موضوعات ٹیگ ‘انشائیہ’

PostHeaderIcon انشائیہ – طلاق : سیٹ، ریڈی، گو… : – جاوید نہال حشمی

جاوید نہال حشمی

انشائیہ
طلاق : سیٹ، ریڈی، گو…

جاوید نہال حشمی

”آج کوئی خاص بات ہوئی ہے کیا؟“ مجھے صبح سے واٹس ایپ، فیس بک اور موبائل پر مصروف دیکھ کر آخربیگم نے پوچھ ہی لیا۔
”ہاں، سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی۔“میں نے جواب دیا۔
”کیا واقعی؟“مارےخوشی کے وہ ایسے چیخ پڑیں گویا طلاق دینے کا استحقاق شوہروں سے چھین کر بیویوں کو دے دیا گیا ہو۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon الٰہی! میرے الفاظ میں معانی رکھ دے : – صادق رضامصباحی

صادق رضامصباحی

انشائیہ :
الٰہی! میرے الفاظ میں معانی رکھ دے

از:صادق رضامصباحی،ممبئی
رابطہ نمبر:09619034199

لکھنا ایک فن ہے ،ایک عظیم فن،مقدس فن ،حرمت والافن ،ایسافن کہ جس کے متعلق خودقرآنِ کریم قسم کھاتاہے :ن والقلم ومایسطرن ۔آیت کی گہرائی میں اترکرمعلوم کریں توپتہ چلتاہے کہ قلم کی حرمت ہر لکھنے والے کامقدر نہیں ۔اس کے لیے نیک جذبہ چاہیے اورنیت صاف ۔اگرہم اپنے قلم اوراپنی تحریرکے تئیں مخلص نہیں تو پھر الفاظ محض الفاظ ہی رہ جاتے ہیں،ان میں معانی پیدا نہیں ہوتے ۔الفاظ میں معانی اس وقت پیداہوتے ہیں جب لکھنے کاجذبہ مکمل طورپرمثبت ہو ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon احساسِ مروت کی موت پرہمارامرثیہ : – صادق رضا مصباحی


صادق رضامصباحی

احساسِ مروت کی موت پرہمارامرثیہ

صادق رضا مصباحی
ممبئی – موبائل نمبر:9619034199

اقبال نے کہاتھا
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
اگرہم اس شعرکا حقیقی مصداق دیکھناچاہتے ہیں تو ہم میں سے ہرایک کو آئینے کے سامنے کھڑے ہوجاناچاہیے ،آئینے میں جوچہرہ اور جو پیکر منعکس ہوگا وہ یقیناًاس شعرکے حقیقی مصداق تک پہنچادے گا ۔آئینے کی مثال دینے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ہم میں سے بیشترلوگ کم ازکم دوچہروں کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں اور ایسالگتاہے کہ ہم میں سے تقریباًسبھی کااحساسِ مروت کچلاجاچکاہے۔ہمیں دوسروں کی قدر وقیمت کاذرہ برابربھی احساس نہیں ،ہاں ہمارا یہ احساس اس وقت فزوں ہو جاتا ہے جب کسی سے ہمارا تعلق مادی ہوتاہے اوراس مادی تعلق کاجال مکڑی کے جالے کی طرح ہمیں ایک دوسرے سے باندھے رکھتا ہے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon دنیائے خلیج میں اُردو کا ارتقا اوراس کا درخشاں مستقبل -: نعیم جاوید


انشائیہ
دنیائے خلیج میں اُردو کا ارتقا اوراس کا درخشاں مستقبل

نعیم جاوید
دمام ۔ مملکتِ سعودی عرب
Email:
Web: www.hadafgroup.com

ادب ایک کھلا خط ہے جو لمحہ موجود میں لکھا جاتا ہے لیکن یہ’’ نامہ نور‘‘ آنے والے زمانوں کے نام ہوتا ہے۔ اگر میں یوں کہوں کہ ’’ادب اِجارہ نہیں اَمانت ہے‘‘۔ اس لئے ’’امانت‘‘ جب تک لوٹائی نہ جائے ’’خیانت ‘‘کے خدشات میں گھری رہتی ہے۔ اب آئیےخلیج کی جولانگاہِ ادب میں ہجرت کی گھڑیوں کی نادر نگارشوں کو دیکھتے ہیں جس میں پورےآفاق کا درد سمٹ آیا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انچائیہ – – – – – – – جرار احمد

جرار احمد

انچائیہ

جرار احمد
ریسرچ اسکالر ، شعبۂ تعلیم و تربیت،مانو
9618783492

نوٹ: اس مضمون کو بغیر کسی عنوان کے میں نے شعبہ اردو میں تمام اساتذہ کی موجودگی میں پڑھا تھا ، مکمل کرنے کے بعد سامعین سے میں نے عنوان کی درخواست کی تو محمد امان نے انچائیہ کہا اور سب نے اس کی تائید کی، اس طرح سے اس انشائیہ کا عنوان انچائیہ رکھا۔
جب سے موسم تھوڑا سرد ہوا تھا، ہم لوگوں کوشام کے علاوہ دوپہر میں بھی چائے پینے کی عادت سی پڑگئی تھی، مگر شام کی طرح دوپہر کے لیے باری متعین نہیں کی گئی تھی کہ کس کے بعد کون پلائے گا۔ بہر حال اسی طرح ایک روز ظہرانے کے بعد ہم لوگ اکٹھا بیٹھے چائے پینے کی سوچ رہے تھے مگر سوال یہ تھا کہ آخر پلائے کون؟
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انشائیہ : احوال ایک جائے مطالعہ کا…..! – – – – – محمد خرم یاسین

khurram yas
انشائیہ
احوال ایک جائے مطالعہ کا…..!

محمد خرم یاسین
فیصل آباد پاکستان

صاحبو! یہ دنیائے رنگ و بو اب مائل بے رنگی وبدبو ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارا یہ مشاہدہ ہماری عمر کی بڑھوتری یا شادی شدہ زندگی کی سختیوں ، تلخیوں سے مشروط نہیں، نا ہی ہم اس مشاہدے سے دل کے پھپھولے پھوڑنا چاہتے ہیں؛ ہم تو ذکر کر رہے ہیں کچھ مبنی بر حقائق واقعات کا جو آئے روز گرد و پیش سے پیش آتے رہتے ہیں۔یہ بھی درست کہ عمر سرکنے سے کئی زعم خوامخواہ پلنے لگتے ہیں جیسے جو بھی چھوٹے ہیں وہ سب کم عقل ہیں یا کم از کم ہم سے کم ہی ہیںخواہ معاملہ کوئی بھی ہو اور بعض اوقات یہ بھی ہوجاتا ہے کہ حساسیت بد دماغی کا روپ لینا شروع کردیتی ہے جیسے آبِ حیات میں مولانا محمد حسین آزاد جنابِ حضرتِ میرتقی میر کو ”بددماغ شاعر“ قراردیتے ہیںاور پھر” تحقیق چھوڑ میدان میں آ مسلک بچا“کانعرہ لگا کر ان کی حمایت میں جنابِ مسعود رضوی اپنا سارا زور مولانا صاحب کے بیان کی صداقت ثابت کرنے پر لگا دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انشائیہ : کوئی لوٹا دے میرے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جاوید نہال حشمی

Jawed Nehal Hashamiانشائیہ
کوئی لوٹا دے میرے …

جاوید نہال حشمی
ای میل :

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ میرے بالوں کے جھڑنے کا عمل پہلے شروع ہوا تھا یاان میں سفیدی جھلکنے کی ابتدا پہلے ہوئی تھی۔ لیکن جب آئینے سے وحشت شروع ہوئی تو آدھے سے زیادہ بال داغِ مفارقت دے چکے تھے۔ پسماندگان میں بچے کھچے بال بیوگی کا سفید لبادہ اوڑھے کنپٹیوں اور سر کے پیچھے ڈٹے، ستی کی رسم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے نظر آئے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انشائیہ : کلچر۔ ۔ ۔ ۔ سیدعارف مصطفیٰ ۔ کراچی

Syed Arif

انشائیہ : کلچر

سیدعارف مصطفیٰ ۔ کراچی
فون : 8261098 -0313
ای میل :

انکل انکل ،،، یہ کلچر کا کیا مطلب ہے۔۔۔ پڑوس میں بسنے والے برخوردار پپو میاں نے اچانک ہماری بیٹھک میں‌جاری محفل میں آکر جب یہ سوال داغا تو بھائی رستم کے منہ سے کھاتے کھاتے سموسہ ہی چھوٹ گیا، انہیں یہ لگا کہ یہ سوال بس انہی سے پوچھا گیا ہے۔۔ پھر انکے ہاتھ اور اعصاب یکایک ساتھ کیوں نہ چھوڑ دیتے ۔۔۔
بیٹھک میں ایک سناٹا سا چھاگیا۔۔۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکسترمیں تھی – – – ڈاکٹرستیہ پُجاری

Seminar

ایسی چنگاری بھی یارب اپنی خاکستر میں تھی

ڈاکٹر ستیہ پُجاری
حیدرآباد

نوٹ : یہ مضمون ای میل سے ملا لیکن مضمون نگار کا پتہ اور فون نمبردرج نہیں تھا۔ہم نے انہیں مکمل پتہ اور تصویر بھیجنے کی درخواست کی مگر کوئی جواب نہیں ملا۔

حیدرآباد کی ایک سنٹرل یونی ورسٹی میں حال فی الحال منعقدہ سہ روزہ بین الاقوامی سمینار کئی اعتبار سے سنگ میل نصب کرنے والا سمینار تھا۔ مثلاََ حالیہ دنوں کا یہ سب سے منفرد اور اہم ’’بین الاقوامی‘‘ سمینار تھا جس میں بیرونی ممالک سے کوئی بھی مندوب شامل نہیں تھا۔ دو لوگوں کو بیرونی مندوبین کی حیثیت سے اس سمینار میں شریک کروایا گیا جن کی اصلیت یہ ہے کہ ایک محترمہ جن کا تعلق پاکستان سے ہے اور جو وہاں کی نیشنل یونی ورسٹی فار ماڈرن لینگویجز میں لسانیات کی ریسرچ اسکالر ہیں، وہ حیدر آباد کی اُسی سنٹرل یونی ورسٹی کے کسی دوسرے شعبے کے سمینار میں شرکت کے لیے تشریف لائی تھیں، انھیں منّت سماجت کر کے اس سمینار میں شامل کیا گیا۔ اس طرح ایک پنتھ اور دو کاج ہو گئے۔ یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ’’ ہینگ لگے نا پھٹکری – رنگ بھی چوکھا آئے ‘‘۔ سمینار کے منتظمین
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انشائیہ ۔ ۔ ۔ اردوریل – – -@- احمد نثارؔ

Nisar Ahmed

انشائیہ ۔۔ ۔ اردوریل

احمد نثارؔ (نثار احمد سید)
شہر پونہ، مہاراشٹر، بھارت۔
Email :
شہر پونہ سے ممبئی جانے والی ریل، دکن کوین، اپنی تیز رفتار ی سے جارہی تھی۔ کھڑکی سے باہر بیش بہا مناظر ، مہاراشٹر کے مغربی گھاٹ جنہیں مہاراشٹر گھاٹ کے نام سے بھی جاناپہچانا جاتا ہے۔ فطرت کے خوشنما اور دلکش مناظر ذہن کے اندر ایک نئی دنیا کا نقشہ کھینچ رہے تھے۔ ریل کی دھڑدھڑاہٹ کی آواز۔۔۔ ہواکی سرسراہٹ سے تھوڑی مدھم ضرور ہوئی تھی۔۔۔ لیکن اپنی وہی پرانی پہچان سے آگے جاری تھی۔۔۔جسے اکثر سنا کرتے ہیں۔ اونچی پہاڑیوں سے گذرتی ریل، ریل کے باہر پہاڑی سلسلوں کادیدہ زیب منظرنہایت ہی خوبصورت تھا، یوں لگ رہا تھاکہ کسی ننھی لڑکی نے ریت کو استعمال کرکے اپنے نازک ہاتھوں سے پہاڑیاں بنائی ہو،اور ادھراُ دھر سے سبز پودے لاکر جوڑ دی ہو۔۔۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon انشائیہ : وقت کا کھیل ۔ ۔ ۔ ڈاکٹراظہاراحمد گلزار۔ فیصل آباد

izhar ahmed

وقت کا کھیل

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
فیصل آباد ، پاکستان
E-mail:

’’کھانا شروع کرو‘‘ کی آواز سنتے ہی ایسے افراتفری پڑ گئی جیسے کسی دُشمن نے حملہ کر دیا ہو۔ لوگ آستینیں چڑھا کر گوشت ولی ڈشوں کو راستے میں ہی ایسے دبوچ لیتے جیسے اُنہوں نے کوئی انعام جیتا ہو۔ انسان کی ازلی بھوک ننگی ہو گئی تھی۔ میں نے کئی بار کوشش کی کہ مجھے بھی کہیں سے کوئی موقع ملے تو میں بھی اپنی بھوک مٹانے کا جتن کر سکوں۔ میں نے بڑی بے بسی سے اپنے آس پاس نظر دوڑائی اور ایک کونے میں ایک بزرگ کو پلیٹ میں صرف سلاد رکھ کر تھوڑا تھوڑا کھاتے دیکھ کر بڑا حیران ہوا۔ میں ایک صحافی ہوں اور اِس جیسی خبر کی تلاش میں رہتا ہوں مجھے اپنا کھانا پینا تو بھول گیا تو میں آہستہ آہستہ اُس بزرگ کے قریب جا کھڑا ہوا۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر میں نے گفتگو کا آغاز کیا۔۔۔میاں جی! یہ کیا ہو رہا ہے، دیکھیں نا جی لوگ کیسے پاگل ہو رہے ہیں۔ بزرگ نے بڑی حسرت سے اُدھر دیکھا تو کہنے لگے۔ بس بیٹا وقت کی بات ہے نا، لوگ ذرا خیال نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کے لیے کھانا لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں کھانا لانے کے لیے چلنے لگا تو بزرگ نے کہا۔۔۔نہیں نہیں ۔۔۔بیٹا! میں خود ہی نہیں کھا رہا ہوں۔ ڈاکٹر نے منع کیا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon نرگسیت؟ – ابنِ عاصی

نرگیسیت

ابن عاصی

از۔ ابن عاصی 

نرگسیت؟

لاہور میں ایک صاحب سلیم نام (ا ن کا پورا نام جان بوجھ کر نہیں لکھ رہا ہوں) کے ہوا کرتے تھے انہیں پتہ نہیں کیوںیہ وہم ہوگیا تھا کہ وہ ڈاکٹر علامہ اقبال سے بڑے شاعر ہیںیار دوستوں نے بھی شغل شغل میں ان کو بڑھاوا دینا شروع کر دیا اور مذاق مذاق میں بات بڑھتی چلی گئی اور وہ سچ مچ میں سنجیدہ ہو گئے اور انھوں نے واقعی خود کو اقبال سے بڑا اور بہتر شاعرجاننا شروع کر دیا اب جونہی دوستوں کو احساس ہوا کہ ان کے مذاق نے تو ایک سنجیدہ رخ اختیار کر لیا ہے تو انھوں نے اس معاملے میں چپ سادھ لی لیکن و ہ صاحب اب کہاں نچلے بیٹھنے والے تھے اور پھر ان کا مسئلہ یہ بھی تھا کہ موصوف نجانے کیوں یہ بھی خیال کرنے لگ گئے تھے کہ ساری دنیا ان کے خلاف سازشیں کرنے میں لگی ہوئی ہے مشہور ہے کہ ایک روز جو کیلے کے چھلکے سے پھسلے تو اسے بھی ایک بین الاقوامی سازش قرار دے ڈالا اور یہ فرمانے سے بھی ہاتھ نہ کھینچا کہ عالمی طاقتیں انھیں صفحہء ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں سنا ہے کہ اپنے آخری دنوں میں یہ ،علامہ اقبال ثانی ،گاڑیوں کو پتھر مارتے ہوئے دیکھے گئے تھے ا س زعم میںیہ صاحب اکیلے ہی نہیں ہوئے بلکہ اور بھی کئی لوگ اس زعم میں مبتلارہے ہیں مثال کے طور پر غالب کے دور میں یاس یگانہ چنگیزی ڈٹ کے غالب کو للکارتے ہوئے دیکھے گئے وہ غالب کی بجائے میر کے قدردان تھے اور غالب کوکچھ بھی نہیں سمجھتے تھے ان کی اس روش نے غالب کو کیا نقصان پہنچایا؟اس کا تو کسی کو بھی آج تک علم نہیں ہو سکا (اور نہ ہی شائد کبھی ہو سکے گا) لیکن انہیں خود اس سے نقصان ضرور ہواکیونکہ غالب جیسے
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon کون ہو تم؟۔ از۔ محمد الطاف گوہر

کون ہو تم

کون ہوتم ؟
محمد الطاف گوہر

جو تیرے دل میں وہی میری زباں پہ بھی ہے، تیری خاموش نگاہوں میں کئی سوال اپنا جواب پانے کو تڑپ رہے ہیں، مجھے ان جذبات کا شدت سے احساس ہے، شاید میرے الفاظ انہیں زباں دینے کو مچل رہے ہیں مگر ابھی سکوت ہی بہتر ہے ۔۔۔۔ کئی بار تو خاموشی بھی بہت سے سوالات کا بہترین جواب ہے ۔۔۔ بس چلتے رہو ساتھ ساتھ مگر برابر نہیں ورنہ کسی دوراہے پہ بچھڑ جاو گے ۔۔۔ کسی کے پیچھے چلو یا اس سے آگے یقننا” منزل ایک ہوجائے گی۔۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon شاعراوردوست ۔۔۔ ناممکن!@نعیم جاوید

شاعر اور دوست

نعیم جاوید

شاعر اور دوست۔۔۔ناممکن!

نعیم جاوید ۔۔۔ دمام


مشاعرے اردوزبان کی تہذیبی پیش رفت کا حسین اظہار ہوتے ہیں۔ مشاعرے ہماری تہذیب کے امین بھی ہیں۔ اس ادبی پڑاو پرادب اشنا روحوں کاحسین سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔ شعرا مشاعروں کے وساطت سےسخن شناسوں کی سماعتوں کو سیراب کرتے ہوئے مدتوں ذہن دل میں رچ بس جانے والے اشعارسے سامعین کے ذوق کا سامان کرتے ہیں۔ ایسے میں نئے سننے والوں کی تربیت ہوتی ہے۔ اور اعلی ذوق رکھنے والوں کی روح بھی آسودہ ہوجاتی ہے۔ مشاعروں میں کبھی ترنم کا جادو جاگتا ہے۔ کہیں منفرد طرز میں پڑھے جانے والے شعر وادئ جاں میں اتر جاتے ہیں۔ کبھی کسی نازک سے خیال کو تمثیلی الفاظ ملتے ہیں۔ کبھی نظم کاسحر اور کبھی شاعری کی دلہن ’’غزل‘‘ کا بانکپن اپنا جادو جگاتا ہے۔ جس میں گل و بلبل جیسے پامال استعارے بھی معنی کی ایک نئی دنیاآباد کرجاتے ہیں۔۔اخلاق کے منتروں سے اوبی ہوئی دنیا بھی شعر کے جمال آفرین رنگ میں رنگ جاتی ہے۔مصلحین کا کام آسان ہوجاتا ہے۔ اللہ اللہ کتنے مضامین ہیں جو شعر کے شانوں پر سوار پورے آفاق میں سفر کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں »

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓