سراج اورنگ آبادی کی غزلیہ شاعری کے چند روشن پہلو :- محمد منہاج الدین

محمد منہاج الدین

سراج اورنگ آبادی کی
غزلیہ شاعری کے چند روشن پہلو

محمد منہاج الدین
ریسرچ اسکالر،
سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی، ناندیڑ

سراج ؔ کی ولادت باسعادت1128ھ مطابق1715ء میں اورنگ آباد میں ہوئی۔ سراج الدین نام ، سراج تخلص تھا ۔آپ ساداتِ حسینی تھے۔ آپ کی تعلیم و تربیت اور نگ آباد میں ہوئی۔ بارہ سال کی عمر تک بنیادی تعلیم حاصل کرلی۔ اس دران فارسی کے مشہور اساتذہ شعراء کا مطالعہ کیا ۔

سراج کی عمر جب بارہ سال کی ہوئی تواُن پر جذب و مستی کی کیفیت طاری ہوگئی۔ جب اضطراری کیفیت بڑھ جاتی توفارسی اشعا رزبان سے جاری ہوتے۔محمد عبدالجبار خان ملکاپوری نے سراج ؔ کی کیف و مستی اور بے خودی کی کیفیت کو خود سراجؔ کی بیان کردہ ہے اپنی تصنیف میں نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ فقیربار ہ برس کی عمر میں جوش جذبہ و غلبہ شوق سے سات برس تک برہانہ تن و برہانہ سررہا۔ اکثر اوقات عالم بے خودی میں حضرت شاہ برہان الدین غریب دولت آبادی کے روضے کے اطراف گھومتاتھا‘‘۔
سراج ؔ کی اس کیفیت سے اُن کے والدین فکر مندہوتے اور کبھی اُنہیں زنجیروں میں جکڑ کر بھی رکھاجاتا۔ جیسا کہ اقتباسِ بالا میں مذکور ہے کہ یہ حالت سراجؔ پر سات سال تک رہی۔ بعد ازاں سراجؔ کی زندگی میں تبدیلی رونما ہوئی اور ان کی شعر گوئی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اسی زمانے میں وہ بیعت سے بھی سرفراز ہوئے بقول ڈاکٹر صدیق محی الدین :
’’اسی زمانے میں حضرت شاہ عبدالرحمن چشتی سے اُن کی ملاقات ہوتی ہے۔ سراجؔ کی طبیعت پران کے روحانی فیضان کا غیر معمولی اثر ہوا، سراج ؔ کا متاثر ہونا، تعجب کی بات بھی نہیں کیونکہ سراج خود ابتداء ہی سے اسی راہ کے مسافر تھے اور اب انہیں ایک صحیح رہبرو رہنما بھی مل گیا تھا۔ سراج ؔ نے 1146ء ہجری یا 1147 ہجری میں شاہ عبدالرحمن سے بیعت کی اور انہیں اپنا روحانی مرشد و پیشوا قبول کیا‘‘۔
اپنے وقت کے محقق اور ادیب محمد عبدالجبار خان ملکاپوری نے سراج ؔ اورنگ آبا دی کے مزاج کے متعلق لکھتے ہیں:
’’جناب سراج صاحب سوز و گداز فقیر پاکباز، مقبول درگاہ بے نیاز مسافر دوست و غریب نواز تھے، مزاج میں تواضع و خاکساری اس درجہ تھی کہ ہر کس و ناکس کے سامنے جھک جاتے تھے‘‘۔
مذکورہ بالا اوصاف سراج کی شاعری میں بھی تلاش کئے جاسکتے ہیں۔ سراج ؔ کی شاعری باطنی حسن کے اسرار و رموز کا اظہاریہ معلوم ہوتی ہے ان کے رمز میں خود سپردگی اور سرشاری کی کیفیت پائی جاتی ہے۔سراج کے انہی اوصاف کی نشاندہی کرتے ہوئے اردو کے نامور محققِ عصر ڈاکٹر جمیل جالبی رقم طراز ہیں :
’’سراج کی شخصیت کی تعمیر میں جن عناصر نے حصہ لیاتھا، ان میں عالمِ جذب وکیف سے پیدا ہونے والی ’’محویت‘‘نے بنیادی رنگ بھراتھا ، عشق کے غلبے نے نشۂ بے خودی کو جنم دیاتھا،فارسی زبان و ادب کے گہرے شغف نے اظہار کے وسیلوں کوبہتر و موثر بنانے میں مدد دی تھی‘‘۔
سراج کا کلام صوفیانہ افکار و اذکار کا مرقع معلوم ہوتا ہے ۔ وہ خود بھی صاحب کمال صوفی تھے۔ جنہوں نے ذات لاشریک سے عشق کیا اور اپنی ہستی کو اس کی ذات میں میں غرق کیا ۔اس صوفیانہ ترسیل و ابلاغ کے لئے انہوں نے شاعری کو ذریعے بنایا۔ چنانچہ ان کا شہرہ ولیؔ کے جانشین کے طور پر ہونے لگا ۔ اردو کی شعری روایت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس کو آگے کی راہ بھی دکھلائی ۔ پروفیسر عبدالقادر سروری لکھتے ہیں:
’’سراجؔ کے زمانے تک اس میں شک نہیں کہ ولیؔ کی شاعری کے الفاظ، اسالیب استعاروں اور تلمیحوں میں تھوڑی سی تبدیلی یاوسعت پیدا ہوچکی تھی ، تاہم سراجؔ نے مجموعی طورپر غزل میں ولی ؔ کی روایات کو حتی الامکان قائم رکھا۔ اسی لئے ان تبدیلیوں اور سراجؔ کے ذاتی عنصر کو علیحدہ کرکے دیکھئے تو دونوں کی شاعری میں بہت کم بنیادی فرق نمایاں ہوگا‘‘۔
سراجؔ نے خود کہا ہے کہ:
تجہ مثل اے سراجؔ بعد ولی
کوئی صاحب سخن نہیں دیکھا
سراجؔ اورنگ آبادی ایک صوفی مشرب صاحب دل شاعر تھے لہذا ان کی شاعری بھی متصوفانہ رنگ و آہنگ سے متصف رہی۔ان کے یہاں عرفانِ خدا وندی اور دیدار خداوندی کے اشعار ملتے ہیں :
شریعت کے مذہب کی منزل دکھا
طریقت کے مشرب کی محفل دکھا
*
الٰہی مجھے محرم راز کر
خزانے حقیقت کے سب باز کر
*
تماشا دیکھا باغِ عرفان کا
کروں سیر وحدت کے میدان کا
*
حقیقت کے دریا میں غواص کر
اپس معرفت میں مجھے خاص کر
*
کہ شراب شوق سیں بے ہوش مجھ کوں یا حبیب
دے مجھے بھرکر پیالہ نشۂ عرفان کا
اپنے پیش روولیؔ کی طرح سراج اورنگ آبادی بھی نظریۂ ’’ وحدت الوجود ‘‘کے قائل تھے۔ مولانا احسن مارہروی کے بموجب سراج تمام مظاہر کو وحدت الوجود کی نظر سے دیکھتے تھے جس کا اظہار ان کے دیوان میں جابجا نظر آتا ہے:
نور جاں فانوس جسمی سے جدا کب ہے سراجؔ
شعلہء تارِ شمع سیں کہتا ہے من حبل الورید
*
نظر کر دیکھ ہر شئے مظہرِ نورِ الٰہی ہے
سراجؔ اب دیدۂ دل سیں صمد دیکھا صنم بھولا
سراج ؔ کی تمام تر حیات کیف و سرور اور کیفیتِ جذب سے دوچار تھی۔ وہ ہمیشہ بے خودی کی کیفیت میں رہتے۔ اور اسی ’’بے خودی‘‘کی کیفیت کا اظہار وہ اکثرکرتے ہیں۔ان کے یہاں صوفیانہ اوصاف اورصوفیانہ فکر و نظرمترشح ہوتے ہیں۔شعر ملاحظہ ہوں :
ہوا معلوم یوں مجھ کو ں کہ نقد ہوش کھوویگا
سراج ؔ اب بے خودی کے ملک کا سرحد ہواواقع
*
تاب نہیں ہم کلام ہونے کی
دیکھ کر تجھ کوں ہوش کھوتا ہوں
*
اے سراجؔ اپنی خودی کو بیخودی میں محوکر
شغل جاری رکھ ایک دم ہوالرحمن کا
*
مے خانۂ وحدت کا جو کوئی جام پیا ہے
آرام کے کوچے سے نکل کر بے خبر آیا
تصور عشق ہر شاعر کے یہاں مختلف انداز سے پایا جاتا ہے ۔عشق اردو شاعری میں اہم تصور ہے ۔ ناقدین نے عشق کوعمومی طور پر عشق حقیقی اور عشق مجازی کے خانے بنائے ہیں ۔ولی نے عشق حقیقی تک پہنچنے کے لیے مجازی عشق کو بھی ضروری خیال کیا ہے۔بہر حال سراج کے یہاں صوفیانہ عشق پایا جاتا ہے جسے ہم تصوف کی اصطلاح میں عشق حقیقی کہتے ہیں۔عشق کے مختلف کیفیات کا اظہار سراج کے یہاں ملاحظہ فرمائیں:
عشق میں اول فنا درکار ہے
دل سیں ترک ماسوا درکار ہے
*
معلوم ہوا عشق کے اطوار سیں یوں کر
مجھ عقل کی بنیاد کوں برباد کریگا
*
جب ہوا جل کر جگر سب کیمیا
نقدِ خالص عشق کا حاصل ہوا
*
نجانوں عشق کی بجلی کدھر سیں آئی ہے
کہ مجھ جگر کے کھلے کوں جلا تمام کیا
*
عیاں ہے سینۂ عاشق سیں عاشقی کا داغ
کہ جیوں کہ پردۂ فانوس سیں عیاں ہے چراغ
*
ہے تجلی نجش جب سیں پر تواسرار عشق
تب سیں دل میرا ہوا ہے مطلع انوارِ عشق
*
لیلئی گل چہرہ مقصود کوں پایا ہے وہ
جو ہوا ہے مثل مجنوں بلبل گل زارِ عشق
ولی کی طرح سراج نے بھی ’’حقیقی عشق ‘‘کے حصول کیلئے ’’عشقِ مجازی‘‘ کو لازمی قرار دیا ہے اور جس کسی کو عشق حاصل ہوجائے اس پر کائنات کے راز کھل جاتے ہیں۔جب عاشق باطنی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے یہاں تمام تفریقات مٹ جاتے ہیں۔بہر حال ان کے کلام میں عشق کے مختلف مدارج کا اظہار ملتا ہے اور تصوف کے دو نظریے یعنی وجود و شہود کی منزلیں ان کے کلام میں موجود ہیں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ تمام کائنات عکسِ رخ جاناں ہے۔ لہٰذا اسی عکس میں مشاہدۂ حق کی گفتگو ممکن ہے:
ہرگز نہیں ہے اس کوں حقیقت کی چاشنی
جس نے مزہ چکھا نہیں عشق مجاز کا
*
گر حقیقت کی سیر ہے خواہش راہ
عشق مجاز لازم ہے
*
روشن ہے سبب عشق کے کیفیت عالم
آئینہ دل ساغر جمشید ہوا ہے
*
سراجؔ یہ مجھے استاد مہرباں نے کہا
کہ علم عشق میں بہتر نہیں ہے کوئی علوم
*
مشربِ عشق میں ہے شیخ و برہمن یکساں
رشتہ مسبحہ زنار کوں کوئی کیاجانے
*
کفر و ایماں دوندی ہیں عشق کیں
آخرش دونوں کا سنگم ہوے گا
*
جلوہ گر ہے ہر طرف عکسِ رخ جاناں سراج
مجھ نظر میں آرسی ہے ہر در و دیوار آج
*
سراج ؔ اورنگ آبادی کی شاعری میں مختلف النوع صوفیانہ رنگ ہے۔ ان کی متصوفانہ شاعری میں عشقیہ اور غنائی شاعری کے عمدہ نمونے ملتے ہیں اور سراج اردو کے اولین صوفی شاعر قرار دئے جاسکتے ہیں جن کی شاعری میں صوفیانہ رنگ اور فنی اظہار کی پوری آمیزش موجود ہے۔ عبدالقادر سروری نے سچ ہی کہا ہے کہ
’’سراج ؔ کے کلام میں ولی ؔ سے بھی زیادہ متصوفانہ رجحان کا رمز ہے۔ ولیؔ کی زندگی کا بڑاحصہ صوفیوں کی صحبت میں گذراتھا، لیکن سراج ؔ کی یہ عین زندگی تھی اور اسی پر ان کی شعوری زندگی کی ابتداء اور انتہا ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی شاعری متصوفانہ رنگ میں ایک امتیاز رکھتی ہے‘‘۔
غرض سراج کے یہاں تصوف کے مختلف موضوعات ملتے ہیں جس کا اظہار ان کے یہاں بہر حال پایا جاتا ہے۔سراج ؔ نے تادمِ آخر سادگی و فقیری کی زندگی اختیار کرتے ہوئے4؍ شوال1177ھ کو جمعہ کے دن اس جہاں فانی سے رخصت ہوئے۔*
——-
Md. Minhaj Uddin
Research Scholar
Swami Ramanand Teerath University
Nanded – MS