افسانہ : طوفان – مصنف – خلیل جبران :- ترجمہ – عزہ معین

عزہ معین

افسانہ : طوفان

مصنف۔ خلیل جبران
ترجمہ ۔عزہ معین

یوسف الفاخری کی عمر تب تیس سال کی تھی ،جب انھوں نے اس دنیاں کو چھوڑ دیا اور شمالی لبنان میں وہ قدیسا کی گھاٹی کے قریب ایک پرسکون آشرم میں رہنے لگے ۔آس پاس کے گاؤوں میں یوسف کے متعلق طرح طرح کی کہانیاں سننے میں آتی تھیں ۔

کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک جانے مانے خاندان کے چشم و چراغ تھے اور کسی حسینہ سے محبت کرنے لگے تھے جس نے ان کے ساتھ بے وفائی کی ۔اسی لئے وہ زندگی سے مایوس ہوگئے اورانھوں نے اپنے لئے تنھائی کو منتخب کرلیا ۔کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ ایک شاعر تھے اور شور بھری بستی کو چھوڑ کر وہ اس سنسان جگہ پر رہائش پذیر تھے کہ یہاں سکون سے اپنے خیالات کو جمع کرسکیں ۔یہاں اپنی خداداد صلاحیت کو منظم کرسکیں ۔وہیں کئی لوگوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ ایک پراسرار شخص تھے اور انھیں روحانی مطالعہ میں ہی قرار ملتا تھا ۔جبکہ زیادہ تر لوگوں کا یہ نظریہ تھا کہ وہ ذہنی طور پر کمزور تھے۔
جہاں تک میرا تعلق ہے ،اس انسان کے بارے میں میں کسی حتمی فیصلہ پر نہ پہنچ پایا ،کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اس کے دل میں کوئی گہرا راز چھپا ہے ،جس کا علم صرف قیاس آرائی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔ایک عرصہ سے میں اس انوکھے انسان سے ملنے کی سوچ رہاتھا۔میں نے متعدد اقسام سے ان سے دوستی کرنے کی کوشش کی ،اس لئے کہ میں ان کی اصلیت کو جان سکوں ۔اور یہ پوچھوں کہ ان کی زندگی کا المیہ کیا ہے ،ان کی کہانی کو جان لوں ۔لیکن میری سبھی کاوشیں ناکامی کا شکار ہوئیں ۔جب میں پہلی بار ان سے ملنے گیا تو وہ لبنان کے مقدس دیوداروں کے درمیان گھنے جنگل میں تھے ۔میں نے منتخب الفاظ کی خوبصورت زبان میں انھیں سلام عرض کیا ۔لیکن انھوں نے جواب میں زرا سا سر جھکایا اور تیز چلتے ہوئے آگے نکل گئے۔
دوسری بار میں نے انھیں آشرم کے ایک چھوٹے سے انگوروں کے باغیچہ کے درمیان میں کھڑا ہوا دیکھا۔میں پھر ان کے قریب گیا ۔اور اس طرح سے کہتے ہوئے انھیں سلام کیا’’ گاؤں کے لوگ کہا کرتے ہیں کہ اس آشرم کی تعمیرچودھویں صدی میں سیریا میں رہنے والے ایک برادری کے لوگوں نے کی تھی کیا آپ اس کی تاریخ کے متعلق کچھ جانتے ہیں ؟‘‘
انھوں نے بے رخی سے جواب دیا’’میں نہیں جانتا کہ اس آشرم کو کس نے بنوایا اور نہ ہی مجھے یہ جاننے کی پروا ہے۔‘‘انھوں نے میری طرف سے منھ پھیر لیا اور یوں گویا ہوئے ’’ تم اپنے باپ دادوں سے کیوں نہیں پوچھتے، جو مجھ سے زیادہ بوڑھے ہیں اور جو ان گھاٹیوں کی تاریخ کو مجھ سے کہیں زیادہ جانتے ہیں ۔‘‘
اپنی کوشش کو بالکل ہی بے کار سمجھ کر میں لوٹ آیا ۔اس طرح دو سال بیت گئے ۔اس منفرد انسان کی بے مقصد زندگی نے میرے ذہن میں گھر کرلیا ۔اور وہ بار بار میرے خواب میں آ۔آکرمجھے تنگ کرنے لگا ۔
ستمبر نومبر کے مہینوں میں ایک دن، جب میںیوسف الفاخری کے آشرم کے پاس کی پہاڑیوں اور گھاٹیوں میں گھومتا پھر رہا تھا،اچانک بہت تیز آندھی اور موسلا دھار بارش نے مجھے گھیر لیا اور طوفان مجھے ایک ایسی کشتی کی طرح ادھر سے ادھر بھٹکانے لگا جس کی پتوار ٹوٹ گئی ہو اور جس کا مستول سمندر کے طوفانی جھکوروں سے منتشر ہو گیا ہو ۔بڑی مشکل سے میں نے اپنے پیروں کو یوسف صاحب کے آشرم کی طرف بڑھایا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا ’’ بہت دن کے انتظار کے بعد یہ ایک موقع ہاتھ لگا ہے ۔میرے اندر جانے کے لئے طوفان ایک بہانا بن جائیگا اور اپنے بھیگے ہوئے کپڑوں کی وجہ سے میں کافی وقت ان کے ساتھ کاٹ سکوں گا ۔جب میں آشرم میں پہنچا تو میری حالت بے حد قابلِ رحم ہو گئی تھی۔میں نے آشرم کے دروازے کو کھٹکھٹایا تو جن کی کھوج میں میں تھا،انھوں نے دروازہ کھولا ۔اپنے ایک ہاتھ میں وہ ایک ایسے خستہ حال پرندہ کو لئے ہوئے تھے ،جس کے سر میں چوٹ آئی تھی اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ بس مرنے ہی والا ہے ۔اس کے پر کٹ گئے تھے ۔میں نے یہ کہ کر ان کی توجہ حاصل کی کہ’’براہ کرم میری اس بنا اجازت آمد اور تکلیف کے لئے معاف کیجئے ۔اپنے گھر سے بہت دور طوفان میں میں بہت بری طرح پھنس گیا تھا ۔‘‘
انھوں نے تیوری چڑھا کر کہا ’’اس سنسان جنگل میں متعدد گپھائیں ہیں جہاں تم پناہ لے سکتے تھے ۔‘‘ لیکن جو بھی ہو انھوں نے دروازہ بند نہیں کیا میرے دل کی دھڑکن پہلے سے ہی بڑھنے لگی کیوں کہ جلد ہی میری سب سے بڑی تمنا پوری ہونے جا رہی تھی ۔انھوں نے پرندہ کاسر بہت ہی احتیاط سے سہلانا شروع کیا اور اس طرح اپنی ایک ایسی خوبی کو ظاہر کرنے لگے جو مجھے بہت پیاری تھی۔مجھے اس انسان کو دو طریقوں سے آپس میں مخالف خوبیوں رحم دل اور مغروریت کو ایک ساتھ دیکھ کر تعجب ہورہا تھا۔ہمیں علم ہوا کہ ہم گہری بے حسی کے درمیان کھڑے ہیں ۔انھیں میری وہاں موجودگی پر غصہ آرہا تھا اور میں وہاں ٹھہرے رہنا چاہتا تھا۔
ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انھوں نے میرے خیالات کو پڑھ لیا تھا کیوں کہ انھوں نے اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور کہا ’’ طوفان صاف ہے اور کھٹا ( برے انسان کا )گوشت کھانا نہیں چاہتا ۔تم اس سے بچنا کیوں چاہتے ہو ؟
کچھ ظرافت سے میں نے کہا ’’ ہو سکتا ہے ،طوفان کھٹی اور نمکین چیزیں نہ کھانا چاہتا ہو لیکن ہر چیز کو وہ ٹھنڈا اور بے بس بنا دینے پر تلا ہے اور بلا شبہ یہ کہ وہ مجھے پھر سے پکڑ لے گا تو اپنے میں سمائے بنا نہ چھوڑے گا۔‘‘
ان کے چہرے کے ہاؤ بھاؤ یہ کہتے کہتے بہت ہی سخت ہو گئے ’’ اگر طوفان نے تمہیں نگل لیا ہوتا تو تمہارے لئے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوتا جس کے تم لائق بھی نہیں ہو ۔‘‘
میں نے مانتے ہوئے کہا،’’ جی جناب !میں اسی لئے طوفان سے چھپ گیا کہ کہیں ایسا اعزاز نہ پاجاؤں ،جس کے کہ میں لائق ہی نہیں ہوں ۔‘‘
اس کوشش میں کہ اپنے چہرے کی مسکان مجھ سے چھپا سکیں ،انھوں نے ا پنا منھ پھیر لیا ۔تب وہ انگیٹھی کے قریب رکھی ہوئی ایک لکڑی کی بینچ کی طرف بڑھے اور مجھ سے کہا کہ میں آرام کروں اور اپنے کپڑے سوکھا لوں ۔اپنی خوشی کو میں بہت مشکل سے چھپا سکا ۔میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی نشست لی ۔وہ بھی میرے سامنے ہی ایک بینچ پر ،جو پتھر کاٹ کر بنائی گئی تھی ،بیٹھ گئے۔وہ اپنی نگلیاں ایک مٹی کے برتن میں ،جس میں ایک طرح کا تیل رکھا ہوا تھا ،بار بار ڈبونے لگے اور اس پرندہ کے سر اور پروں کو لگانے لگے ۔بنا اوپر دیکھے ہی بولے ’’ طاقتور ہوا نے اس پرندہ کو زندگی اور موت کے درمیان پتھروں پر دے مارا تھا ۔‘‘
مقابلہ سا کرتے ہوئے میں نے جواب دیا ’’ اور خوف ناک طوفان نے اس سے پہلے کہ میرا سر چکنا چور ہوجائے اور میرے پاؤں ٹوٹ جائیں مجھے بھٹکا کر آپ کے دروازے پر بھیج دیا ۔‘‘
سنجیدگی سے انھوں نے میری طرف دیکھا اور بولے ،’’ میری تو یہی چاہت ہے کہ انسان پرندوں کا سا مزاج اپنائے اور طوفان انسان کے پاؤں توڑ ڈالے۔ انسان کا جھکاؤ خوف اور بزدلی کی طرف ہے اور جیسے ہی وہ محسوس کرتا ہے کہ طوفان جاگ گیا ہے ،وہ رینگتے رینگتے گپھاؤں اور کھائیوں میں گھس جاتا ہے ۔اپنے کو چھپا لیتا ہے ۔
میرا مقصد تھا کہ ان کے خود ساخت قبول کردہ تنھا رہائش کی کہانی جان لوں ۔اس لئے میں انھیں یہ کہ کر جوش دلایا ،’’ ہاں پرندوں کے پاس ایسا اعزاز اور بہادری ہے ،جو انسانوں کے پاس نہیں ۔انسان مجلسی اور معاشرتی روایتوں کے سائے میں رہتا ہے ۔جو اس نے اپنے لئے خود بنائے ہیں۔لیکن پرندے اسی آزادی اور سدا سے چلے آرہے نظام کے تحت رہتے ہیں ،جن کی وجہ سے زمین سورج کے چاروں سمت بنے راستے پر لگاتار گھومتی رہتی ہے ۔‘‘
ان کی آنکھیں اور چہرہ چمکنے لگے،مانو مجھ میں انھوں نے ایک سمجھدار شاگرد پالیا ہو۔وہ بولے ،’’ بہت خوب !اگر تمھیں خود اپنے الفاظ پر بھروسہ ہے تو تمھیں تہذیب اور اس کی آلودہ روایت اور بہت پرانی روایتوں کو ابھی کے ابھی چھوڑ دینا چاہئے اور پرندوں کی طرح ایسی سونی جگہوں پر رہنا چاہئے جہاں آسمان اور زمین کے اعلی نظام کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو ۔
’’ بھروسہ رکھنا ایک اچھی بات ہے ؛ لیکن اس بھروسہ کو استعمال میں لانا بہادری کا کام ہے ۔کتنے انسان ایسے ہیں ،جو سمندر کے شور کی طرح چیختے رہتے ہیں ،لیکن ان کی زندگی کھوکھلی اور جام ہوتی ہے ۔ جیسے کہ سڑتی ہوئی د لدل ،اور کتنے ایسے ہیں ،جو اپنے سروں کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر اٹھائے چلتے ہیں،لیکن ان کی روح گھنے اندھیروں میں پڑی سوتی رہتی ہے ۔
وہ کانپتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے اور پرندے کو کھڑکی کے اوپرایک تہ کئے ہوئے کپڑے پر رکھ آئے ۔تب انھوں نے کچھ سوکھی لکڑیاں انگیٹھی میں ڈال دیں ۔اور بولے ،’’اپنے جوتے اتار دو اور اپنے پیرسینک لو ،کیوں کہ بھیگے رہنا آدمی کی تندرستی کے لئے نقصاندہ ہے ۔تم اپنے کپڑے ٹھیک سے سوکھا لو اور آرام سے بیٹھو۔‘‘
یوسف صاحب کے اس مزاج اور میزبانی نے میری امیدوں کو جگا دیا ۔میں آگے مزید قریب کھسک گیا اور میرے بھیگے کرتے سے پانی بھاپ بن کر اڑنے لگا ۔جب وہ بھورے آسمان کو نہارتے ہوئے ڈیوڑھی پر کھڑے رہے میرا ذہن ان کے رازوں کی تلاش میں دوڑ رہا تھا ۔میں نے ایک انجان کی طرح ان سے پوچھا ،’’ کیا آپ بہت دنوں سے یہاں رہ رہے ہیں ؟‘‘
میری طرف دیکھے بنا ہی انھوں نے دھیمی آواز میں کہا ،’’ میں اس جگہ پر تب آیا تھا ،جب یہ زمین لطیف اور بے دھڑ تھی ۔جب اس کے رازوں پر اندھیرا چھایا ہوا تھا اور خداکی روح پانی کی سطح پر تیرتی تھی ۔‘‘
یہ سن کر میں حیران رہ گیا ۔غصہ اور بے ترتیب علم کو سمیٹنے کی کوشش کرتے ہوئے دل ہی دل میں میں بولا ،’’ کتنے عجیب انسان ہیں یہ اور کتنا مشکل ہے ان کی اصلیت کو پہنچ پانا !لیکن مجھے احتیاط کے ساتھ دھیرے دھیرے اور صبر رکھ کر تب تک چوٹ کرنی ہوگی ،جب تک ان کی خاموشی بات چیت میں نہ تبدیل ہوجائے اور ان کی انفرادیت سمجھ میں نہ آجائے !‘‘
رات اپنی اندھیری چادر ان گھاٹیوں پر پھیلا رہی تھی ۔متوالا طوفان چیخ رہا تھا اور بارش بڑھتی ہی جارہی تھی ۔میں سوچنے لگا کہ بائبل والی باڑھ چیتنیہ کو ختم کرنے اور خدا کی زمین پر سے انسانوں کی گندگی کو دھونے کے لئے پھر سے آرہی ہے ۔
ایسا محسوس ہونے لگا کہ ذروں کے انقلاب نے یوسف صاحب کے دل میں ایک ایسا سکون پیدا کیا ہے ،جو عموماً مزاج پر اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے اور اکیلے پن کو خوشیوں کا عکاس کر جاتی ہے ۔انھوں نے دو موم بتیاں سلگائیں اور تب میرے سامنے شراب کی ایک صراحی اور ایک بڑی طشتری میں روٹی مکھن ،زیتون کے پھل ،شہد اور کچھ سوکھے میوے لاکر رکھے ۔تب وہ میرے پاس بیٹھ گئے اور کھانے کی تھوڑی مقدار کے لئے ،اس کی سادگی کے لئے نہیں ،معافی مانگ کر،انھوں نے مجھ کو کھانے کا حکم دیا ۔
ہم اس سمجھی بوجھی خاموشی میں ہوا کے نوحہ اور بارش کے شور کو سنتے ہوئے ساتھ ساتھ کھانا کھانے لگے ساتھ ہی میں ان کے چہرے کو گھورتا رہا اور ان کے دل کے راز کرید کرید کر نکالنے کی کوشش کرتا رہا ۔ان کی غیر معمولی شخصیت کی ممکن وجوہات کو بھی سوچتا رہا ۔کھانا ختم کرکے انھوں نے انگیٹھی پر سے ایک پیتل کی کیتلی اٹھائی اور اس میں سے اصلی خوشبودار کافی دو پیالوں میں انڈیل دی ۔پھر انھوں نے ایک چھوٹاسا لکڑی کا بکس کھولااور ’بھائی‘ لفظ سے مخاطب کر، اس میں سے ایک سگریٹ تحفتہً دی ۔کافی پیتے ہوئے میں نے سگریٹ لے لی ، لیکن جو کچھ بھی میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں ،اس پر مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا ۔انھوں نے میری طرف مسکراتے ہوئے دیکھا او ر اپنی سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچ کر اور کافی کی ایک چسکی لے کر انھوں نے کہا ،’’ ضرور ہی تم شراب ،کافی اور سگریٹ یہاں پاکر سوچ میں پڑ گئے ہو اور میرے کھان پان عیش و آرام پر انھیں لوگوں میں سے ایک ہو ،جو ان باتوں میں بھروسہ رکھتے ہیں ، کہ لوگوں سے دور رہنے پر انسان زندگی سے بھی دور ہو جاتا ہے ۔اور ایسے انسان کو اس زندگی سے بھی دور رہنا چاہئے ۔‘‘
***