اسٹیم سیل تھراپی کیا اسلام میں جائز ہے :- ڈاکٹر عزیز احمد عرسی

Stem Cell Therapy and Islam
اسٹیم سیل تھراپی کیا اسلام میں جائز ہے
سوچتا ہوں میں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی

ڈاکٹر عزیز احمد عرسی
ورنگل – تلنگانہ

اسٹیم سیل تھراپی آج کے دور کا ایک انقلابی طریقہ علاج ہے لیکن یہ طریقہ علاج بعض صورتوں میں مذہبی و اخلاقی اعتبار سے نا پسندیدہ ہے ، یہاں میں نے معالجاتی کلوننگ اوراسٹیم سیل تھراپی کے بارے میں اسلامی علماء کے چند ایک وضاحتوں کو جمع کیا ہے۔ابتداً یہاں بتادوں کہ اسٹیم سیل کیا ہیں۔

اسٹیم سیل کسی بھی جسم کے ابتدائی خلیے ہیں جو کئی قسم کے ہوتے ہیں،یہ خلیے اپنے اندر مختلف صلاحیت رکھتے ہیں، اسٹیم خلیے فوری اپنی ہیت بدل دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ،ایک اندازے کے مطابق یہ خلیے انسانی جسم کے تقریباً 200 مختلف خلیوں میں سے کسی بھی قسم کے خلیے میں تبدیل ہو نے کی صلاحیت رکھتے ہیں،یہ خلیے از خود اپنی نقل تیار کرسکتے ہیں یعنی(Self-replicating) ہوتے ہیں۔یہ خلیے کسی بھی جاندار کے جسم میں مسلسل تقسیم ہوکر نئے خلیے بناتے رہتے ہیں جیسے بلاسٹوسسٹ (Blastocyst) کی اندرونی تہوں سے حاصل ہونے والے خلیے اسٹیم خلیے کہلاتے ہیں علاوہ اسکے Bone marrow اور Gastrointestinal tract جہاں مسلسل نئے خلیے بنانے کا عمل چلتا رہتا ہے۔ یہ خلیے دل کے امراض اور ذیابطیس کے علاج میں اہمیت رکھتے ہیں اور طریقہ علاج کا وسیع علاقہ رکھتے ہیں ۔ اس طریقہ علاج میں خراب یا تباہ خلیوں کو نئے صحت مند خلیوں سے بدل دیا جاتا ہے یعنی جب ان خلیوں کی پیوند کاری عمل میں آتی ہے تو یہ طریقہ عام الفاظ میں معالجاتی کلوننگ کا طریقہ کہلاتا ہے جس میں ایک جیسے (Homologous) خلیوں کو پیدا کیا جاتا ہے تاکہ انہیں خراب خلیوں سے بدل دیا جائے ۔ لیکن اس سلسلے میں سائنسدانوں کو کئی ایک چیلینجس کا سامنا ہے۔ جیسابالغ جاندار کے بافتوں میں سٹیم سیل کی شناخت وغیرہ ۔کیونکہ ان بافتوں میں کئی اورخلیے بھی ہوسکتے ہیں اس لئے مخصوص خلیوں کی شناخت یعنی differentiat کرنا اور ان کو علاحدہ کرنابہت مشکل کام ہے ۔یہاں شناخت کے علاوہ دوسرے مسائل بھی درپیش ہیں جنہیں حل کئے بغیر کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ مثلاً مریض کا مکمل تعاون یعنی دل کے مریض کو اگر دل کے اسٹیم خلیوں کی پیوند کاری کی جائے تو ضروری نہیں کہ پیوند شدہ خلیے دل کی حرکت یعنی beat وہی برقرار رکھیں جو اس مریض کے دل کے پرانے خلیوں کی رہی ہے۔ اس کے باوجود کینسر کے علاج میں، Parkinson’s مرض میں،Arthritis کے علاج میں اور Burn victims کے لئے اسٹیم سیل تھراپی بہت کارآمد ہیں۔ اس طریقہ علاج میں مشکلات کے باوجود سائنسدانوں کو توقع ہے کہ ایک دن وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرلیں گے۔

تولیدی کلوننگ اور اسٹیم سیل میں فرق:
یہاں سہولت کی خاطر بتایا جاتا ہے کہ تولیدی کلوننگ میں مکمل بلاسٹوسسٹ(blastocyst) کو متبادل ماںSuroggate mother کے رحم میں پہنچایا جاتا ہے (بلاسٹوسسٹ یعنی Fertilization کے تقریباً 5دن بعد بننے والا جنین بلاسٹوسسٹ کہلاتا ہے) اسی طریقہ سے ’’ڈولی‘‘ کی پیدائش عمل میں آئی تھی۔جبکہ معالجاتی کلوننگ میں بلاسٹوسسٹ کو متبادل ماں کے رحم میں نہیں پہنچایا جاتا بلکہ اس کلون شدہ بلاٹوسسٹ سے embryonic stem cells کو علاحدہ کیا جاتا ہے،اور ان اسٹیم خلیوں کو مریض کے جسم میں مقررہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔یہ اسٹیم خلیے جینی اعتبار سے عطیہ دہندہ کے اسٹیم سیل سے مماثلت رکھتے ہیں۔
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ اسٹیم سیل کی دریافت ماضی قریب کی بات ہے لیکن تحقیق کے دروازے کھلتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ لفظ سب سے پہلے روسی سائنسدان Alexander Maksimov نے 1908میں استعمال کیا۔اس اصطلاح کے وضع کرنے کا مقصدخون میں کسی’’ انجانی شئے‘‘ کو بیان کرنا تھا جو اس نے محسوس کیا تھا۔لیکن ایک عرصہ تک اس پر توجہہ نہیں دی گئی۔اسٹیم تھراپی کی تاریخ دیکھی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ساٹھ کے دہے میں سائنسدانوں نے ہڈی کے گودے Bone Marrow پر تحقیق کی کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے اس ’’گودے‘‘کی پیوند کاری کی۔یعنی اس کو ’’ٹراسپلانٹ ‘‘Transplant کیا گیا۔جس کو ہم ابتدائی اسٹیم سیل تھراپی کہہ سکتے ہیں۔اس تھراپی کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا ۔ مریض کچھ دنوں تک زندہ رہا ۔ 1956میں Edward Donnall Thomas تاریخ مرتب کی ،اس نے ایک مریض کو Bone Marrow کا اسٹیم سیل (Stem Cell) انجکشن کے ذریعہ جسم میں پہنچایا تو اس کا نتیجہ اچھا نکلا اورمریض کچھ مہینوں تک زندہ رہا۔اسی سائنسدان نے کینسر کے علاج میں Bone Marrow کی اہمیت واضح کی جس پر اس کو 1990 میں نوبل انعام دیا گیا۔کچھ ضروری تبدیلیوں کے ساتھ اسی دوا کا علاج آج بھی جاری ہے۔یہ علاج کینسر کے مریضوں کے لئے تیر بہدف علاج ثابت ہوا ہے۔اس طرح Lymphoma ،لیکیوما Leukemia کے علاج کا یہ طریقہ یعنی Bone Marrow ٹرانسپلانٹ تقریباً پچیس ،تیس برسوں نے رائج ہے۔یہ 1978 کی بات ہے جب اسٹیم سیل انسانی Umbilical cord کے خون میں دریافت کیا گیا اور اسی طرح حاصل کردہ اسٹیم سیل سے مشہور زمانہ کلون ’’ڈولی ‘‘ بھیڑ (Sheep) کی پیدائش عمل میں آئی ۔ ڈولی (Dolly)کی پیدائش کے طریقہ عمل میں بھیڑ کے انڈے کو اس کے ’’تھن‘‘Udderکے خلیے سے ملا کر ’’متبادل‘‘Surrogate ماں کے رحم میں پہنچایا گیا۔یہ طریقہ کامیاب رہا اور سائنس کی دنیا ایک انقلاب سے دوچار ہوئی۔ آج ان ہی تجربات کی روشنی میں سائنسدان انسانی Embryonic stem cells کو اسی انسان (یعنی جس سے اسٹیم سیل حاصل کیا گیا) کے بالغ خلیے سے جوڑ کر جینی اعتبار سے میل کھانے والے اعضا کو پیدا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ 1998میں انسانی جنینی اسٹیم سیل Embryonic stem cells کو متفرق خلیوں سے علاحدہ کر کے Lab میں ترقی دی گئی۔ جس سائنسدان نے اس پر کام کیا اس کو نوبل انعام دیا گیا۔ یہ اتفاق ہے کہ 2010 میں کیلیفورنیا میں ایک شخص کو Spinal injury ہوئی جس کا کامیاب علاج Human Embryonic stem cell کے ذریعہ کیا گیا۔2012 میں اسی طریقہ عمل یعنی اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعہ ایک شخص کے اندھے پن کا علاج کیا گیا۔ 2012ہی میں سائنسدان Yamanaka نے Pluripotent stem cells پیدا کئے اور نوبل انعام حاصل کیا۔Pluripotent stem cells کی دریافت کے بعد ایک نئے انقلابی دور کا آغاز ہوا۔جیے کہ بتایا جا چکا ہے اسٹیم سیل خلیوں سے تیار کردہ ایسا مادہ ہے جس سے جسم کے ہر قسم کی بافت تیار کی جاسکتی ہے ، انسانوں میں یہ بارور شدہ انڈے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔جب Embryonic stem cell کو پانچ تا چھ دن کے Blastocyst (بلاسٹوسسٹ)کے اندرونی تین خلیوں کی تہوں(Layers) یعنی Endoderm, Mesoderm اور Ectoderm سے اخذ کیا جاتا ہے ان خلیوں کو Pluripotent stem cell کہا جاتا ہے ۔ موجودہ دور میں ا سٹیم سیل کو ناکارہ یعنی Discarded embryos سے حاصل کیا جارہا ہے جو ( In Vitro Fertilization IVF) طریقہ کار کے بعد بچ رہتا ہے۔سائنسدانوں کی تحقیقات چلتی رہیں اور 2014 میں Dieter Egli نے اپنے ایک کامیاب تجربے میں جلد کے سٹیم خلیوں (Stem Cells) کے ذریعہ انسولین پیدا کرنے والے ’’بیٹا‘‘ خلیوں کو پیدا کیا جس سے ’’شوگر‘‘ مرض کا علاج کیا جاسکتا ہے آج بھی یہ تحقیق جاری ہے۔ایک اطلاع کے مطابق امسٹرڈم ،نیدرلینڈ میں 16-17 اپریل 2018 کو اس خصوص میں ایک کانفرنس منعقد ہونے والی ہے ممکن نے اس کانفرنس میں بہت ساری چیزوں کا جائزہ لیا جائے گا۔اس کانفرنس کا تھیم ہے۔”Frontiers in Stem Cells & turning ideas in to reality”علاوہ اس کے World Stem Cell Summit میامی امریکہ میں 23 جنوری18 کو ہورہی ہے۔اس کے علاوہ جاپان، لندن، آسٹریا ، کینڈا، جرمنی، وسکانسن،یو ایس وغیرہ کئی ایک سیمینارس اور سیمپوزیمس منعقد ہورہے ہیں ۔
یہاں ا سٹیم سیل تھراپی کو مزید صراحت کے ساتھ بیان کیا جاتاہے۔

اسٹیم سیل تھراپی Stem cell Therapy :
دنیا میں بہت سارے انسان مکمل بہتر حالت میں پیدا ہوتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں کچھ قدرتی طور پر خامیاں رہ جاتی ہیں۔یعنی کچھ بچےNeuromuscular disorders(’’ عصبی عضلاتی بے اعتدالیاں‘‘ ) کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔اسٹیم سیل تھراپی سے ایسے کئی Disorders کا علاج کیا جاسکتا ہے،ان امراض کی تعداد تقریباً 80 بلکہ اس سے زائدہے جن کا علاج اسٹیم تھراپی سے ممکن ہے۔شوگر کے مریضوں کے لئے بتا دیں کہ Degenerative disorders مثلاً شوگر کا مرض (ٹائپ I یا ٹائپ IIاور Osteoarthritis) وغیرہ کا علاج بھی اس اسٹیم سیل کے ذریعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ان دنوں اس طریقہ علاج کو مقبولیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔یہ طریقہ علاج محفوظ ہے ، دیر پا ہے اور دو ایک دن میں مکمل ہوجاتا ہے۔جبکہ روایتی طریقہ علاج اس قدر موثر نہیں ہے جس قدر اسٹیم سیل تھراپی موثر ہے۔ہندوستان میں بھی اس طریقہ علاج کے مراکز ReeLabs میں مسلسل تحقیق ہورہی ہے جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کی واحد کمپنی یعنی’’ لیابس ‘‘ہیں،جہاں کئی امراض جیسے Leukaemia, Thalassemia, Diabetics, Osteoarthritis, Chromic Renal failure, Cerebral Palsy, Autism وغیرہ کو کنٹرول کرنے کے لئے اسٹیم سیل پیدا کئے جارہے ہیں۔ یہ لیابس اسٹیم سیل کے بینکس(Banks)ہیں ، جہاں سے مستقبل قریب میں اسٹیم سیل حاصل کرکے علاج کیا جاتا ہے۔ یہ Labsمکمل محفوظ ہیں اور زہریلے اثرات سے پاک و صاف ہیں۔اس کے باوجود بھی ہر طریقہ علاج کی پیچیدگیاں اپنی جگہ ہوتی ہیں۔جیسے مرٰض کے جسم کے اسٹیم سیل اس کے علاج میں معاون ثابت نہیں ہوتے ۔ علاوہ اس کے تجرباتی علاج کا نتیجہ حقیقی علاج کے دوران ظاہر ہونے والے نتیجے سے مختلف ہوسکتا ہے۔
جیسے کہ بتایا جاچکا ہے کہ اسٹیم سیل کئی طریقوں سے پیدا کئے جاسکتے ہیں۔یا جسم کے کئی حصوں سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ جیسے Bone Marrow ، Peripheral blood stem cell، Amniotic fluid، Umbilical cord blood وغیرہ۔ انہیں Non Embryonic Stem Cell کہا جاتا ہے ۔جبکہ Pluripotent stem cell کو Embryonic Stem Cell (ESC) کہا جاتا ہے ۔ان اسٹیم سیل کوکئی اقسام میں شناخت کیا جاسکتا ہے۔علاج کے لئے ان مخصوص اخذ کردہ خلیوں کی پیوند کاری (Transplantation) کی جاتی ہے جس سے مخصوص بیماریوں کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔اسٹیم سیل کی یہ پیوند کاری عمل جراحی کے ذریعہ بھی کی جاسکتی ہے یا اس کو بذریعہ انجکشن بھی نشان زد کردہ مقام تک پہنچایا جاسکتا ہے۔اس طریقہ کار میں انجکٹ کردہ اسٹیم سیل متاثرہ بافتوں کی جگہ لیتی ہیں یعنی انہیں Replace کرتی ہیں۔لیکن پیوندکاری کا ہر عمل کا کامیاب ہونا ضروری نہیں ہے ۔ کیونکہ پیوند کاری کا یہ عمل جسم’’ انکار‘‘(Reject) بھی سکتا ہے۔ اسی لئے پیوند کاری سے قبل مریض کے مامونی نظام (Immune System) کو کمزور کیا جاتا ہے یا suppress کیا جاتا ہے تاکہ جسم کے انکار کرنے کے امکانات کم ہوجائیں۔اسی لئے زیادہ تر مریض میں Pluripotent stem cell کی پیوند کاری کی جاتی ہے کیونکہ یہ Pluripotent خلیے خود مریض کے جسم سے پیدا کئے جاسکتے ہیں جن کی پیوند کاری کو مریض کا جسم قبول کرنے سے انکار(Reject) نہیں کر سکتا۔
ممکن ہے یہ تجربات کامیاب ہوجائیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اخلاقی اعتبار سے یہ تجربہ جائز ہے۔کیونکہ Pluripotent stem cell کوBlastocyst (بلاسٹوسسٹ)سے حاصل کیا جاتا ہے اور انسانی جنین(Embryo) میں یہ پہلا مرحلہ ہے جس میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں۔یہاں اسلامی اور دوسرے مذاہب کی جانب سے اٹھایا جانے والا اہم سوال یہ ہے کہ کیاکسی زندگی کو ختم کرکے کسی انسان کا علاج کیا جاسکتا ہے۔بھلے ہی اس طریقہ عمل میں مکمل انسان کی تخلیق انجام نہیں پاتی لیکن۔ کیا۔ انسانی زندگی کے پہلے مرحلے(Blastocyst) کو ختم کیا جاکر انسانی اعضاء تخلیق کئے جاسکتے ہیں۔یہ مسئلہ ابھی زیر بحث ہے۔
اس سلسلے میں تجربے ہورہے ہیں ، اس کے باوجودمجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دِلّی ابھی بہت دور ہے ۔ کچھ تجربے بھلے ہی کامیاب ہوگئے ہوں لیکن ہر مرض کے علاج کے سلسلے میں اسٹیم سیل تھراپی کاتجربہ خانوں سے نکل کر حقیقی دنیا یعنی کلینک میں آنے تک کافی وقت لگ سکتا ہے ۔اس سلسلے میں مزید تحقیق جاری ہے۔

اسٹیم سیل تھراپی اسلامی تناظر میں :
بعض حدود و قیود میں رہتے ہوئے اسلام نے Stem Cell Therapy یعنی دوسرے الفاظ میں معالجاتی کلوننگ کی مخالفت نہیں کی۔ لیکن اسلام نے انسانی کلون کے اعضاء نکال کر مریض انسانوں کو لگانے کی ممانعت کی ہے۔ کیونکہ مخلوق باقیات ہے چاہے کلوننگ کے ذریعہ بنی ہو یا ان کی فطری طریقے پر پیدائش ہوئی ہو۔ اسی لئے علماء اسلام نے اسٹیم سیل کے ذریعہ صرف اعضاء پیدا کرنے کی اجازت دی ہے۔ اعضاء کا مطلب انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کے نتیجے میں ناکارہ ہوجانے والے اعضا ء کی Pluripotent embryonic stem cell (PESC) سے تبدیلی ہے یعنی ان اسٹیم خلیوں (PESC) کو مریض کے جسم میں پہنچا کر یعنی ان خلیوں کی پیوند کاری کی جاکر جسم کے غیر فعال، ناکارہ یا خراب خلیوں سے ان نئے داخل کردہ یا پیوند کردہ اسٹیم خلیوں سے تبدیل (Replce) کرنا ہے اس طرح اس عمل سے مخصوص ناکارہ عضو کو کارکرد بنایا جاتا ہے اس عمل کو اسٹیم تھراپی یا اعضاء کی تخلیق (کلوننگ) کہا جاتا ہے یہاں واضح ہوکہ اس عمل سے کسی عضو کی علاحدہ تخلیق انجام نہیں پاتی( علاحدہ تخلیق یعنی اگر کسی مریض کو گردے کی ضرورت ہو تو کلوننگ کے ذریعہ گردہ نہیں بنایا جا تا جیسے فیکٹری میں کوئی شئے بنائی جاتی ہے)۔ بلکہ اس کا مطلب اسٹیم خلیوں کی پیوند کاری ہے جو کسی پرانے عضو کا سہار کر یا انہیں مکمل تبدیل کرکے نئے عضو کی طرح کام کرنے لائق بناتے ہیں ۔تجربہ گاہوں میں ان کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں لیکن حقیقی دنیا میں یہ کہاں تک کامیاب رہیں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔
یہاں میں اسلامی تناظر میں اسٹیم سیل اور کلوننگ(Cloning) کے ابتدائی طریقہ کار کی وضاحت کرتا ہوں تاکہ اسٹیم سیل تھراپی کو آسانی سے سمجھا جاسکے۔
اسلامی عقیدے کے مطابق اللہ خالق ہے۔ جس نے اس دنیا میں اسباب اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کے نظام کو جاری فرمایا ۔ الزمر: 63میں ارشاد ہے کہ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ اسی لیے اللہ ہر حال میں خالق ہے۔ اور اس نے مخلوق کے اندر یہ صفت نہیں رکھی کہ وہ درجہ خلاقیت پر پہنچ جائے۔ اسی لیے کوئی تجربہ کیوں نہ ہو وہ بغیر اذن خدا کے مکمل پھر اسکے بعد کامیاب نہیں ہوتا۔ یہ خدا کی مصلحت ہے جسکو وہ خود بہتر جانتا ہے۔ جس طرح کوئی انسان بیج بونے سے اس درخت کا خالق نہیں ہوجاتا اسی طرح کلون کیلئے خلیوں کو جنین کے قابل بنانے والا اور قائم مقام ماں کے رحم میں داخل کرنے والا خالق نہیں ہوجاتا۔ بیج کو پودے میں تبدیل کرنے یا رحم میں داخل شدہ کلون کو بچہ بنانے میں اللہ ہی کی قدرت ہے جو دونوں جگہ کارفرما ہے۔ یعنی بیج خدا کی مرضی کے بغیر پودا نہیں بنتا اسی طرح کلون بھی بغیر مرضئ مولاکے وجود میں نہیں آتا، ’’اور جن جن کو یہ لوگ اللہ تعالیی کے سوائے پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے (النحل۔ ۲۰) اسی لیے کلوننگ کا عمل غیرفطری نہیں ہے۔ لیکن اس موڑ پر ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خدا نے زندگی گذارنے کے کچھ طریقے بتا دئے ہیں اور اس دنیا میں کھوج کی حد مقرر کردی ہے۔ اسی لیے ہم کلوننگ کو غیر فطری نہیں کہہ سکتے لیکن غیر اسلامی ضرور کہہ سکتے ہیں کیونکہ اسلام ہر معاملے میں ایک حد قائم کردیتا ہے جبکہ یہ عمل حد سے پرے کی کھوج ہے۔ 1997ء میں منعقدہ اسلامی فقہ کونسل میں اس مسئلہ کو زیر بحث لایا گیا تھا۔ پودوں اور جانوروں میں اسکی اجازت دی گئی لیکن انسانوں میں اس طریقہ کو رائج کرنے پر پابندی عائد کی گئی۔ کیونکہ انسانوں کی کلوننگ سے پیچیدہ سماجی اور اخلاقی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور یہ تمام مسائل ممکن ہے کہ نہ صرف غیر انسانی ہونگے بلکہ غیر اسلامی بھی ہوں گے۔
علماء اکرام کا خیال ہے قرآن میں کلوننگ کے عمل کو ناممکن نہیں قرار دیا گیا۔ اور نہ ہی انسانوں کو تحقیق سے روکا گیا کوئی انسان کلوننگ کے ذریعہ کسی جاندا کو پیدا کرے تو وہ مرتبہ خلاقیت پر فائز نہیں ہوجاتا۔ کیونکہ دنیا میں اسباب اور اسکے نتائج کے وقوع پذیر ہونے کا عمل موجود ہے۔ سائنس داں In vitro fertilizationیعنیIVFکے ذریعہ بے بی )(ٹسٹ ٹیوب بے بی)پیدا کر رہے ہیں جس کا تصور بھی کچھ برس پہلے ناممکن تھا اور اس عمل میں کچھ حد تک انسانی کوشش کا دخل بھی ہے لیکن باروری کا عمل منجانب قدرت ہی انجام پاتا ہے اسی لئے ٹسٹ ٹیوب بے بی کی پیدائش قدرت کا کارنامہ قرار پاتی ہے۔ اسی طرح کلوننگ کے ذریعہ انسانی تخلیق بھی خدا کی قدرت ہی کا مظہر ہے ۔ اسی لیے علماء کو حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے بہت احتیاط اور باریک بینی سے غور کرنا چاہئے کیونکہ کلوننگ کا عمل طبی نقطہ نظر سے اپنے اندر کچھ فوائد بھی رکھتا ہے۔ اس لیے یکسر اس ٹیکنک کو ناجائز قرار دینا نامناسب ہوگا اور اجازت دینے سے قبل اس بات کا لحاظ بھی نہایت ضروری ہے کہ یہ طریقہ عمل انسانی تولید کا فطری طریقے سے ہٹ کر دوسرا متبادل نہ بننے پائے۔ کیونکہ کلوننگ ایک خلیے سے کسی جاندار کو بنانے کا عمل ہے۔ جس میں صرف اسی خلیے کے جینی مادّے کو استعمال کیا جاتا ہے اور جنین بنانے کے لئے کسی دوسرے خلیے کے جینی مواد سے مدد نہیں لی جاتی۔ جبکہ دنیا میں رائج طریقہ تولید میں تقریباً ہر جاندار کا ( بشمول انسان ) جنین دو خلیوں یعنی ماں اور باپ کے جینی مادّے سے مل کر بنتا ہے۔ سوائے چند ایک جانداروں کے جن میں اجاتی تولید کا طریقہ رائج ہے جینی مادّے DNAکی شکل میں مرکزے کے اندر پائے جاتے ہیں۔ ماں کاEggاور باپ کا Spermمل کر ایک مکمل خلیہ بناتے ہیں۔ چونکہ ماں اور باپ خود اپنے اندر اختلاف رکھتے ہیں اسی لیے ان دونوں کے جینی مادّے سے ہر مرتبہ بننے والے جنین سے وجود میں آنے والی نسل یا اولاد میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔ لیکن کلوننگ میں یہ عمل معکوس ہوتا ہے۔ یعنیٰ اس عمل میں ایک مکمل بالغ خلیے کے مرکزے کو نکال کر ایسے Egg cellمیں منتقل کیا جاتا ہے جس کا مرکزہ نکال کر ضائع کردیا گیا ہو۔ تجربات کی روشنی میں اسکا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وجود میں آنے والے جاندار صرف وہی خصوصیات رکھیں گے جس کا مرکزہ اس میں منتقل کیا گیا ہے۔ علاوہ اسکے مرکزے کی اس منتقلی کے بعد مرکزے میں موجود DNA کو ہمارے مطلوبہ خصوصیات تک تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ کلون میں صرف وہی خصوصیات باقی رہیں یا صرف وہی خصوصیات عود کر آئیں جسکے لیے DNAمیں تبدیلی کی گئی۔ اگر Eggنمو پاجائے تو یہ نمو یافتہ جنین، رحم مادر یعنی Suroggate motherمیں منتقل کیا جاتا ہے۔اس مرحلے پر یہ وضاحت مناسب ہوگی کہ صرف اسی حد تک یعنی جنین بنا کر رحم میں منتقل کرنے تک انسان کی کلون بنانے میں مداخلت ہے اس کے بعد کا مکمل عمل قدرتی ہے جہاں فطری حالات میں ولادت تک تبدیلیاں انجام پاتی ہیں۔ قرآن میں اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے بلکہ وہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں (النحل: 20)۔ اوپر بیان کردہ طریقہ عمل کو ہم دوسرے الفاظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ Egg اور Sperm کا نئی زندگی بنانے کیلئے ایک دوسرے سے نارمل حالات میں ملنے کے عمل کو یکلخت ختم کیا جاکر Eggکو صرف طفیلی Parental DNAکی وہیکل (سواری) بنادیا جاتا ہے۔ اسی لئے علمائے اسلام نے خدشہ ظاہر کیا کہ کلوننگ میں چونکہ عمل تولید کیلئے رائج فطری طریقہ کار سے اجتناب برتاجاتاہے اس لیے اس سے احتراز ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ انسانی کلوننگ کا عمل انسانی شخصیت اور اسکے عزت و احترام کو ختم کردے اور سماج میں خاندانی نظام کو تباہ و برباد کردے۔رابطہ عالم اسلامی کلوننگ کے پروگرام کا جاۂ لینے کے بعد بتایا کہ کلوننگ انسانی فطرت سے میل نہیں کھاتی کیوں کہ اس سے انسان کی تخلیق سے متعلق اصل دینی نظریہ شکوک و شبہات کے گھیرے میں آجاتا ہے۔اکیڈمی برائے اسلامی فقہ نے اپنے اجلاس منعقدہ 1998 میں کلوننگ کو حرام قرار دیا۔امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن نے کلوننگ کی مخالفت کرتے ہوئے کلون کے جسمانی اور ذہنی نقصان کے قوی امکانات کا اظہار کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا ہے اور بتایا کہ اس سے نہ صرف خاندانی نظام بلکہ انسانی جین پول (Gene Pool) بھی متاثر ہوگا۔ بہتر انسانی نسل کیلئے مسلسل ارتقا ضروری ہے اور مختلف جین کا ایک دوسرے سے ملنا ارتقاء کے لیے لازمی ہے جبکہ کلون اس سے محروم ہوگا علاوہ اسکے کلون کو Somaticخلیوں سے بنایا گیا۔ جس میں تبدل کی قوی گنجائش ہے۔ اگر بالفرض محال کلون تبدل سے بچ جائے تو اسکی نسلیں جن جینی عوارض میں مبتلا ہوں گی وہ ناقابلِ قیاس ہے۔
علماء نے انسان کے جینیاتی توارثی نطفے میں کھلواڑ سے منع کیا ہے کیونکہ کلوننگ اللہ کی سنت تخلیق و احیاء کے تغیر و تبدل کا نام ہے۔ علاوہ اس کے کلوننگ تناسل کے مشروع طریقے کی بھی تبدیلی ہے ۔اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ ’’پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی‘‘ (السجدہ:8)۔قرآن میں النساء (4-1) ، الاعراف (7:189)اور حجرات (49:13) میں اس بات کا اظہار ملتا ہے کہ بچوں کی تولید کیلئے شادی بہترین اور قابلِ قبول ذریعہ ہے جس میں مرد اور عورت کا ملاپ ضروری ہے اور یہی عورت و مرد سماجی نظام کی بنیاد بھی ڈالتے ہیں۔’’تم سب کو ایک مرد و عورت سے پیدا کیا تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو‘‘ (الحجرات)۔ شادی کے اس پاکیزہ معاہدہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد مختلف جینی مادّوں کو اپنے اندر رکھتی ہے اور یہی مختلف جینی مادّے انسان کی شخصیت کی شناخت اور توازن کی نشانی ہیں۔ اسی لیے علماء اسلام کے مطابق ایک خلیے سے تولید کے طریقے کی اسلام اجازت نہیں دے سکتا خواہ جنین کی شکل میں عورت میں منتقل کیا جانے والا خلیہ اسکے شوہر ہی کا کیوں نہ ہو۔ اسی لیے اس ٹیکنالوجی سے انسانی کلون بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ اسکے مابعد اثرات نہ صرف اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں کو پیدا کرتے ہیں بلکہ خاندانی نظام کو بھی تباہ کرتے ہیں۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ’’ وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا پھر اسے نسب والا اور سسرالی رشتوں والا کردیا‘‘ (الفرقان: 54) ۔ سورہ فاطر (27,28) میں اللہ فرماتا ہے کہ انسانوں، جانوروں اور مویشیوں کے رنگ مختلف ہیں۔ جبکہ کلوننگ اختلافات کا یہ تصور مٹا دیتا ہے اور یہی اختلاف دراصل انسانی زندگی کی دلیل ہے۔ علاوہ اسکے فطرت میں کچھ قاعدے رائج ہیں۔ ان میں ایک قاعدہ کائنات کی ہر چیز کا جوڑوں کی شکل میں پیدا کرنا ہے۔ جس کا ذکر سورۃ النجم (45,46)(اور تمہیں جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا) سورہ یٰسین (36) ’’اور خدا نے نراور مادہ جوڑا پیدا کیا‘‘ سورۃ الذاریات (49) میں اللہ فرماتا ہے کہ ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے۔ لیکن کلوننگ صرف ایک ہی جنس کا تصور دیتا ہے اور اس تصور پر عمل، فطرت سے بغاوت کی طرف لے جاتا ہے۔ جبکہ قرآن نے سورۃ البقرہ (187) میں انسانی فطرت کو ظاہر کرتے ہوئے عورت اور مرد کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا۔ اس لیے علماء کا خیال ہے کہ کلوننگ کے بعد ممکنہ در آنے والے مفاسد سے بچنے کیلئے اسکا انکار مناسب ہے لیکن اعضائے جسم کی کلوننگ یعنی معالجاتی کلوننگ قابل قبول ہے کیونکہ یہ طریقہ کار انسانیت کیلئے نفع بخش ہے لیکن مکمل انسانی کلوننگ قطعی مناسب نہیں ہے۔ویسے علماء نے اعضاء کی کلوننگ یعنی اسٹیم تھراپی کو بھی غیر اسلامی بتایا ہے کیونکہ اعضا ء کی کلوننگ کے لئے Pluripotent stem cell کو Blastocyst(بلاسٹوسسٹ)سے حاصل کیا جاتا ہے اور بلاسٹوسسٹ انسانی زندگی کا پہلا مرحلہ ہے جہاں سے زندگی کے آثار نمودار ہو نا شروع ہوجاتے ہیں۔کیاکسی زندگی کو ختم کرکے کسی دوسرے انسان یا خود اُسی انسان کا علاج کیا جاسکتا ہے جس سے اسٹیم سیل حاصل کئے گئے۔بھلے ہی اس طریقہ عمل میں مکمل انسان کی تخلیق انجام نہیں پاتی لیکن ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ۔۔ کیا؟ انسانی زندگی کے پہلے مرحلے کو ختم کیا جاکر انسانی اعضاء تخلیق کئے جاسکتے ہیں۔یہاں ایک بار اور صراحت کروں کہ اعضاء کی تخلیق کا مطلب انسانی جسم میں مختلف بیماریوں کے نتیجے میں ناکارہ ہوجانے والے اعضاء کی Pluripotent embryonic stem cell (PESC) سے تبدیلی ہے یعنی ان اسٹیم خلیوں (PESC) کو جسم غیر فعال، ناکارہ یا خراب خلیوں تک پہنچا کر انہیں اسٹیم سیل سے تبدیل (Replace)کرنا ہے اس طرح اس عمل سے اس ناکارہ عضو کو کارکرد بنایا جاتا ہے اس عمل کو اعضاء کی تخلیق (کلوننگ) کہا جاتا ہے یہاں واضح ہوکہ اس عمل سے کسی عضو کی علاحدہ تخلیق انجام نہیں پاتی ۔تجربہ گاہوں میں ان کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں لیکن حقیقی دنیا میں یہ کہاں تک کامیاب رہیں گے دیکھنا باقی ہے۔ میں یہ سوچ کر مسلسل حیران ہوں کہ دنیا میں تجربہ خانوں میں تو اسٹیم سیل تھراپی نے کامیابی حاصل کر لی جو بجائے خود ایک اچھنبے سے کم نہیں تو حقیت میں جب یہ طریقہ عمل عام ہوجائے گا تو ۔ ع سونچتا ہوں میں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی
ویسے اس عمل کی بعض ممالک جیسے برطانیہ وغیرہ نے اجازت دی ہے لیکن کچھ دوسرے ممالک نے اس طریقہ کار پر لگام لگا رکھی ہے ،2009 میں امریکہ نے دوسرے ذرائع حاصل کردہ Pluripotent stem cell جیسے skin cells وغیرہ سے حاصل کردہ اسٹیم سیل کی اجازت دی ہے
اس طرح انسانی کلوننگ نہایت نامناسب، غیر اخلاقی، خلاف طبیعت،ناقابلِ قبول سماجی برائی ہے اور اس طریقہ عمل کو ہم انسانیت کو ذلیل کرنے کی کوشش قرار دے سکتے ہیں ۔
——

ڈاکٹرعزیز احمد عرسی

Dr. Azeez Ahmed Ursi
14-4-63
Mandi Bazar, Warangal -506002