارسی ادب کا تھا۔ اس سے اس موضوع پر باتیں ہویں تو اس کی واقفیت بہت محدود معلوم ہوی۔ دوسال کے بعد اس نے فارسی ادب پر کوئی کتاب لکھ کر میرے پاس بھیجی، جو بہت غنیمت تھی‘‘۔ مولانا فرماتے تھے کہ’’ اس کو دیکھ کر مجھے بہت تعجب ہوا۔ میں نے اپنے اس تعجب کا ذکر پروفیسر آرنلڈ سے کیا۔ انھوں نے پوچھا کہ آپ ان سے کب ملے تھے؟ فرمایا: دوسال ہوے۔ جواب دیا: ’’مولانا! یورپ کا آدمی دوسال میں کچھ سے کچھ ہوجاتاہے‘‘۔
ایک دفعہ فرماتے تھے کہ میں نے آرنلڈ صاحب سے کہا کہ ہم لوگ اپنے استاذوں کی جیسی عزت کرتے ہیں وہ آپ لوگ نہیں کرتے؟ آرنلڈ صاحب نے کہا:’’ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں علم ہر روز آگے کو بڑھ رہاہے۔ اس لیے ہرشاگرد اپنے استاذ سے کچھ زیادہ ہی جانتاہے۔ اس وجہ سے وہ اس کی رسمی عزت کہاں تک کرے؟‘‘۔(حیاتِ شبلی،ص:۱۳۸،۱۳۹)
علم ودانش کے باب میں بلند پایہ ہونے کے باوجودآرنلڈ انتہائی خلیق،ملنسار اور خوش اخلاق تھے۔ اپنے دل میں شاگردوں کے لیے بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے۔ان کے شاگرد شیخ عنایت اللہ نے لکھاہے:
’’ان کے ستودہ خصال میں زندہ دلی، نرمی اورحلم وانکسار کے پہلو خاص طورپر نمایاں تھے، جس سے وہ ہر ایک کے دل میں گھر کرلیتے تھے۔ خواہ کسی سے چند لمحوں کے لیے ملتے، مگراس کے دل پر اپنے حسنِ اخلاق اورشگفتگیِ طبع کا گہرا نقش چھوڑ جاتے تھے۔ شاگردوں کے ساتھ ان کا برتاؤ نہایت مشفقانہ تھا۔ ان کو ہمیشہ لطف اورمہربانی کے کلمات سے پکارتے، مثلاً: مائی ڈیر عنایت اللہ، یا مائی ڈیر ہمدانی ان کا معمولی طرزِ تخاطب تھا ان کی تمام زندگی نہایت سادہ اورہر قسم کے تکلف سے مبرّا تھی۔ دورانِ گفتگو جب ایک دفعہ میری زبان سے نکل گیا کہ مجھے لذائذِ زندگی سے متمتع ہونے سے احتراز نہیں ہے، تو مارے تعجب کے چونک اٹھے، اورفرمانے لگے کہ ’’عنایت اللہ! تمھیں اپنے استاذ کے سامنے ایسی بات کہتے شرم نہیں آتی؟ لاحول و لاقوۃ۔ محض دنیاوی آسایش کیاچیز ہے؟ پھر فرمایا: عنایت اللہ! ایک اسکالر کی زندگی بسر کرو‘‘ کہاکرتے کہ ’’میں غریبوں کے گھر پیداہوا اورساری عمر غربت میں بسر کی، مگر میں نے کبھی اس بات پر افسوس نہیں کیا ، اورنہ یہ بات لائقِ افسوس ہے، کیوں کہ مجھے اپنی جگہ اس خیال سے کامل اطمینان …ہے کہ میں نے اپنا وقت حتی الامکان صرف ایسے کام میں صرف کیا ہے، جس کو اپنی راے میں مفید سمجھتاہوں‘‘۔(معارف،جنوری۱۹۳۱)
باباے اردو مولوی عبدالحق (1872-1961)بھی آرنلڈ کے شاگرد تھے۔انھوں نے لکھا ہے:
’’پروفیسرآرنلڈ کی حیثیت کالج میں خاص، بلکہ امتیازی تھی۔ وہ سچے، علم کے طالب اور علم دوست تھے۔ میں نے کالج میں انھیں کبھی انگریزی لباس میں نہ دیکھا۔ وہ کالج میں عربی لباس میں آتے تھے۔ سرپر عمامہ، بدن پر عَباوقبا ،پیروں میں سلیم شاہی جوتا،اورہاتھ میں موٹے سے دستے کی چھتری لیے جلدی جلدی قدم اٹھاتے ہوے ٹھیک وقت پر آجاتے۔ راستے میں کوئی دیکھے تو یہ معلوم ہو کہ مُلاّجی کسی مسجد میں درس دینے جارہے ہیں۔کبھی کبھی تیسرے پہر مغرب سے قبل میرے کمرے میں آجاتے اورمجھے سیر کے لیے ساتھ لے جاتے۔ راستے میں پوچھتے کہ آج کل کیاکررہے ہو؟ کیا کچھ لکھ رہے ہو؟ جب میں بتا تا کہ فلاں موضوع پر لکھ رہاہوں، تو اس کے متعلق مجھ سے بحث کرتے اوربعض کتابوں کی نشان دہی کرتے۔ ایک بار ایسی ہی سیر میں جب ان کے پوچھنے پر میں نے کہا کہ میں بابیوں کے مذہب پر کچھ لکھ رہاہوں تو پوچھاکہ مجھے اس کا خیال کیسے پیداہوا اوراس کے لیے مجھے مواد کہاں سے ملا۔ دوسرے دن انھوں نے ’’رائل ایشیا ٹک سوسائٹی‘‘[قیام:۱۷۸۴ء]کے چند نمبر بھیجے، جن میں پروفیسر براؤن نے بابی مذہب پر مضامین لکھے تھے۔ پروفیسر آرنلڈ میں عالمانہ اورطالب علمانہ ، دونوں شانیں پائی جاتی ہیں‘‘۔
(باباے اردو، احوال وافکار، ص:۲۰۷)
علامہ اقبال(1877-1938)کو اس بات پر فخر تھا کہ وہ آرنلڈ کے شاگرد ہیں۔ اقبال اپنے ان استاذ کے بڑے قدرشناس تھے۔انھوں نے 1898ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میںآرنلڈ سے فلسفے کی تعلیم پائی ، اوراُن ہی کے مشورے پر انگلینڈ اور جرمنی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ دورانِ قیامِ یورپ (1905ء تا 1908ء) اقبال نے شاعری ترک کرنے کا ارادہ کیا تو یہ آرنلڈہی تھے، جنھوں نے اپنے شاگرد کو اس ارادے سے باز رکھا۔ دونوں کے درمیان ایسا گہرا رشتہ تھا کہ 1904ء میں جب آرنلڈ برصغیر سے ہمیشہ کے لیے انگلینڈ چلے گئے تو اقبال کو بہت دکھ ہوا اورانھوں نے استاذ کی یاد میں پندرہ اشعار پر مبنی ایک نظم ’’نالۂ فراق‘‘ کہی، جو’’بانگِ درا‘‘ میں موجود ہے۔ اس کے دوشعر یہ ہیں:
تو کہاں ہے اے کلیم ذروۂ سیناے
علم تھی تری موجِ نفس بادِ نشاط افزاے علم
اب کہاں وہ شرقِ رہ پیمائی صحراے علم
تیرے دم سے تھا ہمارے سر میں بھی سوداے علم
مولاناحمیدالدین فراہیؒ (1863-1930)بھی آرنلڈ کے شاگردوں میں سے تھے۔سید صاحب ؒ نے لکھاہے، کہ: ’’مولانا کو فلسفۂ جدیدہ کا ذوق انہی کی تعلیم سے ہوا‘‘۔ (معارف، جنوری ۱۹۳۱، ص:۱۱) مگر عجیب بات یہ ہے کہ اُن کا ذہن اپنے استاذ کی طرف سے صاف نہیں تھا۔ ڈاکٹرشرف الدین اصلاحی نے مولانا فراہیؒ کی سوانح حیات ’’ذکرفراہیؒ ‘‘ کے نام سے 840صفحات میں لکھی ہے۔ ایک ذیلی عنوان ’’آرنلڈ کی شاگردی‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:
’’پروفیسرآرنلڈ کو برصغیر میں اپنے ذاتی اوصاف وخصائص کے علاوہ اس لیے بھی شہرت ملی کہ وہ شبلی کے ممدوح اوراقبال کے محبوب استاد تھے۔ شبلی اوراقبال دونوں ان کے علم واخلاق سے بہت متاثر تھے۔ ان کے انتقال پر مولاناسید سلیمان ندوی نے تعزیتی شذرہ لکھا۔ مولانافراہی نے علی گڑھ میں ان سے پڑھا، مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان کی زبان اورقلم سے بھول کر ایک دفعہ بھی ان کا نام نہیں نکلا۔ ان کے متعلق مولانا کے ذہنی رویے کا اندازہ لگانے کے لیے یہ کافی ہے۔ مستزاد مولانا امین احسن اصلاحی کے اس بیان سے وضاحت ہوتی ہے: ’’اس زمانے میں علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر مشہور انگریز مستشرق ڈاکٹر آرنلڈ تھے۔ مولانا[فراہی]نے فلسفے کے درس تو ان سے ضرور لیے، لیکن ان سے خوش نہیں تھے۔ وہ آرنلڈ صاحب کو بھی اس بساطِ سیاست کاایک مہرہ سمجھتے تھے، جو انگریزوں نے علی گڑھ میں بچھارکھی تھی‘‘۔ (مجموعۂ تفاسیر فراہی، ص:۲۵)
علامہ فراہیؒ کے اس خیال کی بظاہر وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ عام طورپر پروفیسر آرنلڈکا شمار مستشرقین میں کیاجاتاہے، اورمستشرقین کی اکثریت اسلام دشمن تھی۔لیکن جن لوگوں نے آرنلڈ کو انتہائی قریب سے دیکھاہے ان کی راے جداگانہ ہے۔ شیخ عنایت اللہ، جنھوں نے لندن میں آرنلڈ سے تعلیم پائی اوران سے بہت قریب رہے، لکھتے ہیں:
’’جہاں تک مجھے علم ہے، ان کا انگلستان کے کسی کلیسا کے ساتھ مطلق کوئی تعلق نہ تھا۔ عام عقائد میں وہ عقلی (Rationalist)تھے اورتحقیقِ مسائل میں ان کاآزاد قدم کسی خاص مذہب کا پابند نہ تھا۔ ان کا مسلک جو کچھ بھی تھا عقلی اوراخلاقی تھا‘‘۔ ( معارف، جنوری:۱۹۳۱ء)
شیخ عنایت اللہ تو انھیں ’’محب الاسلام والمسلمین‘‘تک ثابت کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:
’’جہاں تک اسلامی تاریخ اورعلوم وفنون کی تحقیق وتفتیش کا تعلق ہے، ان کا انتقال فی الواقع ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اسلامی ألسنہ اوراسلامی تاریخ وتمدن کے درس ومطالعے کے مدعی تو کئی ایک ہیں، مگر روحِ اسلام اوراسلامی روایات کے کماحقہ سمجھنے کی جو توفیق قدرت کی طرف سے انھیں عطاہوی تھی، وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے ۔ اسلامی تعلیمات اوراصول کی تشریح وتوضیح میں وہ جس سلامت روی، جس بصیرت اورجس ہم دردانہ خوش فہمی کا ثبوت دیتے، اس سے اگر ایک طرف اعتدال پسند اورمنصف مزاج فرقۂ علماسے خراجِ تحسین وصول کرتے تھے، تو دوسری طرف پادری زویمر وامثالہٗ اُن پر پاس داری اور بے جا سرگرمی کا الزام لگاتے، اور ان کی تحریروں پر نہایت تلخ لہجے میں معترض ہوتے تھے‘‘۔(ایضًا، ص:۲۵۷)
مزید لکھتے ہیں:’’ہندوستان کے ساتھ ان کا تعلقِ خاطر آخر وقت تک قائم رہا۔ چناں چہ جامعہ مصریہ میں پچھلے سال [۱۹۳۰ء]جو خطبات دیے، ان میں عام اسلامی تاریخ کے علاوہ ان کا دوسرا موضوع خاندانِ تیموریہ کی تاریخ تھا۔ ان کے مصر سدھارنے سے قبل جب میں نے پوچھا کہ آپ وہاں کس مضمون پر لکچر دیں گے؟ تو جواب دیا کہ خاندانِ تیموریہ مغلیہ پر، کیوں کہ مجھے مصری طلبہ اوردیگر اشخاص سے گفتگو کرکے معلوم ہوا کہ وہ لوگ ہندوستانی مسلمانوں کو حقیر جانتے ہیں، بدیں وجہ کہ ان کی نظر ہند کے موجودہ انحطاط پر ہے، مگر وہ اسلامی ہند کی گزشتہ عظمت وشان (Glory)سے ناواقف ہیں۔ میں انھیں بتانا چاہتاہوں کہ اسلامی ہند ایک وقت میں کیاتھا اوراب بھی اقوامِ اسلامیہ میں اس کا کیادرجہ ہے۔ (ایضًا، ص: ۲۵۶ تا۲۵۷)
کچھ ایسی ہی راے کا اظہار سید سلیمان ندویؒ نے (یاد رفتگاں، ص: ۱۰۳ تا۱۰۵) میں کیاہے، لکھاہے:
’’آرنلڈ، علی گڑھ کالج میں دس برس رہے، اوراس طرح رہے کہ اس وقت ان کو کامل مسلمان نہ سہی ،نیم مسلمان تو ضرور ہی ماننا پڑے گا۔ مسلمانوں کی صورت، مسلمانوں کی وضع، مسلمانوں کا تمدن، مسلمانوں کے عالموں کی صحبت، ہر چیز مسلمان نما تھی اور کہاجاسکتاہے کہ آرنلڈ نے اپنے زمانے کے کالج میں[ایسی] روح پیداکردی تھی کہ اس کی مثال کالج کی تاریخ میں نہیں مل سکتی‘‘۔
آرنلڈمتعدد کتابوں کے مصنف تھے،لیکن ان کا بڑا کارنامہ مشہورِ عالم تصنیف The Preaching of Islamہے، جو انھوں نے سرسیدؒ کے ایما پر علی گڑھ میں قیام کے دوران نوسال کی مسلسل محنت کے بعد لکھی۔ان کی محنت کا تذکرہ شبلی کی تحریروں میں بھی ملتاہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں: ’’مسٹر آرنلڈ… انگریزی کے سوا یورپ کی کئی زبانیں جانتے ہیں اورچوں کہ ایک مدت سے دعوتِ اسلام پر وہ ایک بہت بڑی کتاب لکھ رہے ہیں، اس لیے ان زبانوں میں جس قدر تصانیف، اسلام اورتاریخِ اسلام کے متعلق ہیں، ان کا بہت بڑا حصہ ان کی نگاہ سے گزرچکاہے‘‘۔(آثار شبلی،ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی،ص: ۵۶۸) اس کتاب کی تیاری میں مصنف کو علامہ شبلیؒ کے مشورے بھی حاصل رہے، جن کا شکریہ انھوں نے مقدمہ میں اداکیاہے۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1896ء میں شائع ہوا۔ جب یہ کتاب سرسیدؒ (1817-1898) کو پہنچی تو انھوں نے کہا: ’’یہ کام ہمیں کرنا چاہیے تھا جو ایک غیرمسلم نے کیا‘‘۔ اور سرسید کی وصیت کے مطابق اس کا اردو ترجمہ ’’دعوتِ اسلام‘‘کے نام سے منظرعام پر آیا۔ شیخ عنایت اللہ لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹرآرنلڈ کی بے بدل کتاب ’’پریچنگ آف اسلام‘‘نہ صرف فنِ تاریخ نویسی کا ایک اعلیٰ نمونہ اوراسلامی تاریخی ادب میں ایک بیش بہا اضافہ تھا، بلکہ اس کو تحریر کرکے انھوں نے اسلام کے بے داغ چہرے سے جو داغ مٹایا ، وہ عامۂ مسلمین کی ایک بہت بڑی خدمت تھی… اورجس کے احسانِ گراں بار سے کافۂ مسلمین کی گردن کبھی ہلکی نہیں ہوسکتی۔ چوں کہ وہ کتاب ایک غیرمسلم محقق کے قلم سے نکلی تھی، اس لیے راے عامہ پر اس کے نتائجِ تحقیق کا بہت اچھا اثرپڑا اورمخالفین نے از راہِ تعصب اورجہالت، اسلام کے بزورِ شمشیر پھیلائے جانے کی جو رَٹ لگارکھی تھی، اس کا بہت حد تک سدِّ باب ہوگیا۔ اگر آج اسلام کی پُرامن اشاعت معتدل علما سے مستشرقین کے درمیان مسلمات میں ہے، تو یقیناًہوا کارُخ پلٹنے اوراس صحیح راے کے پیداکرنے میں ڈاکٹر صاحب کی پرزور اور ناقابلِ تردید تحقیق کا بہت ساحصہ ہے۔ اگرچہ انھوں نے ’’دعوتِ اسلام‘‘ میں صرف بے لوث علمی تحقیق کی داد دی تھی ، مگر بلحاظ نتیجہ کے اس میں اسلام کی مدافعت اورحمایت کا جو پہلو پیداہوگیا تھا، اس کی بناپر بعض اچھے پڑھے لکھے آدمیوں کویہ گمان ، بلکہ یقین ہوتاتھا کہ اس کا مصنف مسلمان ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر صاحب عقیدۃً مسلمان نہ تھے، لیکن مکارم اخلاق، انسانی ہمدردی، اخلاص وصداقت، تلطف وملائمت اورفرض شناسی کا نام اسلام ہے، تو بلاشبہ وہ نہ صرف مسلمان تھے، بلکہ .. آج کل کے … اکثرمسلمانوں سے بہتر تھے‘‘۔
اس کتاب کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوے بعض محققین نے اس پر علمی تنقیدیں بھی کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ آرنلڈ نے اس کتاب میں ہندوستان میں اشاعتِ اسلام کاسہرا صوفیا کے سرباندھا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے، وغیرہ۔ مگر علامہ فراہیؒ کی راے حیران کن ہے۔ ان کے سوانح نگار نے لکھاہے:
’’پروفیسر آرنلڈ کی مشہور کتاب پریچنگ آف اسلام کے بارے میں مولانا[فراہی]کی جو راے تھی، اس کا ذکر بھی مولانا[امین احسن]اصلاحیؒ کی زبانی سنیے:’’علی گڑھ کا حلقہ ڈاکٹر آرنلڈ کی کتاب ’’پریچنگ آف اسلام‘‘کا بڑا مداح تھا، لیکن مولانا [فراہی]اس کتاب کے سخت مخالف تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ یہ کتاب مسلمانوں کے اندر سے روحِ جہاد ختم کرنے کے لیے لکھی گئی ہے‘‘۔ (مجموعۂ تفاسیر فراہی، ص:۲۵)
بہرحال!حقیقت جو بھی ہو، آرنلڈ کی سیدھی سادی اوربااخلاق زندگی اوران کی علمی خدمات ہم مسلمانوں کے لیے قابلِ رشک اور سبق آموز ہیں۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اورملتِ اسلامیہ کی خدمت کے لیے ہمیں باصلاحیت بن کر دنیا کو فائدہ پہنچانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمینlll