انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ : – مولاناسید احمد ومیض ندوی

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ : – مولاناسید احمد ومیض ندوی

انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟ : – مولاناسید احمد ومیض ندوی


انقلابی سیرت سے ہم کیوں محروم ہیں؟

مولاناسید احمد ومیض ندوی
استاذ حدیث دارالعلوم حیدرآباد
Email:
Mob: 09440371335

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سیرتِ رسولؐ انقلابی سیرت ہے، تاثیر وانقلاب اس سیرت کی امتیازی خصوصیت ہے، جس نے بھی اس کو گلے سے لگایا اس کی زندگی کی کایا پلٹ گئی، صحابہؓ سیرتِ رسول سے پہلے کچھ نہ تھے، سیرتِ رسول کے بعد سب کچھ ہوگئے، اونٹوں کے چرواہے انسانیت کے قائد ورہنما بن گئے، جہالت وظلمت کے رکھوالے علم وہدایت کی شمعیں جلانے لگے، حیوانیت وبربریت کا مظاہرہ کرنے والے انسانیت کا درس دینے لگے، یہ سب نبی کی انقلابی سیرت کی تاثیر کا نتیجہ تھا-

سیرتِ رسول آج کے مسلمانوں کے پاس بھی پوری طرح محفوظ ہے، لیکن ان کی زندگیوں میں کسی طرح کے انقلابی اثرات نظر نہیں آتے، آخر وجہ کیا ہے؟ کیا نعوذ باللہ سیرتِ رسول موجودہ دور میں اپنی تاثیر کھوچکی ہے؟ ایسی بات نہیں ہے، سیرتِ رسول کی تاثیر زمان ومکان کے حدود سے ماورا ہے، چودہ سو سال قبل جس طرح یہ سیرت اثر انگیز اور انقلاب آفریں تھیں اب بھی وہ اسی طرح تاثیر وانقلاب کی صفت سے معمور ہے، اس کے باوجود تاثیر وتبدیلی کے اعتبار سے ہمارے اور اسلاف میں فرق اس لیے ہے کہ صحابہ اور سلفِ صالحین نے سیرتِ رسول کو عملی زندگی میں برتا تھا اور خود کو اسوۂ رسول کے سانچہ میں ڈھالا تھا جب کہ موجودہ دور کے ہم مسلمان صرف سیرت کے سننے اور جاننے پر اکتفاء کرتے ہیں، سیرتِ رسول سے ہمارا تعلق ظاہری اور بیرنی نوعیت کا ہے۔
صحابہ اور سلفِ صالحین وتابعین جذبۂ اتباعِ سنت سے سرشار تھے، سنتوں کا اہتمام اور اتباعِ سنت ان کے رگ وریشہ میں بس گیا تھا،کسی چیز کے تعلق سے نبی کی معمولی سی ناگواری پر وہ متنبہ ہوجایا کرتے تھے، حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص اپنے جسم پر کسم کے رنگ کی چادر ڈالے ہوئے تھے، حضور کی نظر پڑی تو آپ نے کسی قدر ناگواری کا اظہار فرمایا، تھوڑی سی ناگواری کیا دیکھی حضرت عبد اللہ فوراً گھر تشریف لے گئے، اور سلگتے ہوئے چولہے میں چار پھینک دی، دوسرے دن جب حضور کے پاس کا چادر کا ذکر آیا تو انہوں نے سارا قصہ سنایا، حضور نے فرمایا گھر کی خواتین کو دیا ہوتا کہ اُن کے پہننے میں کوئی مذائقہ نہیں تھا۔(ابوداؤد)
ایک انصاری صحابی کے مکان کے پاس سے آپ کا گذر ہوا جو قبہ نما اونچا تھا، آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ مکان کس کا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فلاں انصاری کا ہے، جب وہ صحابی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے کچھ بے رُخی کا اظہار کیا، صحابی نے جب دوسرے صحابہ سے وجہ دریافت کی تو لوگوں نے سارا قصہ سنایا، فوراً گھرتشریف لے گئے، عمارت کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا اور حضور سے ذکر بھی نہیں کیا، اتفاق سے جب دوبارہ آپ کا اس جگہ سے گذر ہوا تو آپ نے دریافت کیا کہ وہ گنبد نما عمارت کیا ہوئی؟ لوگوں نے صورتِ حال بتادی، آپ نے فرمایا ضرورت کی تعمیر کے علاوہ ہر تعمیر آدمی کے لیے وبال ہے۔(حوالہ سابق)
حضرت حذیفہؓ ایک عجمی بادشاہ کے دستر خوان پر کھانا تناول فرمارہے ہیں، اچانک ہاتھ سے لقمہ گر پڑا تو گرے ہوئے لقمہ کو صاف کرکے کھانے لگے، شاہی خدام کہتے ہیں کہ آپ کی یہ حرکت آدابِ شاہی کے خلاف ہے، لوگ ا یسے شخص کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، حضرت حذیفہ برہم ہوکر کہنے لگے: أ اترک سنۃ حبیبي لہؤلاء الحمقاء کیا میں ان احمقوں کی وجہ سے اپنے محبوبﷺ کی سنت کو چھوڑ دوں؟
حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص اتباعِ سنت کا بہت زیادہ اہتمام کرتے تھے، حتی کہ عادی امور میں بھی اس کا پورا لحاظ کرتے تھے، جب بھی حج کے لیے تشریف لے جاتے، بلا کسی ظاہری سبب کے جگہ جگہ رکتے، اٹھتے بیٹھتے تھے، کسی کی دریافت کرنے پر بتایا کہ میں نے حضور کو سفر حج میں جس جگہ جو کچھ جس طرح کرتے دیکھا ہے چاہتا ہوں کہ اس سنت پر جوں کا توں عمل کروں۔
حضرت خریم فاتک خوبصورت نازک مزاج تھے، لباس اور وضع قطع میں اہتمام کرتے تھے، اسلام سے پہلی پاجامہ نیچا پہنتے تھے، اور لامبے لامبے گیسورکھتے تھے، ایک مرتبہ حضورﷺ نے ان کے غیاب میں فرمایا: خریم کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر وہ لامبے بال نہ رکھیں اور پاجامہ نیچا نہ پہنیں، آپ کے اس ارشاد کی ا نہیں اطلاع ہوئی فوراً حجاج کی دکان پر پہونچے اور سارے بال کٹوا ڈالے، لوگوں نے دیکھا کہ ان کے سارے بال صاف ہوگئے اور پاجامہ آدھی پنڈلی تک پہونچ گیا ہے۔(ابوداؤد)
یہ تو حضراتِ صحابہ کے نمونے تھے، اتباعِ سنت اور سیرتِ رسول پر عمل آوری کا اہتمام بعد کے ادوار میں بھی رہا، اولیاء اللہ بھی سنتوں کی شدید اتباع کرتے تھے، حضرت شبلیؒ مشہوربزرگ اور سرخیلِ اولیاء ہیں، آخری وقت ہے، بیہوشی کے عالم میں مریدین سے وضو کرانے پر اصرار کررہے ہیں، مریدین کے ہزار انکار کے باوجود اصرار کرتے رہے،چنانچہ وضو کرایا گیا، وضو سے فراغت کے بعد پھر دوبارہ وضو پر اصرار کرنے لگے، مریدین نے کہا حضرت ابھی تو آپ کو وضو کرایاگیا ہے،فرمایا وضو کراؤ، کیوں کہ وضو میں حضورﷺ کی سنت انگلیوں کے خلال کی بھی ہے، تم نے مجھے خلال نہیں کرایا، کہا میں دنیا سے اس حال میں جاؤں اور قبر میں حضورﷺ کا سامنا اس طرح کروں کہ آپ کی ایک سنت کو چھوڑ نے کا الزام ہو یہ کبھی نہیں ہوسکتا، جب دوبارہ انگلیوں کے خلال کی سنت کے ساتھ وضو کرایا گیا تو وضو کی تکمیل کے ساتھ ان کی روح پرواز کر گئی۔
علامہ اقبالؒ نے حضرت یزید بسطامیؒ کا واقعہ لکھا ہے، انہوں نے زندگی بھر خربوزہ کھانے سے محض اس بناء پر اجتناب کیا تھا کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ نبی کریمؐ نے یہ پھل کس طرح کھایا تھا۔(ذکرِ مصطفی مضمون پروفیسر خلیق احمد نظامی)
ماضی قریب کے علماء واکابر امت میں بھی اتباعِ سنت کا کافی اہتمام تھا، انگریز کے دور میں مولانا قاسم نانوتویؒ کے نام گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوا، دوست واحباب کے مشورہ پر مصلحتاً چھپ جاتے ہیں، پھر تین دن کے بعد باہر آجاتے ہیں، لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ حالات ابھی سنبھلے نہیں ہیں، پولیس آپ کی تلاش میں پھر رہی ہے، براہِ کرم آپ ابھی چھپے رہیں، اس پر مولانا نانوتویؒ کہتے ہیں: حالات جو بھی ہوں مگر میں تین دن سے زیادہ چھپا نہیں رہتا، ہمارے آقار(سلام ہو اُن پر درود ہو اُن پر) ہجرت کے موقع پر دشمنوں کے تعاقب سے غور ثور میں تین ہی دن چھپے رہے تھے، اس سے زیادہ چھپ کر میں سنت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔
مولانا بدر عالم مہاجر مدنی صاحبِ ترجمان السنۃ کے سامنے مدینہ منورہ میں کسی نے انگریزی میں ٹیلی فون نمبر بتائے، حضرت کو بہت ناگوار گذرا اور فرمایا کہ ا للہ کے نبی کے گھر میں اللہ کے دشمن کی زبان۔(مقدمہ سیرت النبی جدید)
تذکرۃ الرشید میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب کے تعلق سے لکھا ہے کہ غالباً عصر کی نماز میں ایک دن ایسا اتفاق پیش آیا کہ مخلوق کے اژزحام اور مصافحہ کی کثرت کے باعث باوجود عجلت کے جس وقت آپ جماعت میں شریک ہوئے قرأت شروع ہوگئی تھی، سلام پھیرنے کے بعد دیکھا گیا تو آپ اداس اور چہرہ پر اضمحلال برس رہا تھا اور آپ رنج کے ساتھ یہ ا لفاظ فرمارہے تھے کہ افسوس ۲۲؍ برس کے بعد آج تکبیر اولیٰ فوت ہوگئی۔(مقدمہ سیرت النبی جدید)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ ایک مرتبہ فرمانے لگے ایک دن مجھے خیال آیا کہ ہم اتباعِ سنت کا بہت ذکر کرتے ہیں مگر اس کا کچھ حصہ ہمارے اعمال میں ہے بھی کہ نہیں، چنانچہ میں تین دن تک صبح سے رات تک اپنے تمام اعمال کا بغور جائزہ لیتا رہا، دیکھنا یہ تھا کہ کتنی اتباعِ سنت ہم لوگ عادتاً کرتے ہیں، کتنی اتباع کی توفیق علم حاصل کرنے کے بعد ہوئی اور کتنی باتوں میں اب تک محرومی ہے،تین دن تک تمام امورِ زندگی اور معمولاتِ روز وشب کا جائزہ لینے کے بعد اطمینان ہوگیا کہ الحمد للہ معمولات میں کوئی عمل خلافِ سنت نہیں ہے۔(حوالہ سابق)
دور جانے کی ضرورت نہیں شہر حیدرآباد کے ایک بزرگ حضرت مسکین شاہ صاحب کا حال ملاحظہ کیجئے، بڑھاپے کی عمر میں ایک بوڑھی خاتون حضرت سے بیعت ہونے کے لیے حاضر ہوکر اپناہاتھ آگے بڑھاتی ہے، حضرت اپنا ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، اس لیے کہ عورتوں کو بیعت کرنے حضور کی سنت یہ ملتی ہے کہ آپ کپڑے کا ایک سرا اپنے ہاتھ میں لیتے دوسرا عورتوں کے ہاتھ میں دیتے، حضرت مسکین شاہ بھی ایسا ہی کرنا چاہتے تھے، بوڑھی خاتون کہتی ہے حضرت! میں بھی بوڑھی آپ بھی بوڑھے پھر ہاتھ میں ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے می کیا حرج ہے؟ حضرت نے اتباعِ سنت اور اتباعِ شریعت سے بھر پور لہجہ میں فرمایا: یہ صحیح ہے کہ میں بھی بوڑھا ہوں تم بھی بوڑھی ہو، مگر خدا کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت تو جوان ہے۔
حضرت مجدد الف ثانی کے مرتبۂ ولایت سے کون ناواقف ہے؟ شدت سے سنتوں کا اہتمام فرماتے اور اپنے مریدین کو بھی تاکید کرتے، اپنے مرید کے نام ا یک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: فضیلت تمام پر سنتِ سیۂ کی پیروی سے وابستہ ہے اور امتیاز اور اعزاز شریعت پر عمل کرنے سے مربوط ہے، مثلا دوپہر کا سونا جو اتباعِ سنت کی نیت سے ہو کروڑوں شب بیدار رہنے سے افضل اور زکوٰۃ کا ایک پیسہ ادا کرنا سونے کے پہاڑ خرچ کردینے جو اپنی طرف سے ہو افضل ہے۔(مکتوبات امامِ ربانی)
طاؤس الفقراء شیخ ابو نصر سراج لکھتے ہیں: اب ہر مخلوق پر سولِ خداﷺ کی پیروی اخلاق اور افعال اوامر ونواہی غرض ہر شئ میں واجب ہے۔
حضرت عبد القادر جیلانیؒ نے اپنے وعظ کا آغاز ہی: اتبعوا ولا تبتدعوا سے کیا، نبی کا اتباع کرو اور نئی بات نہ نکالو، ایک مقام پر نبی رحمت کا ذکر کرتے ہوئے شیخ فرماتے ہیں: الذي من اتبع ما جاء بہ اہتدی ومن صرف عنہ ضل وارتدی کہ جس شخص نے ان کے لائے ہوئے دین کی پیروی کی وہ اپنی منزل مقصود کو پہونچ گیا، اور جس نے راہ سے کجی اختیار کی وہ گمراہ اور ہلاک ہوگیا۔
حضرت جنید بغدادی فرماتے تھے کہ بجز پیروی رسول خدا کے اب ساری راہیں بند ہوچکی ہیں۔(بمضمون مولانا عبد الماجد دریابادی شائع شدہ رسالہ ا رشاد حیدرآباد)
حضرت شاہ کلیم اللہ دہلویؒ فرماتے تھے کہ اگر کسی کی روحانی حیثیت کا اندازہ لگا نا ہو تو صرف یہ دیکھو کہ وہ سنتِ رسول کے اتباع میں کتنا راسخ ہے، جو جتنا راسخ ہوگا اتنا ہی اس کا روحانی درجہ بلند ہوگا۔
قرونِ مشہود لہا بالخیر کے لوگوں کی زندگیوں کا جائزہ لیجئے، ہر ایک کے یہاں اتباع سنت کا اہتمام ملے گا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی زندگی انقلاب سے آشنا ہوئی، آج کا مسلمان سیرت کی اثر انگیزی سے اس لیے محروم ہے کہ اس میں اتباعِ رسول اور اسوۂ حسنہ کی پیروی نہیں ہے، صحابہ سے لے کر تابعین سلفِ صالحین اور اولیاءِ امت نے سیرت کو عملی زندگی میں اپنانے پر زور دیا ہے، تو پھر کیا ہم اسوۂ رسول کو اپنا کر اپنی زندگیوں کو انقلاب سے آشنا کریں گے۔

متعلقہ موضوعات

جہانِ اردو

Related Posts

Create Account



Log In Your Account



Facebook
↓