اسلام کو سیاسی لحاظ سے غالب کرنے میں آنحضورﷺ کی جدوجہد :- مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

اسلام کو سیاسی لحاظ سے
غالب کرنے میں آنحضورﷺ کی جدوجہد

مفتی کلیم رحمانی
پوسد (مہاراشٹر)
09850331536

انسانی زندگی کے سیاسی و حکمرانی کے شعبے میں اسلام کو غالب کرنے کی کتنی اہمیت ہے قرآن مجید کی ایک آیت سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کی بعثت کے ایک اہم مقصد کو بیان فرمایا چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔ھُوَ اَلَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَہ بِالْھُدٰی وَ دِینِ الحَقِّ لِیُظھِرَہُ عَلیَ الدِّینِ کُلِہِ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکونَ۔ (سورۂ توبہ آیت ۳۳)

ترجمہ:وہی(اللہ ہے)جس نے اپنے رسول ؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے اگر چہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو۔اسی طرح کی آیت قرآن مجید کے سورہ صفْ اور سورہ فتح میں بھی آئی ہے جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔مذکورہ آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضور ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف دینِ اسلام کی تبلیغ ہی نہیں تھا بلکہ دین اسلام کو دنیامیں سیاسی لحاظ سے دوسرے تمام نطامہائے زندگی پر غالب کرنا بھی تھا،چناچنہ آنحضور ﷺ نے اپنی تئیس(۲۳) سالہ نبوی زندگی میں یہ کام کرکے بھی دکھایا اور آپ کی زندگی ہی میں پورے عرب میں اسلام سیاسی لحاظ سے غالب آگیاتھا ،لیکن اسلام کا سیاسی لحاظ سے یہ غلبہ یوں ہی نہیں ہو گیا بلکہ اسکے لئے آپ ؐ کو اپنے قریب ترین رشتہ داروں کی مخالفت و دشمنی بھی مول لینی پڑی یہاں تک کے جس شہرِ مکہ میں آپ کو چالیس سال تک امین و صادق کہا گیا ،اسی شہر مکہ میں آپ کو مجنوں ،کاہن ،شاعر ،ساحر اور کذّاب بھی کہا گیا ،اور دشمنی اتنی شدید ہوئی کہ آپ کو اسی شہرِ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ جانا پڑا،بات اگر صرف اسلام کی دعوت کی ہوتی اور سردارانِ مکہ کی سرداری کو آنحضور ﷺ سیاسی طور پر قبول کر لیتے تو وہ آپ ؐ کے اتنے شدید دشمن نہیں ہوتے،لیکن وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلام کو قبول کرنے کا مطلب سیاسی لحاظ سے بھی اللہ اور اس کے رسول ؐ کی بالادستی کو قبول کر لینا ہے،اور اس کیلئے وہ تیار نہیں تھے۔یہاں تک کہ ایک وقت وہ بھی آیا کہ وہ آپ ؐ کو محمّد بن عبداللہ کی حیثیت سے اپنا سردار ماننے کے لئے تیار ہو گئے اور آنحضور ﷺ سے اس کی پیشکش بھی کی،لیکن اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ نے ان کی یہ پیشکش ٹھکرادی کیونکہ آپ ؐ اس دنیا میں اپنی سرداری کی دعوت لے کر نہیں آئے تھے بلکہ اللہ کی سرداری کی دعوت لے ک آئے تھے اور اللہ کی اس حکومت میں آپ ؐ کی حیثیت اللہ کے خصوصی نمائندے اور امیر کی تھی،گویا کہ سردارانِ مکہ محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے آپؐ کو اپنا سیاسی سربراہ ماننے کے لئے تیار تھے لیکن محمد رسولُ اللہ کی حیثیت سے اپنا سربراہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے،اور زمین و آسمان کا فرقٍ ہے آپ ؐ کو محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے ماننے میں اور محمد رَسوُلُ اللہ کی حیثیت سے ماننے میں،آج بھی بہت سے غیر مسلم حضرات آپ ؐ کو محمد بن عبداللہ کی حیثیت سے مانتے ہیں،لیکن اس کو محمد ﷺ کو ماننا نہیں کہتے۔بعض کم علم اور بے علم لوگ کہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کے اخلاق و کردار صحیح ہو جائے تو اسلام خود بہ خود سیاسی لحاظ سے غالب آجائے گا ،اگر یہ نادان یہ کہنے سے پہلے ذرا بھی سوچتے تو ہر گز یہ بات اپنی زبان سے نہ نکالتے کیا انہیں معلوم نہیں کہ محمد ﷺ نبوت سے پہلے بھی مکہ میں صادق و امین کی حیثیت سے جانے جاتے تھے یہاں تک کہ ہجرت کے وقت بھی بہت سے مشرکین مکہ کی امانتیں آپ ؐ کے پاس رکھی ہوئی تھی اور ان ہی امانتوں کو واپس کرنے کے لئے آپ ؐ نے حضرت علیؓ کو پیچھے چھوڑا تھا ،اسی طرح آپ ؐ پر ایمان لانے والے اخلاق و کردار کے لحاظ سے بہت اعلی مقام پر فائز تھے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو اسی شہر مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا گیا اور ہجرت کے آٹھ سال بعد مکہ میں آپ ؐ کا اقتدار اس وقت قائم ہوا جا آپ ؐ دس ہزار اہل ایمان کا لشکر لے کر مکہ میں داخل ہوئے اور اس کیفیت سے داخل ہوئے کہ مکہ والوں کو قریب آنے تک بھی خبر نہیں ہونے دی ،کیونکہ مکہ والوں کو اگر پہلے ہی آپؐ کے لشکر کے آنے کی خبر ہو جاتی تو وہ بھی بڑی جنگ کی تیاری کرتے اور آنحضور ﷺ کی کوشش یہ تھی کہ بڑی جنگ کے بغیر ہی مکہ فتح ہو جائے،چنانچہ آپ ؐ کی یہ حکمتِ عملی کامیاب ہوئی ،مکہ کے کچھ لوگوں نے مزاحمت کی بھی تو بہت جلد ان سے نمٹ لیا گیا۔ آنحضور ﷺ کی پوری تئیس سالہ نبوی زندگی اسلام کے غلبہ کی جد و جہد میں گزری جن میں سے مکہ کے تیرہ سال اسلام کے غلبہ کی تیاری میں گذرے جن میں خصوصیت کے ساتھ اسلام کی دعوت اور افراد سازی کا کام ہوا ،اور مدینہ کے دس سال اسلام کے سیاسی غلبہ کی جدوجہد میں گذرے اور اسلام کے اسی سیاسی غلبہ کے لئے آپ ؐ کو دس سال کی مدّت میں چھوٹی بڑی چھیّاسی جنگیں باطل پرستوں سے لڑنی پڑیں ،جن میں سے ستّائیس جنگوں میں آپ ؐ ننفسِ نفیس شریک رہے اور لشکر کی قیادت کی،اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام کو نظام حکمرانی کے لحاظ سے غالب کرنے کا کتنا عظیم اور مبارک ہے کہ اللہ کا آخری رسولؐ اس کے لئے زندگی کے قیمتی تئیس(۲۳) سال لگا دیتا ہے اور خود بھی زخمی ہوتا ہے اور اس کے بہت سے صحابہ بھی زخمی ہوتے ہیں اور بہت سے شہید بھی ہوتے ہیں