سیّدعارفؔ نعمانی کی نعتیہ شاعری
(اوراقِ دل کے حوالے سے )

ڈاکٹر شیخ صفیہ بانو اختر حسین
احمدآباد (گجرات )

نعت اردو کی مقبول اصناف میں سے ایک ہے۔ اردو کے عالمی ،آل انڈیااور مقامی تمام مشاعروں کا آغاز نعتِ پاک کے ذریعے ہوتا ہے ۔ مشاعروں میں داددینے اور وصول کرنے کو بڑی اہمیت حاصل ہے نعت وہ صنفِ سخن ہیں جس کے بارے میں سب کا نظریہ یہی ہے
؂ زبان جب بھی سنائے رسول کرتی ہے
سخن کی داد خدا سے وصول کرتی ہے

سیّد عارفؔ نعمانی قادریہ سلسلے کے پیرو مرشد ہیں ۔تلنگانہ کے ضلع کرنول کے شہر ادونی میں رہتے ہیں۔ دورِ حاضر میں جن لوگوں نے نعت گوئی میں اردو شاعری کو نئی جہت بخشی ہے ان میں سیّد عارفؔ نعمانی کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے اردو کی کئی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور ہر صنف میں اپنا نرالہ اور اچھوتا رنگ دکھایا ہے ۔ انہوں نے نعت کو نیا لب و لہجہ اور نیا آہنگ دیا ہے جو نعت کے حوالے سے ان کی انفرادیت کا جزو لاینفک ہے ۔
سیّدعارفؔ نعمانی نصف صدی سے زیادہ عرصے سے اردو زبان و ادب کی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اب تک ان کے پانچ نعتیہ مجموعے منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔ان کا پہلا مجموعہ ۱) کعبہء دل ،دوسرا مجموعہ ۲) آئینہء قلب ، تیسرا مجموعہ ۳) پرِ جبرئیل ،چوتھا مجموعہ ۴) بیاضِ عشق اور پانچواں مجموعہ ۵) اوراقِ دل جو ابھی ابھی یعنی ۲۱۰۷ عیسوی میں منظرِ عام پر آیا ہے۔ اس کتاب کا انتساب انہوں نے اپنی اہلیہ سیّدالنساء کے نام معنون کیا ہے ۔بقول عارف ؔ نعمانی کہ جنہوں نے ان کے جان لیوا مرض vertigo یعنی سر چکرانا کے دوران ان کی حد درجہ خدمت کی اور خدمت کا حق ادا کردیا ، اور بقول عارفؔ نعمانی کے جنہوں نے اس جان لیوا مرض کے دوران اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرکے مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ تعالی ٰ کے توسط سے انہیں واپس صحت دلائی ۔
اورقِ دل کا پیش لفظ ڈاکٹر سیّد وحید کوثر ‘سابق صدر شعبہء اردو ادونی آرٹس اینڈ سائنس کالج نے لکھا ہے جو کرنول سے نکلنے والے ماہنامہ ’بزمِ آئینہ ‘ کے مدیر اعلیٰ ہیں ۔عشقِ حقیقی ایک مشکل اور پیچیدہ روحانی عمل ہیں جو معشوق کے حُسن و جمال اور عظمت و رفعت کے ولولہ خیز جذبے میں وجدان کی صورت میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔عشق حقیقی محبوب کی ذات سے پردے اٹھنے لگتے ہیں اور انکشافات ہونے لگتے ہیں سیّد عارفؔ نعمانی صاحب کی شاعری ان کے عشق حقیقی کی منہ بولتی تصویر ہے نعت کہنا پڑھنا یا لکھنا سنتِ الٰہی ہے ۔ محب ہمیشہ محبوب کی تعریف سے خوش ہوتا ہے اللہ بے مثل خالق اور محبّ ہے اور محمد ﷺ بے مثل مخلوق اور محبوب ہیں ۔ جس کی تعریف اللہ تعالیٰ کریں اس ذاتِ عظیم کی تعریف خاک سار انسان سے ہو پائے یہ ممکن نہیں لیکن عشقِ رسولٌ میں ڈوب کر سیّد عارفؔ نعمانی جیسے شاعر اپنے نعتیہ کلام کو عشقِ حقیقی کے مچلتے جذبات کا آئینہ خانہ بنا دیتے ہے ۔
اورقِ دل میں نعتوں کے علاوہ مناقب بھی ہیں ۔جو اولیا ء اللہ سے ان کی عقیدت اور محبت کے ضامن ہیں ۔عارفؔ صاحب نے بڑے ہی سادہ انداز میں اولیاء اللہ کی سادگی اور بے لوثی ،توکّل غِنا جیسی بے شمار صفات بیان کیے ہیں ۔ ان کے اعلیٰ کردار اور افکار کو بڑی عمدگی سے اثر آفرینی پیرائے میں اشعار میں ڈھالا ہے ۔ان کے کلام میں روانی اور سلاست ’آمد اور آورد ‘ کے فرق کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے بعض جگہ سنگلاخ زمینوں اور مشکل قوافی کو استعمال کرکے اپنے کو ایک کہنہ مشق شاعر تسلیم کروالیا ہے ۔ ’’ اپنی بات کے تحت سیّد عارفؔ نعمانی نے لکھا ہے کہ ان کی غزلوں کے دو مجموعے (۱) بیاضِ عشق اور (۲) حرفِ آگہی کو ( تلنگانا ریاست بننے سے پہلے آندھرپردیس اردو آکادمی سے انعام پاچکے ہیں ۔ نثر میں انہوں نے کئی رسالے تصنیف کیے ہیں جن میں (۱) پیرانِ طریقت (۲) زیارت قبول (۳) ادونی تاریخ کے آئینہ میں (۴)تاریخِ جامع مسجد (ادونی ) (۵) تذکرہ حضرت طاہرالقادری ۔
سیّد عارفؔ نعمانی ادونی کے اینگلو عربک ہائی اسکول میں استاد تھے سن عیسوی ۲۰۰۲ ؁ میں سبکدوس ہونے کے موقع پر ڈاکٹر محمد صدیق نقوی نے ’ عارف ؔ نعمانی شخصیت اور فن ‘ نامی ۲۰۸ دوسو آنٹھ صفات پر مشتمل کتاب الٰہ آباد سے شائع کی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور نقّادوں اور مضمون نگاروں کے مضامین شائع تھے ۔ اس کتاب کی بڑی پزیرائی ہوئی تھی آندھرپردیس اردو آکادمی نے انہیں انعام سے نوازہ تھا ۔ اوراقِ دل کی اشاعت پر محبوب نگر کے شاعر جناب نور آفاقی صاحب نے تین رباعیات بدست جناب تاج الدین (اے۔ او ضلع پولیس آف محبوب نگر ارسال کی تھیں۔ذیل کی رباعی عارف ؔ نعمانی سے عقیدت کی نمائندگی کرتی ہے ۔
آے ہیں جو تم مست نظر اے عارف
نعتوں کی مہک کا ہے اثر اے عارف
اللہ تمہاری کرے عُمر اور دراز
خوش رکھے تمھیں زندگی بھر اے عارف
نعت ایک نازک صنف سخن ہے معمولی سی چونک اور لغزش شاعر کو کافر مشرق اور مرتّد بنا دیتی ہے وہ ثنا خوانِ رسول مٹ کر گستاخوانِ رسول میں شمار ہوجاتا ہے ۔ اردو میں نعت گوئی کی روایت قدیم ہے ابتدان شعراء تبرکاً نعت کہا کرتے تھے ۔ دھیرے دھیرے اردو میں نعت گوئی میں غزل کی طرح ایک اہم صنفِ سخن عروج پایا۔شاعری میں تخیل، فن ،اور نظریہ اعلی ترتیب ہوتے ہے لیکن صنفِ نعت میں یہ ترتیب الٹ جاتی ہے اس تنازل اور پس منظر میں جب ہم سیّد عارف ؔ نعمانی کے نعتیہ مجموعہ اوراقِ دل ،میں شامل نعتوں کا بغور مطالعہ کرتے ہے ہو پتہ چلتا ہے کہ ان کے نعتیہ کلام میں زبان و بیان کی سادگی ہے شاعرانہ تخیل ہے اور فنِ نعت گئی کے اصول و محاسن کی پاسداری ہیں چونکہ عارفؔ صاحب خود ایک پیر کامل ہیں اور ایک عالمِ با عمل ہیں اسلئے ان کا نعتیہ کلام کفر ،شرک ،بدعات ،گمراہ عقائد و نظریات سے پاک ہیں ۔ عارفؔ نعمانی نے اپنے کلام میں مبالغہ آرائی سے پرہیز کیا ہے ۔ یہی خوبیاں ان کی نعتیہ شاعری کو معراج عطا کرتی ہے ۔ ان کی پہلی نعت کے مطلع میں محمدمصطفی ﷺ کی شانِ عظمت یوں جھلکتی ہیں ۔
؂ رونقِ ہر دو جہاں ہیں مصطفی
شمعِ بزمِ لامکاں ہیں مصطفی
اسی نعت کے یہ شعر بھی دیکھئے
؂ رب کا یہ قرآن میں پیغام ہے
خاتمِ پیغمبراں ہیں مصطفی
؂؂ رحمتِ حق کا یقیناً آپ ہی
ایک بحرِ بے کراں ہیں مصطفی
؂ شافعِ محشر ، امام الا نبیا
تاجدارِ مرسلاں ہیں مصطفی
سیّد عارفؔ نعمانی نے عام ڈگر سے ہٹ کر نعتیں کہی ہیں ، ان کی نعتوں میں وحدانیت ، توحید ، ایمان و عقائد کی پختگی نظر آتی ہے ۔وہ اپنے محبوب نبی ﷺ کے عشق میں ڈوب کر اپنے اشعار قلم بند کرتے ہوئے نظر آتے ہے ۔سیّدعارفؔ نعمانی کی نعت گوئی غیر محتاط روش کا شکار نہیں ہے ، ان کا جذبہء ایمان بھی غیر متزذل نہیں ہے ان کے نعتیہ کلام میں دین و ادب کا ایک حسین امتجاج دیکھنے کو ملتا ہے ۔
؂ گھر میرا آج نور سر معمور ہوگیا
اعجاز ہے حضور کے ذکر جمیل کا
؂ توصیف کس زباں سے کروں آپ کی رقم
ہے وصف بے مثال شہِ بے عدیل کا
؂ یقیناً جامِ کوثر سے نوازا میں بھی جاؤں گا
ہوں تشنہ کام میکش ساقئ کوثر محمدﷺ کا
سیّد عارفؔ نعمانی کا مجموعہ کلام اوراقِ دل اپنے عنوان پر پوری طرح صادق آتا ہے ہر نعت میں عارفؔ صاحب نے اپنے دلی جذبات کو خیالات کی بلندی ،زبان کی سادگی ، احساسات کی پاکیزگی ، افکارات کی جددت و ندرت ،لب و لہجہ کے منفرد زیر و بم اور رنگ و آہنگ کے ساتھ نادر انداز میں پیش کیا ہے ۔
؂ وہ بزمِ نعت میں آکر بھی سنتے ہیں ورنہ
درود سنتے ہیں شاہِ ہدیٰ مدینے سے
؂ نعت میں تیرا سراپا میں لکھوں تو کیا لکھوں
نطق کو یار ا نہیں ہے رحمتہ اللعالمیں
؂ ہم بے کسوں کا ملجا و ماویٰ تمھیں تو ہو
ٹوٹے ہوئے دلوں کا سہارا تنھیں تو ہو
سیّد عارف ؔ نعمانی کا نعتیہ کلام نہ صرد دکن کے بلکہ اپنے ہم عصر نعت گوہوں میں انفرادی مقام رکھتا ہے ۔ ان کے کلام میں دو بدو گفتگو جیسا انداز بھی پایا جاتا ہے ۔ ان کے اشعار کا بیانیہ بولتا ہو ااور مشاہدئے حق کی زبان میں گفتگو کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔
؂ قلم خوشبوبکھیرے جارہا ہے
زباں تر ہے ثنائے مجتبیٰ سے
؂ بیمار ان کا ہوں نجھیں کہتے ہیں مصطفی
میرا علاج ان کی حسیں تر نہیں
؂ ہو ر ہے ستم پر ستم یا نبی
ہم سہیں کب تلک رنج و غم یا نبی
؂ آنکھ دے آنسو رواں ہونے لگے
کر گئی دل پر اثر نعتِ رسول
؂ حریمِ ناز کے جلوے ہیں ہر سُو
میں یہ کس کے مکاں تک آگیاں ہوں ؟
؂ مجھے کوئی بھی عارفؔ غم نہیں ہے
انیسِ بے کساں تک آگیا ہوں
سیّد عارف ؔ نعمانی نے عام نعت گو شعراء سے ہٹ کر اپنے نعتیں تخلیق کی ہیں ۔ ان کی نعتوں میں ان کا سوز وگدازاپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نمایاں ہیں ۔ وہ اپنے محبوب یعنی خدا کے حبیب کے عشق میں دل سوزی اور جگر سوزی کا اظہار سادہ مگر اپنے ہی انداز میں کرتے ہے ، وہ اپنی علمی اور عملی انتساری کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ پڑھنے والا اسے اپنی ہی سوچ کے مطابق پاتا ہے ۔
؂ کیا لکھوں میں آپ کی شاں
آپ فخرِ انس و جاں ہیں
؂ محشر کی تشنگی سے بچا لیجیے حضور
اک گھونٹ ہو مجھے بھی عطا سلسبیل کا
؂ نظرِ کرم سے ایک شقی کو کیا سعید
کانٹے کو جس نے پھول بنایا تمھیں تو ہو
؂ آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
ذکر تھا آپ کا دم بہ د م یا نبی
؂ تڑپ رہا ہوں شب و روز ان کی فرقت میں
الٰہی خواب میں دکھلا دے مجھ کو روئے رسول
؂ سر جھکائیں نہ کبھی غیر خدا کے آگے
ہم محمد ﷺ کے غلاموں کی یہ پہچان رہے
سیّد عارف ؔ نعمانی کی نعت میں ایک طرف منفرد جذبات ہیں تو دوسری جانب ان کی نعت میں حمد جیسے یعنی خدا کی تعریف کے اشعار بھی کہیں کہیں اس اوراقِ دل میں نظر آتے ہے ۔
؂ تخلیقِ کائنات سے ظاہر ہے اُس کی ذات
محتاج کب خدا ہے ژبوت و دلیل کا
سیّد عارفؔ نعمانی کا نعتیہ کلام منفرد طرز و اسلوب کا حامل ہے ۔ یوں عارفؔ نعمانی اپنے لیے ایک الگ راہ متعین کرتے نظر آتے ہیں ،ان کے اس پانچویں نعتیہ مجموعے ’ اوراقِ دل سے اردو کی نعتیہ شاعری میں ایک ناقابلِ فراموش اضافہ ہوا ہے ۔
——-

شاعر
مبصر

متعلقہ موضوعات

جہانِ اردو

Related Posts

جواب دیجئے

Create Account



Log In Your Account



Facebook
↓