کامیاب تدریس کے لئے سبق کی موثر منصوبہ بندی :- فاروق طاہر

فاروق طاہر

کامیاب تدریس کے لئے سبق کی موثر منصوبہ بندی

فاروق طاہر
عیدی بازار،حیدرآباد۔
9700122826
،

درس و تدریس کو موثر بنانے میں سبق کی منصوبہ بندی (lesson plan) کو کلیدی اہمیت حا صل ہے۔سبق کی بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے نہ صرف تدریسی عمل (آموزش) کو دلچسپ اور خوش گوار بنایا جا سکتاہے بلکہ کم وقت میں زیادہ اکتسابی افعال کی انجام دہی بھی ممکن ہے۔

ماہرین تعلیم کی نظر میں ایک کامیاب استاد موثر درس و تدریس کے لئے سازگار اکتسابی فضاء ہموار کرتا ہے۔ تدریسی افعال کو سہل اور دلکش بنانے کے لئے ماہرین تعلیم و تجربہ کار اساتذہ نے اپنے تجربات کی روشنی میں چند ایسے تدر یسی اصولوں اور مہارتوں کووضع کیاہے جو کمرۂ جماعت کے ماحول کو بہتر بنانے میں سود مند ثابت ہوئے ہیں۔تدریسی اصول او ر طریقہ کار کا ایک اہم جزو سبق کی منصوبہ بندی بھی ہوتی ہے۔اکثر مدارس اور اساتذہ اس اہم کاز کو پس پشت ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے مطلوبہ تعلیمی مقاصد کا حصول دشوار ہوجاتا ہے اور طلبہ کی ہمہ گیر تعلیمی ترقی جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔اساتذہ کی ایسی کثیر تعداد بھی ہے جو سبق کی ذہنی منصوبہ بند ی کو ہی کافی سمجھتی ہے۔ در حقیقت سبق کی ذہنی منصوبہ بندی کافی نہیں ہے بلکہ منصوبے کو ذہن سے صفحہ ء قرطاس پر منتقل کر نابھی ضروری ہوتاہے۔ تحریری منصوبہ بندی کا مقصد متعین تدریسی اہداف کا حصول ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ مضمون کے استاد کی غیر حا ضری میں دوسرا متبادل معلم بھی تحریر کردہ منصوبہ بند سبق کی روشنی میں بغیر کسی تعطل کے احسن طریقے سے تدریسی عمل کو جاری رکھ سکتاہے۔ جان ڈیوی کی نظر میں”استاد ایک منتظم ہوتاہے جو پہلے تدریسی و اکتسابی سر گرمیوں کو ترتیب دیتاہے اور پھر کمرۂ جماعت میں ترتیب وار ان سر گرمیوں پر عمل پیرا ہوتاہے۔” متعدد ماہرین تعلیم نے سبق کی منصوبہ بندی کے مختلف اصول وپیمانے وضع کئے ہیں لیکن تقریبا ماہرین تعلیم اس بات سے متفق ہیں کہ سبق کی موثر منصوبہ بندی کے لئے
(1) سبق کی منصوبہ بندی کا خاکہ ،
(2) مقاصد تدریس ،
(3) ذہنی آمادگیmotivation))
( 4) بلند خوانی،
( 5) تفہیمی سوالات،
(6)نئے الفاظ و معنی کا تعارف،
( 7) سرگرمیاں،
( 8 ) سبق کا خلاصہ اور
(9 ) تفویضی کام (ہوم ورک)ضروری ہیں۔

سبق کی موثر منصوبہ بندی تب ہی ممکن ہے جب استاد کو اس بات کا علم ہو کہ وہ کس جماعت کو درس دینے والاہے ، اس جماعت کے طلبہ کی ذہنی صلاحیتیں کیسی ہیں، کو نسا مضمون اور کونسا عنوان پڑھانا ہے،گھنٹے کا دورانیہ کتنا ہو گا اور طلبہ کی کیا تعداد ہوگی اسی لئے ایک استاد کو سبق کی منصوبہ بندی سے قبل سبق کی منصوبہ بندی کا خاکہ تیار کر نا ضروری ہوتا ہے ورنہ سبق کی منصوبہ بندی کتنی بھی عمدہ کیوں نہ ہور تدریس کا مقصد فوت ہو جائے گا ۔اسی لئے ماہرین تعلیم نے سبق کی منصوبہ بندی کے خاکے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور یہ خاکہ ہی ہوتا ہے جو سبق کو منصوبہ بند طر یقہ سے کا میاب و موثر درس و تدریس کی سمت گامزن کر تا ہے۔سبق کی تدریس سے پہلے سبق سے وابستہ مقاصد کا تعین کر لینا ضروری ہوتا ہے اگر استاد سبق کے مقاصد سے آگاہی نہ رکھتا ہوتو یہ تعلیم و تعلم پر بہت ہی بد نما داغ سمجھاجاتا ہے۔معلم کو اس با ت کا علم ضروری ہے کہ وہ سبق کی تدریس کے ذریعے طلباء میں کن صلاحیتوں کو فروغ دینا چاہتاہے۔ابتدائی جماعتوں میں تدریسی مقاصد قلیل ہو تے ہیں اور ان کادائرہ سننے،بولنے،پڑھنے اور لکھنے تک محدود ہوتا ہے جن کو ماہرین تعلیم( LSRW)Speaking,Listening ،Reading اور Writing سے تعبیر کر تے ہیں۔ان ابتدائی مقاصد کو عمومی مقاصد سے تعبیر کیا جا تا ہے جبکہ سبق کے اختتام پر طلبہ میں سبق کے خلاصہ کو بیان اور تحریر کر نے کے استعداد کا حصول، موضوع سے متعلق کم از کم پندرہ جملے تحریر کر نے اور سبق میں دئیے گئے نئے الفاظ کو اپنے جملوں میں استعمال کرنے کی استعداد پیدا کرناوغیرہ تدریس سبق کے خاص مقاصد کہلاتے ہیں۔وہ تعلیم بے اثر اور بے فیض ہو تی ہے جس کا کوئی منشاء اور مقصد نہ ہو ۔ اس لئے اساتذہ پر یہ قوی ذمہ دار ی عائد ہوتی ہے کہ وہ تدریسی مقاصد کے تعین میں محتاط رہیں ۔
درس و تدریس کو اس وقت قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے جب استاد دوران سبق مقررہ مقاصد کوغیر محسوس طر یقے سے حا صل کر نے میں کا میاب ہوجاتا ہے۔ اسا تذہ کی تدریسی مقاصد وضع کر نے میں نا کا می طلبہ کے لئے زہر قا تل ثابت ہوگی ا و ر طلبہ جو قوم و ملک کے مستقبل و معمار ہوتے ہیں تعلیمی طور پر معذور و مجروح ہو جا ئیں گے۔آج تدریسی مقاصد کے تعین کی واضح نا کامی کی وجہ سے طلبہ عام سوجھ بوجھ (کامن سینسcommon sense) سے عا ری ہیں۔رٹ ما ر کر امتحانا ت میں اعلی نشانات اور درجہ تو حا صل کررہے ہیں لیکن نفس مضمون کو پا نے سے پھر بھی کو سوں دور ہیں۔ طلبہ ریو نیو اسٹامپ ا ور پوسٹل اسٹامپ اور ایم ایل اے و ایم پی کے ما بین فرق نہیں جانتے۔ اسا تذہ کے تدریسی مقاصد کے تعین میں ناکامی کی وجہ سے ہائی اسکول کی تکمیل کے بعد بھی بچے برقی اور آبرسانی کے بل کی ادائیگی کے طریقہ کار سے نا واقف ہیں اور نہیں جانتے کہ ڈیمانڈ ڈرافٹ اور بینکرس چیک کس طر ح سے بنا یا جا تا ہے اور دونوں کے بیچ کیا فرق ہے ۔یہ حکومت کی تدوین نصاب کی خامی بھی ہے لیکن اسا تذہ کچھ حد تک ان حالات کے ذمہ دارہیں ۔
تعلیمی و تدریسی مقاصد کے فقدان کی وجہ سے ایسی سند یافتہ جہلا کی ایک فوج ا سکولس اور کالجس سے نکل رہی ہے جو عام سوجھ بوجھ سے کا فی دور ہے۔ان نا مساعد حالات پر ارباب تعلیم و تعلم کو نوحہ کناں ہو نا چاہیئے کہ طلبہ حصول علم کے باوجود دربدر کی ٹھو کر یں کھا نے پر مجبور ہیں۔اساتذہ تعلیم اور زندگی میں وابستگی پید ا کر یں تا کہ اسکولی تعلیم کی تکمیل کے بعد طلبہ کو اسکول کی با ہر کی زندگی اجنبی محسوس نہ ہو۔ سبق کی منصوبہ بندی میں مقاصد تدریس کے تعین کے بعد ذہنی آمادگی (motivation ) کا درجہ آتاہے۔استاد سبق کو مشینی اندازمیں پڑھادینے والے فر د کا نا م نہیں ہے بلکہ استاد ایک رہبر، رہنما ، محرک اور ترغیب کار ہو تا ہے جو طلبہ کی زندگیوں کو سنوارنے میں کو ئی کسر با قی نہیں رکھتا۔ امریکہ کے سالٹ لیک سٹی کے ایک وکیل کے دو توام بونے لڑکوں کو ایک ہی اسکول میں داخلہ نہ ملنے کے سبب علیحدہ مدرسوں میں داخل کر نا پڑا۔ ان میں سے ایک بڑا ہو کر امریکی سینٹ کا معزز رکن بن گیاجبکہ دوسرا ایک معمولی جنرل اسٹور میں چھوٹی سے نوکری کر نے لگا۔غور طلب بات یہ ہے کہ دونوں کے والدین ایک ہی ہیں لیکن ان کے استاد اور اسکول الگ ہیں۔ استاد پہلے بچے کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی کا نقیب بن جا تا ہے جبکہ دوسرا بچہ استاد کی عدم ترغیب کا شکار ہو کرزند گی میں پچھڑ جاتا ہےِ ۔استاد طلبہ کی تقدیر سنوار تے ہیں پہلے بچہ جو کہ سنیٹر بن گیا اس کو ایک ایسا استاد ملاجو ہر وقت بچہ کو تحریک دیتا تھا کہ رنگ ،نسل،خو ب صورتی و بد صورتی کوئی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ ا نسان کی اپنے مقصد کو پانے کی لگن جستجواہم ہو تی ہے جواس کو کا میابی کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے۔ استادکی کا میاب تر غیب کی وجہ سے ایک بونہ لڑکا سینٹر بن جا تا ہے اور اس کا قد اس کی ترقی میں رکاو ٹ نہیں بنتا اس کے بر عکس دوسرا بونہ لڑ کا استاد کے بیجا ترس کی بناء پر احساس بیچارگی اور احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتا ہے۔استاد اس کو سعی و کو شش کا عادی بنا نے کے بجائے تقدیر پر اشک شوئی کا عادی بنا دیتا ہے۔ پہلا بھائی استاد کی تر غیب کی کامیاب مثال ہے جب کہ دوسرا بھائی استاد کی نا قص تر غیب کی بد نما مثال ہے ۔اس مثال سے یہ با ت واضح ہوجاتی ہے کہ مناسب تحریک و تر غیب طلبہ کی زندگیوں میں خوش گوار تبدیلی کی نقیب ہوتی ہے۔
سبق کی موثر منصوبہ بندی میں تر غیب و تحریک اہم تصور کی جاتی ہے جس کے ذریعے استاد سبق کے آغاز پر اپنے سوالات اور تجربات کی روشنی میں طلبہ کے ذہنو ں کو تیار کر تے ہوئے درس و تدریس کے کام کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔سبق شروع کر نے سے پہلے استاد کو چاہیئے کہ وہ طلبہ سے موضوع سے متعلق دلچسپ سوالات کر ے تا کہ طلبہ در س کے لئے ذہنی طور پر تیار ہوجائیں۔ استاد اگر ذہنی طور پر طلبہ کو آمادہ کرنے میں کامیاب ہو جا تا ہے تو اس کے لئے با قی سبق کی تدریس نہا یت ہی آسان ہو جا تی ہے۔
بلند خوانی کا کام زبانوں کی تدر یس میں بہت اہم ہوتا ہے۔استاد کو چاہیئے کہ بلند خوانی کے دوران طلبہ کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انھیں دور کر یں۔بلند خوانی کے دوران الفاظ کی ادائیگی اور تلفظ پر خاص توجہ دیں۔ استاد ہر طالب علم کو ز یادہ سے زیاد بلند خوانی کے مواقع فراہم کرے تاکہ طلبہ روانی سے عبارت خوانی کے قابل ہوجائے ۔ اس مقصد کے تحت ہر طالب علم کو سبق سے چند جملے یا ایک پیراگراف کی بلند خوانی کاموقع فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے تا کہ ہر طالب علم کو بلند خوانی کا مساوی موقعہ حاصل ہو۔ اس کے علا وہ جو طلبہ پڑھنے سے کترا تے ہیں بلند خوانی سے ان کی جھجھک دور ہو گی اور ان کا اعتماد بڑھے گا ۔بلند خوانی کے دوران معلم کو چاہیئے کہ وہ طلبہ کو اہم نکات سمجھا تا جا ئے اور طلبا ء کو بوریت سے بچانے کے لئے درمیان میں تفہیمی سوالات بھی کرتا رہے تا کہ طلبہ سبق کی جا نب بھر پو ر توجہ دے سکیں۔
سبق کی تدر یس کے بعد سبق کو ذہن نشین کر وانے کی خاطر طلبہ سے اعادے کے سوالات کر ے۔درس وتدر یس کے دوران سوالات پوچھنا بھی ایک اہم فن ہے اور اس تکنیک سے درس و تدریس سے وابستہ افراد کے لئے متصف ہونا ضروری ہے۔ یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ سوالات اسی وقت موثر ہوتے ہیں جب معلم پہلے سے ا چھی طرح سبق کی تیار ی کرے ۔۔ اگر سبق کی تدریس میں کوئی کمی بھی رہ جاتی ہے تو استاد کو چاہیئے کہ وہ تفہیمی سوالات کے د و ران اس کا ازالہ کر دے۔ تفہیمی سوالات کے بعد استاد طلبہ کو سبق میں آنے والے نئے الفاظ کے معنی و مفہوم سے آگا ہ کر تے ہوئے ان کو جملوں میں استعمال کرنا سکھائے ۔لغت سے طلبہ کو نئے الفاظ کے معنوں کو تلاش کر کے لکھنے کے کام کے ذریعہ استاد طلبہ کی صلاحیتوں کو مزید پروان چڑھا سکتا ہے۔
زبان کے علاوہ سائنس و دیگر مضامین کی اہم اصطلاحات سے بھی طلبہ کو واقف کرنا اشد ضروری ہو تاہے۔سبق کی تدر یس کے بعد سرگرمیوں اور کھیل کھیل میں طلبہ کی صلاحیتوں کو مزیدپروان چڑھایاجا سکتا ہے۔سبق کی اختتام پر تفویض کردہ سرگرمیاں سبق کے اعادہ اور سبق کے اہم نکات کو ذہن نشین کرنے میں ممد و معاون ہوتی ہیں۔ سر گر میوں کے ذریعے تیار کردہ تعلیمی اشیاء ماڈلس ،چارٹس، نو ٹس وغیرہ کو بورڈ پر آویزہ کرئیں تاکہ طلبہ کو احساس نہ ہو کہ ان کی محنت رائیگاں گئی ہے۔سبق کے تکمیل کے بعد فہم و ادراک اور فکر و تدبر کو فروغ دینے کے لئے استاد طلبہ کو اپنے جملوں میں سبق کا خلاصہ تحریر کرنے کی ہدایت دے لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ جماعت چہارم تا ششم کے طلبہ خود سے خلاصہ تحر یر نہیں کر سکتے اس کام کی انجام دہی کے لئے ان کو استاد کی رہبری و رہنمائی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔استاد کی رہبری سے طلبہ سبق کا خلاصہ اور سبق یا کہانی کے اہم نکات کو اجاگر کرنا سیکھ جا تے ہیں۔
سبق کے اختتام پر ہوم ورک کے سوالات کے ذریعہ مو ضوع کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے ۔یہ سچ ہے کہ استاد کتا ب کو پڑھا تا ہے نہ کہ کتا ب طلبہ کو پڑھاتی ہے جس طرح ایک خراب کتا ب (مواد) اچھے استا د کے ہا تھ آکر طلبہ کے لئے نعمت غیر مترقبہ بن جا تی ہے اسی طرح ایک بہترین کتا ب نا اہل استاد کے ہا تھ نا کارہ ہو جاتی ہے۔ اسا تذہ صرف سبق کی منصوبہ بندی کے ذریعے کامیابی حاصل نہیں کر سکتے کیو نکہ کامیابی اور نا کامی کا دینے والا اللہ ہے اسی لئے اسا تذہ کو در س و تدریس کی کا میابی کے لئے اللہ سے دعا نا نگنا چاہیئے تا کہ اللہ ان کے کام میں آسانیا ں پیدا فر مائے۔ ہر معا ملے میں اللہ رب العز ت سے دعا مانگنا نبی اکرم ﷺ کی سنت بھی ہے۔دعا صرف اس وقت ہی نہیں مانگی جا تی جب وسائل کی کمی ہو یا آدمی کسی الجھن اور پریشانی کا شکار ہوں بلکہ دعا اس وقت بھی مانگی جانی جا تی ہے جب آدمی کے پاس تمام وسائل و اسباب موجود ہوں اور کا میابی کا قوی امکان بھی ہوکیونکہ ہمارا یمان اور عقیدہ ہے کہ وسائل اور اسباب کی موجودگی کا میابی فرا ہم نہیں کر تی ہے بلکہ کا میابی و کامرانی اللہ رب العزت کی دین ہے۔