پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی خاکہ نگاری :- ڈاکٹر امجد علی بیگ

پروفیسر سلیمان اطہر جاوید

پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی خاکہ نگاری
چہرہ چہرہ داستان کے حوالے سے

ڈاکٹر امجد علی بیگ
کالج آف لینگویجس ‘ملے پلی’ حیدرآباد

جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے
15 اگسٹ2018ء کا دن ساری دنیا ہندوستان کا جشن آزادی منارہی تھی۔ دوپہر 12.00بجے سوشیل میڈیا کے ذریعے یہ افسوسناک خبر آئی کے دکن کے نامور محقق۔نقاد۔ادیب۔شاعر۔خاکہ نگار۔ انشاء پرداز اور اپنی ذات میں انجمن پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نہیں رہے۔

دنیا کی بزم سے آئے دن باکمال لوگ پردہ نشین ہوتے جارہے ہیں۔ پروفیسر مغنی تبسم کے بعد حیدرآباد اور جنوبی ہند میں تحقیق و تنقید کے حوالے سے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ایک بڑا نام تھا۔ جنہوں نے اپنی ساری عمر قلم کی پرورش کرنے میں گزاری۔ تروپتی جیسی اردو کے لیے سنگلاخ زمین پر ملازمت کے ایام گزارے۔ اور ایس وی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو اس لائق بنایا کہ وہاں سے اردو کے اچھے اسکالر فارغ ہورہے ہیں وہیں کے ایک سپوت اور جاوید صاحب کے شاگرد پروفیسر مظفر شہ میری ان دنوں عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول میں وائس چانسلر ہیں۔پروفیسر سلیمان اطہر جاوید صاحب کی جدائی بے شک اردو زبان و ادب کے لیے بڑا نقصان ہے لیکن میرے لیے شخصی نقصان ہے کہ میں نے اورینٹل کالج حیدرآباد سے ان کی حیات اور خدمات پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا تھا جس پرعثمانیہ یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی۔ دوران تحقیق پروفیسر صاحب سے کئی مرتبہ ملاقاتیں رہیں اور مجھے ان کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔ بڑے ہی ہمدرد اور اردو کے زود نویس قلمکار تھے۔ انہوں نے بیس سے ذائد کتابیں لکھیں۔
خاکہ نگاری بھی ان کا محبوب میدان تھا جس میں ان کی دو تصانیف ’’ چہرہ چہرہ داستان‘‘ اور ’’ بزم چراغاں ‘‘ شامل تھیں۔ ان کی خاکہ نگاری کا اہم وصف دکن کی شخصیتوں کا تعارف اور دکن کی تہذیب کا تحفظ تھا۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرنے ان کی خاکہ نگاری کا ایک اجمالی جائزہ پیش ہے۔
جہاں تک خاکہ نگاری کی تعریف کا سوال ہے خاکے کی تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ خاکہ نگاری لفظوں کے ذریعہ کسی شخصیت کی ایسی تصویر کشی ہے جس سے اس کا ظاہر اور باطن قاری کے سامنے پیش ہوجائے اور مذکورہ شخصیت کا خاطر خواہ تعارف ہوجائے۔ خاکہ نگاری میں خاکہ نگار کا اسلوب بھی ایک خاکے کو دلچسپ بنانے میں معاون ہوتا ہے۔ خاکہ نگاری کا مقصد ہی شخصیات کا تعارف ہے اور یہ شخصیات زندگی کے کسی بھی خاص و عام شعبے سے ہوسکتی ہیں۔
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے خاکوں و مرقعوں کا پہلا مجموعہ ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘ کے عنوان سے جون ۱۹۷۷ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکا ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے تحریر کردہ جملہ گیارہ(۱۱) خاکے و مرقعے ہیں۔ جن کے نام اس طرح ہیں۔ (۱) ایک تہذیب ایک موت‘ (۲) جامعہ عثمانیہ مرحوم‘(۳) زور صاحب‘(۴) سروری صاحب‘(۵) مولاناؒ ‘ (۶) غروب آفتاب‘(۷) ….جنگل اداس‘ (۸) اناللہ و انا الہ راجعون‘(۹) رفعت صاحب‘ (۱۰) یونس صاحب‘ (۱۱) دلداری عروس سخن۔
مرقعوں اور خاکوں کا مجموعہ ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘ کا پہلا خاکہ ’’ایک تہذیب کی موت! (آصف سابعؒ )‘‘ ہے۔ پروفیسرسلیمان اطہر جاوید نے یہ خاکہ آصف جاہی عہد کے آخری فرمان روا نواب میر عثمان علی خان بہادر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے لکھا ہے۔ اس خاکہ میں حیدرآباد اور حیدرآبادی تہذیب کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیاگیاہے۔ حیدرآباد کی یادگاروں کے ذریعہ انہیں حیدرآباد کی پہچان قراردیتے ہوئے انہوں نے بالراست طورپر ان یادگاروں کے خالق آخری فرمان روائے حیدرآباد آصف سابع کی عظمت کااظہار کیا ہے۔ حیدرآباد اور اس کی پہچان قراردئیے جانے والی یادگاروں کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید لکھتے ہیں:
’’حیدرآباد میرے نزدیک ایک استعارہ ہے۔ ایک علامت ہے ایک اشارہ ہے۔ حیدرآباد میرے نزدیک چارمینار کا نام بھی ہوسکتا ہے جو سالہا سال سے سربلند و سرفراز‘ قطب شاہوں کی عظمت و شکوہ کی شہادت دیتاہے۔ حیدرآباد کو رودموسی بھی سمجھتا ہوں جو ہردم رواں دواں ہے اور آج بھی مختلف حکمرانوں کے عروج و زوال کی داستانیں اپنی مثل آئینہ سطح آب پر منعکس کرتی ہیں۔ حیدرآباد میرے خیال میں کتب خانہ آصفیہ بھی ہے۔ جہاں علم و ادب کے قارون کا خزانہ محفوظ ہے۔ جہاں آگہی آج بھی تسکیں جاں پاتی ہے۔ حیدرآباد میرے لئے جامعہ عثمانیہ بھی ہے جو کئی نسلوں کی خالق ہے رنگ و روشنی کا سرچشمہ ہے۔ آج نہ صرف حیدرآباد بلکہ ہندوستان بھر میں علم کی جتنی روشنی ہے وہ کسی نہ کسی طرح اور کچھ نہ کچھ اسی جامعہ کی شمع فروزاں کی مرہون منت ہے اور ان سب سے بڑھ کر حیدرآباد ایک گنگاجمنی تہذیب کا نام ہے جو بڑی دلنوازاوردلداہ ہے۔ اپنا ایک وزن وقار اور حجم رکھتی ہے۔ حیدرآباد میرے نزدیک حضور نظام آصف سابعؒ کا نام بھی ہے میں حیدرآباد اور حضورنظام کو ایک دوسرے سے جدا قرار نہیں دے سکتا‘‘۔۱؂
اس طرح حیدرآباد اور اس کی یادگاروں کا تعلق آصف سابع سے جوڑتے ہوئے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے کہاکہ اگر آصف سابع نہ ہوں تو حیدرآباد بھی ادھورا ہے۔ خاکہ میں آگے انہوں نے لکھا کہ بیرون ملک لوگوں میں آصف سابع سے متعلق چند غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ لیکن حیدرآبادی لوگ جب ان کے کارنامے بیان کرتے ہیں تو لوگ ان کی شخصیت پر تعجب کرتے ہیں۔ خاکہ لکھنے سے ۱۹ سال قبل آصف سابع کی حکومت کو زوال ہوتا ہے اور خاکہ نگار ان ۱۹سالوں میں ہونے والے زمانے کے اونچ نیچ پر افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمانہ میں کیسے کیسے انقلابات آتے ہیں اور ایک فرماں رواکا عہد لوگوں کے ذہنوں سے مٹتا جاتا ہے۔ ۲۴؍فروری کو آصف سابع کی رحلت کے حادثے سے مضمون نگار سنبھل نہیں پاتے ہیں۔ چنانچہ انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’کسی کی عظمت و مقبولیت کا اندازہ‘ اس کے عروج و اقبال کے دور میں اس کی زندگی میں نہیں‘ اس کے عہد زوال میں‘ اس کی موت کے بعد کیا جاسکتاہے۔ جن آنکھوں نے آصف سابع کو اس جہاں فانی سے وداع ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ وہ ان کے مقام و مرتبہ کا صحیح اندازہ لگاسکتے ہیں۔ یہ منصب جلیل دنیا کی بہت کم شخصیات کے حصہ میں آیا ہے‘‘۔۲؂
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے اس خاکے میں آگے آصف سابع کی فلاحی خدمات بیان کی ہیں اور ایک اعتدال پسند رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ شخصی حکومت میں جو خامیاں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں ان میں سے چند ایک جھلکیاں آصف سابع کے دور حکومت میں بھی پائی گئی ہیں لیکن ان کی فلاحی خدمات ان کی خامیوں کی پردہ پوشی کرتی ہیں۔ ان خدمات کو خراج پیش کرنے کے بعد ذوقؔ کا یہ شعر پیش کرتے ہوئے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید یوں رقم طراز ہیں:
نام منظورہے تو فیض کے اسباب بنا
پل بنا چاہ بنا دریا و تالاب بنا
’’آصف سابع نے اس سے زیادہ فیض کے اسباب بنائے‘ عثمان ساگر‘ حسین ساگر‘ نظام ساگر‘ دواخانہ عثمانیہ‘ آرتھوپیڈک دواخانہ‘ شفاخانہ نظامیہ‘ جامعہ عثمانیہ‘ کتب خانہ آصفیہ‘ عدالت العالیہ‘ جوبلی ہال‘ معتمدین کی عمارت‘ ریاست بھر میں سمنٹ کی سڑکوں کا جال‘ مکڑی کے جال کی طرح بچھی ہوئی ریلوے لائن‘ گلی گلی کوچے کوچے میں برقی و آب کی سربراہی‘ اپنے وقت کا ترقی یافتہ نظم و نسق‘ تعلیم کی فیاضانہ اشاعت‘ غرض کیا بیان کروں اور کیا نہیں کہ سفینہ چاہئے بحر بیکراں کیلئے‘‘۔ ۳؂
آصف سابع کی فلاحی خدمات کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے ان کے اہم کارناموں جامعہ عثمانیہ کے قیام کو خراج تحسین پیش کیاہے۔ خاکہ نگار نے خود جامعہ عثمانیہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔ چنانچہ اردو ذریعہ تعلیم کی اس جامعہ کے قیام کو ہندوستان میں اردو کی ترقی کا واحد ذریعہ قراردیتے ہوئے اس کارنامے کا سہرا انہوں نے آصف سابع کے سرباندھا ہے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے لکھا کہ ان کی آصف سابع سے تو ملاقات نہیں ہوئی بلکہ ان کے جانشین آصف ثامن سے ملاقات ہوئی۔ البتہ جامع عثمانیہ میں قدم رکھنے سے آصف سابع کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے بیان میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید بڑے جذباتی ہوجاتے ہیں وہ لکھتے ہیں:
’’میں جامعہ عثمانیہ کی پرشکوہ اور باعظمت عمارت میں وہی جمال و جلال پاتا ہوں جو اپنی رعیت سے اپنی اولاد کی طرح محبت کرنے والے حکمران میں ملتا ہے۔ میں جامعہ کی عمارت کو حضور نظام کی اردو نوازی کا نقطہ عروج اور اردو دوستی کا پیکر کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ میں نے کتنی بار اس عمارت کو دیکھا ہے بتا نہیں سکتا۔ آج بھی جب اس پر تقدس عمارت کو دیکھتا ہوں تو میرا سر احتراماً جھک جاتاہے۔ میں آنکھیں نیچے کرلیتا ہوں… مجھے اس عمارت سے آصف سابع کا پیکر ابھرتا محسوس ہوتاہے‘‘۔ ۴؂
جامعہ عثمانیہ کو ان بھرپور الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے لکھا کہ آصف سابع کی قائم کردہ دیگر یادگاروں کو دیکھنے سے بھی انہیں ایسامحسوس ہوتا ہے جیسے آصف سابع ان سے ملاقات کررہے ہوں۔ محرم کے موقع پر بی کے علم کو ڈھٹی چڑھانے آصف سابع کی روایتی آمد کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے آصف سابع کے خیالی پیکر کو پیش کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
’’محرم کی ساتویں تاریخ ہے۔ حضور نظام پنچ بھائی کے الاوہ کو جارہے ہیں میں اپنے بھائی بہنوں اور دوستوں کے ساتھ اپنے باپ کی انگلی تھامے پل قدیم کے قریب ایک دکان پر بیٹھا ہوں۔ دیکھو سرکار جارہے ہیں۔ سرکار یہ ہیں….. یہیں وہ ہیں۔ ایک ساتھ آوازیں آنے لگتی ہیں اور میں دیکھتا ہوں ایک دبلا پتلا منحنی ساشخص‘ ترکی ٹوپی اور شیروانی ملبوس موٹر میں بیٹھا ہے اس کی ایک جھلک دیکھ پانے سے ہم سب کو کتنی خوشی ہوتی ہے۔ کتنی مسرت۔ جس کا کوئی حساب نہیں‘‘۔۵؂
آصف سابع کی پیکر تراشی کے بعد ان کی رحلت کو انہوں نے ایک تہذیب کی موت قراردیتے ہوئے اس خاکہ کا اختتام کیا ہے اور جامعہ عثمانیہ کے عالمگیر شہرت یافتہ مونوگرام ’’ع‘‘ سے آصف سابع کی یاد ہمیشہ باقی رہنے کی حقیقیت کا اظہار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جب میں بھی اپنے بی۔اے اور ایم۔اے کی اسنادات کو دیکھتا ہوں تو جامعہ کے مونوگرام میں موجود’’ع‘‘ میں مجھے آصف سابع کا چہرہ جھانکتا دکھائی دیتا ہے۔ جیسے کہتا ہو’’انسان کا جسم فنا ہوسکتاہے‘‘اس کے کارنامے نہیں۔ عثمان علی خان کو موت اپنے آغوش میں لے سکتی ہے۔ لیکن عثمان علی خان کے کارنامے نہیں مرسکتے۔ تاریخ کے صفحات پر یہ ساری یادگاریں رہتی دنیا تک محفوظ رہیں گی اور اپنے مالک کا نام باقی رکھیں گی۔ یہ جامعہ عثمانیہ یا عثمانیہ دواخانہ‘ یہ کتب خانہ آصفیہ یہ…یہ…لیکن اس تہذیب کی بازیافت ممکن نہیں جو آصف سابع کے دم سے ان کے وجود سے شادوشاد ماں اور آباد تھی۔ آج ایک تہذیب مرچکی ہے۔ آصف سابع کی موت ایک تہذیب کی موت ہے۔‘‘۶؂
آصف سابع اور حیدرآبادی تہذیب کے بارے میں ان خیالات کے ساتھ ہی یہ خاکہ اختتام کو پہنچتا ہے۔ خاکہ کے اختتام پر اس کا سنہ تنصیف۱۱؍اپریل۱۹۶۷ء لکھا ہوا ہے۔ ایک تہذیب کی موت ’’آصف سابعؒ ‘‘ اس خاکہ پر مجموعی نظر ڈالنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک تاثراتی نوعیت کا مرقع ہے۔ اس میں آصف سابع کی شخصیت سے زیادہ حیدرآباد کیلئے ان کے فلاحی کارناموں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا ہے اور آصف سابع نے جن یادگاروں کو چھوڑا ہے وہ اب حیدرآباد تہذیب کی پہچان ہیں۔ چنانچہ مضمون نگار آصف سابع کی رحلت پر جذباتی ہوجاتے ہیں۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے دیگر قدیم حیدرآبادیوں کی طرح آصف جاہی حکومت کا خاتمہ پولیس ایکشن ریاست حیدرآباد کے انڈین یونین میں انضمام جامعہ عثمانیہ کے ذریعہ تعلیم کی اردو سے دیگر زبانوں میں تبدیلی جیسے اہم واقعات کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اس عہد کی ان تلخیوں کو جھیلا ہے اور اب ان کڑوی حقیقتوں کی یادوں کا بوجھ سہاررہے ہیں۔ ایسے میں آصف سابعؒ سے ان کا گہرا لگاؤ اور عقیدت اوران کی رحلت پر ان کی یادگاروں کے حوالے سے انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ایک فطری امر ہے۔بہ حیثیت مسلمان اور حیدرآبادی شہر ی ہونے کے ناطے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے حیدرآباد کی قدیم اور جدید تہذیب کا قریب سے مشاہد ہ کیا ہے۔اور موجودہ دور کے سیاست دانوں کی نا اہلی اور رعایا کی تکالیف کو دور کرنے میں ان سیاست دانوں کی عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے انہیں آصف سابع کا دور ہی سنہرا دور لگتا ہے۔ اور وہ اس خاکے کے ذریعے موجودہ دور کے حکمرانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک ایسے زمانے میں جب کہ وسائل کی کمی تھی۔ حکمرانوں نے اخلاص نیت کے ساتھ رعایا کی خدمت کی عظی مثالیں پیش کی ہیں۔ اگر موجودہ دور کے حکمران نظام کے کارناموں سے سبق لیں۔ یا ان کی چھوڑی ہوئی یادگاروں عثمانیہ یونیورسٹی‘عثمانیہ دواخانہ اور دیگر سہولتوں کو ترقی دیں تو رعایا کی بڑی خدمت ہو سکتی ہے۔اس طرح یہ خاکہ حیدرآباد کے ایک عظیم حکمران کی یاد دلاتا ہے۔ اس کے باوجود ایک غیر جانبدار انسان کی طرح پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے آصف سابع کی شخصیت اور ان کی حکمرانی پر ہلکی سی تنقید اور نکتہ چینی بھی کی ہے اور جہاں ان کی فلاحی خدمات کی قصیدہ خوانی کی ہے وہیں انہیں ایک مطلق العنان حکمران بھی لکھا ہے اور شخصی حکومت میں پائی جانے والی خامیوں کا اعتراف بھی کیا ہے اس طرح ممدوح کے بیان میں توازن اختیار کرتے ہوئے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے اس خاکہ میں غیر جانبداری کااظہار کیا ہے۔ یہی بات ایک خاکے کو نثری قصیدہ بنانے سے بچاتی ہے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی خاکہ نگاری کی یہی صفت انہیں ایک کامیاب خاکہ نگار بناتی ہے۔
’چہرہ چہرہ داستان ‘‘ کے خاکوں میں شامل دیگر شخصتیں نامور شعراء و ادیب اور سربراہ مملکت ہیں۔ مولانا صاحب اور رفعت صاحب دو خاکے ایسے ہیں جن میں بیان کردہ شخصیات عام قاری کیلئے نامانوس ہیں اس کے علاوہ آصف سابع‘ رشید احمد صدیقی‘ ڈاکٹر زور‘ ڈاکٹرعبدالقادر سروری‘ فیض احمد فیض وغیرہ تمام معروف شخصیات ہیں۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے جن شخصیات کا انتخاب کیا ان کا خاص پہلو یہ ہے کہ ان کا کسی نہ کسی انداز میں خاکہ نگار سے تعلق اور ربط رہا ہے۔ چند ایک ملاقاتوں پر مبنی معلومات کو استعمال میں لاتے ہوئے بھی انہوں نے خاکے لکھے۔ رشید احمد صدیقی‘ عبدالماجد دریابادی‘ ڈاکٹر زورؔ ‘ سروری صاحب وغیرہ ایسی شخصیات ہیں جن سے زمانہ طالب علمی میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کا خاص ربط رہا اور اس ربط کو یادگار بنانے اور اپنے اساتذہ اور بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے انہوں نے یہ خاکے لکھے۔ جامعہ عثمانیہ کا خاکہ اس لئے اہم ہے کہ انہوں نے جامعہ عثمانیہ کو ایک شخصیت کا روپ دے کر اس کے بدلے ہوئے کردار پر اپنی رائے پیش کی ہے۔ مولوی عبدالحق کے بیان کے مطابق پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے آس پاس اونچے طبقہ کے علاوہ نچلے طبقہ میں بھی ایسی شخصیات نظر آسکتی ہیں جن پر اچھے خاکے لکھے جاسکتے ہیں۔ اگر وہ اپنی خاکہ نگاری کا سفر جاری رکھیں تو ان سے موضوعات میں تنوع کی امید کی جاسکتی ہے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے بیشتر شخصیات پر خاکے ان کی وفات کے بعد لکھے اور اکثرخاکوں میں یہ احساس دلایا کہ ان شخصیات کے گذر جانے سے عظیم نقصان ہوا ہے اور خود بھی ان خاکوں میں اظہار افسوس کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طرح خاکوں میں انہوں نے جابجا اپنی موجو دگی کو ظاہر کیاہے۔ زورؔ صاحب کے خاکے میں وہ اپنی موجودگی کو ظاہر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’میں چادرگھاٹ کالج میں انٹرمیڈیٹ کے دوسرے سال کا طالب علم تھا۔ ۱۳؍اگست۱۹۵۳ء کی بات ہے کالج کے شناختی کارڈ پر مجھ کو پرنسپل صاحب کے دستخط لینے تھے۔ زورؔ صاحب پرنسپل تھے۔ میں ان کے اجلاس میں جاپہنچا۔ انہوں نے شناختی کارڈ پر دستخط کردئیے۔ اس وقت اتفاق سے آٹو گراف بک بھی میرے پاس تھی۔ میں نے زور صاحب کے آگے بڑھادی۔ انہوں نے میری اس حرکت پر مجھے کچھ اس طرح دیکھا کہ میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ زورؔ صاحب نے بغیر کچھ کہے آٹو گراف بک پر لکھ دیا۔ ’’ہمیشہ مسکراتے رہو‘‘۔۷؂
اس طرح اپنے وقت کے نائب صدرجمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین سے ملاقات کے وقت اپنی موجودگی کو یوں نمایاں کیا ہے:
’’ذاکر صاحب نے مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے دریافت کیا کہیے اچھے ہیں؟ آپ کا مقالہ ختم نہیں ہوا۔ ذاکر صاحب کے ان الفاظ نے مجھ میں ایک عجیب امنگ اور حوصلہ پیداکردیا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ذاکر صاحب نے مجھ کو فراموش نہیں کیاہے۔ میں نے انہیں رشید صاحب کی سوانح کا باب پیش کیا۔ چند لمحوں کیلئے انہوں نے ادھر ادھر سے اس کو دیکھا۔ اظہار پسندیدگی کیا اور پھر میرے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں اپنے عزیز سے مدت کے بعد مل رہا اور وہ میرے حالات دریافت کررہاہے۔‘‘۸؂
مندرجہ بالا اقتباسات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان خاکوں میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے اپنی شخصیت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے اصل شخصیت سے کبھی کبھار خاکہ نگار کی شخصیت زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ ذاکر صاحب تو ساری دنیا کیلئے جانی پہچانی شخصیت ہے لیکن اگر کوئی ان سے دو تین مرتبہ ملاقات کرتاہے اور ذاکرصاحب اسے یاد بھی رکھتے ہیں تویہ اس شخصیت کی بڑائی کا باعث ہوگی۔ اس طرح ان خاکوں میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے دانستہ یا نا دانستہ طورپر اپنی شخصیت‘ اپنے کارناموں اور نامور شخصیتوں سے اپنے روابط کو ظاہر کیا ہے جو ان خاکوں کی ایک خامی بھی تصور کی جاسکتی ہے۔ محترمہ عابدہ خاتون نے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی اس عادت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی مرقع نگاری کے ان اوصاف سے قطع نظر کہیں کہیں ایسا لگتا ہے جیسے ممدوح کے بجائے مرقع نگار کی شخصیت نمایاں ہورہی ہے۔‘‘۔
تاہم انہوں نے یہ کہہ کر خاکہ نگار کی اس عادت کی تائید کی کہ :
’’مرقع نگار کی صاحب مرقع کے ساتھ جس قدر دلی وابستگی ہوگی اسی قدر مرقع کامیاب ہوگا۔ کیونکہ ایسے حالات جو عام طورپر دستیاب نہیں ہوتے مرقع نگار اپنے نجی تعلقات کی وجہہ سے حاصل کرلیتاہے۔‘‘۹؂
عابد ہ خاتون نے مواد کے سلسلے میں صاحب مرقع کے ساتھ جس وابستگی کا ذکر کیا ہے اس وابستگی کے بغیر بھی بہت سے دیگر ذرائع سے خاطر خواہ معلومات شخصیت کے بارے میں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ خاکہ نگار کیلئے ضروری ہے کہ اس میں فنی مہارت ہو اور حاصل شدہ مواد کو اس طرح ترتیب دینے کی صلاحیت ہوکہ اس کی تخلیق فن کی کسوٹی پر پوری اترے اور ماہرین ادب اورقارئین کے نزدیک قبولیت کا درجہ رکھتی ہو۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ایک نامور محقق و نقاد کے علاوہ ایک اچھے نثر نگار بھی ہیں۔ ان کی تنقیدی تحریریں آئے دن روزناموں و رسائل کی زینت بنتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے جو خاکے لکھے ہیں ان میں فنی لوازم چند ایک خامیوں کو چھوڑ کر اور اسلوب نگارش بہت حدتک پختگی کا حامل ہے۔
خاکہ نگاری کیلئے موضوع سے متعلق شخصیت کے انتخاب اور فنی مہارت رکھنے کے بعد سب سے اہم مرحلہ خاکے کا مواد ہوتاہے۔ ایک اچھے خاکے کے ذریعہ ایک شخصیت کا بھرپور تعارف مطلوب ہوتاہے۔ اس کیلئے شخصیت کے حالات زندگی ‘ اہم واقعات‘ کارنامے‘ سیرت و صورت‘ گفتار و کردار‘ پسندناپسند و اطوار اس کے دوست احباب وغیرہ سے واقفیت ضروری ہوتی ہے۔ اگر شخصیت باحیات ہوتو اس سے راست انٹرویو لے کر اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ فیض احمد فیضؔ کے خاکہ میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے انٹرویو کے انداز میں فیضؔ کے ادبی رجحانا ت اور ادب و زندگی کے بارے میں ان کے خیالات معلوم کرتے ہوئے ان کی شخصیت کی صورت گری کی کوشش کی ہے۔ تاہم انہوں نے فیض یاد یگر شخصیات کے شخصی حالات کی تفصیلات اطمینان بخش انداز میں بہم نہیں پہنچائی ہیں۔ حالانکہ وہ شخصیت کے افراد خانہ دوست احباب‘ شخصیت کے لکھے ہوئے خطوط‘ ہم عصر شخصیتوں کے خطوط اور تحریروں سے بھی خاکہ کے لئے کارآمد مواد حاصل کرسکتے تھے۔ لیکن انہوں نے شخصیا ت سے اپنی ملاقاتوں اور ان کے ساتھ گزرے وقت کی ہی بنیاد پر خاکے لکھنے کی کوشش کی اور زیادہ معلومات بہم پہونچانے میں اپنی معذوری کا بھی اظہار کیا ہے۔ یونس دہلوی کے خاکے میں وہ لکھتے ہیں:
’’میرے لئے ممکن نہیں کہ ان کی شخصیت کے ہر ہر پہلو کو صفحہ قرطاس پر رقم کردوں تاہم میں نے محدود ملاقاتوں میں ان کی شخصیت کا ممکنہ حدتک لامحدود مطالعہ کرنے کی سعی کی ہے۔ اس سعی میں میں کہاں تک کامیاب ہوسکا اس کا اندازہ اوروں سے زیادہ خود یونس صاحب ہی کرسکیں گے۔‘‘۱۰؂
خاکوں میں شخصیت سے متعلق تفصیلات کے بیان میں معذوری کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کے تحریر کردہ بہت سے خاکے اپنے مخصوص انداز بیان اور جذبات نگاری کی وجہہ سے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے ان خاکوں کا مواد زیادہ تر شخصیت سے براہ راست ملاقات کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ بیشتر شخصیتیں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے استادہ رہ چکی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ان شخصیتوں سے اپنے تعلقات کے احوال کو خاکوں کے مواد کے طورپر استعمال کیا ہے اور اپنے مخصوص اسلوب اور انداز بیان سے ان خاکوں میں ادبی جان و ادبی شان لانے کی کوشش کی ہے۔
خاکہ نگاری میں کامیابی کیلئے ایک اور ضروری بات خاکوں کا اسلوب ہے۔ دیگر اصناف ادب کی طرح خاکہ نگاری کے اظہار کا ذریعہ بھی زبان ہوتی ہے۔ خاکہ میں چونکہ شخصیت کا تعارف ہوتاہے لہذا اس کا اسلوب بیانیہ ہونا چاہئے۔ بیان کی صناعی کے ذریعہ ہی خاکہ نگار کسی شخصیت کے معائب و محاسن قوتوں اور کمزوریوں اور اس کی خدمات کو پیش کرسکتاہے۔ اچھے خاکے میں اسلوب کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے صابرہ سعید لکھتی ہیں:
’’خاکہ نویس خاکے کی ابتداء سے اس کے اختتام تک کسی جگہ‘ حسن بیان کے رشتے کو ہاتھ سے جانے نہ دے‘ اگر اس سے ذرا سی چوک ہوجائے تو تاثر میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور خاکے میں انتشار پیدا ہوجانے کا امکان رہتاہے۔ دراصل انداز پیشکش ہی خاکے کی اہم خصوصیت ہے۔ انتخاب ترتیب و تشکیل کی صلاحیت سے اگر کوئی فن کاربہرہ ور نہیں تو وہ مواد کو ٹھیک طرح سے سمیٹ سکتاہے اور نہ موضوع کی بہتر عکاسی ہی میں کامیاب ہوسکتاہے۔ مبہم انداز اور بے تکی صاف گوئی بھی اثر کو بگاڑسکتی ہے۔ اس لئے اس سے اجتناب ضروری ہے اگر خاکہ نویس کیمرے کی آنکھوں سے دیکھنے اور مصور کے موقلم سے لکھنے کے فن سے ناواقف ہے تو اس کی تحریر موضوع کے مزار کا کتبہ تو بن سکتی ہے اس کی زندگی کا آئینہ نہیں اور اگر موضوع اور بیان دونوں دلکش ہوں تو خاکہ نگاری خوب ہوتی ہے۔‘‘۱۱؂
خاکہ نگاری میں بیانیہ اسلوب کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہیں کہ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے خاکوں کے اسلوب کو دیکھا جائے تو ان خاکوں میں بھی جابجا بیانہ اسلوب دکھائی دے گا۔ تاہم بیانیہ اسلوب کے ساتھ جذبات نگاری اور اشعار وغیرہ کے استعمال کے ذریعہ ادبی چاشنی پیدا کی گئی ہے۔ شخصیت کے حالات بیان کرنے میں بیانیہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں کے ذریعہ انہوں نے شخصیت کے احوال بیان کئے ہیں۔ زورؔ صاحب کے خاکے میں ان کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’زورصاحب ۸؍رمضان ۱۳۲۳ھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ۱۹۲۵ء میں بی اے اور ۱۹۷۲ء میں ایم اے کیا۔ اگست۱۹۴۷ء میں حکومت کے وظیفہ پر یوروپ گئے۔ ’’جہاں آریائی زبانوں کا تقابلی مطالبہ‘‘ کے موضوع پر انہوں نے لندن یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۳۱ء میں وہ یوروپ سے واپس ہوئے اور جامعہ عثمانیہ میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے اور بعد میں صدر شعبہ ۱۹۶۰ء تک وہ حیدرآباد میں رہے۔ یہاں چادرگھاٹ کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے سبکدوش ہونے پر حکومت جموں و کشمیر نے انہیں صدر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی مقررکیا۔‘‘۱۲؂
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے بیشتر خاکوں میں شخصیتوں کے انتقال کی خبر کو بنیاد بناکر اپنے مخصوص اسلوب سے حزن و یاس کی کیفیت پیدا کی ہے اور اپنے غم کو کائنات کا غم بناکر پیش کیا ہے۔ زورؔ صاحب کے انتقال پر اپنے جذبات کااظہار اس طرح کرتے ہیں:
’’زورؔ صاحب چل بسے۔ نہیں! ایک تحریک چل بسی۔ ایک ادارہ چل بسابلکہ ایک عہد چل بسا۔ کسی نے اردو زبان کو لوٹ لیا۔ حیدرآباد کی ادبی تاریخ کا ایک باب ختم ہوگیا۔ دکن کا ایک متوالا۔ ایک عاشق زور چلاگیا۔ آہ یہ کیا ہوگا۔ یہ کیوں ہوگیا۔ کیوں ہوگیا!! آہ….وہ حیدرآباد میں پیدا ہوئے اور کشمیر میں پیوند خاک! کیوں زورصاحب ‘زورؔ صاحب جیسی شخصیت مرتی کہاں ہے۔ زورؔ صاحب تودراصل ان کارناموں کا نام ہے جو آج بھی زندہ ہیں اور جب تک یہ کارنامے زندہ و باقی رہیں گے۔زورؔ صاحب مر نہیں سکتے۔ وہ جاوداں رہیں گے۔‘‘۔۱۳؂
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید چونکہ محقق و نقاد ہونے کے ناطے اردو ادب سے گہرائی سے وابستہ رہے ہیں۔ چنانچہ اپنے خاکوں میں شخصیات کے بیان میں جاری اردو اشعار کا استعمال کیا ہے۔ جس سے ان کا اسلوب بیان دلچسپ ہوگیاہے۔ زورؔ صاحب کی حیدرآباد وابستگی اور کشمیر میں ان کے دفن ہونے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ظفرؔ کا یہ شعر لکھا ہے۔
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لئے
دو گززمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں۱۴؂
زورؔ صاحب کی ہی شخصیت اور ان کے کارناموں کو خراج پیش کرتے ہوئے اقبال کا یہ شعر لکھتے ہیں۔
نظر بلند‘ سخن دلنواز‘ جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے۱۵؂
اپنے استادپروفیسر عبدالقادر سروری کی ہمیشہ متحرک رہنے کی عادت کو بیان کرتے ہوئے جوش کا یہ شعر نقل کرتے ہیں۔
ہرشئے کو مسلسل جنبش ہے راحت کا جہاں میں نام نہیں
اس عالم سعی و کاوش میں دم بھر کے لئے آرام نہیں۱۶؂
مولاناابوالوفاء صاحب کی حق گوئی کی فطرت کو اقبال کے اس شعرکے ذریعہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہزار خوف ہو لیکن زبان و دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق۱۷؂
رشید احمد صدیقی کو علی گڑھ کا دیوانہ عاشق اور مجنوں قراردیتے ہوئے یہ مصرعہ ان کی نذر کرتے ہیں۔
مجنوں جو مرگیاہے تو جنگل اداس ہے۱۸؂
یونس دہلوی سے اپنی ملاقاتوں کی یاد کو جگر کے اس شعر کے ذریعہ تازہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
وہ کب آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سمارہے ہیں
یہ چل رہے ہیں وہ پھر رہے ہیں یہ آرہے ہیں وہ جارہے ہیں۱۹؂
اشعار کے علاوہ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے عربی دعاء’’ انا للہ و اناللہ و اناالہ راجعون ‘‘کو بھی اکثر استعمال کیا ہے اور عبدالماجد دریا آبادی کے خاکہ کا بھی یہی عنوان تھا۔ ایک کامیاب خاکے کیلئے اثر انگیز اسلوب کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پائے کی کردار نگاری کی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ خاکے میں بیان کردہ شخصیت کے خدوخال‘ حرکات و سکنات‘ لباس‘ نفسیاتی اور ذہنی کیفیات و تغیرات کے مجموعہ سے شخصیت کا کردار بنتا ہے۔ خاکے میں کردار نگاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے صابرہ سعید لکھتی ہیں:
’’خاکہ میں خاکہ نگارکو اپنی فنکاری سے شخصیت کی دوبارہ تخلیق کرنی پڑتی ہے۔ اس طرح کہ وہ خاکے کے کینوس پر متحرک بھی ہو اور اس کے نقوش ایسے گہرے ہوں کہ پڑھنے والے کا ذہن اسے مدت تک بھلا نہ سکے۔ اس مقصد کیلئے خاکہ نگار کسی شخصیت کے رنگ وروپ‘ وضع قطع اور عادات و اطوار کی ایک جھلک دکھاتاہے۔ یہ اجمالی تصویر اتنی جاذب نظر ہوتی ہے کہ پڑھنے والے کے ذہن پر نقش ہوجاتی ہے۔ اس لئے کردار نگاری میں شبیہہ نگاری کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔شبیہہ نگار کیلئے ضروری ہے کہ انسانی شکل و صورت کے ساتھ اس کی فطرت کا رازداں بھی ہوتا کہ وہ سیرت کو صورت کے ساتھ نمایاں کرسکے۔‘‘۲۰؂
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے بھی اپنے خاکوں میں کرداروں کو اجاگر کرنے کیلئے شخصیت کی وضع قطع اور عادات و اطوار کو بہ خوبی بیان کیا ہے اور اس کے ذریعہ قاری تک شخصیت کی ہوبہو لفظی تصویر پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ عبدالماجد دریاآبادی کا سراپا بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں۔
’’درازقد‘ چوڑاچکلا سینہ‘ سرخ و سپید رنگ‘ کسی قدر خمیدہ مگر بھرا بھرا جسم‘ کتابی چہرہ‘ ستواں ناک‘ عبادت و ریاضت سے پرنور دراز اور بھرپور داڑھی‘ روشن آنکھیں….. سفید کرتا‘ سفید پائجامہ میں نے اپنے تصور میں ماجد صاحب کی جو شبیہہ بنائی تھی زیادہ فرق نہیں نکلا۔‘‘۲۱؂
شخصیت کا سراپا بیان کرنے کے علاوہ انہوں نے اس کی عادات و اطوار اور طور طریق کو بھی بیان کیا ہے۔ اپنے استاذ پروفیسر عبدالقادر سروری کی مصروف شخصیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وہ جامعہ کو اپنی کار میں آتے‘ تاہم انہیں کبھی کبھار تاخیر ہوجاتی۔ موسم سرما میں تاخیر کااوسط زیادہ ہوتا۔ اس سال ایم۔ اے میں ہم صرف چار طالب علم تھے۔ شاذ تمکنت‘ مہرالنساء‘ ذاکر فاروقی اور میں۔ سروری صاحب اپنی کلاس عموماً اپنے کمرے ہی میں لیتے‘ اپنی اس تاخیر کے باعث کمرے میں آتے ہی وہ بے حد عجلت میں ہوتے‘ خاصے مصروف بھی‘ کبھی کوئی کاغذدیکھ رہے ہیں۔ کبھی کوئی خط‘ کبھی جیب سے کچھ نکال رہے ہیں کبھی ہم سے کسی سے کچھ پوچھ رہے ہیں اور اس دوران کوئی اور آجائے تو ان سب کے ساتھ اس سے گفتگوبھی……۔‘‘۲۲؂
ایک خاکے کو کامیاب اوردلچسپ بنانے میں واقعات کے بیان سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ شخصیت کی زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے اہم اور دلچسپ واقعات کو خاکے میں بیان کرنے سے شخصیت کی سیرت پوری طرح بے نقاب ہوسکتی ہے۔ خاکہ نگار کی اطلاع پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ شخصیت کی زندگی سے کس نوع کے واقعات کا انتخاب کرنا ہے۔ واقعات عموماً تعمیری ارادے سے اور اخلاقی اور سماجی نقطہ نظر سے منتخب کئے جاتے ہیں۔ واقعات کے بیان سے خاکے میں نہ صرف دلچسپی پیدا ہوتی ہے بلکہ ان کی پیشکشی سے خاکوں کو تاریخی دستاویز کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ایک عرصہ گذرجانے کے بعد ان واقعات کی تفصیلات مختلف مضامین سے حاصل ہونے والی جزئیات کے ذریعہ قارئین کے ذہن میں تازہ ہوتی ہے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے بھی ان خاکوں میں واقعات بیان کئے ہیں جو تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ اور ان سے شخصیات کے کرداروں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔
آصف سابع میر عثمان علی خان کی محرم کے جلوس کے وقت پرانی حویلی میں آمد اور بی کے علم کو ڈھٹی پیش کرنے کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے پروفیسر سلیمان اطہر جاوید لکھتے ہیں:
’’محرم کی دس تاریخ ہے۔ پرانی حویلی میں آصف سابع بی کے علم کو ڈھٹی چڑھارہے ہیں۔ میں پرانی حویلی کے روبرو واقع عمارت کی دوسری منزل پر ہوں۔ کتنی عقیدت اور احترام سے وہ ڈھٹی باندھتے ہیں۔ مجسم عجزو انکسار۔ بادشاہ بھی کبھی خود کو رعیت میں شامل کرلیتاہے۔ میں نے اس وقت ایسا ہی محسوس کیاہے۔‘‘۲۳؂
اسی طرح دیگر خاکوں میں بھی پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے واقعات بیان کرتے ہوئے ان خاکوں کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔
منظر نگاری اور جزئیات نگاری کو بھی اگر خاکہ نگاری کا ضروری عنصر سمجھا جائے تو یہ عناصر پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے خاکوں میں پائے جاتے ہیں۔ مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے خاکے میں ان سے ملاقات کیلئے دریاآباد پہنچنے کے بعد پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے وہاں کا منظر اس طرح بیان کیا ہے۔
’’دریاآباد اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ ریلوئے اسٹیشن بھی چھوٹا موٹا نہ ریل پیل نہ گڑبڑ‘ نہ ہنگامہ آرائی نہ شورپکار‘ جوکسی ریلوئے اسٹیشن کا نام لیتے ہی تصور میں ابھرآتے ہیں۔ لیادیا سا ماحول ہر طرف سکون و عافیت سی۔ جیسے ماجد صاحب کی شخصیت یہیں سے اپنا پتہ دے رہی ہو۔ ٹرین آنے پر اترنے والے بھی دوچار اور سوار ہونے والے بھی اتنے ہی۔ اسٹیشن سے باہر چند قدیم وضع کے ٹانگے جن کے چلانے والے سواریوں کی تلاش میں خود پلیٹ فارم پر موجود ہیں!‘‘۲۴؂
پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے یہ خاکے اپنی منظر نگاری یا جذبات نگاری سے زیادہ اپنی جذبات نگاری کیلئے مشہور ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ ان خاکوں میں جا بجا شخصیتوں کے بارے میں مصنف کے جذبات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے اپنی خاکہ نگاری کے دوران ایک نیا تجربہ بھی کیا ہے اور جامعہ عثمانیہ کو بہ حیثیت ایک کردار کے پیش کرتے ہوئے خاکہ لکھا۔ عموماً خاکے گوشت پوست کے زندہ یا مردہ انسانوں پر لکھے جاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ایک درس گاہ پر خاکہ لکھتے ہوئے اسے جیتا جاگتا کردار بنادیا اور اس خاکہ میں جس طرح انہوں نے اردو کا مقدمہ عوام اور حکومت کے سامنے پیش کیا اس سے ایوان حکومت میں ہلچل ہوسکتی ہے اور خود اردو والوں کیلئے باعث غیرت ہے کہ وہ اپنی ہی قائم کردہ جامعہ میں اپنی مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ چنانچہ جامعہ عثمانیہ پر لکھا گیا پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کا خاکہ اردو کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے کی کسی بھی تحریک میں نمایاں مقام پر ہوگا۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے خاکوں کے نام بھی دلچسپ رکھے ہیں اور ’’ایک تہذیب کی موت‘‘،’’جامعہ عثمانیہ مرحوم‘‘،’’مولانا‘‘،غروب آفتاب‘‘،’’جنگل اداس‘‘ ہے۔ دلداری عروس سخن جیسے نام رکھتے ہوئے قاری کو اس جستجو پر مجبور کیا کہ وہ خاکے کو مکمل طورپر پڑھنے اس طرح اپنی خاکہ نگاری کو وہ قارئین تک پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم ان خاکوں کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ان تمام میں حزن و ملال اور غم و یاسیت کی کیفیت چھائی ہوئی ہے۔ ان میں سے بیشتر خاکے شخصیتیوں کے انتقال پر لکھے گئے ہیں اور شاعر نے ان شخصیتوں سے اپنے روابط اور وابستگی کی بناء پر اپنے غم کااظہار کیا ہے اور اپنے غم کی رو میں انہوں نے جامعہ عثمانیہ جیسی عظیم درسگاہ کو بھی مرحوم بنادیا۔ ان خاکوں کی ایک کمزوری یہ بھی ہے کہ ان میں شخصیتوں کے احوال تفصیلی طورپر بیان نہیں کئے گئے بلکہ مصنف اور شخصیت کے روابط اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کی مدد سے شخصیت کی کردار سازی کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک محقق ہونے کے ناطے چاہیں تو پروفیسر سلیمان اطہر جاوید مختلف ذرائع اختیار کرتے ہوئے شخصیتوں کے بارے میں تفصیلات اکھٹی کرسکتے تھے۔ تاہم انہوں نے ان خاکوں میں تاثراتی پہلو پر زوردیا چنانچہ یہ خاکہ مصنف کے تاثرات بن کر رہ گئے اور خاکہ کے ذریعہ ایک شخصیت جس طرح ابھر کر آنی چاہئے تھی وہ نہیں آسکی۔ تاہم ان خاکوں کے ادبی و جمالیاتی پہلو سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ ان خاکوں کے ذریعہ گذشتہ حیدرآباد کی تاریخ نہ صرف محفوظ ہوگئی بلکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی علمی و ادبی و سماجی ہستیوں کے حالات نئی نسل کیلئے محفوظ ہوگئے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کے یہ خاکے اردو خاکہ نگاری کی تاریخ میں ضرور ایک سنگ میل ہیں۔ اگر وہ اپنی خاکہ نگاری کا سفر جاری رکھیں تو اردو دنیا کو پیش بہا خاکے فراہم کرسکتے ہیں۔
———
حواشی
۱۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ صابرہ سعید ص:۱۔۲
۲۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ ص:۳
۳۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ ص:۴۔۵
۴۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۶۔۷
۵۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۷
۶۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۹
۷۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۱۸
۸۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۵۸۔۵۹
۹۔۱۰۔عابدہ خاتون۔ مشمولہ ’’نذر جاوید‘‘۔ص:۱۲۳۔۱۱۸
۱۱۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۱۱۶
۱۲۔ صابرہ سعید۔ ’’اردو میں خاکہ نگاری‘‘۔ص:۴۱
۱۳۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۲۷۔۲۸
۱۴۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۲۰۔۲۸
۱۵۔ مشمولہ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۲۲
۱۶۔ مشمولہ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۲۵
۱۷۔ مشمولہ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۳۳
۱۸۔ مشمولہ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۴۹
۱۹۔ مشمولہ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۹۴
۲۰۔ مشمولہ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ص:۱۱۶
۲۱۔ صابرہ سعید’’اردومیں خاکہ نگاری‘‘۔ص:۴۹
۲۲۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان ‘‘۔ ص ۸۶
۲۳۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان ‘‘۔ ص۳۲۔۳۳
۲۴۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید ’’چہرہ چہرہ داستان‘‘۔ ص :۸
——-

ڈاکٹر امجد علی بیگ