اردو میں نعتیہ شاعری اور صغری عالم :- صبیحہ تحسین

اردو میں نعتیہ شاعری اور صغری عالم
( محراب دعا کے حوالے سے )

صبیحہ تحسین
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو و فارسی
،گلبرگہ یونیورسٹی ،گلبرگہ

علاقہ حید ر آباد کرناٹک میں ڈاکٹر صغری عالم نے نعت گوئی میں اپنے جوہر دکھائے ہیں ۔ حبِ رسول ہی نعت گوئی کی بنیاد ہے ۔نعت تقدیسی شاعری کے زمرے میں آتی ہے یہ ادب کی ایک معروف اور مانوس صنف ہے دنیا کی ہر زبان میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت لکھی جارہی ہے۔

لفط ’’نعت‘‘ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کے لئے مختص ہوگیاہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ کو بیان کرنے کے لئے نعت سے زیادہ کوئی شاعری برتر نہیں۔ نعت میں شاعرسرور کونین ﷺکی ذات اقدس کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرتاہے۔ اکثر شعرا نے نعت گوئی کو باعث سعادت و نجات گردانا ہے۔ صغری عالم کی نعتوں کے متعلق علی احمد جلیلی لکھتے ہیں:
’’ ڈاکٹر صغری عالم جانی پہچانی شاعرہ ہیں ۔ اپنے علمی وادبی انہماک سے خود کو روشناس کرواچکی ہیں۔ اب ’’محراب دعا‘‘ ان کی نعتوں کا مجموعہ چھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔ ہو اس بات کا مظہر ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس مقدس صنف سے بھی وابستہ کررکھاہے نعت بہر صورت نعت ہے اس کی تخلیق کے دوران جو عقیدت واردات کا ر فرما رہتی ہیں اس میں کسی قسم کی درجہ بندی قابل تحسین نہیں۔ سخن شناسی اور شعری محاسن کی قدریں اپنی جگہ ہیں۔ؔ ؔ ……… غزل کے مزاج کے مخصوص اثرات کے سبب غزل کے نعت گویوں کے یہاں تغزل کا رنگ بھی اپنا اثر دکھاتاہے۔ یہ اثرات ’’محراب دعا‘‘ کی نعتوں میں بھی نمایاں ہیں ۔ صغری عالم نے اپنے نعتیہ مجموعے کے ذریعہ حضور رسالت مآب میں ایمان افروز نذرانہ عقیدت واردات پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے وہ یقیناًمبارک ومسعود ہے ۔اور یہ مستقبل میں ان کی نعت گوئی کے امکانات کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے ‘‘۔
ڈاکٹر صغری عالم بھی عاشق رسول تھیں ۔ ان کے گھر کا ماحول اور بچپن کی تربیت نے انہیں مذہبی دھارے کی طرف موڑ دیا تھا۔ ویسے خواتین عموما مذہب کی پابنداور اللہ و رسول کے فرمان پر عمل پیر ا ہواکرتی ہیں ۔ ان کے دلوں میں حب رسول ﷺبھی موجزن ہوتاہے مگر اس کا اظہار ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ ہزاروں میں دوچار ایسی خواتین ہوتی ہیں جو اس کا اظہار کرتی ہیں ۔ انہیں دوچار خواتین میں سعادت مند خاتون صغری عالم بھی ہیں۔ جنہوں نے غزل کے ساتھ ساتھ حمد ونعت بھی لکھی جس میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عقیدت چھپی ہوئی ہے ۔ایسے عشق رسولﷺ کی برکت ہی کہا جاسکتا ہے کہ محترمہ کے قلم نے ایسے ایسے گہر پارے صفحہ قرطاس پر بکھیرے جو لا قیمت ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری ایک خاتون کے جذبات و عقیدت میں ڈوبی ہے۔ ذات نبوی ﷺسے والہانہ محبت کی آئینہ دارہے۔چند اشعار ملاحظہ ہوں؛
مجھ کو خاک مدینہ میں تر کیجئے
مرے دونوں جہاں با ثمر کیجئے
سردار انبیاء ہیں سرور دوجہاں
کیا کیا بیاں کروں فضیلت رسول پاک
میں نہ لکھ پاؤں گی توصیف محمد صغری
اتنا آساں نہیں توصیف پیمبر لکھنا
ثنا ئے محمد لکھی جب بھی ہم نے
تقدس قلم کے قلم دیکھتے ہیں
جنہیں نعمت خوش نگاہی خدا دے
حرا دیکھتے ہیں حرم دیکھتے ہیں
کیا کائنات اور یہ امت رسول پاک
قائم ہے آپ ہی سے مشیت رسول پاک
صغری تو جاں بلب ہے،تڑپتی ہے رات دن
اب جلد ہو نصیب ،زیارت رسول پاک
نعت گوئی ہر کس و ناکس کے بس کا روگ نہیں یہ شرف اور سعادت مندی اسی کو حاصل ہوتا ہے جس پر فضلِ خداوندی ہو اور فیض رسالت مآب بھی۔ صغری عالم کے موضوعات روایتی ہیں۔ جیسے کیفیت فراق ، زیارت رسول کی تڑپ حرا اور حرم دیکھنے کی تمنا۔ خاک طیبہ میں دفن ہونے کی آرزو وغیرہ۔صغری عالم نے پاکیزہ روایتوں کی پاسداری کی ہے۔انہوں نے اپنی نعتوں کے حوالے سے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزگی و نفاست ،حسن اخلاق ، اسوۂ حسنہ ، جلال و جمال، معجزات وکمالات، اختیارات و تصرفات، جود و سخا ، عفو و در گزر، لطف و عطا کے علاوہ فراق حبیب ،ہجر ودیار رسول،آپ سے استغاثہ و فریاد، احساس گناہ،شفاعت طلبی، اصلاح معاشرہ اور انقلاب امت جیسے موضوعات پیش کئے ہیں۔ صغری عالم کا وصف یہ ہے کہ ان کا کلام تصنع و بناوٹ، افراط و تفریط اور مبالغہ آرائی سے پاک بھی نظر آتاہے۔اس ضمن میں ’’ محراب دعا‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئی سید معصوم رضا رقم طراز ہیں؛
’’اس کے (محراب دعا)دوسرے حصے میں ’’ شان حرا ‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت ۴۴ نعتیہ کلام ہیں۔ جس میں ڈاکٹر صغری عالم نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے پاکیزہ خیالات کا اظہار کیاہے ۔ اور آنحضرت محمد کی سیرت اقدس کے روشن پہلوؤں سے دلوں کومنور کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ان کے نعت کا ہر شعر معنی و مطلب کے لحاظ سے خلوص کا آئینہ دار ہے۔ ……….. ڈاکٹر صغری عالم نے بھی اپنے کلام کے ذریعہ اللہ تعالی اور اس کے رسول کے وسیلے سے اپنی خواہشات و منتہائے آرزو کی تکمیل کا اظہار کیاہے۔ ڈاکٹر صغری عالم نے اپنی تمام شاعرانہ کوشش کو حمد اور نعت کے مجموعے کے طور پر ’’ محراب دعا‘‘ میں پیش کرکے اپنی مذہبی ذمہ داری کو پورا کیاہے ۔ جس میں شاعری کے اصول کی پابندیوں کو نظر میں رکھتے ہوئے پل صراط کا سفر طے کرکے اپنی شاعرانہ سلیقہ مندی او رسنجیدہ شاعری کا ثبوت پیش کیاہے‘‘
بارگاہ رسالت مآب وہ بارگاہ ہے جہاں ذی عزت اور صاحب حیثیت افراد بھی اپنا دل جھکاتے ہیں ۔ اپنے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، دامن دراز کرتے ہیں۔ شفاعت طلب کرتے ہیں، صدقہ طلب کرتے ہیں اور دلِ آرزو مند بس اس آرزو میں خون ہوتارہتا ہے ایک نظر کرم ہوجائے تاکہ دنیا اور آخرت کا مرحلہ سنور جائے، حشر کی شرمندگی سے بچ جائے ۔ ان کی نعتوں میں محبت و عقیدت کا ایک طوفان ہے۔ اس میں سلاست شیرینی اور روانی ہے ۔ کہیں کہیں ایسا لگتاہے کہ جیسے وہ غزل کہہ رہی ہیں ۔ جس کا محبوب محبوب الہی ہے ۔ ان کاجذبہ دروں کے فطری وارفتگی اور والہانہ شیفتگی سے شاعری میں لطف پید کردیتی ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں ؛
ہوختم میری جان محمد کے شہر میں
دو گز کا ایک مکان محمد کے شہر میں
نبی کا نام ہے خیر البشر حبیب خدا
بتول فاطمہ ہے نام آل احمد کا
نزول پاک قرآن کا ہوا اقراء کی سورت سے
میرے امی لقب کے نام پر علم وہنر صدقے
حاصل ہو ہر دعا کو وساطت رسول پاک
آنکھوں کو ہو نصیب زیارت رسول پاک
سانسوں کی تار تار میں سبحانہ ، کا ورد
کیا کیا ہوئی ہے مجھ پہ عنایت رسول پاک
دیجئے مجھ کو پناہیں یا رسول مصطفی
فخر موجودات عالم آپ ہی کہف الوری
رحمت کا ہر طرف ہے سماں جاکے دیکھئے
گنبد ہے ایک کتنی کماں جاکے دیکھئے
ملتی ہیں حاجیوں کو سند شہر نبی سے
تصدیقِ مغفرت بھی وہاں جاکے دیکھئے

صغری عالم کی نعتیہ زنبیل میں سرکا ر دوعالم صلی علیہ وسلم کی محبتوں اور عقیدتوں کی کبھی نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے انہوں اپنے نعتیہ شعروں میں کتابِ ہدایت کا قرینے سے استفادہ کیا ہے۔ کہیں کہیں وجدانی کیفیت بھی پید اہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعر ی کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے قاری کو نعت نبی ﷺکے حوالے سے عقیدت کے ساتھ اطاعت کے دائرے میں لانے کی شعوری و دانستہ کوشش کی ہے۔ صغری عالم کی نعتوں کا خاصہ عجز و انکساراور فکر عاقبت ہے ان کی نعتیں نہایت بلند پایہ کی ہیں۔ جس میں عاجزانہ دعا ہے کہ اللہ اور اس کے حبیب ﷺدنیا وآخرت میں ان پر اپنا سایہ رحمت برقرار رکھے۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں؛
دربار مصطفی میں ہمار اسلام عرض
اک سلسلہ دعا کا وہاں جاکے دیکھئے
رحمت تمام روضہ اطہر ہی سے شروع
کیا ہیں حدودِ ارضِ جہا ں جاکے دیکھئے
خوشے کھجور کے ہیں مدینے میں رزق ہے
اندازہ کرسکو نہ گما ں جا کے دیکھئے
یا خلیل یا مطیع یا شہید یا سابق
یا محمد بخش دیجئے میں ہوں عاصی پر خطا
مجھ پہ ہو رحم و کرم کا سلسلہ درسلسلہ
رحمۃ اللعالمین ہیں آپ ہی صدر العلی

صغری عالم کی نعتیں شاعری میں الفاظ غزلیہ شاعری سے مختلف ہیں نعت کاذخیرہ الفاظ ایک ایک تشخص رکھتاہے ۔ اس لئے کہ اس تعلق قرآن و حدیث اور اسلامی تاریخ سے ہے۔ صغری عالم کے پاس ذخیرہ الفاظ و معلوما ت کشاہیں اور انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب و احترام اور شائستگی کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔
نعت گوئی میں ضمائر کا استعمال اور ان کے مراجع کا تعین ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ صغری عالم نے ضمائر کا استعمال حد درجہ قرینہ اور سلیقہ سے کیا ہے۔ کیونکہ وہ ایک خاتون ہیں کہیں بھی اپنی سلیقہ مندی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ انہوں نے اس بات کاخصوصی خیال رکھا ہے کہ کو ن سی ضمیر کس ذات کے لئے استعمال ہورہی ہے۔ اور اس کاتعلق عبد سے ہے یا معبو د سے ، نیز انہوں نے ساتھ ہی اس با ت کو بھی ملحوض رکھا ہے کس ضمیر کا مرجع کیا ہے۔نعت ایک انتہائی محترم صنف ہے ۔ اور رحمت پروردگار بھی عاشقان رسول پر نازل ہوتی ہے۔ اور انہیں نعت گوئی و نعت خوانی کی توفیق عطاکرتاہے۔ دراصل نعت گوئی مومن کا وظیفہِ حیات ہے اور بقول شخصے ’’ ادیب کا سرمایہ فن میں نعت ہی میں پوشیدہ ہے نعت گوئی سے کلام میں قوت پیدا ہوتی ہے‘‘ ۔ صغری عالم بھی اسی خیال کی حامل تھی ۔
صغری عالم کا وصف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تمام نعتیں ’’ غزل ‘‘ کے فارم میں لکھی ہیں ۔اور کہیں کہیں نعتوں میں رنگ تغزل چھلکتا ہے ۔ انہوں نے نظم یا آزاد غزل کے فارم میں نعت نہیں لکھی۔ کیونکہ پابند فارم میں موضوعات اور تنوع کی گنجائش کچھ زیادہ ہے۔ ان کی نعتوں کا مرکز و محور ’’ ذات محمد‘‘ ﷺہے۔
نعت کی بنیا د دراصل ’’ عشق رسول‘‘ﷺ پر ہے۔ اور عشق رسولﷺ ایمان کی جان ہے اور اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہے۔جس کا عشق جتنا مستخکم اور گہرا ہوگا وہ رسول اکرمﷺ کی شان اقدس میں مدح سرائی ڈوب کر کرے گا۔ اور جس کا عشق سطحی ہے اس کے اشعار میں عشق کا رنگ گہرا نہ ہوگا فن نعت میں کسی قسم کی تخفیف روا نہیں ہے۔ صغری عالم کی نعتیں عشق محمدی میں ڈوبی ہوئی ہیں ۔ ان کے دل میں عشق رسول کی فراوانی کچھ زیادہ ہی نظر آتی ہے ۔ اس لئے ان کی شاعری میں اثر پذیری ہے ۔ انہوں نے عشق محمدی کو شعر ی پیرہن عطا کیا ہے وہ جانتی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ذکر سے اپنی زبان تر و تازہ رکھنا بڑی سعادت ہے۔ اگر ذکر تحریری شکل میں ہو تو عوام الناس تک اس سے مستفیض ہوسکتے ہیں ۔ در اصل ذکر رسول علامت عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ انہوں نے اپنی عقیدت کا اظہار مختلف انداز میں کیا ہے۔ ان کی شاعری عقیدت و عشق رسول کا مظہر ہے ۔ ان کی شاعری خیالات کی ندرت اور جذبے کی پاکیزگی سے مزین ہے ۔ صنعتوں کے استعمال کے ساتھ ساتھ افکار کی بلندی بھی نظر آتی ہے ۔ درحقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کما حقہ مدح وثنا کسی بشر سے ممکن نہیں ۔ تقریبا نعت گو شعرا نے سخن گستری اور طبع آزمائی کی لیکن اپنے عجز و قصور کا اعتراف کیا ہے۔ بارگاہ رسالت کی منزل رفیع کا نظارہ بڑے بڑے صاحبِ رفعت سے نہیں ہوسکا ۔ سارے بے دست و پا ہوجاتے ہیں ۔ صغری عالم نے ہمیشہ ہی سے عجز و انکساری کا اظہار کیا ہے چاہے غزلیہ شاعری ہوکہ حمدیہ یا نعتیہ کلام ۔ محترمہ ہر جگہ سراپا عجز و انکسار کا پیکر بنی ہوئی ہیں ۔چند شعر پیش ہیں ؛
میں جو سر جھکائے کھڑی رہی حضور ہی کی حضور میں
کہ بلائیں سر ہی سے ٹل گئیں مرے دوجہاں کی بات ہے
وہ نور نور کی جالیاں و فقر سلطاں کی شوکتیں
جو فرشتے سرکو جھکارہے یہ نبی کی شان کی بات ہے
میں سانس بھی لیتی ہوں بس ان کی اجازت سے
صغری کلید ان کی اور ان کا ہی تالا ہے
ہاتھوں میں صحیفہ ہے، جنت کا قبالہ ہے
اور ورد محمد سے اک نور کا ہالہ ہے
امی لقب ہوں واقف جملہ امور ہوں
منشائے ایزدی ہے ہمارا حبیب ہے
اللہ کی صورت ہی صورت ہے محمد کی
اور اس کے سوا ہم نے دیکھا ہے بھالاہے
آنکھیں ترس رہی ہیں مدینے کی را ہ میں
یہ قافلہ تو آج کیوں اتنا دبیب ہے
دل میں ہے ان کا ذکر آیات کی طرح
اللہ کی ہی شان محمد خطیب ہے
ہاتھوں میں صحیفہ ہے، جنت کا قبالہ ہے
اور ورد محمد سے اک نور کا ہالہ ہے

صغری عالم کا وصف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے جذبات و احساسات کو کمالِ عقیدت میں متوازن اور فدیانہ انداز سے رقم کیا ہے ۔ ان کے خیالات کے اظہار میں مرو وزن کی تخصیص نہیں ۔ ان کی شاعر ی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے گہری وابستگی ، والہانہ محبت اور رابطہ و تعلق کا مظہر ہے اس میں سچائی خواہ ذہنی ہو یا اخلاقی اساسی درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے یہاں موضوعات میں تنوع پایا جاتا ہے۔ سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح اور بنی نوع انسا ن پر آپ کے احسانات و فیضان ، آپ کی تعلیمات ، امانت ، صداقت ، دیانت ، محبت ، اخوت ، بخشش، عنایت ، جودو سخا، فضل وعطا، علم و حلم، جیسے اعلی اوصاف و اخلاق حمیدہ کے ساتھ ساتھ شہر مکہ و مدینہ کی تقدیس و حرمت کو بھی بیان کیا ہے۔ اور ان کی تمنا یہی تھی کہ انہیں سرزمین مدینہ پر دو گز زمین کا مکان مل جائے۔ صغر ی عالم نے بھی اپنی نعتیہ و حمدیہ شاعری کو اپنی بخشش کا ذریعہ قرار دیاہے۔
ایک اہم بات یہ ہے کہ خواتین میں شاعری کے رجحانات کم پائے جاتے ہیں تاہم قدیم زمانہ ہو یا نیا عہد خواتین شاعری میں اپنا لوہا منواتی رہی ہیں۔ شمالی ہند ہو یا جنوبی ہند کی زمین ہر قطعہ پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کرنے والی خواتین ہر عہد میں رہی ہیں اور قیامت تک رہیں گی کیونکہ ہر لمحہ اللہ کے ذکر کے ساتھ نبیﷺ کا بھی ذکر ہورہا ہے۔ صغری عالم کی نعتیہ شاعری کے مطالعہ کے بعد شاید ہی کوئی شخص ہوجو متاثر نہ ہو ۔ شاعرہ نے اپنے جذبات و احساسات کو جس طرز اسلوب و ادراک سے واضح کیا ہے ۔ وہ قابل مبارک باد ہے۔
صغری عالم نے اپنی نعتیہ شاعری میں جگہ جگہ مقدس سرزمین مکہ ، مدینہ ، فیضان رسول ، اور آپ کی تعلیمات کے نقوش منور کئے ہیں ۔ شاعرہ کا وصف یہ ہے کہ انہوں نے یہ نقوش اخلاص ، عقیدت اور دردمندی کے ساتھ ابھارے ہیں۔صغری عالم نے ایک ہی ردیف قافیہ میں طویل طویل نعتیں لکھی ہیں ۔ اور ایسے قافیے استعمال کئے جو عام طور پر پڑھنے میں نہیں آتے۔قافیے ملاحظہ ہوں؛
سارے رسول جانے ہیں قدرت کا آئینہ
قرآن بھی ہے آپ کی مدحت کا آئینہ
سبقت، بعثت، منت ، مہلت، خصومت ، ہیئت ، وکالت ، وسعت، مروت، رغبت، ضیافت، لفوحت، کثافت، ابنت، شامت، رحلت ، بہجت، بدعت، تمت ، شفقت، صبغت، ارادت، نخوت ، طہارت، شباہت، طلعت، علوقت، رضاعت، قامت ، طراوت، طلاوت، اصالت ، صناعت اور عزلت وغیرہ۔ایسے الفاظ فارسی اور عربی شاعری میں مل جاتے ہیں ۔ مگراردو شاعری میں ان دنوں بہت سے الفاظ کم استعمال ہورہے ہیں۔ اس میں چند الفاظ خصوصا تقدیسی شاعری کے لئے مختص ہیں اس سے شاعرہ کے ذخیرہ الفاظ کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور ایسے ثقیل الفاظ کے استعمال سے ان کی قادرالکلامی اور فنی دسترس کا علم ہوتاہے ۔
صغری عالم نے کمالِ احتیاط سے نعت گوئی کا شرف حاصل کیا ہے ۔ اور شاعری میں کئی معنوی وسعتیں پید اکی ہیں ۔ اپنے نعتیہ کلام کے ذریعہ یہ ثابت کردیا کہ نعت گوئی دراصل ایک سعادت بھی ہے اور عبادت بھی ۔ صغری عالم کا وصف یہ بھی ہے کہ انہوں نے’’ با خدا دیوانہ باش و با محمد ہوشیار‘‘ کے مصداق سنبھل سنبھل کر نعت گوئی کا حق ادا کیا ہے۔المختصر ان کے نعتیہ کلام میں عشق کی خوشبو،عقیدت کی چاشنی، جذبے کا بہاؤ،دررسول پر حاضری کی تڑپ،فراق و ہجر کی کیفیت، مدینے میں تدفین کی آرزو،شفاعت کی طلب وغیرہ سے معمورہے ۔ انہوں نے اپنے پاکیزہ جذبات کو شعری اظہار کا وسیلہ بنا یا ہے۔ بر جستگی ، سلاست روانی، فصاحت و بلاغت ان کی شاعری کا خاصہ ہے ۔ پیچیدہ اور سخت سے سخت مضمون وردیف کو آسان تراکیب و خوش اسلوبی سے شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ جس سے شاعرہ کی قادر الکلامی کا بخوبی اندازہ ہوتاہے۔ ان کا شگفتہ لب ولہجہ اور شیریں و شستہ انداز ان کے افکار کی تجسیم میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے ۔صغری عالم کی عقیدت سے بھرپور شاعری میں شعریت ، خیالات کی ندرت، جذبے کی پاکیزگی اور اثر آفرینی ان کے کلام کو گراں قدر بناتی ہے۔
——-
Sabiha Tahseen
Research Scholar
Dept. of Urdu & Persian
Gulbarga University – Gulbarga-KS