سائنسی شعور کی بیداری سے ملے گا مسلماں کو عروج :- فاروق طاہر

فاروق طاہر

سائنسی شعور کی بیداری سے
ملے گا مسلماں کو عروج

فاروق طاہر
حیدرآباددکن،

09700122826

اقوام کی تعمیر افراد کے ہاتھوں ہی انجام پاتی ہے۔جب افراد تساہل ،تن آسانی اور بے فکری کے خوگر ہوجائیں وہیں سے قوموں کے زوال کا آغاز ہونے لگتا ہے۔ یہ فطرت کا ایک غیر متبدل قانو ن ہے کہ انسان اپنی ایک طبعی عمرکے بعد دنیا سے کوچ کرجاتا ہے۔

اسی طرح قومیں بھی افراد کی کوتاہیوں کی وجہ سے اپنی تمام حشر سامانیوں، فتح و کامرانی اور شکست و ریخت کے بعد زوال پذیرہوجاتی ہیں ۔ موت کے بعد انسان کے عروج و زوال اور شوکت و عظمت کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔ مابعدموت انسان کے لئے دنیاکی زندگی کا تصورر بھی محال ہے۔لیکن قوموں کی زندگی اس کلیہ سے مستشنیٰ ہوتی ہے۔ کسی بھی قوم سے وابستہ افراد اپنی سعی و جستجوسے قوم کے مردہ جسم میں روح پھونک سکتے ہیں۔ قوم افراد تیار نہیں کرتی بلکہ افراد کے ہاتھوں قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ آج تک خالق کائنات نے کسی بھی قوم کوبغیر سعی و جستجو کے عروج و کمال عطا نہیں کیا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے افراد کو اپنی قوم کے زوال کو کمال میں بدلنے کا ہنر بخشا ہے۔ اگر کسی قوم کے افراد باشعور ہوں تو وہ قوم بھی زندہ و باشعور تصور کی جاتی ہے۔ قوموں کا عروج و زوال اس کے افراد کے علم و شعور سے وابستہ ہوتا ہے۔ قومیں اپنے تمام تر زوال اور شکست و ریخت کے باوجود اوج کمال تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں بشر طیکہ ہر شخص قوم کی تعمیر میں اپنا گرانقدر کردار انجام دے۔اقبالؒ فرماتے ہیں ؂
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارہ

قوم کی تعمیر کے لئے فرد کی تعمیرضروری ہے۔تاریخ کا مطالعہ جہاں مسلمانوں کو فخر و تسکین کے سامان فراہم کرتا ہے وہیں مسلمانوں کی ناکامی ،نامرادی کی المناک داستانیں بیان کرتے ہوئے ان کے اعصاب پر محرومی اورناامید ی کی ایک گہری چادر بھی تان دیتا ہے۔تاریخ کے مطالعے سے کشید کردہ سامان فخرو تسکین اور احساس ذلت و ناامیدی قوم کے زوال کو کمال میں نہیں بدل سکتا، بلکہ قوت احتساب ہی ایک ایسانسخہ کیمیا ہے جو قوم کو پھر سے مسند عروج و کمال پر بحال کرسکتا ہے۔اس مضمون میں ملت کے عروج و زوال میں کارفرما عناصر بالخصوص علمی وسائنسی انحطاط کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے جوقوم کی عظمت رفتہ کی بحالی میں معاون ثابت ہوگی۔
کسی بھی قوم کی ترقی و تنرل میں اس کے نظریہ علم کوکلیدی حیثیت حاصل رہتی ہے۔ دنیا کے مذاہب میں اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے علم کو ایک تحریک کی شکل میں عام کیا۔خدا ئے برتر کی عظمت جلال وجبروت کا احساس انسان کو علم کے ذریعے ہی حاصل ہوتا ہے۔اسلام خالصتاً ایک علمی مذہب ہے ۔اسلام اور جہالت دو متضاد کیفیت کے نام ہیں جو کبھی یکجا نہیں ہوسکتے ۔ اسلام نے دنیا کو ساکت و جامد نظریہ علم کے بجائے مرورزمانہ کے ساتھ معاشرے سے مطابقت و ہم آہنگ کرنے والا نظریہ علم عطاکیاجوذہنی جمود کو توڑکر کشادگی اور جدت نگاہ فراہم کرتا ہے۔قرآن علم وحکمت کا منبع ہے اور ایک مکمل دستور حیات بھی(یعنی نصاب زندگی بھی)۔اسلام کی تعلیمات نہایت سادہ اور عام فہم ہے جس کی بنیاد ہی علم وعمل پر استوار ہوتی ہے۔کسی بھی معاشرے کی تبدیلی ،ترقی اور انصاف کے قیام میں علم و عمل ہی کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ جذبہ عمل ہی انسان کو جد و جہد ،عمل و حرکت ،اخذو اکتساب تحقیق،تدبر ،تفکر،اور تخلیق پر مائل کرتا ہے۔اسلام نے معاشرتی ترقی کے دروازے ہمیشہ وا رکھے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ متابعین اسلام نے جب تک اس اصول سے انحراف نہیں کیا وہ علم و عظمت کی بلندیوں پر فائز رہے۔
اسلام کے مطابق انسان کی زندگی ایک امتحان اور دنیا کی حیثیت ایک امتحان گاہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جہانِ فانی میں تمام انسانوں کو( خواہ وہ حاملین توحید و رسالت ہوں یاکفار،ملحدو بے دین ) سب کو یکساں اسباب فراہم کئے ہیں کیونکہ یکساں اسباب کی فراہمی کے بغیر امتحان بے معنیٰ ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسان کاامتحان مطلوب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی نے انسان کو اپنی زندگی اپنی مرضی یا پھرا حکام الہی کیمطابق گزارنے کا اختیار بھی عطاکیا ۔ اسی لئے دنیا کو دارالاسباببنایا گیا۔ جس طرح اخروی کامیابی کے لئے احکامات خداوندی کی پابندی لازمی ہے اسی طرح دنیا وی ترقی کے لئے بھی اللہ تعالیٰنے چند معروضی اصول بنائے ہیں ۔ انسان جب اسلامی اصولوں پر کاربند ہوجاتا ہے تو دنیاوی ترقی کے معروضی اصولوں پر ازخود عمل ہونے لگتا ہے اور وہ اخروی کامیابی کے ساتھ دنیا میں بھی ترقی وعروج پانے لگتا ہے۔ اسلامی تعلیمات سے روگردانی کرنے والا ، کافر جو اللہ کا نافرمان ہوتا ہے لیکن اگر وہ دنیاوی ترقی کے معلنہٰ خدائی معروضی اصولوں پر عمل پیرا ہوتو دنیا میں عروج و کمال حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔لیکن احکامات خداوندی سے روگردانی کی پاداش میں وہ آخرت میں مجر م ٹھہرئے گا۔ قرآن حکیم ،سورہ حج 22،65 اور سورہ لقمان کی 30 اور 31 کی آیات اسی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ انسان کو زمین اور کائنات میں تصرف کا اختیار دیاگیا ہے اور ہرچیز اس کی دسترس میں رکھی گئی ہے۔
مسلمانوں کے عروج کے اسباب
اسلام دراصل دنیا کے لئے اللہ کا منشور ہے۔قرآن سرچشمہ علم ہے۔قرآن دنیا میں اللہ کا آخری پیغام ہے اور یہ کسی بھی تحریف اور تبدیلی سے پاک ہے ۔اللہ نے خود اس کتاب کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے۔قرآن اور اسوہ نبوی کو مسلمانوں نے جب حرز جاں بنالیا تو فتح و کامرانی ان کے قدم چومنے لگی۔ قرآن انسانوں کو کارخانہ قدرت میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن انسانوں کو تفکر،تدبر اور تبحر پر مائل کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات توہم پرستی ،جعلی سائنس اور جھوٹی روایات پر قائم علم کا ابطال کرتی ہے۔قرآن اور تعلیمات نبویﷺ سے راست فکری وابستگی نے مسلمانوں کو عرو ج و کمال عطا کیا۔علم سے فطری لگاؤ کی وجہ سے مسلمانوں نے خود کو مختلف علوم کے تراجم تک محدود نہیں رکھا بلکہ عمرانی اور فطری علوم میں ایجاد و انکشاف کو رواج دیا۔قرآن اور سنت سے راست ہدایت حاصل کرنے کی وجہ سے مسلمانوں نے علم سے تشکیک اور ابہام کو دور کر دیا۔علم کی جدید کاری کا سہرا بھی اسلام کے سر جاتا ہے۔مسلمانوں نے قرآنی احکامات کے پیش نظر سائنسی انداز فکر کو فروغ دیتے ہوئے غور و فکر پر علم کی بنیادوں کو استوار کیا۔سیرت نبوی مسلمانوں کو تجرباتی اور سائنسی علوم کے حصول میں ہر دم ترغیب فراہم کرتی رہی۔تشکیک،ابہام اور تضادات کے خاتمے اور علوم و فنون کو معاشرتی تقاضوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اجتہاد کا راستہ ہمیشہ کھلا رکھا۔قرآنی تعلیم پر عمل پیرا مسلمانوں نے اپنے دور اقبال میں نئے افکار، نظریات اور تجربات سے جدیدسائنسی علوم کی نئی راہیں وا کئیں جن پر چل کر سائنس آج اس منزل تک پہنچی ہے۔اسلام نے کائنات کو ایک معمہ اور مافوق الفطرت شئے بنا کر نہیں پیش کیا بلکہ تعلیم اور تحقیق کا رخ تسخیر کائنات کی طرف موڑدیاتاکہ نئی ایجادات کی راہ ہموار ہوسکے اور تسخیر کائنات کا موثر اور فعال نظام وجود میں لایا جاسکے۔’’کیا تم نے نہیں دیکھاکہ اللہ نے تمہارے لئے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزوں کو مسخر کردیا ہے۔‘‘)سورہ لقمان آیت نمبر 20 (مسلمان سائنسی اور دیگر علوم کی مسند عروج پر اس وقت تک فائز رہے جب تک ان میں تحقیقی اور تخلیقی اپروچ موجود رہا۔انسانی نشوونما اور مادی وسائل کی ترقی میں قرآن روایتی اور تقلیدی فکر سے منع کرتا ہے۔اسلامی تعلیمات نے اس کے پیرؤں کو مضبوطی سے ایک نظریہ حیات سے وابستہ کرتے ہوئے انسانی وسائل(Human Resources)ترقیاتی وسائل(Developmental Resources)اور مادی وسائل(Material Resources)کو ترقی دے کر انھیں عروج سے ہمکنار کردیا۔مختصر اً آل عمران کی آیت 143’’تمہیں غالب رہوگے ،بشرطیکہ تم (سچ مچ) مومن ہو۔‘‘کی روشنی میں مسلمان جب تک اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا رہے وہ ترقی کے راستوں پر گامزن رہے ۔مسلمانوں کے عروج کی وجہ آزادانہ سوچ ،غور و فکر تجربہ اور مشاہدہ تھا جس پر انھیں اسلامی تعلیمات نے ابھارا تھا۔اسی علمی نظریہ کے تحت وہ علم اور تحقیق میں دنیا سے بہت آگے نکل گئے اور ان کے قائم کردہ تحقیقی اور علمی معیار کا کوئی قوم صدیوں تک مقابلہ نہ کرسکی۔مسلمانوں کا یہ عروج صرف سائنس و ٹیکنالوجی کے زمرے میں ہی نہیں ہوا بلکہ دینی اور سماجی علوم میں بھی ان کا یہی حال تھا۔اسلام نے تعلیم کو قوم کی طاقت و قوت کا سرچشمہ قرار دیا۔تحقیقی مزاج اور فکر ی حریت جب تک مسلمانو ں میں باقی رہی وہ اوج ثریا تک پہنچ گئے۔لیکن جب حریت فکر پر کاری ضرب لگی اور اجتہاد کا دروازہ انھوں نے اپنے اوپر بند کرلیااور اندھی تقلید پر فخر کرنے لگے تب وہ زوال کے گم نام اور تاریک اندھیروں کی نذر ہوگئے۔مسلمانوں نے جب تک علم کو ایک اکائی کے طور پر مانا اور علوم کو دینی اور دنیو ی خانوں میں نہیں بانٹا کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومتے رہی۔بارہویں صدی عیسوی تک دیگر اقوام پر مسلمانوں کی برتری اور فضیلت کی بنیادی وجہ علم نافع یعنی افادی علوم تھے جن میں سائنس (تجرباتی سائنس) اور فلسفہ پیش پیش تھے۔علماو فقہا کا اسلامی تعلیمات کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا مثبت رویہ مسلمانوں کے عروج میں اہم مانا گیا۔ مشاہدہ و تجربہ علمی اساس کی جان تھے۔عقلیت اور روشن خیالی کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔قیاس و منطق تضادات کوختم کرنے والے ہتھیار ہوا کرتے تھے۔استقرا،استناج اور استخراج کو نتائج کی تہہ تک پہنچنے کے ذرائع مانا جاتا تھا۔فرقہ پرستی اور نفاق کو علم کا دشمن سمجھا جاتا تھا۔جمودی تقلید شاہراہ علم کی رکاوٹ تصور کی جاتی تھی۔تقدیر پرستی اور بے عملی کے بجائے آزادی عقل و عمل کا مسلک غالب تھا۔یہ ہی علما اور اسکالرس کا مذہب تھا جس کی اندلس،غرناطہ اور بغداد کے علم دوستحکمران سرپرستی کیا کرتے تھے۔
مسلمانوں کے زوال کے اسباب
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مسلمانوں کا زوال فکری سطح پر اسلامی طرز فکر چھوڑنے اور اسلامی احکامات کو عملی جامہ پہنانے میں سستی برتنے سے ہوا۔مغرب (یورپ ) جب مذہبی جہالتوں میں غرق تھامسلمان علم و دانش کے علمبر دار تھے۔مسلمان یورپ کو غفلت اور جہالت کی گہری نیند سے بیدار کرکے خود خواب غفلت کا شکار ہوگئے۔اہل کلیسا کی طرح مسلمانوں کے اسلامی اذہان کو فرقہ پرستی،نسلی عصبیت ،عقل دشمنی پر مبنی مذہبی تحریکیں لے ڈوبیں۔قومیں جب عقل کی حریف ہوجاتی ہیں تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔عقل کے حریفوں میں عدم برداشت کا رجحان درآنا بھی ایک عام بات ہے۔ڈاکٹر افتخار حسین اپنی کتاب ’’قوموں کی شکست و زوال کے اسباب ‘‘میں رومیوں کے زوال کے متعلق فرماتے ہیں کہ رومی علم کے حصول کے بجائے مارشل آرٹس،فائن آرٹس،شاعری،خطابت ،موسیقی،فن تعمیر اور کھیلوں میں مشغول ہوچکے تھے۔تدریس جیسے اہم پیشے کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت اور وقعت نہیں تھی۔معاشرے کے ذہین ترین افراد سول سرونٹس،شاعر ،خطیب ،اداکاراور کھلاڑی بننا پسند کرتے تھے۔درس و تدریس اور تعلیم وتربیت کا کام غلاموں پر چھوڑدیا گیا تھا۔رومیوں میں ایسے ادب اور فنون کا شوق پیدا ہوگیا تھا جن کی بنیاد جذباتیت پر رکھی ہوئی تھی۔روایت پسندی اور ترقی پسندی کے درمیان محاذآرائیاں ایک عام بات تھی۔رومیوں کے زوال کی اور دوایک وجوہات گرانتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان میں رومان پسندی اور ماضی کی عظمت پرستی کا مرض بھی در آگیا تھا۔ڈاکٹر افتخار کی تحقیق کے آئینے میں دیکھا جائے تو مسلمانوں کے زوال کے اسباب بھی کم و بیش یہ ہی معلوم ہوتے ہیں۔
تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے ہی روشن دماغ ہستیاں اپنے دور کے نام نہاد مذہبی علماکے زیر عتاب رہیں جنھیں بدعتی ،ملحد ،منکر اور کافر کہہ کر ہدف تنقید و ملامت اور تشدد کا نشانہ بنا یاگیا۔منطق،طبیعات،ریاضی اور موسیقی پر دوسوساٹھ سے زیادہ کتابیں تحریر کرنے والے عرب کے مشہور اسکالر الکندی (873-801)کا جینا دوبھر کردیاگیا۔اس عظیم اسکالر کو ضعیفی کی حالت میں بھی سربازار پچاس کوڑوں کی سزادی گئی۔تنگ نظر خلیفہ وقت کے حکم پر اس کا کتب خانہ ضبط کرلیا گیا۔عظیم طبیب،کیمیادان و فلسفی محمد ابن زکریا الرازی(925-854)کو بھی ایک قدامت پرست امیر نے کافر قرار دیا اور اسی کی کتاب سزا کے طور پر اس کے سر پر دی ماری جس کی وجہ سے یہ عظیم اسکالر بینائی سے محروم ہوگیا اور کچھ عرصے بعد فوت ہوگیا۔عالمی شہرت یافتہ سائنس داں طبیب و مفکر بوعلی سینا(1037-980)جو ایک حافظ قرآن بھی تھا کو منکر قرار دیا گیا اور اس کی کتابوں پر پابندی عائد کر دی گئی ۔بوعلی سینا نے وطن مالوف سے فرار ہوکر اپنی جان بچائی۔الفارابی (950-872)کو کافر کہا گیا۔ابن رشد(1198-1126)پر الحاد کا الزام لگا کر اس کی کتابوں کوجلادیا گیا۔علم دشمنی کی یہ روش صرف سائنس دانوں سے روا نہیں رکھی گئی بلکہ مذہبی مشاہیر اور فقہا بھی اس روش کی وجہ سے زیر عتاب رہے ۔حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کو عباسی خلیفہ ابوجعفرمنصور نے قید کردیا اور قید خانے میں ہی آپ کی موت واقع ہوئی۔حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو بھی خلق قرآن کے مسئلے پر درے لگائے گئے۔
یورپ کے تاریک عہد میں بھی ہمیں یہی تکلیف دہ صورتحال نظرآتی ہے۔گلیلیو گلیلی(Galileo Galilei 1564-1642)کو نذرزنداں کرنے کا واقعہ جورڈانوبرنو(Giordano Bruno 1548-1600)کو زندہ جلاکر ماردینے کا سانحہ بھی ماضی پرستی اور جہالت کو گلے سے لگائے رہنے کی مثالیں ہیں۔کلیساء کی پرنٹنگ پریس ،سائنسی کتابوں کو ضبط کرنا ایسی رجعت پسندی اور قدامت پرستی تھی جس کی وجہ سے یورپ صدیوں تک جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیر ے میں ڈوبا رہا۔یورب کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر بے علمی اور سنگین غلطیوں کے باوجود جہالت کی ظلمتوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔سائنسی علوم کوگلے سے لگا کر ان کی تقدیر ہی بدل گئی۔مسلمان جنہوں نے یورپ کو تاریک عہد سے باہر نکالا تھا لیکن آج وحئی ربانی اور اسوہ رسول سے خود کو دور کرکے خود اسی ظلمتوں کی نذر ہوگیا ہے۔مسلمان جو قرآن سے تفکر ،تدبر ،تبحر ،مشاہدہ اور تجربے کا علم پایا کرتا تھاجب قرآن سے دور ہوا تو اس کی عقل پر تالے پڑگئے ،علم کی دولت سے ہاتھ دھوبیٹھا،عروج زوال میں بدلا اور حاکم سے محکوم کی حالت میںآگیا۔
زوال کو عروج میں کیسے بدلیں
علامہ اقبالؒ نے اپنے لیکچر Reconstruction Religion Theory of Islam میں فرمایا کہ ’’مسلمانوں نے پانچ سو سال سے سوچنا بند کردیا ہے۔‘‘مسلمانوں نے کی فکر کئی صدیوں سے مفلوج اور منجمد ہوچکی ہے۔ یورپ نے چرچ سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے جس طرح ترقی حاصل کی ہے اسی طرح ہمارے بعض ذی العلم روشن خیال اسکالر س بھی مکمل فکری آزادی کی وکالت کرتے نظرآتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے زوال کی وجہ سائنس سے دوری ہے جب کہ مغرب میں سائنس علوم کے زوال کا سبب ان کی مذہب سے دوری بنے گا۔ اسی تناظر میں مشہور فلسفی نٹشے کہتا ہے کہ’’ جو تہذیب ماضی میں دیوقامت افراد پیدا کررہی تھی وہ اب بالشتے پیدا کر رہی ہے۔‘‘اخلاقی اقدار سے عاری یہ مادیت کے پرستار استعمار کے ہتھیار سے لیس ہوکر انسانی جذبات کی پاسداری کرنے کے بجائے انھیں نفع اور نقصان کے ترازو میں تول کر اللہ کی زمین کو نمونے جہنم بنانے پر تلے ہیں۔اللہ کا صد شکر ہے کہ مسلمانوں کے پاس ابھی تک اپنے عقائد کی دولت اور اپنا خاندانی نظام محفوظ ہے لیکن یہ نظام اور عقائد ابھی بھی ثقافتی یلغار کی زد میں ہیں۔ہمیں ایسے پر آشوب دور میں اپنے مدارس اور جامعات کو جو اسلامی فکر کے قلعے تصور کئے جاتے ہیں انھیں عصری شعور اور اعلیٰ تحقیقی اسلوب سے لیس کرنا ہوگا۔آج اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ایسے علوم کے مراکز قائم کئے جائیں جہاں مختلف مہارتوں کے حامل دانشور،سائنس دان جمع ہوں اور عالم اسلام کو فکری رہنمائی فراہم کرے جس کے بغیر ہم اپنے زوال کو عروج میں تبدیل نہیں کرسکتے ۔قرآنی حکمتیں اور چراغ مصطفوی ﷺ ہی تاریکیوں سے نکلنے کی راہ بتائیں گے۔قرآن تفکر،تدبر ،مشاہدے اور تحقیق کی تلقین کرتا ہے اور انسانوں کو حصول علم کی جانب راغب کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود گئے میں اپنا گرانقدر کردارپیش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔قرآن کا یہ بھی ایک اعجاز ہے کہ خالق کائنات نے ترقی اور علوم جدیدہ کی وجہ سے در آنے والی تباہ کاریوں سے حفاظت کے فارمولے اس میں بیان کردیئے ہیں۔اسلام کے عقیدے اور فطرت میں غلبہ موجود ہے اور یہ غلبہ تمام جہان کے لئے سرمایہ رحمت ہے کیونکہ اسلام تما م دنیا کو سلامتی امن و چین فراہم کرنے والا مذہب ہے۔وقت کا اہم تقاضہ ہے کہ جب بھی جدید علوم کی سمت اور قبلہ بدل جائے اس کو درست کرنے کے لئے ہم تنگ نظری اور رجعت پسندی سے کام لینے کے بجائے قرآن سے رجوع کریں اور خداکی پیش کردہ حکمتوں کی روشنی میں اسے درست بنائیں۔اسلام جدید ترقیوں کا مخالف نہیں ہے۔سیرت رسولﷺ کے بے شمار پیغامات میں سے ایک پیغام یہ بھی ہے کہ ہر دور اور زمانے کا ایک مزاج ہوتا ہے مسلمان اس دور اور زمانے کیمزاج کو سمجھتے ہوئے مناسب اقدامات کریں کسی بھی شئے سے منفی اور مضر پہلوؤں کو نکال کر اسے مفید اور نافع بنائیں۔یہ اسلامی فکر ہے جسے آج کی دنیا جدید سائنس کہتی ہے۔
تعصب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری ،جن کو سمجھا ہے برا تونے