رحمتؔ حیدرآبادی کی نعتیہ شاعری – – – ڈاکٹرعطاء اللہ خان

رحمتؔ - ڈاکٹرعطاء اللہ خان
ڈاکٹرعطاء اللہ خان

رحمتؔ حیدرآبادی کی نعتیہ شاعری

ڈاکٹرمحمد عطا اللہ خان ۔ (شکاگو)
فون ۔ 17732405046+
– – – – – – –
حیدرآباد دکن صدیوں سے علم وادب کا گہوارہ رہا ہے جہاں ہزاروں شاعر‘ ادیب مورخ ‘ماہر نجوم وعلم و عروض پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی عیسوی میں رحمت اللہ خان رحمت ؔ حیدرآبادی کی شاعری و علم پردازی کے چرچے نظام میر عثمان علی خان کے دربار تک پہنچ چکے تھے‘ ا سکی تفصیلات دیگر مضمون میں آئے گی۔ یہاں صرف نعتیہ شاعری پر گفتگو کی جائیگی ۔نعت عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی خوبی بیان کرنے کے ہیں اور مدح و تعریف کے بھی آتے ہیں۔ نعت شریف کامطلب صرف حضور اکرمؐ کی مدح وتعریف کو بیان کرنے کے ہیں۔ اسکی روایت یا آغاز سرکار دو جہاںؐ کی ہجرت سے شروع ہوتی ہے جب آپ مکہ معظمہ سے مدینہ شریف تشریف لائے۔ آپ ؐ کی آمد کی خوشی میں مدینہ کی کم عمر لڑکیاں دف بجاکر سرکاردو جہاںؐ کا استقبال نعتیہ اشعار لحن میں گارہی تھیں۔ کلام مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ور فعنا لک ذکرک ‘‘….. ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کو رفعت بخشی‘‘ حضور اکرمؐ کی یہ رفعت تاریخی ادوار‘ جغرافیائی حدود‘ سات آسمانوں اور سات زمینوں اور زبان وبیان علم وادب کے تمام پیمانوں سے بالاتر ہے۔

جنوبی ہند میں نعت گوئی کی روایت آٹھویں صدی ہجری سے ہوتی ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز کے ملفوظات اور ارشادات میں ہمیں نعت شریف کے عنصر ملتے ہیں۔ فخر دین نظامی کی مثنوی’’ کدم راؤ پدم راؤ‘‘ میں بھی نعت شریف کے اشعار موجود ہیں۔ اسکے علاوہ سلطان محمدقلی قطب شاہ جو اُردو شاعری کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر ہے ‘کے دیوان میں حمد باری تعالیٰ کے بعد نعت نبیؐ ‘میلا دالنبی‘شب معراج کے واقعات پر نعتیہ اشعار شامل ہیں۔ دکنی زبان میں نعت شریف لکھنے والوں میں قابل ذکر نصرتی‘ ملا وجہی‘ صنعتی ‘عوامی‘ ہاشمی‘ ابن نشاطی‘ اشرف‘بیابانی‘ برہا ن الدین جانم‘ امین الدین علی اعلیٰ فتاحی’ شاہ کمال الدین‘ رسمی‘ طبعی ‘سید بلاقی‘ ولی اورنگ آبادی اور انکے شاگرد سراج اورنگ آبادی اور انکے شاگر ضیاء الدین پروانہ ہیں‘ جن کا دیوان راقم نے ترتیب دیا ہے نعت شریف کی روایت حیدآباد کے تمام خانوادوں میں چار سوسال سے لکھی جارہی ہے۔
زیر بحث موضوع رحمت حیدرآبادی کی نعتیہ شاعری کا عہد ساتویں نظام میر عثمان علی خان کاہے۔ رحمتؔ کی پیدائش یکم شوال المکرم ‘۱۳ ہجری بمطابق ۱۴/ ستمبر ۱۸۸۳ء ‘ بروز سہ شنبہ حیدرآباد کے محلہ عیسیٰ میاں بازار میں اپنے والد احمد اللہ خان کے گھر ہوئی۔ رحمتؔ کے دادا قائم خان بھی صاحب قلم تھے۔ انہوں نے حضرت سید یوسف المعروف عابد شاہ حسن حسینی کے مشہور سالہ’’ کنز المومنین‘‘ نثری رسالہ کو دکنی زبان میں تحریر کیا ہے۔ راقم کے پاس یہ خطوط محفوظ ہیں۔ اسکی سن کتابت ۱۲۵۸ھ بمقام حیدرآباد لکھا ہے۔ رحمتؔ کے دادا قائم خان عابد شاہ حضرت بھی صوفی منش تھے ‘ وہ بہت کم گو‘ اصول پسند مذہبی رنگ میں ڈھلے ہوئے تھے۔ انکے دوادین پر’’ رحمت صوفی ‘‘ لکھا ہے۔ رحمتؔ کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی‘ بعد میں جامعہ نظامیہ سے فارغ التحصیل تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے بعد محکمہ ٹیلیفون میں ملازمت کی اور ترقی کرتے ہوئے چیف اسسٹنٹ ہوگئے۔ رحمتؔ کا وصال ۱۳ محرم الحرام ۱۳۷۳ھ بمطابق ۱۳/ اگسٹ ۱۹۰۳ء بروز یک شنبہ صبح صادق کو ہوا۔ انکی تدفین حضرت عباداللہ شاہ صاحب کی مسجد کے احاطہ چنچل گوڑہ میں عمل میںآئی۔
رحمتؔ حیدرآبادی کے پانچ قلمی دواوین بقلم خود محفوظ ہیں جس میں حمد باری تعالیٰ’ نعت شریف میلاد النبیؐ‘ شب معراج ‘شب برأت ‘واقعات کربلا‘ سلام‘ مدحتِ صحابہ‘ سراپا حضرت علی اور امام حسین ‘بی بی فاطمہ کی اوڑھنی کے علاوہ اصناف ادب میں غزلیں‘ مسدس‘ ترجیحی بندو رباعیات‘ سررا ہے قطعات‘ مرثیے‘ موضوعاتی نظمیں وغیرہ ملتی ہیں۔ یہاں انکی صرف نعتیہ شاعری پر گفتگو ہے۔ انکے قلمی دواوین میں طویل نعت شریف بھی ملتی ہے۔ ایک بندملا حظہ کیجئے۔
صدائے ہر دو عالم کی ہوا کچھ او رکہتی ہے
حقیقت میں حقیقت کی ضیاء کچھ او رکہتی ہے
فضائے مدحت جو دوثنا کچھ اور کہتی ہے ‘
محمد آپ کو خلق خدا کچھ اور کہتی ہے۔
واقعات معراج مبارک پر بھی رحمت ؔ حیدرآبادی نے قلم اٹھایا‘ ایک مصرعہ ملا حظہ کیجئے ؂
مرتب کوئی کیا جانے شہنشائے اہم تیرے
گئے ہیں فرش سے تاعرش اعلیٰ پر قدم تیرے
رحمتؔ کی حضرت پیر جماعت علی شاہ ملتانی پاکستان سے ۹/ جمادی الثانی ۱۳۳۶ھ میں بیعت ہوئی تھی۔ حضرت ہر سال حیدرآباد تشریف لائے تھے۔ رحمتؔ آپ کی قدم بوسی کو حاضر ہوئے اور اپنے نعتیہ کلام سے حضرت پیر کے سامنے پیش کرتے داد تحسین حاصل کا کرتے۔ رحمتؔ حیدرآبادی کو پیر جماعت علی شاہ صاحب سے والہانہ عقیدت تھی۔ اپنے پیر کا سراپا مسدس کی صورت میں دو سو اشعار پر مشتمل لکھا ہے۔
رحمتؔ حیدرآبادی کے ایک اور نعتیہ کلام کا نمو نہ ملا حظہ کیجئے۔ شاعر کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وجود کا اظہار ہی حضورؐ کو قرار دیتے ہیں۔ شاعر کا خیا ل ہے عرش پر بھی حضورؐ کا چرچا ہورہا تھا۔ آپ کا چرچا آپ ؐ کے وجود سے پہلے ہورہا تھا ‘ملاحظہ کیجئے ؂
اللہ کے وجود کا جلوہ تم ہی تو ہو
یعنی ظہور باری تعالیٰ تم ہی تو ہو
جن کو کیا ملائیکہ سجدہ تم ہی تو ہو
اور رب کے انتخاب کا منشاء تم ہی ہو
توصیف میں مجاز الہیٰ سے کم نہیں
شانِ ربوبیت کی تجلی تم ہی تو ہو
تعریف کیا ہو آپ کی قبلِ ظہور بھی
جن کا ہوا ہے عرش پہ چرچاتم ہی تو ہو
رحمتؔ حیدرآبادی کے نعتیہ کلام کے علاوہ تین ہزار ابیات پر مشتمل غزلیں اور انکے داوین بھی اپنی یادگار چھوڑی ہیں۔ انکی بعض غزلیں صوفیانہ رنگ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ وہ عشق وعاشقی کا معاملہ اپنی غزلوں میں بیان نہیں کرتے بلکہ انکے اشعار میں حقِ مجازی کی طرف اشارہ ملتا ہے۔انکی غزلوں کے چند اشعار ملا حظہ کیجئے ؂
شیخ شیدا ہے بت کی صورت کا
ہے کرشمہ خدا کی قدرت کا
نام ہرگز نہ لیں گے جنت کا
آسمان بھی نہیں عدد اپنا
ہے بگولہ بھی خاک تربت کا
آئینے کو الٹ کے دیکھ لیا
راستہ آیا نظر حقیقت کا
ایک اور غزل میں بھی صوفیانہ رنگ ملاحظہ کیجئے ؂
ترا روپ ہر رنگ میں ہے نرالا
حرم ہو کہ مندر ہو یا شیوالہ
کہیں نام تیرا کہیں شکل تیری
کہیں ہے اندھیرا کہیں ہے اُجالا
اگر تو نے زاہد کو جنت….. کی
ہمیں بھی عطا کرتو اپنا قبالہ
کہیں نور بن کر ہے جلوہ نما تو
کہیں رنگ ظلمت ہے کا لا ہی کالا
جو پوچھا دکھا یا ہے حق کسی نے رحمت
کہا اسی نے اللہ اک کی والا
رحمتؔ حیدرآبادی کی زندگی کا ایک واقعہ بھی ملا حظہ کیجئے۔ حضرت پیر جماعت علی شاہ صاحب ہر سال کی طرح ایک مرتبہ حیدرآباد دکن تشریف لائے تھے۔ رحمتؔ بھی حضرت قبلہ کی قدم بوسی کیلئے اپنے نعتیہ کلام لکھ کر حضرت کے واعظ سے قبل سنایا کرتے تھے۔ بادشاہ وقت میر عثمان علی خان بھی اس محفل میں تشریف فرما تھے۔ رحمتؔ نے حضرت قبلہ سے اجازت حاصل کرکے بادشاہ وقت کی تلوار کی شان میں ایک قطعہ پیش کیا۔ اس قطعہ میں بھی سرکار دوعالمؐ کی مدح ملاحظہ کیجئے۔
کیا نرالا وصف ہے شمشیر آصف جاہ کا
جوہر اسلام ہے اور غم ہے بسم اللہ کا
پھل علی عثمان قبضہ رخ ہیں ابوبکر وعمر
دھار احمد مصطفی کی دار ہے اللہ کا
قطعہ سن کر شاہ دکن میر عثمان علی خان نے حکم دیا کہ انہیں بارگاہ خسروی میں داخل کیا جائے۔ رحمت حیدرآباد ی نے بخوشی خط لکھ کر اچھا فریم کروایا اور بہت اہتمام سے کنگ کوٹھی میں پیش کیا کہ حضور آیا جایا کرو‘‘ رحمتؔ اپنے گھر لوٹ آئے‘ ۔تھوڑی دیر بعد سرکار گاڑی میں شاکر پیشہ کے ذریعے شاہی محل سے خامہ یعنی بادشاہ وقت کے محل سے کھانا آیا تھا۔ آزادی سے قبل شاہی محل خامہ کا آنا بہت بڑا اعزاز سمجھاجاتاتھا۔ اپنے مضمون کے آخر میں رحمت حیدرآبادی کے چنداشعار نعتیہ ملا حظہ کیجئے ؂
کُن کے زمانے سے پہلے نور تھا سرکار ؐکا
مرتبہ کیا جانے کوئی احمد مختار ؐ کا
رحمت العالمین ہیں فیض جاری ہے صدا
بھر جتنا ظرف ہے سرچشمہ ہے انوار کا
دی فضلیت انبیاء پر آپؐ کو اللہ نے
مرتبہ معراج سے ظاہر ہوا سرکارؐ کا
جس نے پی توحید کی مئی آپؐ کے ہاتھوں سے پھر
زندگی بھر تک خمار اترا نہیں مئے خوار کا