موضوعات ٹیگ ‘Short Story’

PostHeaderIcon کہانی ۔ درد : – دلجیت قاضی


کہانی :
درد

دلجیت قاضی

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی لیکن وہ فون اٹھانے سے قاصر تھا ۔
کہ اسے رکشہ میں سوار مریض کو جلد سے جلد اسپتال پہنچانا تھا ۔اس نے رکشہ اور تیز دوڑایا ۔ مریض کو ایمرجنسی وارڈ منتقل کرنے تک دوبارہ فون بجنے لگا ۔ جھنجھلاکر اس نے فون اٹھایا آواز پہچان کر اس کے چہرے پر ایک پیار بھری مسکراہٹ دوڑ گئی —- جواد کی کامیابی کا سن کر اس کی آواز بھرّا گئی ۔اس نے آنے کا کہہ کر رکشہ پہلے مسجد کی طرف موڑا ‘ اللہ کے حضور اپنی سرخ روئی پر سجدہ ریز ہونے کے بعد مٹھائی لی اور جواد کے گھر کی طرف چل پڑا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon حکایت ۔ واللہ خیرالرازقین – – – ایمان افروز کہانی

 
حکایت
واللہ خیرالرازقین

ایمان افروز کہانی

ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی کی چھت سے لٹک رہا تھا، اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا:
”گھر میں کوئی نہیں ھے، میری بوڑھی ماں فالج زدہ ہے، مجھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد انهیں کھانا اور اتنی ہی مرتبه حاجت کرانی پڑتی ہے، اگر آپ کو جلدی ھے تو اپنی مرضی سے فروٹ تول لیں اور پیسے کونے پر ریگزین کےگتے کے نیچے رکھ دیجیے . ساتھ ھی ریٹ بھی لکھے ھوۓ هیں اور اگر آپ کے پاس پیسے نه ھوں، تو میری طرف سے لے لینا, اجازت ہے! ” . واللہ خیرالرازقین!
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ ۔ کبھی ہم خوبصورت تھے – – – – – حمیراء عالیہ


افسانہ
کبھی ہم خوبصورت تھے

حمیراء عالیہ
ریسرچ اسکالر،لکھنؤ یونیورسٹی

’’ہاں تو بتائیں کیا پرابلم ہے آپکو؟‘‘ڈاکٹر صدیقی نے اپنے سامنے بیٹھی ہوئی صحتمند سی دوشیزہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ڈاکٹرمیرے جسم میں کیڑے پڑ گئے ہیں ‘‘ اس نے اتنا بے ساختہ کہا کہ وہ ایک پل کو حیران رہ گئے۔
’’ارے تو کیا کینسر ہے آپ کو؟‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : یہ عشق نہیں آساں ! – – – – – سید احمد قادری

عشق
افسانہ
یہ عشق نہیں آساں – – – – – !

سید احمد قادری
Mob: 09934839110

مارننگ واک روز کا معمول تھا ریٹائر منٹ کے بعدسونی سونی زندگی میں مارننگ واک کی اہمیت بڑھ جا تی ہے، صبح سویرگھر سے نکل کر نیشنل پارک تک پہنچتے پہنچتے ہم ریٹائٹرڈ دوستوں کی تعداد پانچ سات تک ہوجاتی اور یہاں پہنچ کر دو مخصوص بنچوں پر ہم لوگ آمنے سامنے بیٹھ جاتے ‘خوش گپیاں ہوتیں ، اوران خوش گپیوں کے دوران کبھی سیاسی کبھی سماجی اور کبھی معاشرتی حالات پر طرح طرح کے تبصرے ہوتے اورہرکوئی اپنے تجربے اور مشاہدے کا بھرپور اظہار کرتا – – – – اس طرح اچھا خاصہ وقت گزر جاتا اور پھر وہی گھر’ جہاں کا سونا سونا ماحول‘ خاموش درودیوار‘ گم صم بیوی کا چہرہ اور انتظار۔۔۔ صرف انتظار۔ کسی کے فون کا۔۔۔ کسی کے کال بیل کا۔۔۔ کسی کے آنے کا۔۔۔‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اقبال متین کی افسانہ نگاری – – – – – احمدعلی جوہر


اقبال متین کی افسانہ نگاری

ملبا کے حوالے سے

احمدعلی جوہر
ریسرچ اسکالر۔ جواہرلعل نہرویونیورسٹی
موبائل : 09968347899
ای میل :

اقبال متین اردو کے منفردوممتازاور بلندپایہ افسانہ نگار ہیں۔ ان کا شمار آزادی کے بعد کے قدآور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے معاصرین جوگیندرپال، عابد سہیل، رتن سنگھ، اقبال مجید، جیلانی بانو، واجدہ تبسم، غیاث احمد گدّی اور قاضی عبدالستار وغیرہ میں اپنی نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی پہلی کہانی ’’چوڑیاں‘‘ جون ۱۹۴۵ء میں اردو کے معروف ومعتبر افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی کی ادارت میں نکلنے والے موقر ادبی رسالہ ’ادب لطیف‘ میں شائع ہوئی تھی۔ ان کے سات افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ چھ دہائیوں سے زائد طویل عرصہ پر محیط اپنے افسانوی سفر میں انھوں نے اپنی افسانوی نگارشات سے اردو کے افسانوی ادب میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید ان کے بارے میں لکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ: مکالمہ بہت ضروری ھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید مہتاب شاہ

mehtab-shah-9افسانہ
مکالمہ بہت ضروری ھے

سید مہتاب شاہ
کراچی

اپنے آپ میں رھنے والا محسن اپنے گھرمیں سب سے بڑاتھا،اکثررشتہ داراس سے شاکی رھتے تھے کہ وہ ان سے کم کم ملتا ھے کسی کے ھاں آجانا بھی بس خوشی اور غم تک ھی محدود تھا اس کا،ایک روزایک تقریب میں سب ھی خاندان والے شریک تھے ،محسن نے سب دعاسلام اورحال احوال چاھا لیکن انتہائی قریبی رشتہ داروں میں سے اکثرلوگ اس سے دوردوررھنے کوترجیح دیتے پائے گئے ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : چابی ٍ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

haneefافسانہ : چابی

ٍحنیف سیّد
آگرہ ۔ یوپی
موبائل : 09319529720

’’ارے واہ…!کون کہے گاایم ۔ایس۔سی ،آپ کو…؟‘‘ایک نسوانی قہقہہ۔جیسے ہوا کے دوش پردیے کی تھر تھراتی لو؛ جیسے شبنم کے قطرے پرسورج کی جھلملاتی کرن؛جیسے ساون کی گھٹامیں لہراتی برق؛جیسے شیر خواربچّے کی کلکاری؛جیسے پھولوں سے لچکتی شاخ؛جیسے سہاگن کی چوڑیوں کی کھنک؛جیسے چمن میں چڑیاکی چہک ؛جیسے اردو زبان کی لچک ولہک بے اختیار،بے ساختہ،بے باک…!
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : گھوم رے سورج ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سید ماجد شاہ ( اسلام آباد)

syed Majid Shah سورج

سید ماجد شاہ

افسانہ : گھوم رے سورج

سید ماجد شاہ
مکان نمبر ۱۸۸،سٹریٹ نمبر ۲۴
آئی نائن ون ،اسلام آباد

’’جب سورج تمہاری آنکھوں کی پُتلیوں میں جذب ہو جائے گا۔۔۔ جب اس کی تیز روشنی تمہاری بینائی کے سامنے دم توڑ دے گی۔۔۔ جب وہ تمہاری جرأت کے سامنے اپنی ہستی مٹا دے گا۔۔۔تب۔۔۔اریش! تب تم اسے جو حکم دو گی،وہ مانے گا۔۔۔ وہ مجبور کر دیا جائے گا۔۔۔ اس روز وقت لپیٹ لیا جائے گا۔۔۔ماضی،مستقبل بن کر پھرتمہاری دسترس میں ہو گا۔۔۔ یہ تپ بہت کڑی ہے۔۔۔جان جائے گی یامراد بر آئے گی۔۔۔اریش!’’ یاآنکھیں نہیں ہیں۔۔۔ یا ماضی‘‘۔۔۔اس نے ان آنکھوں کا کیا کرنا تھا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : آنسو‘عقیدت کے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

haneef - آنسو

افسانہ : آنسو‘عقیدت کے

حنیف سیّد ۔ آگرہ
موبائل : 09319529720

’’ڈیئر سرتاج…!
’’اس وقت میری برات میرے گھر بیٹھی ہے۔میری سہیلیاں اورہم جولیاں مجھ کو دُلھن بنانے کی تیاری میں ہیں…..اور…. میرے گورے گورے من59ہدی والے ہاتھوں میں زہر کی شیشی ہے۔اس کوتو رات ہی میں نے اپنے وجود کے گوشے میں اُتار لینا چاہا تھا، لیکن.. یہ سوچ کر باز رہی:’’ انسان کے سامنے بہت سی ایسی مجبوریاں آجاتی ہیں، جن سے وہ مجبور ہوجاتاہے ۔‘‘ممکن ہے ایسی ہی کوئی مجبوری ہو تمھارے سامنے بھی….!لیکن سرتاج…!وہ مجبوری ہے کیا…؟ بتا تودو۔ جس کے سبب اتنی بڑی سزا دی تم نے ،مجھ کو۔‘‘
’’دیکھوسرتاج…! میں عورت ہونے کے ناتے تم سے وعدہ کرتی ہوں، کہ تم جوچاہو گے،ہوگا وہی ۔ میرے نزدیک تواسی جذبے کانام محبت ہے ،جواپنے محبوب کی رضا کے لیے ہو۔اور …..تم جانتے بھی ہوسرتاج….! کہ رفعت ،اپنی جان دے سکتی ہے، پیار کے اس کھیل میں۔‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : ٹھنڈے چولہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

 ٹھنڈے چولہے ۔ نواز

افسانہ : ٹھنڈے چولہے

محمد نواز
مکان نمبر P /236 محلہ فتح پور
کمالیہ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔ پاکستان
ای میل :

فیکٹری کے مغربی سمت میں مزدورں کیلئے بنایا جانے والا کیفے ٹیریا جی ٹی روڑ کنارے بنے چھپر ہوٹل کا منظر پیش کرتا تھا ۔ ٹوٹی کرسیاں جن کے سامنے پرانے لکڑی کے میز دھرے تھے،کہیں چار پائیاں رکھیں تھیں۔ تمام مزدور دوپہر کے وقت یہاں کھانے،چائے پینے کے ساتھ ساتھ آرام کیلئے بھی آ بیٹھتے ۔یہ کیفے ٹیریا تمام فیکٹری ورکز کیلئے ایک قسم کا گپ شپ کارنر بھی تھا ۔جو بھی آتا اپنے ذوق اور اپنی پسند کے مطابق گفتگو فرماتا ،سگریٹ چائے پیتا اور ڈیوٹی پر چلا جاتا ۔سلیم ایک چار پائی پر آلتی پاتی مارے بیٹھا تھا اس کے سامنے رنگ دار کپڑے کا وہ رومال پڑا تھا جس میں وہ گھر سے روٹی باندھ لاتا۔کیفے ٹیریا سے سالن لے کر پیٹ کی آگ بجھا لیتا ۔ایک آدمی ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا ’’ یونین کے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں ۔کل سے فیکٹری میں ہڑتال ہو گی۔ہڑتال کا سنتے ہی سلیم کے ہاتھ سے نوالہ گر گیا ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : ڈیلیٹ بٹن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

FB_IMG_1455370652213
افسانہ : ڈیلیٹ بٹن

محمد نواز
مکان نمبر P /236 محلہ فتح پور
کمالیہ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔ پاکستان
ای میل :

ثمن کے موبائل کا سارا ڈیٹا ڈیلیٹ ہو گیا تھا ۔وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے بیٹھی اپنے خاوند ، دانیال کو کوس رہی تھی ۔پچھلے دنوں دونوں میاں بیوی کے درمیان موبائل کی وجہ سے ناچاکی ہوئی اور دانیال نے اس کے رد عمل میں ثمن کے موبائل کا سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا تھا ۔موبائل میں موجود سارا ڈیٹا ضائع ہو گیا ۔بقول ثمن کے اس نے بڑی محنت سے سارا ڈیٹا جمع کیا تھا ۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک پرندہ گھونسلہ بناتے ہوئے تنکہ تنکہ اکٹھا کر تا ہے اور جب گھونسلہ بن جانے پر ہوا کا ایک ہی جھونکا اس گھونسلے کو اپنے ساتھ خسو خاشاک کی بہا لے جاتا ہے ۔کچھ ایسا ہی ثمن کے ساتھ ہوا تھا ۔میاں بیوی کے درمیان ناچاکی ہوا کے جھونکے کی طرح آئی اور موبائل میں موجود ڈیٹا اپنے ساتھ لے گئی ۔ثمن کے آنسو تھے کے تھمنے کانام ہی نہ لے رہے تھے ۔وہ برابر اپنے شوہر کو بر ابھلا کہہ رہی تھی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : دھار۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیگ احساس

بیگ احساس ۔ دھار

افسانہ : دھار

بیگ احساس
مدیر ماہنامہ سب رس ‘ حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09849256723
ای میل :
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

صبح جاگنے کے بعد اس نے حسب معمول شیو کرنا چاہا تو اسے اپنا شیونگ سیٹ جگہ پر نہیں ملا۔ سارا کمرہ دیکھ لیا۔ بچے بھی اس کے کمرے میں نہیں آتے تھے اس کی چیزوں کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا تھا۔ اسے سخت غصہ آیا۔ جب سے اس کا لڑکا واپس آگیا تھا اس کا موڈ بے حد خراب رہنے لگا تھا۔اس نے بیوی کو بلاکر ڈانٹا کہ وہ اس کی چیزوں کا خیال نہیں رکھتی۔ اس کی بیوی بھی حیران تھی کہ آخر شیونگ سیٹ کہاں گیا۔ اس نے گھر کا کونا کونا چھان مارا ہر ممکن جگہ دیکھ لی لیکن وہ سیٹ نہیں ملا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : برف ‘ ٹھنڈے خون کی ۔ ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد ۔ آگرہ

haneef - برف

حنیف سید

افسانہ : برف ‘ ٹھنڈے خون کی

حنیف سیّد – آگرہ
ای میل :

’’حرام جادی ….!کل تک دُم ہلاتی تھی چھپکلی کی مانند، اُوپر ۔ اور آج رنگ بدل رہی ہے گرگٹ کی طرح نیچے۔کمرے کی چھت ، اورکمرے کے اندراِتنا پھرک‘‘۔سہاگ رات میں راجو کے کہنے پررجنی نے گھونگٹ نہ اٹھا یا ،تو راجو نے لہاڑیا ں سنائیں،جس پر رجنی جواب دینے کے بجاے سمٹ گئی۔
’’میری بات کا جواب دے سالی….!‘‘راجو نے جواب نہ پا کر سہاگ کا دوپٹّا اس کے جسم سے نوچ پھینکا۔
’’کیا جواب دوں….؟‘‘وہ ،اورسمٹی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : شہید جمہوریت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

 شہید ۔ محمد نواز

افسانہ : شہید جمہوریت

افسانہ نگار: محمد نواز
مکان نمبر P /236 محلہ فتح پور
کمالیہ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔ پاکستان
ای میل :

’’حکومت مکمل طور پر اپنی پالیسوں میں ناکام ہو چکی ہے ۔مہنگائی کے جن کو کنٹرول کرنا اس کے بس کی بات نہیں ،ہر ادارہ کرپشن کی نظر ہو چکا ہے ۔ لوگوں کی معاشی حالت دن بدن بگڑتی جا رہی ہے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے ‘‘ یہ الفاظ میرے ایک دوست سعدی کے تھے وہ میرے پاس بیٹھا ملکی حالات پر نوحہ کنا ں تھا ۔ ’’ تم چاہو اس سے بھی زیادہ چیخو چلاؤ ،اس ملک میں کچھ بھی نہیں بدلنے والا ‘‘ میں نے اس کی بات رد کرتے ہوئے کہا ۔ ’’ بدلے گا ، ضرور بدلے گا ۔ تم دیکھ لینا ایک دن اس ملک میں تبدیلی ضرور آئے گی ‘‘
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اک کوجھ مانگتی عورت کی کہانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابن عاصی

ابنِ عاصی

مختصرکہانی : اک کوجھ مانگتی عورت کی کہانی

مصنف: ابن عاصی
جھنگ ۔ پاکستان

وہ جی بھر کے کوجھی تھی اسی لئے ہر وقت ایک ہی دعا کرتی رہتی تھی کہ
،میرے خدا!مجھے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت بنا دے،
اس دن بھی وہ یہی دعا کر رہی تھی کہ فرشتہ آحاضر ہوااور کہنے لگا،
،اللہ تیری دعا قبول کرنے کو تیار ہے لیکن اس کی ایک شرط ہے۔۔؟
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اردوافسانہ: پس منظراورپیش منظر۔ ۔ ۔ احمدعلی جوہر

احمد علی جوہر

اردوافسانہ: پس منظر اور پیش منظر 

احمدعلی جوہر
ریسرچ اسکالر۔ جواہرلعل نہرویونیورسٹی
موبائل : 09968347899
ای میل :
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اردو میں افسانہ کاآغاز مغربی ادب کے زیراثر ہوا۔ جدید نثری اصناف میں اسے ایک اہم صنف مانا گیا ہے۔ اردو میں اسے مختصرافسانہ اور کہانی بھی کہا گیا ہے۔ اپنی صنفی خصوصیات کے اعتبار سے افسانہ، ناول سے مختلف ہے۔ ناول اگر زندگی کے ایک دور کا احاطہ کرتا ہے تو افسانہ زندگی کے کسی ایک پہلو یا ایک انسانی تجربے پر مبنی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ کسی ایک واقعے یا اس واقعے کے تاثر کی بنیاد پر افسانے کی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : آل اِن ون ۔ ۔ ۔ حنیف سیّد

آل اِن ونافسانہ : آل اِن ون

حنیف سیّد ۔ آگرہ
Cell : 09319529720 , 07520762058

– –
’’غلطی کوئی بھی کرتا ہے ،بھگوان معاف کردیتا ہے،معاف توانسان بھی کردیتا ہے،لیکن غلطی کبھی معاف نہیں کرتی،بڑے بابو….!‘‘راکیش نے آفس سے باہر نکلتے وقت بڑے بابو کوسمجھایا۔
’’پر میں کیاغلطی کررہاہوں راکیش…؟‘‘بڑے بابونے راکیش سے پوچھا۔
’’شادی نہ کرکے بہت بڑی غلطی کر رہے ہو بڑے بابو۔‘‘راکیش کہہ کراپنے راستے مُڑ گیا، اور بڑے بابوسوچتے ہوئے اپنے گھرآ گئے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : آہوں کے درمیاں ۔۔۔ جنید جاذب

افسانہافسانہ : آہوں کے درمیاں

جنید جاذب
کوٹ رنکہ بڈہال،راجوری،جموں کشمیر
09906525666

ہروقت شرارتوں،کھِلکھلاہٹوں اورکلکاریوں میں بسی رہنے والی چھوٹی سی بہشت آسا کُٹیا میں اچانک جاں لیوا خاموشیوں کی سنسناہٹ پھیل گئی تھی ۔ واجبی سی، تنگ و تاریک کوٹھڑی، پھیل کرایک بے انت صحرابن گیاتھا جس کی خوف ناک وسعتوں میں وہ دونوں بھٹکتے پھررہے تھے۔آس پاس سے ایک کہرام ساابھرکر،ان کے وجودسے لپٹ رہاتھا۔وقت، ایک خوف ناک ویرانے کی شکل میں ڈھل کر ان کے اطراف پھیل گیا تھا۔اس بے انت ویرانے کاپَل پَل انھیں ڈسنے کو دوڑرہاتھا۔ رقیہ، ممتا کی سنسان جھولی بے ڈھنگ پھیلائے،بے آسی کے بھنور میں ہچکولے کھائے جارہی تھی اوررشیدکواردوگرد پھیلا ہیبت ناک منظرٹکڑوں ٹکڑوں نگلتا اور بھسم کرتا جارہاتھا۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : تاریخ کا جنم ۔ ۔ منزہ احتشام

منزہ

افسانہ : تاریخ کا جنم

منزہ احتشام

سنو! آج کیا تاریخ ہے؟ میں نے جھکی ہوئی کمر اور سفید بالوں والے بوڑھے سے آخری بار التجا کی۔۔۔تاریخ۔۔۔۔۔تاریخ کا لفظ سنتے ہی اس نے دوسری طرف دوڑ لگا دی۔شہر کے چوراہے میں کھڑی کھڑی میں عاجز آگئی۔کوئی بھی تاریخ نہیں جانتا تھا یا پھر تاریخ بتانے کو تیار نہیں تھا۔یا تاریخ سے خوفزدہ تھا۔پھر میں نے ساگ کی گندلیں بیچنے بوڑھی عورت کو سنا ،وہ کہ رہی تھی۔”وہ پھر حاملہ ہے”
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افسانہ : عید کا چاند ۔ ۔ ۔ اقبال حسن آزاد

اقبال حسن آزاد

افسانہ : عید کا چاند

اقبال حسن آزاد
مدیرِ ثالث ‘ مونگیر ۔ انڈیا

دور کہیں پہیوں کی گڑگڑاہٹ اُبھری۔
کوئی ٹرین گذر رہی تھی ۔پھر وہ آواز معدوم ہوگئی۔اب ہر طرف سناٹا تھا اور ایک دبیز تاریکی۔اس کی آنکھیں کھل نہیں پا رہی تھیں۔دونوں پپوٹے آپس میں یوں پیوست ہو گئے تھے گویا کسی نے انہیں گوند سے چپکا دیا ہو۔اس نے زور سے چلانا چاہا مگر اس کے حلق سے کوئی آواز نہ نکل سکی۔اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا۔وہ گہری،اندھیری اور دبیز دلدل میں دھنستا جا رہا تھا ۔ساتھ ہی ساتھ اس کے سارے احساسات بھی زرد موسم کے پتوں کی طرح اس کا ساتھ چھوڑے جا رہے تھے مگر امید کا ایک ننھا سا ستارا زندگی کی علامت بن کر جھلملا رہا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے اس ستارے کے ذرا نیچے باریک سا چاند طلوع ہوا۔پھر اس کے کانوں میں خوشگوار ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ایک چہکار گونجی۔
مزید پڑھیں »

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓