افسانہ : بے بس :- محمد یوسف شاشیؔ

محمد یوسف شاشی

افسانہ
بے بس

محمد یوسف شاشیؔ
ریسرچ اسکالر ۔سنٹرل یونیورسٹی آف حیدرآباد۔

Mobile no.8130198952

روزانہ کی طرح صبح چھ بجے کے قریب جب گھر سے ٹہلتا ہوا نکلا موسم نہایت ہی خوشگوار معلوم ہو رہا تھا۔وہ چاروں طرف چڑیوں کا چہچہانا۔ رختوں کے پتوں پر مسکراتی ہوئی شبنم۔اپنی آخری سانسیں گن رہی تھیں۔

میں نے چشمے پر پہنچتے ہی معمول کے مطابق پانی پیا۔ جس کی مٹھاس ابھی بھی میری زبان میں باقی ہے۔ وہ سارا کا سارا منظر مجھے وہاں جانے پر مجبور کرتا تھا۔ وہاں اتنی دیر ضرور وقت گزارتا جتنی دیر میں سورج اچھی طرح نہ نکل آئے۔ کئی بار گھر والوں سے ڈانٹ بھی سننی پڑی۔ کہ وقت صبح پڑھائی کا ہے اور تم وہاں جا کر وقت برباد کرتے ہو۔ لیکن کیا کرتا میں مجبور تھا۔ مجھے وہا ں جائے بناء چین نہیں آتا تھا۔ خیر آج جب میں اس دلربا باغیچے میں پہنچا۔ کچھ دیر چڑیوں کو دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر گنگنایا۔ ابھی وہیں ایک ٹیڑھے سے پتھر پر بیٹھا ہوا تھا کہ مجھے وہاں سے رونے کی آواز کانوں میں پڑی کئی بار اٹھ کے دیکھا مگر کچھ نظر نہ یا آخر یہ سوچ کہ بیٹھ گیا کہ میرے کان بج رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں آواز بڑھنے لگی۔ میں نے ایک پتھر کے ٹیلے پر چڑھ کر اس آواز کی جانب کان کئی لیکن کچھ خاص سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کہ اتنے سکون والی جگہ یہ رونیکی آواز کہاں سے آرہی ہے۔ ادھرادھر دیکھا۔ تھوڑا اوپر کی جانب چلا جہاں سے میں اکثر واپسی پہ گھر کی جانب جایاکرتا تھا۔ وہاں ایک بہت ہی خوبصورت ٹیلا ہے۔ جس پر میں نے کچھ چوٹے چھوٹے پتھر جمع کر دیا کرتا تھا۔ اور جب کبھی فیروز چاچو کی بکری ہمارے کھیت میں آتی میں کھیت میں جانے کے بجائے وہیں سے اس کو پتھر داغتا۔ لیکن وہ بڑی بے شرم تھی۔ اس بکری کو پتھر کھانے کی عادت ہو گئی تھی۔ میرے سارے پتھر ختم ہو جاتے مگر بکری ہٹنے کا نام نہ لیتی۔
اسی ٹیلے کے دائیں طرف جب مڑا تو دیکھا کہ ایک عورت رو رہی ہے۔ چہرے پر کالا ڈپٹہ ہے۔ اسے دیکھتے ہی میں چونک گیا۔ اس نے جونہی مجھے دیکھا تو اس کی رونے کی آواز اور بھی بڑھ گئی۔ پہلے تو میرے قدم اسے دیکتے ہی رک گئے۔ بڑی دلہیری سے قدم بڑھایا۔اور اس کے سامنے جانے کی جرئت کی۔اس نے بھی چہرے سے تھوڑا ڈوپٹہ سرکایا۔میں ایک دم پہچان گیا۔ ارے تم۔ در اصل وہ موسیٰ چچا کی بہو تھی۔جسے کچھ دن پہلے وہ بڑے زور و شور سے بیاہ کر کے لائے تھے مجھے ابھی بھی صبح کے ناشتے کی طرح یاد ہے۔کہ چند ماہ پہلے ان کے یہاں شادی میں بڑے ناچ گانے ہوئے تھے۔ ملاں امیر نے لاکھ منع کیا کہ یہ ہمارے معاشرے کے خلاف ہے۔ مگر انہوں نے پھر بھی کچھ نہ سنی۔اور کہتے ملاں جی ہم نے کہاں روج روج بیاہ کروانا۔ دھوم دھام سے شادی ہوئی۔ شادی کہ دن میں اس بات کو سوچتا رہا کہ کہ اس موسیٰ چچا کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے۔چوں کہ بڑے انتظامات کئے تھے۔ حالاں کہ ان کے گھر کی وہ ٹوٹی ہوئی چھت اور موسیٰ چچا کو میں نے بچپن سے ہی ایسا دیکھا تھا۔ نہ اس چھت میں کبھی تبدیلی آ ئی نہ موسیٰ چچا میں۔۔۔۔۔
موسی چچا کو کو تو میں بچپن اسی حلیہ میں دیکھتا آیا تھا۔ موسیٰ چچا اکثر میرے گھر کے سامنے والے راستے سے مکی کی بھری ہوئی کھال جو شائد کسی بھیڑو کی خال تھی۔پیٹھ پہ اٹھائے چکی کے لئے آتے جاتے۔ ان کے سر پر بند ھی وہ رومال جس کو دیکھتے دیکھتے عرصہ گزر چکا تھا۔ رومال کو کانوں کے اوپر سے باندہ لیتے اور اوپر سے سر نظر آتا رہتا۔ یہ مجھے اس لئے بھی اچھی طرح یاد ہے کیوں کہ اس رومال کے بارے میں میں موسیٰ چچا سے کئی بار پوچھ چکا ہوں۔ وہ اسے اپنے ایک دوست کا ہدیہ بتاتے۔ اور جب کبھی کسی سے بات کرنے بیٹھتے تو اسے اتار کر ویسیہی گھٹنے پر رکھ دیتے۔گویا سر پہ رکھی ہو۔
اسی موسیٰ چچا کی بہو وہاں بیٹھی رو رہی تھی۔ میں نیوجہ دریافت کرنا چاہی۔ اتبا تو میں پہلے سے ہی جانتا تھا کہ موسی چچا کی بیوی ایک خراب قسم کی عورت ہے۔ انسان کی کیا مجال کوئی پرندہ بھی اس کے قریب آنے سے ڈرتا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ کوی گھر کا ہی مسلہ ہو سکتا ہے۔ آخر وہی بات سامنے آئے۔اس کا بھوک سے حال بے حال ہو رہا تھا۔ مجھ سے اس کے آنسو برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ میں نے اس سے اپنے گھر جانے کو کہا اور کچھ تسلی بھی دینے کی کوشش کی۔اس نے ڈپٹے سے آنسوں پونچھتے ہوئے۔کرتے کا پچھلا پلہ جھاڑ کر اٹھتے ہوئے میرے گھر کا رخ کیا۔ اور اسی ٹیلے پر سے گزر کرجہاں سے میں اس بکری کو پتھر داغتا تھا۔ میرے گھر کی طرف چلی گئی۔ کچھ دیر ان ہی سوچوں گم رہا بار بار وہ شادی کے دن کے ناچ گانے میرے دماغ میں اس طرح چل رہے تھے گویا کسی تھٹیر میں فلم چل رہی ہو۔ دل میں کئی طرح کے سوالات کردش کرنے لگے۔ آخر کیوں یہ لوگ کسی کی بیٹی کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں۔لاتیتو بڑے شوق سے ہیں لیکن بعد میں یہ سلوک کرتے ہیں۔ موسیٰ چچا کی بہو نے کبھی پیٹ بھر کے کھانا نہ کھایا۔ صبح سے شام تک مزدوروں کی طرح کام کرتی۔اوپر سے ساس کی وہ زہریلی باتیں اس کے دل کو پارہ پارہ کرتیں۔ یہ سب اس نے بیان کیا تھا۔ میرے زہن میں اس کی وہ مظلومیت والی تصویر بار بار میرے زہن کو جھنجوڑ رہی تھی۔ لیکن میں کر کیا سکتا تھا۔ موسیٰ چچا کی بیوی تو ایک قیامت تھیں۔اس کے گھر کے آس پاس سے گزرنا بھی محال تھا۔ بہت سارے لوگوں کو اس نے کھری کھری سنا دیں تھیں۔ میں اکثر اس کے مکان سے بہت تیزی میں گزر جاتا گویا میں نے کسی کو دیھا ہی نہیں۔ نہ جانے کب کیا سنا دے۔ انسان تو انسان جانور بھی اس کے سامنے آنے سے گریز کرتے ہونگے۔ دوسری جانب موسیٰ چچا سے میری بہت دوستی تھی۔ اکثر مجھ سے مزدوری کے دنوں کا حساب کتاب کرواتے۔اور جیب سے پیسے نکال کر گننے کو دیتے۔ میں ان کو سب ٹھیک ٹھیک بتا دیتا۔کے کتنے دنوں کے کتنے پیسے بنتے ہیں۔ اس پر وہ کہا کرے۔ارے بیٹا یہ ٹھیکیدار بھی نہ اج کے بڑے بے ایمان ہیں۔ کئی بار تو دھاڑی لکھتے ہی نہ۔میں تسلی دیتا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک ہے۔
میں ابھی وہیں سوچوں میں گم بیٹھادو ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے پتھر لئے کھیل رہا تھا کبھی ان کو اوپرپھینکتا اور کبھی ان کو پکڑتا۔ جو اکثر نو جوان تنہائی میں کرتے ہیں اتنے میں مڑ کر دیکھا تو جھاڑیوں کے نیچے والے راستے سیموسیٰ چچا کی بہو واپس اپنے گھر جا رہی تھی۔ میں نے تیزی سے گھر کی جانب قدم بڑھائے۔اب سورج کی تپش سے چہرے بھی سرخ ہو رہا تھا۔ والدہ انتظار میں تھیں۔ کچھ ڈانٹ سننیکے بعد ناشتہ کیا۔نہ جانے اس ڈانٹ میں بھی کیا عجیب مزا تھا۔یہاں تک کہ امی کبھی کبارتو اتنی غصے میں آجاتیں کہ لاٹھی تک لے آتیں اور مارنے کی کوشش کرتیں۔ پر بھلا میں کہاں ان سے مار کھا تا۔کبی چھالانگ ادھر تو کبھی ادھر کبھی لاٹھی ہی پکڑ لیتا۔امّی مسکراتی ہوئی کہتیں اچھا چل چھوڑ اب کر لے ناشتہ۔میں بھی ہنستا مسکراتا اّمی کے ساتھ کھانا کھاتا۔لیکن آج امّی کے چہرے پر غم و غصے کے اثرات تھے۔میں نے جانتے ہوئی بھی پوچھنے کی کوشش کی۔کہنے لگیں۔وہ موسیٰ کی بیوی قیامت۔ اپنی بہو کو متنا ستاتی ہے۔میں نے کہا اس کو کچھ کھانے کو دیا؟ ہاں اچھے سے کھا کر گئی۔تمہیں معلوم ہے وہ کل سے بھوکی تھی۔اب اس نے منع کیا ہے کہ کسی کو بتانا نہیں کہیں اس کی ساس تک بات نہ پہنچ جاء۔اور اس بے چاری کو کہیں مزید دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میں ہوں ہوں۔کرتا رہا در اصل وہ بات مجھے امی سے زیادہ کہیں پریشان کرتی تھی۔اس کے بعد بھی موسیٰ کی بہو کی چیخیں وقتاً فوقتاً سنائی دیتی رہتی اس کا خاوند مہراج بھی اسے بری طرح پیٹاکرتا۔جانوروں کی طرح اس سے دونو ماں بیٹے کام لیتے۔ اور ساتھ میں اس سے سارے خاندان پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتے۔ایک بار تو اتنا زور سے کسی لکڑی سے مارا کہ کئی دن تک دوا لگوانی پڑی۔
موسیٰ چچا کی بہوکے دن رات اسی بے بسی میں کٹتے رہے۔ نہ ہی اس کی گھر میں کوئی سنتا اور نہ کہیں آ جا سکتی۔ شادی کو بھی تقریباً سال ہونے والا تھا۔اب وہ اکیلی نہیں تھی۔ اس کے پیٹ میں بچے ہونے کی وجہ سے مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ جوں جوں ولادت کا وقت قریب آیا وہ زیادہ بیمار رہنے لگی۔آخر وہ اس درد سے سارا دن پریشان رہتی۔مجال کہ کوئی اسے پوچھنے والا ہو۔ادھر ساس کو یہ غم تھا کہ اب کچھ دن بیٹھ کر کھائے گی ۔۔
میں گھر کے آنگن میں بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا۔یہاں تک کہ موسی چچا وہی اپنی رومال باندھے میرے سامنے آن کھڑا ہوا میں نے سوچا کہ موسیٰ چچا شائد حساب کروانے آئے ہونگے۔میں نے بیٹھنے کو کہا۔ انہوں نے اپنے دستور کے مطابق سور سے رومال اتار کر گھٹنے پر رکھیتے ہو? ایک ٹھنڈی آہ بھری۔اور کہا۔میں نے ساری زندگی اپنی بیوی کی غلامی میں گزار دی۔لیکن آج میری بہوبھی تین دن تک ایک بیڈ پر درد زہ کی تکلیف سی چل بسی لیکن ساس نے پلٹ کر اس کی طرف نہ دیکھا۔یہ کہ کر موسیٰ چچا نے سر پر رومال رکھی اور دونوں ہاتھ گھٹنے پر رکھ کر اٹھے اور چلے گئے میں اسی سوچ میں گم منہ میں قلم دبا ہو ا۔ ن کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ جا کر جھاڑیوں سے اوجھل ہو گئے ۔۔۔۔۔۔

جواب دیجئے