بجلی کا جھٹکا دینے والی مچھلیاں : – جاوید نہال حشمی

بجلی کا جھٹکا دینے والی مچھلیاں

جاوید نہال حشمی
B-5, Govt. R.H.E., Hastings,
3, St. Georges Gate Road, Kolkata-700022
(9830474661)

ذرا تصور کریں راہ چلتے اچانک کچھ لوگ آپ پر حملہ آور ہونے کے لئےآپ کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔پھر اپنے ہاتھوں میں خطرناک ہتھیار لئے بڑے جارحانہ تیوروں کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ مگر 40 فیٹ قطر کے دائرے میں داخل ہوتے ہی اچانک دردناک چیخ کے ساتھ زمین پر گر کر تڑپنے لگتے ہیں ۔ جلد ہی کچھ بے ہوش ہو جاتے ہیں اور کچھ دم توڑ دیتے ہیں۔ حیرت زدہ راہ گیر ان کی مدد کو آگے بڑھتے ہیں لیکن دوسرے ہی لمحےکسی اَن دیکھی قوت کے زیرِ اثر وہ اچھل کر دور جا پڑتے ہیں۔اب وہ خوفزدہ نگاہوں سے آپ کی جانب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔پھر آپ کو آگے بڑھتے دیکھ کر وہ اس طرح پیچھے ہٹتے ہیں گویا آپ کےجسم سے خارج ہونے والی طاقت ور برقی لہروں کے دائرۂ اثر سے خود کو دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہوں …

یقیناً آپ کو کسی مشہور سائنس فکشن یا ہالی ووڈ کی ایڈونچر فلموں کی یاد آ جائے گی کیوں کہ ایسا انسان صرف فلموں یا فکشن میں ہی پایا جاتا ہے۔ لیکن اصلی دنیا میں انسان نہ سہی، ایسی مچھلیوں کا وجود ایک حقیقت ہے۔
جی ہاں، یہ نہ صرف حقیقی مچھلیاں ہیں بلکہ اب بھی دنیا میں تقریباً ہر جگہ گرم اور معتدل پانیوں میں پائی جاتی ہیں۔ یہ مخصوص شکل والی مچھلیاں ہیں جنہیں مجموعی اعتبار سے ’ریز‘ (Rays) کہتے ہیں۔رے مچھلیاں پشت اور شکم کی جوانب سے چپٹی ہوتی ہیں اور ڈھانچہ کرکری ہڈیوں (cartilage) کا ہوتا ہے۔ سر کے گرد اگلے پروں (pectoral fins) کے پھیلاؤ کے سبب ان کا جسم چپٹا، تھل تھل اور تقریباً دائرہ نما ہوتا ہے۔مضبوط عضلاتی دم پر دو قدرے بڑے پشت کے فِن اور ایک ترقی یافتہ caudal fin ہوتے ہیں۔ ان کےنتھنے، منہ اور گلپھڑوں کے سوراخ نیچے کی جانب ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کے دم پر زہریلا کانٹا ہوتا ہے جو ان کا دفاعی عضو ہے۔ انہیں ’ڈنک ریز‘ (Stingrays) کہتے ہیں۔جن ریز کی دم پر یہ زہریلے کانٹے نہیں ہوتے انہیں اسکیٹس (Skates) کہا جاتا ہے۔جب کہ وہ مخصوص ریز جن کی دم پر زہریلے کانٹوں کی بجائے سر پر بجلی کا جھٹکا (Electric shock) دینے والےمخصوص اعضا ہوتے ہیں، برقی ریز (Electric Rays) کہلاتی ہیں (تصویر دیکھیں)۔
بجلی کا جھٹکا دینے والی ان مچھلیوں کو تارپیڈو (Torpedo) بھی کہا جاتا ہے۔سمندر کے نیچے آب دوز جہازوں سے داغے جانے والے بم کے گولوں کوبھی تار پیڈو کا نام دراصل ان ہی مچھلیوں کی خصوصیات کی بنا پر دیا گیا ہے۔ان میں سے زیادہ تر ساحل کے قریب کم گہرے پانی میں پائی جاتی ہیں۔ البتہ ان کی کچھ اقسام ایک ہزار میٹر (تین ہزار تین سو فٹ) یااس سے بھی زیادہ گہرائی میں رہتی ہیں۔

تارپیڈو یا برقی ریز کے علاوہ دو اور قسم کی مچھلیوں میں یہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔ایک بام مچھلی (Eel) اور دوسری برقی گربہ ماہی (Electric catfish) (تصویر دیکھیں)۔ان تینوں میں، بام مچھلی سب سے طاقتور الیکٹرک شاک دیتی ہے جب کہ برقی گربہ ماہی نسبتاً سب سے کمزور۔یوں تو تمام جانوروں، بشمول انسان، کے جسم میں اعصابی تحریک کی شکل میں برقی رَو دوڑتی ہے، لیکن یہ مچھلیاں اپنے مخصوص برقی اعضا میں بیٹری کی مانند نہ صرف برق جمع رکھتی ہیں بلکہ وقت ضرورت اتنی طاقتور برقی جھٹکے خارج کرتی ہیں کہ مقابل مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔
یہ برقی قوت یا لہریں ایک مخصوص قسم کے خلیوں میں پیدا ہوتی ہیں جنہیں برقی خلیے (Electrocytes) کہتے ہیں۔یہ برقی خلیے دراصل عضلاتی خلیوں کی ہی مخصوص تبدیل شدہ شکلیں ہیں جو ٹکیوں (disk) کی مانند چپٹی ہوتی ہیں اورایک کے اوپر ایک ستون کی شکل میں سجی رہتی ہیں۔ ایک مچھلی کے جسم میں ہزاروں برقی خلیے بے شمار ستونوں کی شکل میں اکٹھا موجود ہوتی ہیں جنہیں Electroplates کہتے ہیں۔ہزاروں بلکہ لاکھوں الیکٹر پلیٹس کے باہم ملنے سے برقی عضو (electric organ) کی تشکیل ہوتی ہے۔تارپیڈو یا برقی ریز میں یہ برقی اعضا ایک جوڑے گردوں کی شکل میں جسم کی پشت کی جانب سر پرگلپھڑوں اور pectoral fins کے درمیان موجود ہوتے ہیں (تصویر دیکھیں ) جب کہ بام مچھلی (electric eel) میں برقی عضوجسم کے دونوں جانب پوری لمبائی میں سر سے دم تک عضلات کے درمیان پھیلا ہوتا ہے (تصویر دیکھیں)۔ ان کے برعکس برقی گربہ ماہی (electric catfish) میں یہ برقی اعضا جیلی کی مانند ہوتے ہیں اور جِلد کے ٹھیک نیچے پائے جاتے ہیں اور اس طرح پورے جسم کو خول کی شکل میں ڈھکے رہتے ہیں (تصویر دیکھیں)۔

ہر انفرادی خلیہ ۱۵۰ میلی وولٹ (0.15v) طاقت کی بجلی پیدا کرتا ہے جس سے لگنے والا جھٹکا نہایت کمزور ہوتا ہے۔لیکن چوں کہ تمام برقی خلیےایک دوسرے سے سیریز میں متصل ستون کی شکل میں واقع ہوتے ہیں، ان کی مجموعی طاقت زبردست ہوتی ہے۔ایک قیاس کے مطابق، بیٹری کی ایجاد ان ہی برقی خلیوں کے اجتماعی اثرکے مشاہدے کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔ ہمارے گھروں کے بجلی کے تاروں میں دوڑتے برقی رَو کا انحصارالیکٹرون کے بہاؤ پر ہوتا ہے جب کہ جاندار جسموں میں برقی رَو کی ترسیل سوڈیم اور پوٹاشیم آیون کی حرکت کے سبب ہوتی ہے جنہیں خلیے دماغ سے تحریک پا کر اپنے اندر سے باہر پمپ کر دیتے ہیں۔ مذکورہ برقی خلیے عصبوں کے ذریعہ مچھلی کے دماغ سے رابطے میں رہتے ہیں۔مچھلی کے دماغ سے نکلے والے cranial nerves دونوں جوانب شاخ در شاخ منقسم ہوتے جاتے ہیں۔ ہر شاخ کا آخری سِراایک برقی پلیٹ کے نچلے حصے سے جڑا رہتا ہے(تصویر دیکھیں)۔

مطالعے سے ایک دلچسپ اور حیرت انگیز بات سامنے آئی ہے کہ انفرادی خلیے متوازی سرکٹ کے طرز پر سست رفتاری سے چارج ہوتے ہیں مگرجھٹکا دیتے وقت تمام خلیے اچانک اور بیک وقت سیریز سرکٹ کے طرز پر اپنا چارج ایک ساتھ خارج کرتے ہیں جس سے زبردست وولٹ کا شاک لگتا ہے۔بام مچھلی جیسے ہی اپنے شکار کو دیکھتی ہے اس کا pacemaker نیورون متحرک ہو جاتا ہے اور acetyl-choline نامی عصبی رطوبت ایک مخصوص حرکی عصبے کی مدد سے برقی خلیوں میں پہنچا دیتا ہے جسے وصول کرتے ہی تمام خلیے بیک وقت الیکٹرک شاک دیتے ہیں۔
برقی ریز جسامت میں ایک فٹ سے چھ فیٹ (Atlantic torpedo) تک ہوتی ہیں جس کا وزن 90 کیلو سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے. اس کی مختلف نسلیں 37 وولٹ (Narcine) سے 220 وولٹ (اٹلانٹک تارپیڈو) تک کے جھٹکے دے سکتی ہیں جو ایک بالغ انسان کو بے ہوش یا مفلوج کرنے کے لئے کافی ہے۔یہ ساحل کے قریب کم گہرے پانیوں میں سست رفتاری سے تیرتی دکھائی پڑتی ہیں۔یہ اسکیٹس کی طرح اپنے pectoral fins کا استعمال نہ کر کے اپنے caudal fins کی مدد سے آگے بڑھتی ہیں۔ یہ دن کے وقت عموماً تہہ میں ریت کے نیچے خود کوچھپا کر رکھتی ہیں اور ان کی ابھری ہوئی آنکھیں ریت سے باہر شکار کی گھات میں جھانکتی رہتی ہیں۔شکار کے قریب آتے ہی یہ الیکٹرک شاک کے ذریعہ اسے وقتی طور پر مفلوج کر دیتی ہیں اور پھر اپنےpectoral فن کی مدد سے اسے اپنے منہ تک لے جاتی ہیں۔ یہ انسانوں کے لئے نہ صرف غیرمنافع بخش مچھلیاں ہیں بلکہ ان کے لیےغیر ضرر رساں بھی ہیں جب تک کہ اسے چھوا نہ جائے یا بے توجہی میں ان پر پاؤں نہ پڑ جائے۔ ان میں سے کئی کی رنگت ریت سے مشابہ ہوتی ہے تاکہ اپنے شکار کی نظروں سے اوجھل رہ کر حملہ کر سکیں۔ بام مچھلی کے جسم کی رنگت سبزی مائل بھوری ہوتی ہے جس کے سبب یہ تہہ میں موجود کیچڑ سے مشابہ ہونے کے نتیجے میں اپنے شکاری کی نگاہوں سے محفوظ رہتی ہے۔

Zeb Hogan holding a big swamp eel caught in fyke net. Unlike electric eels, swamp eels are not capable of discharging electricity. (Photo credit: © NGT / Colm Whelan)

برقی بام مچھلی (electric eel) کے جسم میں پائے جانے والے برقی خلیے اس کے جسم کے مجموعی خلیوں کا نصف ہوتے ہیں۔ جنوبی امریکہ کی ندیوں میں پائی جانے والی بام مچھلی (Electrophorus electricus) در حقیقت 450 سے 650 وولٹ تک کے بجلی کے جھٹکے دے سکتی ہے جس سےبآسانی ایک نیون بلب روشن کیا جا سکتا ہے! اس شدت کا الیکٹرک شاک پانی میں داخل ہونے والے کسی چوپائے کے قدم بھی اکھاڑ دینے کے لئے کافی ہے۔ اگر ایسی دو تین مچھلیاں اس کے پیروں کو چھو جائیں تو تین گنا ہائی وولٹ چشم زدن میں اس کی حرکتِ قلب بند کر دیں گی!
مشاہدے و تحقیق کے مطابق، یہ مچھلیاں اپنے برقی اعضا سے نہ صرف اپنے شکار کو مفلوج یا ختم کر دیتی ہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لئے اپنےشکاری جانوروں (Predators) کو ڈرا کر دور رکھنے کے لئے بھی ان کا استعمال کرتی ہیں۔ حالیہ تجربوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ برقی بام مچھلی جب متحرک ہوتی ہے تو اس کے جسم سے کم قوت کی برقی لہریں نکلتی ہیں جو اس کے گرد ایک ہالہ یا الیکٹرک فیلڈ قائم کر دیتی ہیں جس میں داخل ہونے والی ہر شئے یا جاندار کے جسم سے منعکس ہو کر لوٹنے والی لہروں کی مدد سے ریڈار کی مانند ان کی موجودگی کا احساس کرتی ہے۔ لہٰذا یہ اعضاء نہ صرف سمت شناسی میں معاون ہوتے ہیں بلکہ آنکھیں کمزور ہونے کے باعث اضافی حسّی عضو کے بطور بھی کام کرتے ہیں۔
سائنس دانوں کا قیاس ہے کہ یہ مچھلیاں اپنی برقی لہروں کی مدد سے ایک دوسرے کے درمیان پیغام رسانی کا کام بھی کرتی ہیں۔
ایک مطالعے کے مطابق، قدیم یونانی لوگ برقی ریز کا استعمال زچگی اور آپریشن کے دوران متعلقہ اعضا سن کرکے درد کم کرنے کے لیے کرتے تھے۔ ایک رومن ماہرِطب کے مطابق، پہلی صدی عیسوی کے وسط میں لوگ تارپیدو کا استعمال سر درد اور جوڑوں کے درد کے علاج کے لئے بھی کرتے تھے ۔
———
Jawed Nehal Hashami

جاوید نہال حشمی