کہانی : آنسوُ :- پرشوتم سنگھ (جموں)

پرشوتم سنگھ

کہانی : آنسوُ

پرشوتم سنگھ (جموں)
ریسرچ اسکالر ۔شعبہ اردو
حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی

ایک گاؤں میں ایک زمیندار رہتا تھا وہ بہت ہی محنتی اور جفا کش تھا ۔اس کو کسی سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔کوئی اس کو کچھ بھی کہے تو اس کو برا نہیں لگتا۔جب اس کی شادی ہوئی تو لوگوں نے اس کو بہت کچھ کہا اور یہ بھی کہ اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ کیسے شادی کر سکتا ہے پھر بھی اس کی شادی ہو گئی۔

شادی کے دو سال بعد اس کے گھر میں دو جڑ واں بچے پیدا ہوئے ۔ دونوں لڑکے تھے۔ اس نے ایک کا نام نعیم رکھا اور دوسرے کا سلیم ۔ نعیم بہت ہی ملنسار تھا اور سلیم بہت ہی ذہین ۔نعیم شروع سے ہی دوستوں کے ساتھ کھیلنے جاتا اور سلیم اسکول سے آتے ہی اپنی پڑھائی میں لگ جاتا تھا ۔
جب آٹھویں جماعت کا امتحان آیا تو سلیم اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا جبکہ نعیم فیل ہو گیا ۔ اس طرح سے نعیم کا پیشہ الگ ہو گیا اور سلیم کا الگ ۔نعیم غیر مہذب کاموں میں دلچسپی لینے لگ گیا اور نشہ بھی کرنے لگا۔ یہاں تک کہ دوستوں کے ساتھ کھیلنے جاتا تو پورا دن گھر واپس نہیں آتا۔ماں باپ نے بہت کو شش کی کہ بیٹا کھیلنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔اگر زندگی میں کچھ بننا ہے تو محنت کرو جواب میں وہ ماں سے کہتا کہ مجھے کچھ نہیں کرنا ہے بس عیش کی زندگی گزارنی ہے۔ نعیم ایک دن دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہا تھا کہ اسےُ کچھ لڑکیاں نظر آئیں ۔ کرکٹ کھیلتے وقت بال ان لڑکیوں کے پاس چلی گئی تو اُس نے ایک لڑکی سے بال دینے کو کہا تو اس نے کہا خود آکے لے لو ۔ وہ گیا تو لڑکی کو پھبئی کس دیا پھر کیا تھا ؟ساری لڑکیوں نے اسے پکڑا اور بہت پیٹا ۔بڑی مشکل سے دوستوں نے اسے بچایا۔
دوسرے دن پھر وہاں پر نعیم اپنے دوستون کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔وہیں کچھ فوجی بھی ڈیوٹی کر رہے تھے اچانک بال ان کے پاس چلی گئی نعیم نے ان سے بال دینے کو کہا تو انہوں نے انکار کر دیا ۔ دوسری بار پھر اس نے کہا کہ فوجی بال دے نا ۔ اس نے کہا میں یہاں بال دینے نہیں آیا ہوں مجھے اپنی ڈیوٹی کرنی ہے۔نعیم نے اس سے کہا کہ ہما رے ہی گھر میں آکے شیر بنتے ہو ۔اتنا سننا تھا کہ فوجی کو غصہ آگیا اور نعیم کو خوب مارا ۔
کچھ دن بعد تحریک آزادی شروع ہوئی تو نعیم کے سارے دوست جہاد کرنے چلے گئے۔اس کے دوستوں نے اسے بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ لے لیا ۔ اس کے گھر میں جیسے ہی پتہ لگا تو سب بہت ہی غصہ ہوگئے۔ پڑوسیوں نے کہا کہ نعیم ملی ٹینٹ بن گیا ہے اور یہ بھی کہا کہ باپ کیسا تھا بیٹا کیسا نکلا وغیرہ- – –
اسی دن سلیم کے ماموں کی لڑکی نجمہ ان کے گھر آئی۔ اس نے سلیم کو پڑھتے ہوئے دیکھا تو اس کے دل میں سلیم کے لیے محبت جاگ گئی۔
سلیم نے بھی اسے کنکھیوں سے دیکھا چونکہ اس وقت وہ پڑھ رہا تھا اس لیے اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ جب تک وہ پڑھ کر باہر آیا نجمہ جا چکی تھی۔ سلیم نے دسویں کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا ۔ جب اس کا بارہویں جماعت کا امتحان آیا تو اس نے بہت محنت کی اور اول درجے سے کامیاب ہوا ۔ تو گھر میں ایک خوشی سی آگئی۔ پڑوسیوں نے بھی سلیم کے گھر والوں کو مبارک باد دی ،اور ساتھ ہی طنز بھی کرنے لگے کہ ایک تو اچھا کام کر رہا ہے اور دوسرا- – –
نجمہ کو یہ خبر ملی تو وہ بھی خوش ہو گئی اور اس کے دل میں سلیم کے لئے اور محبت جاگ گئی۔ کچھ دن بعد سلیم نے M.B.B.S. کا امتحان بھی دیا
۔شام کو نجمہ نے مبارکباد دینے کو فون کیا ۔اتفاق سے اس وقت سلیم کے گھر میں اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا ۔سلیم کبھی کسی کا فون نہیں اٹھا تا تھا
مگر مجبوراََ اسے یہ فون اٹھانا پڑا۔تھوڑی دیر تک وہ ہیلو ہیلو …….کرتا رہا تو نجمہ نے بات ہی نہیں کی پھر اس کے بعد اس نے ہیلو کیا۔ دونوں میں باتیں ہو نے ،لگیں ایسا ہی کچھ دن چلتا رہا ۔نہ جانے کب ان کو ایک دوسرے سے اتنی گہری محبت ہو گئی کہ جب تک سلیم نجمہ کو فون نہیں کرتاتب تک وہ کھانا ن نہیں کھاتی تھی۔دونوں ایک دوسرے سے ملنے بھی آتے تھے دونوں اپنی محبت سے بہت خوش تھے۔
ایک دن اچانک سلیم کے گھر والوں کو شام کے وقت فون آیا کہ نعیم اپنے دوستوں کے ساتھ شہید ہو گیا ۔سارے گھر میں ماتم چھا گیا۔ کسی نے رات کو کچھ نہیں کھایا اور نہ ہی کوئی کسی سے بات کر رہا تھا ۔ماں کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہنے لگا وہ خدا سے پوچھ رہی تھی کہ کون سے گناہ کی سزا ملی ہے مجھے۔
سلیم اس دن جب اپنے بستر پر گیا تو اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات آ رہے تھے۔ اس نے فون بھی نہ اٹھایا ۔ اب سلیم کے دل میں بدلے کی آگ جاگ اٹھی وہ یہ سوچتا رہا کہ کب صبح ہو اور اپنے بھائی کا بدلہ لینے کے لئے نکلے۔ پھر اس نے یہ طے کیا کہ نجمہ کو سب کچھ بتا دوں ۔فون کیا تب تک نجمہ کو بھی نیند نہیں آ رہی تھی روتے روتے با تیں کرنے لگا اور کہا کہ تمہیں اب میرے بغیر رہنا ہے۔نجمہ کی آنکھوں سے آنسو آنے لگے مگر ساتھ میں اپنی محبت کا اظہار بھی کرواتی رہی اور کہنے لگی میں کیسے تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں تم نے جو خواب مجھے دکھائے تھے ان کا کیا ہو گا؟ان سوالوں کا سلیم کے پاس کوئی جواب نہ تھا وہ خالی روتا رہا اور اپنی ہی بات کہتا رہا۔ مگر نجمہ نے اس کی ایک نہ مانی۔ کہنے لگی میں نے تمہارے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر لیا ہے، خداہمیں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتا۔
دونوں کی آنکھوں سے صرف آنسوہی نکل رہے تھے ۔نجمہ نے اس کو یہاں تک کہا کہ اگرتم نے ایسا کیا تو میں تمہارے بغیر مر جاؤں گی مجھے نہیں رہنا ہے تمہارے بغیر۔۔۔۔اگر تم نہیں ہوتے ہو تو مجھے یہ دنیا بہت ہی عجیب لگتی ہے۔ویسے بھی اگر تم مجھے فون نہیں کرو گے تو میں تو کھانا کھائے بغیر ہی مر جاؤں گی، پلیز ایسا مت کرو۔۔۔پلیز ۔۔۔ تمہیں میری محبت کی قسم- – –
نہ جانے کب باتیں کرتے کرتے دونوں کو نیند آگئی۔ سلیم کے خواب میں اس رات اس کے دادا جی مولوی صاحب آئے جنہوں نے اپنے زمانے میں کبھی نماز نہیں چھوڑی تھی ۔سلیم سے کہنے لگے:
” سلیم یہ کیسی باتیں سوچتے رہتے ہو۔ تمہیں پتہ ہے تمہارے ایسا کرنے سے سماج میں
کیا ہوگا، نجمہ کیا کرے گی ؟تمہارے امی ابو کیا کریں گے؟ کبھی تم نے یہ سوچا کہ تم نے
اگر ایسا کیا نا،تو پھر کوئی بھی ما ں باپ اپنے بچوں پہ یقین نہیں کر یں گے۔ تم ایک ہی تو
سہارا ہو اپنے امی ابو کا۔۔۔۔ اپنی سوچ کو بدلو اپنے امی ابو کا خواب پورا کرو، وہی کرو
جو وہ کہتے ہیں اور ہمیشہ اس خدا کا شکریہ ادا کرو جس نے تمہیں اس جہاں میں بھیجا ہے۔
جو گیا وہ واپس نہیں آئے گا ، جو ہے اسے مت جانے دو "۔
اتنے میں وہ نیند سے جاگ جاتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کمرے میں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے۔اس کے بعد وہ ان باتوں پر غور کرنے لگا
اور سوچنے لگا کہ میں کیا کرنے جا رہا تھا ۔ مجھے کیا پتہ ہے کہ میرے بھائی کو کس نے شہید کیا؟ میں توصرف بدلے کے بارے میں سوچتا رہا ۔امی ابو کا کچھ خیال ہی نہیں آیا ۔اور خاص کر اس کے بارے میں جس نے مجھ پر یقین کر کے اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔میرے امی ابو نے مجھے کس طرح پالا پوسا ہے ،کتنی تکلیفیں جھیلی ہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی – – –
پھر ایک نئی سوچ اس کے ذہن میں آئی اور اس کے بعد بستر سے اٹھا اور وضو کیا اتنے میں اذان ہو گئی وہ نماز پڑھنے چلا گیا ۔اس کے بعد صبح ہوتے ہی فون کی گھنٹی بجی۔اس کی ماں نے جلدی سے فون اٹھایا ولایت سے فون تھا اور بولا کہ سلیم کا سلیکشن ہو گیا ہے اور اسے آج ہی آنا ہے یہ خوش خبری سن کر رات کی بات سب لوگ بھول گئے ۔صبح کی روشنی کے ساتھ ان کو نئی خوشی بھی آئی سب گھر میں بہت خوش ہو گئے۔
سلیم کے والد صاحب صبح صبح اس کے لئے پیسوں کا انتظام کر نے چلے گئے۔اسی وقت سلیم نے نجمہ کو بھی یہ خوش خبری سنائی۔نجمہ کو اتنی خوشی زندگی میں پہلی با ر ہوئی تھی۔
اس کے بعد سلیم نے گھر سے رخصتی لی اوراس کے ساتھ نجمہ بھی اسٹیشن تک گئی۔اس وقت نجمہ کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔سلیم نے کہا
” جب میں کچھ اور کرنے جا رہا تھا تب بھی تمہاری آنکھوں میں آنسوتھے۔مگراب میں اچھے کام کے لئے جا رہا ہوں تو تب بھی تمہاری آنکھوں میںآنسو ہیں،یہ کیا معاملہ ہے؟” اس نے کہا اب یہ خوشی کے آنسو ہیں یہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا ۔اب تم جاؤ- – – واپس آنے پر بتاؤں گی۔
دو سال بعد جب سلیم واپس آیا تو نجمہ اس کا ہر روز کی طرح انتظار کر رہی تھی۔جیسے وہ دو سالوں میں وہیں کھڑی انتظار میں تھی۔جب گھر پہنچا تو ما ں باپ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور پڑوسی بھی اس سے ملنے کے لئے آئے۔کچھ دن بعد سلیم نے اپنا ایک ہسپتال کھول لیا –
جس میں وہ پڑوسیوں کے بچوں کو M.B.B.S. داخلہ کے امتحان کی مفت کوچنگ دینے لگا – – –