ابابیلیں اب نہیں آئیں گی :- محمد ارشد کسانہ

محمد ارشد کسانہ

افسانہ
ابابیلیں اب نہیں آئیں گی

محمد ارشد کسانہ
پی ایچ، ڈی اسکالر دہلی یونی ورسٹی

بڑی منت و سماجت کے بعد میرے گھروالوں نے مجھے بائک لے کر دی۔ میں نے پہلے ہی دن پیٹرول سے ٹنکی فل کروائی اور مغل روڑ کے نظاروں کو دیکھنے کے لئے نکل گیا ۔ اس روڑ کے ارد گرد کے نظاروں کو تو میں بچپن ہی سے دیکھتا چلا آ رہا تھا مگر اپنی بائک سے ان مناظر کو دیکھنا میرے لئے ایک نہایت ہی دلکش تجربہ تھا۔

میرے ساتھ بیٹھا ہوا میرا دوست فرحت نا جانے کب سے خاموش تھا ۔ اور ویسے بھی اس کی باتوں کی اس وقت ضرورت ہی کیا تھی۔ میں خوشی سے بھرا ہوا تھا ۔ہم جب لال غلام کے موڑوں میں پہنچے تو ایک طرف آسمان کو چھوتی ہوئی پہاڑی اور دوسری طرف گہری اور لمبی کھائی تھی جس کے نیچے سے سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے دریا کے شور نے مجھے اور مست کردیا تھا ۔دریا کے اس پار جو پہاڑی تھی اس کی چوٹی پر برف کی چادر کو دیکھ کر میں نے چاہا کہ ایک سلفی لے لوں مگر گہرے موڑوں میں کوئی اچھی سی لوکیشن جہاں سے سلفی میں پوری برف کی چادر آجائے ابھی نظر سے نہیں گذری تھی۔ اس بیچ بار بار میں اس برف کی چادر کو دیکھ رہا تھا ۔ میں اسی کشمکش میں تھا کہ اچانک ایک موڑ میں آگے سے بس آگئی ۔ بس کو سامنے اچانک دیکھ کر میرے دل میں خوف کا بم پھٹا اور میری بائک بے قابو ہو گئی ۔ میرے ذہن نے صرف اتنا کام کیا کہ میں نے بائک کو گاڑی سے ٹکرانے نہ دیا ۔ اس کے بعد بائک خود بخود کھائی کی طرف چلی گئی ۔ جب بائک سڑک کے کنارے سے کھائی میں گرنے لگی تو میرے دوست کی صرف اتنی آواز میرے کانوں میں پڑی ’’ہائے اللّلہ مر گئے‘‘ ۔ اس کے بعد مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ جب میری نظریں کھائی کے نیچے سے گذرنے والے دریا پر پڑی تو وہ بڑی تیزی سے میری طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کے بعد ہمارا کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں۔
جب میری آنکھیں کھلی تو میں زمین پر لیٹا تھا ۔ میرے سامنے تین بڑے پہلوان قسم کے آدمی کھڑے تھے۔ ان تینوں نے ہرے رنگ کے کپڑے پہنے تھے ،سر پر پگڑیاں بندھی تھی اور ٹکٹکی لگائے میری طرف دیکھ رہے تھے ۔ وہ میرے لئے بالکل اجنبی تھے ۔میں نے کھڑے ہوکر ان سے اپنی نظریں ہٹائیں اور ارد گرد کی جگہ کو پہچاننے لگا ۔ بالکل پلین جگہ تھی ۔ جہاں تک نظریں جاتی تھیں بڑی صفائی اور صاف موسم دکھائی دے رہا تھا ۔ سورج کی روشنی اگرچہ تیز تھی مگر سورج آسمان میں کہی نظر نہ آیا ۔ سرخ پتوں اور رنگ برنگے خوشبو دار پھولوں سے بھرے ہوے پیڑ میرے ارد گرد پھیلے ہوے تھے ، جن کی مہک سے میں اندر ہی اندر گد گدا رہا تھا ۔ ہلکی ہلکی سی ہوائیں بھی چل رہی تھی مگر شور کا نام و نشان نہ تھا ۔ میرے ایک طرف ایک بڑی عجیب و غریب بلڈینگ تھی گویا دنیا کا واحد عجوبہ ہو۔ میں یہی سب دیکھ رہا تھا کہ ایک بار پھر میری نظریں ان آدمیوں سے ٹکرائیں ۔ اس بار میں نے ہمت کرکے ان سے سوال پوچھا ’’تم کون ہو اور یہ کون سی جگہ ہے ؟‘‘ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا ۔ ان کو دیکھ کر مجھے قدیم دور کے سپہایوں کی یاد آگئی جن کو میں فلموں میں دیکھا کرتا تھا ۔ ویسے ہی ایک رنگ کی پگڑی ا ور شلوار قمیض پہنے ہوے تھے ۔ ہاں مگر ان کے پاس کوئی ہتھیار نظر نہیں آرہا تھا ۔ میں نے پھر سے اپنا سوال دہرایا اس بار دور سے ہماری طرف بڑھ رہے ایک آدمی نے جواب دیا ۔ ’’ یہاں سوالات نہیں کئے جاتے یہاں صرف جواب دئے جاتے ہیں‘‘
اس کے بعد اس نے قریب آکر اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کو اندر لے آؤ اور میری طرف ایک نظر دیکھ کر چلا گیا ۔ ان تینوں آدمیوں نے مجھے پکڑا اور بلڈنگ کی طرف لے جانے لگے ۔ میں بالکل خیران تھا اور اس عالم میں میں نے دوسرا سوال نہ کیا ۔ دراصل میں ڈر گیا تھا مجھے سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ یہ لوگ اور یہ جگہ کون سی ہے ۔ میرے ذہن میں کئی سوالوں نے جنم لیا ۔ مگر میں ان کو زبان پر نہ لاسکا ۔ میں جب اس بلڈینگ کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو میرے ڈر میں اور اضافہ ہوا ۔ میرے سامنے ایک بڑا سا کمرہ تھا ۔ اس کمرے میں دو چار لوگ الگ الگ فرش پر بیٹھے ہوئے کچھ حساب و کتاب میں مشغول تھے ۔ میرے ساتھ والے آدمیوں میں سے ایک نے اشارہ کرتے ہوے کہا ’’ وہاں بیٹھ جاو ‘‘ میں بڑی عاجزی کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ اس کے بعد وہ تینوں مجھے چھوڑ کر میرے دائیں طرف کے ایک کمرے میں چلے گئے ۔
میں کچھ دیر خاموش بیٹھا رہا پھر میں نے سوچا وہ شحص تو اب مجھے چھوڑ کر چلے گئے کیوں نے میں ان بندوں سے جو حساب و کتاب میں لگے ہیں اپنے سوالوں کے جوابات حاصل کروں ۔ میں نے ہمت کرکے ایک آدمی سے پوچھا ’’انکل یہ کون سی جگہ ہے؟‘‘ اس نے بڑی تیز نظر سے مجھے دیکھا ۔ کچھ دیر دیکھنے کے بعد بغیر کچھ کہے وہ پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔ اتنے میں ان تین آدمیوں میں سے ایک آدمی باہر آیا اور مجھے اپنے ساتھ ایک کمرے میں لے گیا ۔ یہ کمرہ گودام سے بھرا ہوا تھا ۔ وہاں بڑی عجیب وغریب چیزیں رکھی ہوئی تھیں ۔ اس طرح کی چیزیں میں نے اس پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اب مجھے یقین ہو گیا تھا کہ یہ کوئی اور ہی ملک ہے۔ وہ شحص جو ہمیں باہر سے اندر لایا تھا میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ’’ تمہارا نام کیا ہے اور تم کہاں رہتے ہو‘‘ میں نے اپنا نام اور پتہ دونوں بتائے۔ اس کے بعد اس نے پاس میں رکھی ہوئی ایک کتاب کو اٹھایا اس کے سارے صفحات باری باری پلٹنے کے بعد اس نے پھر میری طرف دیکھا اور ذرا تیکھے لہجے میں کہا’’ یہ پتہ نا مکمل ہے صیح صیح پتہ بتا‘‘ میں نے اس بار اپنی ڈسٹرکٹ کا نام بھی لیا مگر یہ بھی بتایا کہ میں نے پتہ ٹھیک بتایا تھا ۔ اس نے پھر اس کتاب کے سارے اوراق پڑھ ڈالے ۔ اس بار اس نے اسی کمرے میں بیٹھے ہوئے ایک شحص کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا ،وہ شحص اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک بڑا صندوق کھول لیا ۔اس صندوق میں سے اس نے ایک بڑی کتاب نکالی جس کے ایک طرف عربی میں ’’ الدوزخ ‘‘ لکھا تھا ۔ اس کتاب کو دیکھ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ اب مجھے یقین ہوگیا کہ میں زمین پر نہیں بلکہ آسمان پر ہوں۔ میری اس وقت کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا جی چاہتا تھا کہ چیخیں مار مار کر روں لیکن اب کیا فائدہ ۔ میں نے اپنے آپ پر قابو پایا ۔ ایسے میں میرا ذہن میری اصل زندگی کی طرف چلا گیا ۔ جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔اتنے میں کتاب دیکھنے والے شحص نے اپنے منہ سے چند انجانے سے کلمات نکالے اور اس کتاب کو بند کرکے صندوق میں رکھ دیا ۔ اب اس صندوق سے ایک اور چھوٹی سی کتاب نکالی جس پر عربی میں ’’ الجنت ‘‘ لکھا ہوا تھا ۔اسے دیکھ کر میری جان میں جان آئی۔ کچھ دیر دیکھنے کے بعد اس نے منفی میں سر ہلاتے ہوے اس کتاب کو بھی صندوق میں ڈال دیا ۔ میرے پاس والے شحص نے بڑے افسوس بھرے لہجے میں کہا ’’ یہ بیچارہ بھی بے وقت آیا ہے‘‘یہ کہتے ہی اس نے دو آدمی جو دروازے پر کھڑے تھے اپنے پاس بلائے اور کہا ’’اس کو بھی وہی لے جاؤ ‘‘۔ اگرچہ میں جاننا چاہتا تھا کہ بے وقت کا کیا مطلب ہوتا ہے مگر خوف کے مارے آواز نکل ہی نہ پائی اور انہوں نے مجھے ایک بڑے ہال میں چھوڑ دیا۔ یہ ہال اتنا بڑا تھا کہ مجھے کوئی بھی دیوار دکھائی نہیں دے رہی تھی گویا کوئی بہت بڑا میدان ہو مگر دور اوپر ایک چھت پر ضرور نظریں ٹکرا رہی تھیں۔ یہ پورا ہال لوگوں سے کھچا کھچ بھرا تھا۔ مگر خیرت کی بات یہ تھی کہ اتنے سارے لوگوں میں سے کسی کے منہ سے ایک آواز تک نہ نکل رہی تھی ۔ بالکل خاموشی چھائی تھی۔
سب کے سب لوگ مجھے گھور رہے تھے اور میں ان کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے اپنا دھیان ان سے ہٹایا اور بیٹھنے کے لئے کوئی جگہ تلاش کرنے لگا۔پہلی ہی قطار کے ایک کونے میں مجھے خالی جگہ مل گئی اور میں وہاں جاکر بیٹھ گیا ۔ اب میں اپنے ماضی کو کرید نے لگا جہاں میرا ہر کام بدی کی طرف جا رہا تھا۔ ایسے میں میری آنکھوں سے دو تین بڑے بڑے آنسوں کے قطرے میرے ہاتھوں پر پڑے ان آنسوں کو میرے ساتھ بیٹھی عورت نے دیکھ لیااور میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر کہا’’ اپنے ماضی کو بھول جاؤ اب اس کو یاد کرکے کیا فائدہ‘‘ میں نے کوئی جواب دیئے بغیر اپنے آنسوں پونچھے ۔ وہ تھوڑا اور قریب آئی ’’آپ کہاں سے ہو‘‘
’’جموں و کشمیر سے‘‘میں نے جواب دیا۔
’’جموں و کشمیر سے‘‘ اس نے خیرت سے پوچھا
’’ یہ کس جگہ ہے‘‘
’’ یہ وہی علاقہ ہے جس کے لئے انڈیا اور پاکستان کئی سالوں سے بھوکھے شیر کی طرح لڑ رہے ہیں‘‘
’’ تمہاری موت کیسے ہوئی‘‘
’’اکسیڈنٹ ہوا تھا‘‘
’’ کیا تمہارا وقت پورا ہوچکا تھا‘‘
’’پتہ نہیں‘‘
’’ تو پتہ کرو ۔ اگر تم بے وقت آئے ہو تو ابھی بھی واپس جا سکتے ہو‘‘یہ بات سن کر میرے اندر ایک عجلت سی پیدا ہوگئی۔
’’لیکن میں یہ کیسے پتہ کروں‘‘
’’ ارے یہ جو سامنے کھڑے ہیں ان سے جا کر پوچھو‘‘
’’ کیا یہ ممکن ہے؟‘‘
’’ہاں بالکل! ہم یہاں اس لئے بیٹھے ہیں کہ ہم واپس نہیں جانا چاہتے ورنہ ہم بھی بے وقت آیئے ہیں‘‘یہ بات سن کر مجھے امید کی ایک کرن نظر آئی۔
میں فوراً اٹھا اور اسی سپہائی سے جاکر مخاطب ہوا ’’ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہو ں اگر میری زندگی باقی ہے تو میں واپس جانا چاہوں گا‘‘ اس نے نہایت ہی ہمدردی سے میری بات سنی اور کہا’’ ہاں تمہاری زندگی ابھی باقی ہے،میں اندر جاکر کہتا ہوں تمہیں واپس بھیج دیا جائے گا‘‘
اب میری خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا،چہرے پر مسکراہٹ پھیل چکی تھی، میرا ماضی میرے زہن سے خود بخود غائب ہو چکا تھااور مستقبل کا سایہ پھر سے نظر آنے لگا۔ہال بیٹھے لوگوں کو میری خوشی برداشت نہ ہوئی سب کے سب لوگ مجھے ملامت اور بے عزت کر رہے تھے۔ پورا ہال شور و غل سے گونج رہا تھا ۔
اندر سے دو تین سپہائی بڑی غضبناک صورت لیکر آئے انہوں نے بڑے غصے اور باآواز بلند میں سب کو ڈانٹااور آخر میں کہا’’اگر تم لوگ خاموش نہ ہوے تو سب کو زندگی واپس دے دی جائے گی‘‘۔ یہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔
پہلے میرے ذہن میں ان کے نا جانے کا خیال کبھی آیا ہی نہیں مگر اب جاننا چاہتا تھا کہ وہ اپنی زندگی کو خاصل کیوں نہیں کرنا چاہتے ۔ میں نے آگے بڑھ کر ایک سپہائی سے پوچھا ’’ ان کا کیا مسلہ ہے؟‘‘
’’خود ان سے پوچھ لو‘‘ اس نے جواب دیا۔میں اسی عورت کے پاس گیا جس نے مجھے واپسی کی تدبیر دی تھی۔’’آپ لوگوں کے ساتھ کیا ہوا تھا‘‘ایک دوسری عورت نے غصے کو دباتے ہوے کہا’’ تم کو اس سے کیا لینا،جاؤ اپنی باقی کی زندگی کے مزے لو‘‘
’’میں پھر بھی جاننا چاہتا ہوں‘‘
’’ اچھا! یہ ہزاروں لوگ جو تمہیں دکھائی دے رہے ہیں جن میں زیادہ تر بچے اور بزرگ ہیں کیاان کی چیخیں تم تک کبھی نہیں پہنچی؟
’’کیسی چیخیں!‘‘
’’ ہاں تم تک کیسے پہنچے گی ،تم تو اپنی مستی میں تھے،تم اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہو؟اور ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر کیا فرض ہے تمہیں پتہ ہی نہیں،تم صرف نام کے مسلمان ہو‘‘وہ غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔ایسے میں ایک بزرگ نے اس کوایک طرف کیا اور مجھ سے مخاطب ہوا’’ہم مظلوم بدقسمت لوگ عراق،فلسطین،شام اور برما سے ہیں جہاں کافروں کا ظلم انتخا پر ہے جہاں مسلمانوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا جا رہا ہے،مگر ہمارا کوئی مددگار نہیں،نہ باقی ممالک کے مسلمان اور نہ ہی خدا،ہاں مگر کافروں کے ساتھی سب ہیں،ان حالات میں ہم اپنے آپ کو کیسے بچاتے،کافروں نے ہم کو اصل موت سے پہلے ہی قتل کردیا‘‘پھر اس کی آواز بند ہوگئی اور وہ زور زور سے رونے لگا۔میں نے شرمندگی سے سر کو نیچے جھکاتے ہوئے کہا’’ایک موقعہ اور دے دو زندگی کو‘‘اس پر پیچھے سے ایک عورت نے بڑے غضبناک لہجے میں جواب دیا’’تم نے معصوم،مظلوم،زخمی،بے گھر اور بھوک سے تڑپتے ہوئے بچوں کی چیخیں نہیں سنی،تم نے معصوم بچوں ا ور بزرگوں کے چہرے پر پھیلے ہوئے خوف کو نہیں دیکھا،تڑپتے ہوئے ماں باپ اور آہیں بھرتی ہوئی مائیں نہیں دیکھیں اسی لئے تم زندگی کے عاشق ہو ۔ہمارے لئے ایسی زندگی کو سلام اور ایسی دنیا کو بھی سلام جہاں انسانیت اور ہمدردی کی کوئی قدر نہیں‘‘
اسی دوران اندر سے آتے ہوئے ایک شخص نے مجھے اپنے پاس بلایا ۔میں اس شخص کی طرف جا رہا تھا کہ پھر اس عورت نے روتے ہوئے مجھ سے کہا ’’جاؤ آج تم ہمارا تماشہ دیکھو کل یہ آسمان تمہارا تماشہ دیکھے گا‘‘مجھے اس بلانے والے شخص نے پکڑ لیامیں نے جھٹ سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔اس کی آنکھیں بند تھیں ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے کچھ دیر کے بعد میں بے ہوش ہوگیا۔جب آنکھیں کھلی تومیرے ارد گرد ڈاکٹروں کی ایک ٹولی کھڑی تھی۔ان میں سے ایک ڈاکٹر نے جھک کر مجھ سے کہا’’بیٹا تم موت سے بہت لڑے ہونئی زندگی مبارک‘‘مگر میرے ذہن میں اس عورت کا آخری جملہ ہی گھوم رہا تھا۔میرے منہ سے وہی بے ساختہ نکل گیا’’آج تم ہمارا تماشہ دیکھو کل یہ آسمان تمہارا تماشہ دیکھے گا‘‘
—–
Md. Arshad Kassana
Research Scholar , Delhi University
mob . 7006909305