رئیس الدین رئیسؔ : اردو شاعری کا ایک درخشاں ستارہ :- چودھری امتیاز احمد

رئیسؔ
رئیس الدین رئیسؔ

رئیس الدین رئیسؔ :
اردو شاعری کا ایک درخشاں ستارہ

چودھری امتیاز احمد
ریسرچ اسکالر
شعبۂ اردو الہ آباد یونیورسٹی

اردو شاعری کی دنیا میں رئیس الدین رئیسؔ ایک اہم نام ہے۔ رئیسؔ کا سلسلہ نسب صحابی رسول حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے ملتا ہے رئیسؔ کے آبا و اجداد ضلع بلند شہر اترپردیش سے تھے۔ رئیسؔ کے پر دادا قاضی رفیع الدین انصاری کو قصبہ جیور کی قضیات کا ناظم اعلیٰ مقررکیا گیا تھا۔ اس لیے ان کی حویلی کا نام بھی کچہری ہو گیا تھا۔

رئیسؔ کے والد قاضی ظہیرالدین انصاری نے جیور چھوڑ کر علی گڑھ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں انہوں نے تجارت شروع کی۔ کوئلے کا کاروبار تھا۔ لیکن اس کاروبار میں مختلف قسم کے مسائل سامنے آئے جس سے اس کا کاروبار آگے نہ بڑھ پایا ریلوے نے کئی بوگی مال چوری کرا لیا۔ مقدمہ بازی ہوئی اور سارا مال ختم ہو گیا۔
رئیسؔ کا پورا نام رئیسؔ الدین اور رئیسؔ ؔ تخلص تھا۔ ۱۸؍جون ۱۹۴۸ ؁ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام ظہیرالدین انصاری تھا اور والدہ عزیزہ ظہیر تھیں۔ رئیسؔ کو ابتدا سے ہی شعر و شاعری کا شوق تھا ان کے اپنے بیان کے مطابق ان کے ادبی سفر کا آغاز ۱۹۷۰ ؁ء میں ہوا۔ اس وقت رئیسؔ کی عمر صرف ۲۲سال کی تھی۔ لیکن اُردو شعر وادب کو بڑی حد تک سمجھنے لگے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان کو ادبی ماحول ملا تھا۔ اُدھر گھریلو ذمہ داریوں اور احساس شعور نے انھیں شعر کی لہر عطا کردی۔ داغ اسکول کے نمائندہ شاعر مختار مرحوم کے جانشین جناب جمنا پرشاد راہی سے شرف تلمذ تھا اس طرح داغ اسکول سے ان کی وابستگی کہیں نہ کہیں ہے۔
رئیسؔ نے ۱۹۷۳ ؁ء میں قصبہ کنگیری ضلع علی گڑھ کے سادات گھرانے میں سید ابوظفر مرحوم کی صاحبزادی رابعہ خاتون سے شادی کی اولاد نرینہ سے محروم رہے لیکن دو بیٹیاں اللہ نے عطا کیں تھیں۔ رئیسؔ قدیم اردو فارسی شاعری کے دلدادہ تھے جس سے ان کے ذہن کو تربیت ملی۔ لیکن ان کی شاعری کا آغاز جدید شاعری کے دور میں ہوا۔ رئیسؔ کی غزلوں میں نئی غزل کی تراش خراش موجود ہے انھوں نے نظمیں بھی لکھیں جو ان کے شعری مجموعوں میں شامل ہیں لیکن غزل کی وجہ سے ان کو شہرت حاصل ہوئی۔
رئیسؔ نے احساس و شعور کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد جہاں اپنے مطالعے کو بڑھانے کی کوشش کی وہیں اشیا اور مناظر کے مزاج کو بھی سمجھنے کی کوشش کی ہے بدلتی ہوئی زندگی انسان کی ترقی، نئی ایجادات، مفاد پرستوں کے نظریات، فریب، عیاری، دانش مندی، اعلیٰ شعوری کیفیات کا مطالعہ کرنے کے بعدرئیسؔ انھیں اپنے اشعار میں ڈھال دیتے تھے۔ کائنات کا مطالعہ کر کے ان احساسات کو شاعری میں پیش کرنا بھی ایک بڑی بات ہے جس کو رئیسؔ نے بخوبی ادا کیا ہے۔ رئیسؔ غزل کے ذریعہ لوری سنا کر جاگتی آنکھوں کے لیے میٹھی نیندوں اور سینوں کا درد کھولتے ہیں۔ ان کی غزل فنی اور عصری تقاضوں سے آراستہ ہے۔ غزل میں زندگی کی بھرپور ترجمانی ملتی ہے۔ ان کی غزلوں کا مجموعہ ۱۹۹۵ ؁ء میں ’’آسماں حیران ہے‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا جس کی دنیائے ادب میں خوب پذیرائی ہوئی۔
رئیسؔ کی غزلوں سے ان کے ہم عصروں کے علاوہ بزرگ بھی متاثر ہوئے۔ اور نہایت خوش دلی سے ارباب فن نے ان کی غزل پر اپنی رائے پیش کی۔ رئیسؔ کے اشعار میں آئینہ، چہرہ، خواب، سنگ اور پتے وغیرہ جابجا علامت کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ جو ایسی شعری کیفیت پیدا کرتے ہیں جسے نثر میں بیان کرنا مشکل ہے۔
رئیسؔ کا شعری مجموعہ ’’آسماں حیراں ہے‘‘ اپنے نام کے اعتبار سے کئی زمانوں کا غماز ہے تمام کائنات کا آئینہ اس طرح اس کے حصار میں ہے کہ اپنے لمحہ لمحہ پیدا ہونے والے عکسوں کو اس کی تحویل میں دینے پر مجبور ہے۔ رئیسؔ بنیادی طور پر غزل کے شاعروں انھوں نے غزل کو نیا لہجہ، نیا اسلوب اور بڑی حد تک نیا لفظی نظام عطا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایوان غزل میں ان کی آواز ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
رئیسؔ کے یہاں شگفتگی بھی ہے اور غم والم بھی مگر اس سے کہیں زیادہ حوصلوں کی بلندی اور پختگی ہے۔ رئیسؔ کا آسماں حیراں ہے ایک شعری نگار خانہ ہے رئیسؔ کی غزل شکیب جلالی کی غزل سے استفادہ کرتی محسوس ہوتی ہے۔ رئیسؔ کی غزل ان کی فن شاعری کے جوہر سے مالامال ہے۔
’’آسماں حیراں ہے‘‘ رئیسؔ کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس کے مطالعے کے بعد ذہن پر تاثر قائم ہوتا ہے کہ رئیسؔ زندگی کی سچائیوں سے آنکھ ملانے کا صرف حوصلہ ہی نہیں رکھتے بلکہ نبرد آزما بھی ہیں۔ اس مجموعے کے مطالعے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ شاعری نے کلاسیکی شاعری سے جدید شاعری تک یعنی غزل کی تاریخ کا تسلسل سے مطالعہ کیا ہے۔
رئیسؔ دکھوں کا رئیس ہے اس لیے اسے اپنے گرد پھیلی ہوئی حیات اور معاشرے پر قلبی درد ہے رئیس جوان ہوتے ہوئے بھی ان المناک لمحوں کا شکار ہو جاتے ہیں جو انسان کی فکری طاقت کو بوڑھا کر دیتا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں۔
منزلیں مٹتی ہوئیں دور آسماں ہوتا ہوا
وحتشوں کے بیچ انساں بے زباں ہوتا ہوا
میں جنوں رفتار سب راہوں کو سر کرتا ہوا
غازی گفتار کا چہرہ دھواں ہوتا ہوا
رئیسؔ کا شمار ان خوش نصیب شعرا میں ہوتا ہے جن کے پاس نہ صرف دولت فکر ہے بلکہ وسعت ادراک بھی۔ غزل کو امتیازی شان عطا کرنے میں رئیسؔ نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور اپنی پہچان قائم کرنے کے لیے نہ کوئی شور و غوغہ کیا نہ کوئی کرتب دکھائے بس ہمہ وقت بیدار مغز رہے۔
’’ آسماں حیران ہے ‘‘ رئیسؔ کا پہلا مجموعہ ہے۔ جس کا عنوان اپنے شعر سے اخذ کیا ہے۔
تری طلب پہ تو حیراں آسماں ہے رئیسؔ
کہ تونے چاند نہیں اس کا داغ مانگا ہے
دوسرے مجموعے کا عنوان ’’ زمیں خاموش ہے ‘‘ یہ مجموعہ ۲۰۰۱ء ؁ میں کراچی سے شائع ہوا۔ اس مجموعے کے عنوان کے لیے ان کا یہ شعر:
آسمانِ فکر کوئی ضربِ کاری دے مجھے
ایک مدت سے مرے دل کی زمیں خاموش ہے
’’ سمندر سوچتا ہے ‘‘ (کلیات) جو ۲۰۰۶ ؁ء میں دہلی سے شائع ہوئی۔ اس کا عنوان اس شعر میں ملتا ہے:
میں قطرہ ہوں مگر وسعت پہ میری
یہ دریا کیا سمندر سوچتا ہے
رئیسؔ کی شاعری ہندوپاک کے رسائل و جرائد میں شائع ہوتی تھی۔ کئی رسائل نے ان کی ایک سے زائد غزلیں اپنے مخصوص نوٹ کے ساتھ شائع کر کے شاعر کی انفرادیت کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ وہ زبان و بیان پر قدرت رکھتے تھے۔ اپنے شعری تجربات کے لیے الفاظ کا انتخاب بہت احتیاط سے کرتے ہیں۔ ان کی شاعری امکانات سے پُر ہے۔ ان کے مخصوص لب و لہجے اور انفرادی اسلوب کی پہچان کے ضمن میں بہت سے اشعار پیش کئے جا سکتے ہیں۔ رئیسؔ اپنی آواز کی انفرادیت، طرز ادا کی سبک روی، لہجہ کی پختگی کی کامیاب پیش کش کی وجہ سے جدید اردو غزل گوئی میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ رئیسؔ غزل کے شاعر ہیں سماج کو سمجھنے اس کے تشدد کی بنیاد تک پہنچنے اور اس کے آشوب سے نکلنے کے رویے رئیسؔ کی غزلوں میں نمایاں ہیں۔ رئیسؔ کی شاعری میں جدید رنگ ہونے کے باوجود بھی غم جاناں اور غم دوراں کا حصہ بھرپور طور پر غالب ہے مگر پھر بھی غزل کی روایت کے احترام کا ان کے کلام میں ایک خاص رنگ ہے جس میں مواد ہو یا موضوع، زبان ہو یا انداز بیان ہر سطح پر روایت کے عناصر کی کارفرمائی ہے۔ ’’شہر بے خواب ہے‘‘ رئیسؔ کا ایک اور شعری مجموعہ ہے جو ان کی فکر کا آئینہ دار ہے۔
رئیسؔ اپنے شعری اسلوب کی وجہ سے ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ یکم اپریل ۲۰۱۶ ؁ء میں وہ اڑسٹھ برس کی عمر پاکر ابدی نیند سو گئے اور اس طرح شعری افق کا یہ ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا لیکن رئیسؔ کو ان کے شعری کارناموں کی وجہ سے ادبی دنیا میں ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔
—–
چودھری امتیاز احمد
ریسرچ اسکالر
شعبۂ اردو الہ آباد یونیورسٹی
الہ آباد 211002
Mob: 7051269238
—–

چودھری امتیاز احمد