موضوعات ٹیگ ‘افسانہ’

PostHeaderIcon افسانہ – میری ماں : – ڈاکٹر حمیرہ سعید


افسانہ : میری ماں

ڈاکٹر حمیرہ سعید
صدر شعبۂ اُردو
این ٹی آر گورنمنٹ ڈگری کالج(اُناث)
محبوب نگر – تلنگانہ

اندھیرے جب اجالوں سے گلے ملتے ہیں تو اپنا رنگ اتنا حاوی کرلیتے ہیں کہ اجالا اپنا وجود ہی کھو بیٹھتا ہے۔ آج مجھے بالکل ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں نے اپنے وجود کو کھو دیا۔ سارے رشتے آج بکھر گئے تھے، احساس کی چنگاریوں کو بے بسی کی برسات نے بجھا دیا۔ ممتا کا تقدس پامال ہو چکا تھا۔مجھے لگ رہا تھا کہ میری شخصیت کا شیرازہ بکھر گیا۔ ڈائننگ ٹیبل کا سہارا لے کرمیں نے اپنے کرچی ہوتے وجود کو سنبھالا۔ پانی کا گلاس غٹاغٹ چڑھا گیا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ ۔ بلاعنوان :- مدثرگل


افسانہ-
بلاعنوان –

مدثرگل

کل اس نے مجھے ایک تصویر واٹس ایپ کی۔ وہ دبئی پہنچ چکی تھی جو نہ کبھی اس کی منزل تھی اور نہ ہی ایسا خواب اس نے کبھی دیکھا تھا۔ جو تصویر اس نے مجھے بھیجی تھی ایک ایکویریم کی تھی۔ پشت کیے ہوئے تھوڑا اونچا ہونے کے لیے پنجوں پر کھڑی نجانے کس ایک خاص مچھلی کو دیکھ رہی تھی.
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ – نقاد -:- عبدالعزیز ملک


افسانہ – نقاد

عبدالعزیز ملک
لیکچرار اردو ،
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد

وہ طویل عرصے کے بعد جب آج یونیورسٹی میں داخل ہوا تو اندر کی دنیا ہی بدلی ہوئی تھی۔وہ دس سال پہلے یہاں ایم اے کا طالبِ علم رہ چکا تھا ۔ وہ دن جو اس نے یونیورسٹی میں اپنے ہم جماعت اور اساتذہ کے ہمراہ گزارے تھے ،وہ اس کے شاندار ماضی کے شجر کی ٹہنیوں کی مانند تھے جن سے وہ اب بھی بیٹھا کبھی کبھارلطف کا رس کشید کیا کرتا تھا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ ۔ کبھی ہم خوبصورت تھے – – – – – حمیراء عالیہ


افسانہ
کبھی ہم خوبصورت تھے

حمیراء عالیہ
ریسرچ اسکالر،لکھنؤ یونیورسٹی

’’ہاں تو بتائیں کیا پرابلم ہے آپکو؟‘‘ڈاکٹر صدیقی نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی صحتمند سی دوشیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹرمیرے جسم میں کیڑے پڑ گئے ہیں ‘‘ اس نے اتنا بے ساختہ کہا کہ وہ ایک پل کو حیران رہ گئے۔
’’ارے تو کیا کینسر ہے آپ کو؟‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : محبت لا حاصل – – – – – محمد نواز

لا حاصل
افسانہ
محبت لا حاصل

محمد نواز ۔ کمالیہ

یوسف کا چہرہ اترا ہوا تھا ،وہ مجھے بہت زیادہ پریشان بھی دیکھائی دے رہا تھا ۔ مجھے اس کی پریشانی کا اندازہ تھا کیونکہ وہ اکثر اوقات اپنے گھر کے معاملات مجھ سے دل کھول کر بیان کر دیا کرتا تھا ۔ شائد اس لیئے کہ مجھ پر اسے سب سے زیادہ اعتماد بھی تھا ۔۔ صبح کی سیر میرا معمول تھا میں نے یوسف کو بھی اس کا عادی بنا ڈالا ۔ مین روڑ پر صبح کے وقت ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی ہم سڑک کنارے دور تک نکل جاتے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : یہ عشق نہیں آساں ! – – – – – سید احمد قادری

عشق
افسانہ
یہ عشق نہیں آساں – – – – – !

سید احمد قادری
Mob: 09934839110

مارننگ واک روز کا معمول تھا ریٹائر منٹ کے بعدسونی سونی زندگی میں مارننگ واک کی اہمیت بڑھ جا تی ہے، صبح سویرگھر سے نکل کر نیشنل پارک تک پہنچتے پہنچتے ہم ریٹائٹرڈ دوستوں کی تعداد پانچ سات تک ہوجاتی اور یہاں پہنچ کر دو مخصوص بنچوں پر ہم لوگ آمنے سامنے بیٹھ جاتے ‘خوش گپیاں ہوتیں ، اوران خوش گپیوں کے دوران کبھی سیاسی کبھی سماجی اور کبھی معاشرتی حالات پر طرح طرح کے تبصرے ہوتے اورہرکوئی اپنے تجربے اور مشاہدے کا بھرپور اظہار کرتا – – – – اس طرح اچھا خاصہ وقت گزر جاتا اور پھر وہی گھر’ جہاں کا سونا سونا ماحول‘ خاموش درودیوار‘ گم صم بیوی کا چہرہ اور انتظار۔۔۔ صرف انتظار۔ کسی کے فون کا۔۔۔ کسی کے کال بیل کا۔۔۔ کسی کے آنے کا۔۔۔‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ بھوک — ڈاکٹرحمیرہ سعید

افسانہ
بھوک

ڈاکٹرحمیرہ سعید
صدرشعبہ اردو
ین .ٹی.آر ڈگری کالج محبوب نگر- تلنگانہ

ماں مجھے بھوک لگی ہے ’’جیسے ہی ماں نے دروازہ کے اندر قدم رکھا میں نے بے تابی سے کہا۔
’’ٹھیرجا بیٹاابھی کچھ پکاتی ہوں‘‘میری ماں نے اپنی تھیلی میں جھانکتے ہوئے درد بھری آواز میں کہا ۔
پتہ نہیں ماں دکھی بھی تھی یا نہیں لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتاتھا کہ سارا درد انہوں نے اپنی آواز میں سمودیا ہے
’’ماں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے‘‘ مجھے رونا آرہاتھا ۔دو وقتوں سے بھوکا تھا پیٹ کا خالی کنواں دہک رہاتھا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : مُتَلَوِّن گرگٹ ؛سہ بُرُوْتی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

 گرگتافسانہ
مُتَلَوِّن گرگٹ ؛سہ بُرُوْتی

حنیف سیّد ۔ آگرہ
09319529720

نوٹ:ماہ نامہ ’تریاق‘ ممبئی ،اگست ۲۰۱۶ ؁ ء میں افسانہ بلاعنوان کاعنوان کچھ شرائط کے تحت بتانے پر پچاس ہزار روپیے کاانعام تھا، افسوس کہ کوئی بھی صحیح جواب موصول نہ ہوا۔
——–
محوِغفلت تھا مَیں؛پہلے پہل…! پھرلگا الکٹران، پروٹان ٹکرا گئے ہوں ؛ آپس میں ،بل کھاکر…!اورنا قابلِ برداشت دھماکے سے موالیدثلاثہ کا ذرّہ ذرّہ لرز گیا ؛ کرب سے،تھرّاکر….!جیسے کائنات کو؛دوپیالوں میں کس کربگھاردیاہوکسی نے جامنوں کی طرح، جھلّا کر….! پھر میرے یخ وجود میں ہلکی سی انگڑائی لی؛ حرارت نے، مسکراکر..! اُس کے بعدمیرے احساس کے ساکت سمندر کی سطح پردستک دی ؛ہوا کے معصوم جھونکے نے ،شرما کر..!اور جب میرے شعور کی کالی رات کواُفق کی نئی نویلی کرن نے احساس کرایا؛اپنے وجودکا، جگاکر.!تومیرے سامنے ایک عجیب وغریب، لحیم شحیم، نٹ کھٹ، تین مونچھوں والا گِرگَٹ ؛کھڑا مسکرارہا تھا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ: مکالمہ بہت ضروری ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید مہتاب شاہ

mehtab-shah-9افسانہ
مکالمہ بہت ضروری ھے

سید مہتاب شاہ
کراچی

اپنے آپ میں رھنے والا محسن اپنے گھرمیں سب سے بڑاتھا،اکثررشتہ داراس سے شاکی رھتے تھے کہ وہ ان سے کم کم ملتا ھے کسی کے ھاں آجانا بھی بس خوشی اور غم تک ھی محدود تھا اس کا،ایک روزایک تقریب میں سب ھی خاندان والے شریک تھے ،محسن نے سب دعاسلام اورحال احوال چاھا لیکن انتہائی قریبی رشتہ داروں میں سے اکثرلوگ اس سے دوردوررھنے کوترجیح دیتے پائے گئے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : شیطان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

stock-vector-satan-symbol-150539024

افسانہ : شیطان

محمد نواز
کمالیہ ۔ پاکستان

’’ یہ انسان نہیں شیطان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے جتنا مار سکتے ہو مارو ‘‘ مجمع سے ایک گرج دار آواز ابھری ،پھر لاتوں ،مکوں ،ٹانگوں اور تھپڑوں کا آزادانہ استعمال ہونے لگا ۔’’ مجھے تو اس مولوی پر پہلے ہی شک تھا کہ یہ ملاں نہیں شیطان ہے ‘‘ دوسری مردانہ آواز آئی اور ساتھ ہی ایک زور دار تھپڑ بھی ’’ تجھے اس داڑھی کا خیال بھی نہ آیا اس طرح کی حرکت کرتے ہوئے‘‘ ایک اور آدمی نے گھونسہ مارا جیسے یہ کوئی ثواب کا کام ہو ۔ لوگوں کے درمیان گھرا مار کھاتا یہ مولوی عزیز تھا ۔آج سے پہلے مولوی عزیز سب کا عزیز تھا ،لیکن محلے کے وہی لوگ آج مولوی عزیز کو عبرت کا نشان بنانے پر تلے تھے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : پنچھی ؛جہازکا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

افسانہ ۔ حنیف سید

افسانہ : پنچھی ؛جہازکا

حنیف سیّد ۔ آگرہ
موبائل: 09319529720

آج کی تازہ خبر،آج کی تازہ خبر، آؤ کاکا جی اِدھر..! آؤ ماما جی اِدھر..! سنو دنیا کی خبر..!۔
اِک بوڑھے نے جواں لڑکی سے شادی کرلی؛اِک پگلی اُڑی اِک سَنْت کابٹوالے کر۔
آج کی تازہ خبر،آج کی تازہ خبر۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : بند مٹھی میں ریت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

FB_IMG_1455370652213

افسانہ : بند مٹھی میں ریت

محمد نواز ۔ کمالیہ پاکستان

’’ کون کہتا ہے جوا کسی کا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ دلبر نے اپنی بیوی آسیہ کے اس سوال پر کہ جوا کسی کا نہیں ہوتا چڑھائی کر دی اور لگا اسے کوسنے ’’ سیانے کہتے ہیں ‘‘ آسیہ نے جواب دیتے ہوئے کہا ’’ ضروری نہیں سیانوں کی ہر کہی ہوئی بات سچ بھی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے ان سیانوں کوسوائے باتیں کرنے کے اور کوئی کام نہیں تھا ۔یہ کرو گے تو وہ ہو جائے گا وہ کرو گے یہ ہو جائے گا‘‘’’ سیانوں نے باتوں کا عرق نکالا ہوتا ہے انہوں نے جو بھی کہا ہے عین ویسا ہی ہوتا ہے ‘‘ دنوں میاں بیوی کے درمیان سیانوں کی کہی ہوئی باتوں پر بحث و تقرار ہونے لگی ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : گھوم رے سورج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید ماجد شاہ ( اسلام آباد)

syed Majid Shah سورج

سید ماجد شاہ

افسانہ : گھوم رے سورج

سید ماجد شاہ
مکان نمبر ۱۸۸،سٹریٹ نمبر ۲۴
آئی نائن ون ،اسلام آباد

’’جب سورج تمہاری آنکھوں کی پُتلیوں میں جذب ہو جائے گا۔۔۔ جب اس کی تیز روشنی تمہاری بینائی کے سامنے دم توڑ دے گی۔۔۔ جب وہ تمہاری جرأت کے سامنے اپنی ہستی مٹا دے گا۔۔۔تب۔۔۔اریش! تب تم اسے جو حکم دو گی،وہ مانے گا۔۔۔ وہ مجبور کر دیا جائے گا۔۔۔ اس روز وقت لپیٹ لیا جائے گا۔۔۔ماضی،مستقبل بن کر پھرتمہاری دسترس میں ہو گا۔۔۔ یہ تپ بہت کڑی ہے۔۔۔جان جائے گی یامراد بر آئے گی۔۔۔اریش!’’ یاآنکھیں نہیں ہیں۔۔۔ یا ماضی‘‘۔۔۔اس نے ان آنکھوں کا کیا کرنا تھا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : میٹھا نیم،کڑوانیم؛ کڑوانیم،میٹھا نیم ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

افسانہ ۔ حنیف سیدافسانہ
میٹھا نیم،کڑوانیم؛ کڑوانیم،میٹھا نیم

حنیف سیّد ۔ آگرہ
موبائل : 09319529720
ای میل :

اُس کو لگا: آنگن میں کسی نے میٹھے نیم کاپیڑلگا کر کوئی غلطی نہیں کی۔رُوزانہ جھاڑے گئے صاف آنگن میں نیم کا پتّاپہلے ایک گرتا،پھردو،دس،بیس ،پچاس ۔پھرجھڑی لگ جاتی۔گھرمیں پلی بکری، دن بھرپتّوں پرمُنہ مارتی پھرتی۔بچے ہوئے پتّوں کودوپہرکی تپتی دھوپ سُکھاکرکھُرکھُراکردیتی اورپھرماں اُن کوسنبھال سنبھال کرجھاڑتے ہوئے لے جاکرایک کونے میں جمع کرکے بوری میں ٹھونس ٹھونس کرذخیرہ کرلیتی۔باقی کوڑے کوکنویں کی منڈیرپرپڑے ٹین کے ڈھکّن کواُٹھاکرکنویں میں جھونک دیتی۔پڑوس کے اسکول سے ’’بھارت ماتاکی؛ جے‘‘کی آوازیں جب تب گونجتی رہتیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : شکار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

 nawaz شکار

افسانہ : شکار

محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

’’ یار حکومت نے ہر طرح کا شکار کرنے پر پابندی لگا دی ہے ‘‘ ایان نے اپنے سیل فون سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا ۔’’ تمہیں کس نے بتایا ؟‘‘ شانی نے حیرانگی سے دریافت کیا ’’ یہ دیکھو ابھی ابھی پوسٹ آئی ہے میری وال پہ‘‘ ایان نے اپنا سیل فون اپنے دوست شانی کی طرف بڑھا دیا شانی نے پوسٹ پڑھتے ہی ناگواری کا اظہار کرنا شروع کر دیا اور حکومت وقت کو کوسنے لگا ۔شانی اور اس کے دوست شکار کے شوقین تھے ، وہ باقائدگی سے شکا ر پر جایا کرتے ۔ کہا جاتا ہے انسان جس ذہین کا مالک ہو اس کو اسی سوچ کے دوست بھی مل جاتے ہیں ۔ شانی کے دوست بھی اس کی سوچ کے پیروکار تھے۔ ان کی دوستی کی بیل کالج کی زرخیر زمین سے پھوٹ کر اب یونیورسٹی کی منڈیر چڑھ چکی تھی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : آنسو‘عقیدت کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

haneef - آنسو

افسانہ : آنسو‘عقیدت کے

حنیف سیّد ۔ آگرہ
موبائل : 09319529720

’’ڈیئر سرتاج…!
’’اس وقت میری برات میرے گھر بیٹھی ہے۔میری سہیلیاں اورہم جولیاں مجھ کو دُلھن بنانے کی تیاری میں ہیں…..اور…. میرے گورے گورے من59ہدی والے ہاتھوں میں زہر کی شیشی ہے۔اس کوتو رات ہی میں نے اپنے وجود کے گوشے میں اُتار لینا چاہا تھا، لیکن.. یہ سوچ کر باز رہی:’’ انسان کے سامنے بہت سی ایسی مجبوریاں آجاتی ہیں، جن سے وہ مجبور ہوجاتاہے ۔‘‘ممکن ہے ایسی ہی کوئی مجبوری ہو تمھارے سامنے بھی….!لیکن سرتاج…!وہ مجبوری ہے کیا…؟ بتا تودو۔ جس کے سبب اتنی بڑی سزا دی تم نے ،مجھ کو۔‘‘
’’دیکھوسرتاج…! میں عورت ہونے کے ناتے تم سے وعدہ کرتی ہوں، کہ تم جوچاہو گے،ہوگا وہی ۔ میرے نزدیک تواسی جذبے کانام محبت ہے ،جواپنے محبوب کی رضا کے لیے ہو۔اور …..تم جانتے بھی ہوسرتاج….! کہ رفعت ،اپنی جان دے سکتی ہے، پیار کے اس کھیل میں۔‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : اُف ! یہ زندگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید احمد قادری

S A Qaudri زندگی

افسانہ : اُف ! یہ زندگی

سید احمد قادری
رابطہ: 09934839110
ای میل:

وقت تیزی سے گزررہاتھا۔
جاوید نے بچپن سے جوانی میں قدم رکھا،بیرون ملک میں اچھی نوکری ملی ،غزالہ جیسی خوبصورت اور تعلیم یافتہ بیوی ملی ،تین چار سال میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کاوہ باپ بن گیا ۔۔۔۔۔۔اورپھروقت کو توجیسے پرلگ گئے ہوں ۔۔۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : حقے کی بو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

Md Nawaz  حقے کی بو
افسانہ : حقے کی بو

محمد نواز (کمالیہ پاکستان )

حقے کی بو نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔ گھر کا ملازم گھر بھر میں پھیلی اس بو کو کم کرنے کیلئے جتن کر رہا تھا مگر بو تھی ختم ہونے کا نام نہ لے رہی تھی ۔ مالکن کے گھر لوٹنے سے پہلے حقے کی اس بو کا خاتمہ ضروری تھا ،ورنہ مالکن کے ہاتھوں گھر بھر کے ملازموں کی خیر نہ تھی ۔ مالکن کو حقے کی اس بو سے سخت نفرت تھی ۔ لیکن بابا تاج حقے کی بو کو پورے گھر میں پھیلائے پھرتے تھے ۔برآمدے میں بچھی چا پائی پر بیٹھ جاتے اور کشش لگانے لگتے ۔ حقہ تازہ نہ ہوتا تو ملازم کو آواز دیتے یا خود ہی حقہ تازہ کرنے بیٹھ جاتے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : دوسرا ریپ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز۔ کمالیہ پاکستان

rape

افسانہ : دوسرا ریپ

محمد نواز ۔ کمالیہ پاکستان

سول ہسپتال کے زنانہ وارڈ میں بستر نمبر 15 پہ خون میں لت پت کچی کوٹھی کے منشی اللہ دتہ کی چودہ سالہ بیٹی جسے چند نا معلوم اوباشوں نے اپنی حوس کا نشانہ بنا یا اور گندے نالے کے پاس بے ہوشی کے عالم میں پھینک کر فرار ہو گئے تھے ۔ درندوں نے بے دردی سے منشی اللہ دتہ کی کلی کو مسل ڈالا تھا ۔ڈاکٹر زاس کوہوش میں لانے کی تگو دو میں تھے ۔ ہسپتال کے باہر لوگوں کے ساتھ ساتھ میڈیا کی ایک بڑی تعداد جمع تھی ۔الیکڑونک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں نے آن کی آن میں اس خبر کو بریکنگ نیوز بنا ڈالا ۔’’ محنت کش کی بیٹی سے درندوں کی اجتماہی زیادتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نامعلوم ملزمان لڑکی کو اجتماہی زیادتی کے بعد گندے نالے کے پاس پھینک کر فرار۔۔۔۔۔‘‘ الیکڑونک اور پرنٹ میڈیاکے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پربھی یہ خبر آگ کی طرح پھیلا دی گئی ۔پھر کیا تھا ہر بندے کی زبان پر منشی اللہ دتہ کچی کوٹھی والے کی بیٹی سے اجتماعی زیادتی کی خبرتھی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : بھنگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز ۔۔ کمالیہ ۔ پاکستان

bhangi بھنگی

افسانہ : بھنگی

محمد نواز
مکان نمبر P /236 محلہ فتح پور
کمالیہ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔ پاکستان
ای میل :

جان ہا تھ میں درخواست پکڑے میونسپل کمیٹی کے چیئر مین کے دفتر کے باہر کھڑا تھا ۔ دفتر کے سامنے بیٹھے چپراسی نے اسے اندر جانے کی بجائے یہ کہہ کر باہر ہی روک لیا تھا کہ چیئر مین صاحب میٹنگ میں ہیں ۔ جان دفتر کے باہر رکھے لکڑی کے ا س بینچ پر بیٹھ گیا جو عموماً ہمارے ہر دفتر کے باہر ان لوگوں کے بیٹھنے کیلئے رکھا جاتا ہے جن سے چیئر مین کی طرح کے آفیسرز ملنا نہیں چاہتے ۔ ہمارے ملک کو اس افسر شاہی نے بے پناہ نقصان پہنچایا ہے ۔ بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھے یہ آفیسرز عرف عام میں لوگوں کی مدد اور ان کی داد رسی کیلئے ہیں ،مگر یہ دفاتر میں آئے سائلین کی داد رسی کرنے کی بجائے ان کو ذلیل و خوار کرنے کا فریضہ خوب نبھا رہے ہیں اور شائد نبھاتے چلے جائیں گے ۔ ہمارے دفاتر میں یہ افسر شاہی انگریز کے ان تحائف میں سے ایک تحفہ ہے جو جاتے وقت ہمیں تھما گیا تھا ۔ ہم نے انگریز سے تو جان چھوڑا لی مگر اس کے بنائے ہوئے قانون سے آج تک آزاد نہیں ہوئے ۔ تعلیم ،پولیس ،عدلیہ ،ڈاک ،بنک ،الغرض ہر محکمہ انگریز کے دیئے ہوئے قانون کے مطابق چل رہا ہے ۔ انگریز نے جب نو آبادیاتی نظام قائم کیا تو دفاتر کے باہر چپڑاسی بٹھانے لگا تا کہ عام آدمی ان کے دفاتر میں نہ آ سکے۔عوام پہ حکمرانی کا تصور بھی انگریز ہی کی پیداوار ہے ،وگرنہ اسلام نے تو حکمرانوں کو عوام کے خادم اور اللہ کے سامنے اعمال کا جواب دہ قرار دیا ہے ۔خلفائے راشدین نے اپنے دور حکومت میں دربار بٹھانے سے منع کر رکھا تھا تا کہ براہ راست عوام کے مسائل سن کر ان کا ازالہ کیا جا سکے ۔
مزید پڑھیں »

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
جہان اردو تاریخی آئینے میں
  • 2016-09-22 No articles on this date.
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓