افسانہ : ایک قطرہ پانی :- ڈاکٹر صفیہ بانو اے۔شیخ

ڈاکٹر صفیہ بانو

افسانہ
ایک قطرہ پانی

ڈاکٹر صفیہ بانو اے۔شیخ

میں دھبوئی گاؤں کا رہنے والا ایک معمولی ساکسان ہوں ۔ میرا نام بگھوان داس ہے ۔برسوں پہلے کی بات ہے جب گاؤں میں پہلا بجلی کا قمقہ روشن ہوا تھا اس کا سہرا بھی میرے ہی سر بندھا تھا ۔

اُس روز یکایک میری بیوی سیتا کی طبیعت ناسازگار ہوئی تو مجھے اُسے فوراً ہسپتال لے جانا پڑا،حالانکہ شہر کے ہسپتال جتنی سہولت ہمارے گاؤں کے ہسپتال میں میسر نہیں تھی ،لیکن اس کے باوجودیہاں پر علاج بہترین ہوتا تھا اس کی وجہ ایمانداراور دانشمندڈاکٹر رمیش پرمار کوجاتا ہے ۔ جن کو ہم ڈاکٹر صاحب کہہ کر بلاتے ہے۔ میری بیوی سیتا کا معائنہ کرنے بعد چند دوائیاں لکھ دی تھی۔ ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کیا ہوئی ،اُن سے میری دوستی ہوگئی۔ ڈاکٹر صاحب نے مجھے ایک روز اپنے گھر پارٹی میں بلایا اور وہاں میری ملاقات آنند رائے سے کرائی ۔ آنند رائے جو ایک بنک آفیسر ہے۔ آنند رائے نے مجھے بنک سے قرض لینے کے فائدے سمجھا رہے تھے باتوں ہی باتوں میں انہوں ہر طرح کے قرض لینے اور اس کے بعد سود وغیرہ لین دین کی باتیں بتائی اور میں نے اس کی شروعات بجلی کے قرض سے کی ۔ اس طرح اُس روز گاؤں میں بجلی کا قمقمہ روشن ہوا ۔
سیتاکو اولاد نہ ہونے کا طعنٰ ہر روز سننا پڑتا تھا ۔میں نے اس کا ہر طرح سے اور ہر طرح کا علاج بھی کروایا، مگر علاج کروانا میرے بس کی بات نہیں تھی ۔میں ایک معمولی سا کسان تھا، اسلئے میں اُسے ہمیشہ اپنے ساتھ ہی رکھتا تھا ؛یہاں تک میں اُسے اپنے ساتھ اپنی کھیتی باڑی کی زمین کو دکھانے اور وہاں پر چھوٹے موٹے کام کرنے کو اُسے دیتا تھا تاکہ وہ طعنے بھری باتیں بھول جائے ۔ ایک دن ہم دونوں دوپہر کے وقت کھانا کھارہے تھے اچانک وہاں ایک عورت ہم سے ہمارا کھانا مانگنے لگی اور رو رو کر کہنے لگی میرا بیٹا دو دن سے بھوکا ہے اُس کو بہت بھوک لگی ہے یہ الفاظ جیسے ہی سیتا کے کانوں میں گنجے اُس نے فوراً اپنا ساراکھانا اُس عورت کو دے دیا کہ شاید کسی کی دُعا سے ہی اولاد نصیب ہوجائے ۔ میں نے کہا کہ اچھا ہی ہوا جو ہمیں اولاد نہیں ہوئی ۔اس مہنگائی کے دور میں ہمارا جینا بے حال ہے تو ہماری اولاد کا کیا ہوگا ؟ تم نہیں جانتے اولاد ماں باپ کا سہارا ہوتی ہے ۔ میں نے کہااب ان باتوں کا کوئی مطلب نہیں ۔یہ باتیں ماں باپ اور اولاد دونوں کے لیے پرانی اور بے معنی ہوچکی ہے ۔ میں نے اُسے اپنے ہی گاؤں کا کنہیالال جی کا قصہ سنایا کہ ان کی اپنی اکلوتی اولاد دھرم لال نے ملکیت کی لالچ اپنے ہی باپ کنہیالال جی کا قتل کرڈالا تھا ۔اب دیکھو عمر بھر کے لیے قیدی کی زندگی جی رہا ہے ماں اور اُس کی بیوی کا بُرا حال ہوچکا ہے ۔گاؤں میں ان کی عزت کنہیاالال سے تھی مگر اب لو گ ان سے دُوری بنائے رکھتے ہیں ۔
ہمارا دھبوئی چھوٹا سا گاؤں تھا۔ میں اُس روز کو کبھی نہیں بھول سکتا ،جب گاؤں میں چاروں طرف یہ بات پھیل گئی کہ شہر سے لے کر گاؤں تک میں پانی کی زبردشت قلّت ہو رہی ہے ۔اس کا اثر ہمارے گاؤں دھبوئی میں بھی ہوا تھا۔ لوگوں کے جینے کی ضرورت پانی کی قلّت کی خبر نیسبھی گاؤں والوں کا چین و سکون چھین لیا تھا۔ساہوکار اور ٹھیکیداروں نے اپنی دھونس دکھا کر اپنے اور اپنے کنبے کے لیے پانی جمع کرنے لگے ۔ میں یہ سوچ کر پریشان تھا کہ میں نے چند مہینے پہلے ہی کھیتی کے لیے بنک سے قرض لیا تھا ۔ میری طرح کئی کسانوں نے اپنے کھیتوں کے لیے قرضہ لے رکھا تھا۔ اب تو ایسا لگ رہا تھا کہ میری طرح ان کسانوں کی محنت پر پانی پھرنے والا تھا۔
اِک طرف قدرت کی…..مار تو دوستی طرف …….ساہوکار اور ٹھیکیداروں کی جبراً من مانی نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا ۔
کھیت میں بیج بوئے جاچکے تھے شروع میں آئے پانی نے تو ان میں جان بھردی ،کونپل پٹھنے لگے ۔
اب تو ایک قطرہ پانی بھی مشکل سے نصیب ہورہا تھا ۔ کسانوں نے اپنے اور اپنے گھر کے لوگوں کی خاطر دُگنے بھاؤ کا قرض لے کر پانی کا بندوبست کیا، لیکن جس تیز رفتار سے پانی کا شور برپا تھا اس نے سبھی کو ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
’’ کیا زمانہ آگیا کہ کھیت کی سینچائی کے قرض کے ساتھ ساتھ پانی کو بھی قرض لینا پڑھ رہا تھا ۔‘‘ اس وقت اگر کھیت میں اناج ہو بھی جاتا تو ہماری محنت کا ایک قطرہ اناج بھی قرض کی بھینٹ چڑھ جانا تھا ۔‘‘
’’ میں نے دیکھا کہ کسان بنسی رام نے خودکشی کر لی ۔سارادھبوئی گاؤں سکتے میں آگیا ۔ اب پانی کی ضرورت نے ڈر اور خوف نے لے لی تھی کہ اب باری باری سب کو مرتا دیکھنا پڑے گا ۔ یہ سلسلہ کب تک چلے گا کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ۔جیسے تیسے چھ مہینے اور سال گزر گئے ۔ اس سال بارش بھی بہت کم ہوئی تھی ۔ جو امید قدرت سے باندھی تھی وہ تو پوری ہوئی مگر دنیا میں ہر بڑا انسان اپنے آپ کو بگھوان یا ایشور سے کم نہیں سمجھتا ۔
’’دن رات یہی سوچ میں ڈوبا رہتا ہوں کہ پانی کے بِنا جینا کتنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ اب تو بھوک کی جگہ غم و غصہ نے لے لی ہے پانچ سالوں سے اس کا یہی حال ہورہا ہے بیج بھی کم پانی بھی کم ۔آہستہ آہستہ زمین بھی خشک ہونے کو آئی ۔ایسا لگنے لگا کہ وہ ہم سے کہہ رہی ہوں کہ میں تمہیں سب کچھ دیتی ہوں ، دھن ، دولت ، یہاں تک کہ تمہارے خواب سے سجے آشیانے تک میں میرے وجود کا سب سے بڑا دخل ہے لیکن تمہاری انسانی خود غرضی نے میرا یہ حال کردیا کہ میرا کچھ حصہ اُس بانج عورت کی مانند ہوچکا ہے جو سب کچھ برداشت تو کرسکتی ہے لیکن کسی کو جنم نہیں دے سکتی ۔‘‘
اُس روز رات کا اندھیرا گہرا تھاٹھنڈی ہوائیں لمحہ بھر کے لیے ٹکراتی،اِسی درمیان میری آنکھ لگ گئی، میں نے سپنے میں دیکھا کہ زمین مجھ سے سوال کررہی تھی کہ کیا ہوا بگھوان داس تم بہت پریشان ہوں کیا ؟ میں نے کہاں ہاں میں ایک طرف اپنی بیوی سیتاکو لے کر پریشان ہوں تو دوسری طرف پانی کو لے کر ۔زمین پھر مجھ سے مخاطب ہوئی اور کہنے لگی کہ تمہاری پریشانی کا ایک حل میرے پاس ضرور ہے میں نے فوراً ہی پوچھ لیا آخر کونسی میری پریشانی حل کرسکتی ہوں ۔زمین نے کہاں تمہاری بیوی سیتا کو اولاد ہوسکتی ہے کل دوپہرکے وقت اپنے کھیت کے نیم کے درخت کے پاس زمین کھودنا تب تمہیں وہاں ایک پھل ملے اُسے لے جاکر تم اپنی بیوی کو کھلادینا،لیکن میری ایک شرط ہے میں نے کہا کہو ! زمین تمہاری کونسی شرط ہے؟ میں تمہاری ہر شرط پوری کرنے کو تیار ہوں ۔زمین نے کہاں وقت آنے پر مجھے ایک قطرہ پانی چاہیے۔
میری نیند سے آنکھ کُھلی تب میں نے اپنی بیوی سیتا کو دیکھا اور اُسے اپنا سپنا سُنایا ۔وہ تو خوشی کے مارے جھومنے لگی اُسے یہ بات بھی یاد نہیں رہی کہ جس طرح ڈاکٹر علاج کرنے پر فیس لیتا ہے اُسی طرح زمین نے کچھ مانگا یا نہیں ۔دنیا میں ہر چیز کی قیمت چکانی پڑتی ہے ۔میں دوپہر کے وقت گیا اوراُسی طرح سارے کام انجام دیے جیسا زمین نے کہا ۔دو تین مہینوں کے بعد اولاد کی خوش خبری نے مجھے پانی کی فکر کو مٹا دیا ۔ آخر انسانی فطرت نے مجھے دنیاداری والا بنا دیا ۔ میرے گھر لڑکا ہوا اور اُس کانام میں نے کرم داس رکھا ۔ میں اپنی بیوی سیتا اور کرم داس میں اتنا مگن ہوگیا کہ مجھے پانی کی فکر کو پوری طرح سے بھُلا چکاتھا ۔
کرم داس کے آنے سے میں بہت خوش تھا اور میری بیوی سیتا اُس کی خوشی کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا کیونکہ کل تک جو عورتیں اُسے اولاد نہ ہونے کا طعنٰ دے رہی تھی آج وہیں عورتیں سیتا کو کسی دیوی سے کم نہیں سمجھتی تھیں۔ کرم داس ہمارے اچھے کرموں کا پھل ہے جو ہمیں اولاد کے روپ میں نصیب ہوا۔میں اپنی دنیا میں مست تھا ۔ لیکن پانی کا مسئلہ حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا پہلے گاؤں پھر چھوٹے شہر اور بڑے شہروں میں پانی کی قلّت کی چرچائیں عام ہوری تھی وہی دوسری جانب جو پانی ہے اُسے کیسے دیانت داری اور کیفایت شعاری سے استعمال کیا جائے تاکہ سبھی کو پانی مل سکے ۔گرمیوں کا موسم ابھی دور تھا لیکن اس بے موسم کے چکّر نے سبھی کو چکّرا کر رکھ دیا ہے ۔ میں اپنے بیوی بچوں کو لے کر احمدآاباد شہر میں بسنے کے لیے مجبوراً تیار ہورہا تھا ۔ ہفتے بھر میں ،میں نے اپنے گھر اور کھیت کو فروخت کرنا چاہا مگر کوئی خریدنے کو تیار ہی نہ تھا سب کو معلوم تھا کہ اس زمین سے کچھ نہیں اُگنے والا ہے اور گھر بھی کوئی پکّی اینٹوں کا بنا ہوا نہیں تھا ، کہ جس کی اچھی خاصی رقم آسکے ۔
دیر رات تک یہی سوچ کر پریشان ہو نے لگا اب کیا ہوگا ؟پانی کا مسئلہ سنجیدہ بنتا جارہا ہے پانی کا مسئلہ کسی ایک فرد ،سماج ،دیس یا ملک کا نہیں ،بلکہ پانی انسان کی وہ ضرروت ہے جس کے بِنا پر وہ زندہ ہے پانی قدرت کی وہ نعمت ہے جس کا ہمیں احساس نہیں ۔ہم ہر وقت ،ہر گھڑی کسی نہ کسی چیز کی ایجاد ضرور کرتے ہے مشینی آلات سے کام کرنے والے لوگ تک ،لیکن اُس قدرت کو ہم نہیں سمجھ پاتے جو ہماری لیے نعمت اور زندگی دونوں ہے ۔آج اُسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے چاروں طرف پانی — اور صرف پانی— کا ہاہاکار مچا ہوا ہے۔
دیر رات پانی کے بارے میں سوچتے سوچتے میری نیند لگ گئی اور پھر سے مجھے سپنا آیا ۔ زمین مجھ سے کہہ رہی تھی کہ بھگوان داس تم تو اس گاؤں کے اوتار ہوں پھر تمہاری پریشانی مجھ سے زیادہ ہے کیا؟ جو مجھے چھوڑ کر جارہے ہوں ۔جاتے وقت میرا قرض ایک قطرہ پانی چکاتے جانا ۔ میں کچھ سمجھ نہیں پارہا تھا ۔تبھی زمین نے مجھے یاد دلایا تمہاری اولاد کرم داس جو میرے پھل کا اوتار ہے اور تجھے میں نے کہا تھا کہ میں وقت آنے پر تجھ سے ایک قطرہ پانی مانگ لونگی ،آج وہ وقت آگیا ہے مجھے ایک قطرہ پانی کی سخت ضرورت ہے ۔صرف ایک قطرہ پانی تمہاری ہی ضرورت ہے بلکہ یہ میری بھی اہم ضرورت ہے جس کے بِنا میری زندگی ،زندگی نہیں ۔ میری پاس تین قطرے پانی تھا ۔پہلا قطرہ پانی میں نے خود پیا، تاکہ میں ان کا خیال رکھ سکوں اور دوسرا قطرہ سیتا نے پی لیا اور بس آخری قطرہ کرم داس کو پلانے والے تھے کہ زمین نے وہ آخری قطرہ مانگ لیا ۔ایک طرف زمین تھی جس نے زندگی دی اور دوسری طرف اولاد جو ہماری زندگی تھی دونوں ہی زندگی لیکن زندگی زندگی سے موت مانگ رہی تھی ۔بس ایک قطرہ پانی میری پیاس بجھادو تاکہ میں تمہیں دُوگنا دے سکوں گی ۔ میں نے فوراً زمین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر میں تمہیں ایک قطرہ پانی دیتا ہوں تو بِنا پانی کے کرم داس کی موت ہوجائے گی ۔ زمین سماجت کرتے ہوئے کہنے لگی کہ اے رحم دل انسان تجھے التجا کرتی ہوں اور ویسے بھی تجھے لوٹ کر میرے ہی پاس آنا ہے اور اگر تو مجھے ایک قطرہ پانی دے، دے تو میں تیری قرض دار رہوں گی جب تو اس سر زمین میں دفن ہوگا تب تجھے ٹھنڈک دونگی ۔بس ایک قطرہ پانی —- بس ایک قطرہ پانی —- بس ایک قطرہ پانی! اچانک سے زمین غصہ میں آگ بگولہ ہوتے ہوئے شراپ دیتے ہوئے کہنے لگی کہ جس طرح میں تڑپی ہوں تو بھی تڑپے گا۔بس وہ آخری قطرہ کرم داس کو پیلانے والا ہی تھا کہ کرم داس کی سانسوں نے سانس لینا بند کردیا ۔ یہ دیکھ کر سیتا نے بھی دم توڑ دیا۔ میری آنکھ کُھل گئی اور میں نے گھر میں سیتا اور کرم داس کو موت کی نیند سوتے ہوئے دیکھا ۔میری دنیا اُس ایک قطرہ پانی کی بھینٹ چڑھ گئی۔
—–
Dr.Sufiyabanu A . Shaikh
C/Grounf floor Tajpalace ,
Kumbhar wada jamalpur ,
Ahmedabad – 380001.