موضوعات ٹیگ ‘شعری مجموعہ’

PostHeaderIcon شعری مجموعہ دوپہر کی دھوپ – قیوم کنولؔ :- مبصر- ڈاکٹر صفیہ بانو.اے.شیخ


شعری مجموعہ: دوپہر کی دھوپ
شاعر : قیوم کنولؔ

مبصر – ڈاکٹر صفیہ بانو اے.شیخ

محمد قیوم محمد ایوب پٹھان نام اور قیوم کنولؔ قلمی نام سے اردو ادب میں مشہور ہیں ۔ ۱۴ جون ۱۹۴۵ء ؁ میں فتح پور ( یوپی) میں پیدا ہوئے ۔اس بِنا پر وہ قیوم کنولؔ فتح پوری بھی کہلائے ۔ تعلیم و تربیت گجرات کے شہر احمدآباد میں ہوئی۔ اور یہی پر مقیم ہو کراپنی ۷۰ سالہ کی زندگی گزار کر بھی وہ اپنی دلچسپی کے باعث اردو ادب کی خدمات کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon شعری مجموعہ: کھری کھری ۔ ۔ چچا پالموریؔ ۔ ۔ مبصر:ڈاکٹرعزیزسہیل

کھری کھری

’’کھری کھری ‘‘ مزاحیہ شعری مجموعہ
شاعر:چچا پالموریؔ ،محبوب نگر

مبصر: ڈاکٹرعزیزسہیل
لیکچرار ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری کالج ،محبوب نگر

محبو ب نگر کی سرزمین ادبی اعتبار سے کافی زرخیز ہے یہاں کے کئی نامور شعراء نے ملک گیر سطح پر اپنی پہچان بنائی ہیں ،محبوب نگر میں کئی معتبر اساتذہ سخن نے ادبی و شعری ماحول کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دیئے ہیں۔آج بھی محبوب نگر ادبی،شعری اعتبار سے علاقہ تلنگانہ میں ایک منفرد مقام کاحامل ہے۔ آج بھی یہاں پرکہنہ مشق و نامور شعراء موجود ہیں جن کی سرپرستی میں شعری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہورہا ہے ان شعراء میں حضرت نور آفاقی، حضرت ظہیر ناصری، حلیم بابر، صادق علی فریدی ،ڈاکٹرسلیم عابدی،ؔ ڈاکٹر قطب شرشارؔ و جامیؔ وجودی دیگر قابل ذکر ہیں۔محبوب نگرمیں سنجیدہ شعراء کی طویل فہرست ہے جن میں مزاحیہ شعراء کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے،پھر بھی اس سر زمین سے جن مزاحیہ شعراء نے ملک گیر شہرت حاصل کی ہیں ان میں اعجاز حسین کھٹا، شمشیرؔ کوڑنگلی،گھامڑؔ محبوب نگری،بے ہوشؔ محبوب نگری کے نام شامل ہیں ان نامور شعراء کے بعد طنز و مزاح کے میدان میں اپنی پہچان بنانے والی شخصیت چچا پالموری کے نام سے مقبولیت رکھتی ہے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon لفظ لفظ روشنی ۔: مظہرؔمحی الدین ۔ ۔ ۔ مبصر: ڈاکٹرعزیزسہیل

lafz

لفظ لفظ روشنی(شعری مجموعہ)
شاعر: مظہرؔمحی الدین، ہبلی،کرناٹک

مبصر: ڈاکٹرعزیزسہیل
لیکچرار،ایم وی ایس گورنمنٹ ڈگری کا لج محبوب نگر 

۔ ۔ ۔ ۔

جمیل تر ہیں گل و لالہ فیض سے اس کے 
نگاہِ شاعر رنگیں نوا میں ہے جادو(اقبالؔ )
تعمیری ادب کے فروغ کیلئے ادارہ ادب اسلامی پچھلے 50برسوں سے ملک کے طول و عرض میں سرگرم عمل ہے دراصل ادارہ ادب اسلامی کے قیام کا مقصدہی تخلیقی ادب کے ذریعے اخلاقی اقدار کے فروغ و ارتقاء کی جدوجہد کرنا ہے ساتھ ہی ادب سے منفی رحجانات ،فکری پراگندگی اور غیر اخلاقی میلانات کو زائل کرنے کی کوشش ہے،اس سلسلہ میں ادارہ کے تحت شعراء اور ادباء کی فکری و فنی تربیت اوران کی حوصلہ افزائی کی سعی جاری ہے ،ادارہ ادب اسلامی سے ابتدائی دور میں وابستہ شعراء و دبا میں،ابن فریدؔ ،شبنم ؔ سبحانی،مولانا عامر ؔ عثمانی،شفیق ؔ جونپوری،ماہرؔ القادری،عرشؔ بھوپالی،نازشؔ پرتاب گڑھی،پروفیسر انور ؔ صدیقی،زین العابدین،حفیظ ؔ میرٹھی،بعد کے دور میں ابوالمجاہد زاہدؔ ،عزیز ؔ بکھروی،مسعود جاوی ہاشمیؔ ،ڈاکٹر سید عبدالباری،انتظار نعیمؔ ،تابش مہدیؔ ،مائل ؔ خیر آبادی و دیگرقابل ذکر ہیں جنہوں نے ادب میں اسلامی فکر کو ڈھالنے کا کام حسنِ خوبی سے انجام دیا ہے،ادارہ ادب اسلامی کے عصری منظر نامے میں ریاست کرناٹک سے اس فکر کو لیکر ابھرنے والی شخصیت کو اردو دنیاجناب مظہر محی الدین کے نام سے جانتی ہیں،مظہر محی الدین محتاج تعارف نہیں وہ ایک بہترین شاعر ہے وہ بحیثیت صدرادارہ ادب اسلامی کرناٹک اپنی خدمت انجام دئے چکے ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon جنس درونِ جاں…ایک مطالعہ @ یٰسین احمد

جنس درون جاں

محسن جلگانوی

ڈاکٹرمحسن جلگانوی

یٰسین احمد

یٰسین احمد

کتاب ۔ جنس درونِ جاں

شاعر : ڈاکٹر محسن جلگانوی

تجزیہ : یٰسین احمد
موبائل : 09848642909

۲۰۱۴ء کے آواخر میں محسن جلگانوی کی تازہ تصنیف جنس ’درونِ جاں‘ منظر عام پر آئی ہے۔اس شعری مجموعے میں مختلف اصنافِ سخن شامل ہیں۔محسن جلگانوی سادگی کے ساگر ہیں حُسن کی سیپیاں تلاش کرتے ہیں۔جس کا اندازہ اس کتاب کو دیکھ کر کیا جاسکتا ہے۔کتاب میں پیش لفظ ہے نہ انتساب۔کسی مشاہیر کی آراء بھی شامل نہیں۔یہ تساہل نہیں‘رعونت نہیں سادگی ہے۔ابتداء مندرجہ ذیل شعر سے ہوئی ہے ؂
اب یہاں آ کے سمندر کی حدیں ختم ہوئیں
اس سے آگے کی زمینوں کا سفر میرا ہے
محسن جلگانوی کو تعلیمی زمانہ سے ہی شاعری کا چسکا لگا تھا۔ان کا پہلا شعری مجموعہ’الفاف‘۱۹۹۷ء میں شائع ہوا تھا۔اس طویل ریاضت نے ان کے کلام کو جلا بخشی۔کاکل سخن کو سجانے کا سلیقہ بخشا۔زندگی کے کم وبیش سارے مسائل جس سے ہم آپ دن رات جھوجھتے ہیں اُن کی شاعری میں درآئے ہیں۔یہ سب کچھ اُسی وقت ممکن ہے جب سینکڑوں رتجگوں کا کرب آنکھوں پر اٹھایا اورجگرکا لہو جلایا جاتا ہے۔ناصرشہزاد کا ایک شعرہے ؂
دور ایک عمر کا کھاجاتی ہے
شاعری دیر کے بعد آتی ہے
مزید پڑھیں »

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓