موضوعات ٹیگ ‘Urdu Poet’

PostHeaderIcon مجازؔ کی شاعری ۔ ایک مطالعہ : – چودھری امتیاز احمد

مجازؔ لکھنوی

مجازؔ کی شاعری ۔ ایک مطالعہ

چودھری امتیاز احمد
شعبۂ اردو الہ آباد یونیورسٹی

مجازؔ 19اکتوبر1911ء میں ضلع بارہ بنکی کے مشہور قصبہ ردولی کے خواجہ محل میں پیدا ہوئے۔ مجازؔ ابتدائی تعلیم کے بعد 18سال کی عمر میں آگرہ آگئے تھے۔ انھوں نے 1929ء میں سینٹ جانس کالج آگرہ میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ آگرہ میں ان کا قیام ان کی ادبی زندگی کے لئے بہت اہم ثابت ہوا۔ فانیؔ کا پڑوس نصیب ہوا۔ جذبیؔ کے ہم جماعت تھے۔ آل احمد سرور بھی اس زمانے میں اسی کالج میں زیر تعلیم تھے جو مجازؔ اور جذبی سے ایک سال سینئر تھے۔ میکش اکبر آبادی سے بھی گہری مراسم تھے۔ حامد حسین قادری مرحوم نے وہاں انجمن ترقی اردو کی شاخ قائم کر رکھی تھی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon زبیر رضوی کی یاد میں : – محمد ریحان

زبیر رضوی

زبیر رضوی کی یاد میں
وہ موسم جاچکا جس میں پرندے چہچہاتے تھے

محمد ریحان
جامعہ ملیہ اسلامیہ

پچھلے دو سالوں میں بڑی بڑی ہستیاں ہم سے اچانک اور ہمیشہ کے لئے جدا ہو گئیں۔ موت سے کوئی شکایت نہیں اور ہو بھی نہیں سکتی ۔یہ دنیا کا سب سے بڑا سچ ہے۔کیا مومن اور کیا کافر سبھی اس سچائی کو تسلیم کرنے پر مجبور اور بے بس ہیں کہ جو بھی یہاں آتا ہے اسے ایک دن جانا ہی ہوتا ہے۔ آنے جانے کا سلسلہ تا قیامت جاری رہے گا۔لیکن کسی کے ہمارے درمیان سے اچانک بچھڑ جانے کااتنا ملال کیوں ہوتا ہے۔کچھ انسان در اصل سایہ دار درخت کی مانند ہوتے ہیں۔ ایک سایہ دار درخت کی اہمیت ایک راہ گیرجانتا ہے۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon ساحرلدھیانوی کی نظم ’’پرچھائیاں‘‘ کا نو آبادیاتی مطالعہ – – – عبدالعزیز ملک

ساحرلدھیانوی کی نظم
’’پرچھائیاں‘‘ کا نو آبادیاتی مطالعہ

عبدالعزیز ملک

نوٹ: جناب عبدالعزیز جہانِ اردو کے مستقل قلمکار ہیں آپ کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کو بے حد پسند کیا جاتا رہا ہے۔ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ اردو میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آپ تحقیق ،تنقید، تدوین اور ترجمہ نگاری سے خاص شغف رکھتے ہیں ۔ ’’ان کا پہلا تحقیقی کام ’’مجلسِ ترقی ادب،لاہور کی بیس سالہ خدمات‘‘۲۰۱۰ میں سامنے آیا۔ اس کے بعد ’’اردو افسانے میں جادوئی حقیقت نگاری‘‘۲۰۱۴ میں اور حال ہی میں ان کے تنقیدی مضامین کی کتاب’’تعبیر و تفہیم‘‘ شائع ہوئی ہے۔ان دنوں وہ ’’جدید تنقیدی مباحث:تحقیقی و تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ ڈاکٹر شبیر احمد قادری کی نگرانی میں تحریر کر رہے ہیں۔انہیں ادبی صحافت کا وسیع تجربہ حاصل ہے وہ شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے تحقیقی و تنقیدی مجلے’’ زبان و ادب‘‘ کے نائب مدیر ،ترقی پسند ادب کے ترجمان ماہنامہ ’’انگارے‘‘ کے شریک مدیر اور پنجابی زبان و ثقافت کے ترجمان رسالے’’ ققنس ‘‘ کے مدیر بھی ہیں۔گاہے بگاہے ان کے تنقیدی و تحقیقی مقالات پاکستان اور دیگر ممالک کے علمی و ادبی جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔امید ہے کہ آپ کا قلمی تعاون ہمیں حاصل ہوتارہے گا۔ ساحر لدھیانوی کی یوم پیدائش کے موقع پر ایک بھرپور مضمون ملاحظہ کریں۔(ج۔ا)
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon حیاتِ نو کا شاعر: اقبال خلشؔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ابراہیم افسر

اقبال خلشؔ

حیاتِ نو کا شاعر:اقبال خلشؔ

ابراہیم افسر
موبائل: 09897012528

میں ہوں شاعر مجھے اقبال خلشؔ کہتے ہیں
تم نے لوگوں سے مرا نام سُنا تو ہوگا
برِ صغیرکے ادبی اُفق پرکہنہ مشق شاعر اقبال حسین خاں تفضل حسین خاں بالمعروف اقبال خلشؔ اکوٹوی(پ:1950)کا نام ادبی وشعری محفلوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔اسی لیے ادبی حلقوں میں ان کا نام بڑے ادب و احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ادبی سرگرمیوں کے علاوہ سماجی خدمات کے فرائض کو انجام دینا موصوف کا شیوہ ہی نہیں وصفِ خاص ہے۔ان کی شاعری کو سرحدوں میں قید کرنا شاعری اور شاعر دونوں پر ستم زنی کرنے کے مترادف ہوگا۔کیوں کہ شاعر کا پیغام اوردرد وغم اپنا ذاتی نہیں ہوتا بل کہ وہ پوری بنی نوع انسانی کی ترجمانی اپنی شاعری میں کرتا ہے۔شاعری دلوں کو جوڑنے کا کام بہ خوبی کرتی ہے ۔یک بارگی اگر ہم اموصوف کے نام اور تخلص دونوں پر غور کریں تو ان کا اعتراف (اقبال) اوراضطراب(خلش)کسی ادبی سنگم سے کم نہیں ہے۔اس بارے میں انہیں کا یہ شعر ملاحظہ ہو۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon شاعرِمہر و ماہ: مسعود عابد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرسید اسرارالحق سبیلی

asrarشاعرِمہر و ماہ: مسعود عابد

ڈاکٹرسید اسرارالحق سبیلی
اسسٹنٹ پروفیسر‘گورنمنٹ ڈگری کالج
سدی پیٹ ۔ تلنگانہ (موبائل : 09346651710)

جدید و عصری لب ولہجہ کے خوش فکر رو مانوی شاعرسید علی مسعود عابد اکیلوی ظہیر آبادی مرحوم (1947ء ۔2010ء)کی نعتوں ،غزلوں اور نظموں کا مجموعہ مارچ 2014ء میں جواں سال اسکالر ڈاکٹر نوید عبدالجلیل نے مرتب کرکے شائع کیا ہے ۔مسعود عابد نے 1983ء میں اپنا مجموعہ مرتب کرکے ’’سورج پگھلے لفظوں میں‘‘ کے نام سے شا ئع کیا تھا جو ان کی شاعرانہ زندگی کے تقریباًنصف حصہ پر مشتمل ہے ،مذکورہ مجموعہ پوراچاند اورآدھی رات ان کی پچاس سالہ شعری زندگی کا منتخب اور دستیاب شدہ مجموعہ ہے ،یہ نام مرتب نے ان کی ایک غزل کی ردیف سے اخذ کیا ہے :
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon خان حسنین عاقبؔ : نسلِ نَوکے تازہ فکر شاعر۔ ۔ ۔ ۔ محسن ساحل ؔ

حسنین ثاقب - khan

خان حسنین عاقبؔ

خان حسنین عاقبؔ : نسلِ نَوکے تازہ فکر شاعر

محسن ساحل ؔ
شیواجی نگر، گوونڈی۔ بمبئی ۔ ۴۳
ای میل :
موبائل : 09881002221

ہمارے ملک کی تہذیبی و ادبی خوش نصیبی ہے کہ یہاں اردو شاعری کے پاسبان شعراء و ادباء ہر دور میں سر بلند رہے۔ موجودہ دور میں اردو شعراء کی اتنی بھیڑ ہے کہ ہر تیسرا یا چوتھا شخص اپنے آپ کو شاعر کہلوانے کے لئے اتنا مضطرب دکھائی دیتا ہے جتنا لیلیٰ کے انتظار میں مجنوں بھی نہ ہوا ہوگا۔ جس طرح سائنس کے مضمون میں جانداروں کی اکائی خلیہ ہے اور خلیوں کی دو اقسام بتائی جاتی ہیں یعنی یک خلوی اور کثیر خلوی، تو اس لحاظ سے ان موجودہ شعراء کی اکثریت میں بھی دو اقسام پائی جاتی ہیں۔ یک غزلیہ شاعر اور کثیر غزلیہ شاعر۔ یک غزلیہ شعراء پر تو خیر، فی الحال کچھ نہیں کہنا ہے لیکن کثیر غزلیہ شعراء کی بات کی جائے تو میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ایسے شعراء بہت جلد ایک یا کئی عدد دیوان کے مالک بن جاتے ہیں(خالق نہیں) ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon راشد آزر: فن سے فنکارتک ایک سفر- – – علامہ اعجازفرخ

rashed

راشد آزر

 علامہ اعجازفرخ

علامہ اعجازفرخ

سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
راشد آزر…فن سے فنکار تک ایک سفر

علامہ اعجازفرخ – حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09848080612
ای میل :
– – – – – – –
راشد آزر کے فن اور شخصیت پر کچھ لکھنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔کسی فنکار کے وجود کی گہرائیوں تک پہنچنا ایک امر محال ہے ، اس لئے کہ تہہ در تہہ شخصیت کے نہاں خانے، ان کے اسرار اور پھر بند دروازے کو کھولنے والا حرف خفی میسر آئے تو کہیں جاکر اس شخصیت کے طلسم کدے کا ساتواں در کھلتا ہے۔ان تمام پیچ در پیچ راہوں اور راہداریوں میں ہزار ہزار شبوں کی بیداری اور تمام رات کہانی کہنے کا فن بھی چاہئے۔اس کے باوجود یہ کہ جس عنصر کے جوہر کی تلاش ہے وہ وجود کے زندان میں کہاں اسیر ہے اور اس کی رہائی کی کیا شرائط ہیں،ہنوز ایک راز سربستہ ہے۔فن سے فنکار تک کی رسائی کے اس ذوق سفر کی خاطر اُردو کے مشہور استاد ،نقاد اور شاعر پروفیسر مغنی تبسم نے’’نقد حیات‘‘ کے مقدمہ میں ایک راستے کی طرف نشاندہی تو کی ہے، لیکن یہ رہگزر کوئی صاف سپاٹ اور سیدھی نہیں ہے، بلکہ بہت ہی پرپیچ اور ناہموار خارزاروں سے ہوکر گزرتی ہے۔انہو ں نے ملاوجہی کی بتائی ہوئی عشق کی تین صورتیں بیان کی ہیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon پروین شاکر سے ایک مصا حبہ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرقطب سرشار

Parveen Shakir

پروین شاکرسے ایک مصا حبہ
(24 نومبر 1954ء – 26 دسمبر 1994ء )

ڈاکٹرقطب سرشار
موظف لکچرر، محبوب نگر، تلنگانہ
موبائل : 09703771012

اردو شاعری میں تانیثیت Feminism کا رجحان نیا نہیں ہے۔ بین الاقوامی شہرت کی حامل شاعرہ پروین شاکر نے نسائی احساسات ونظریات کواپنی مخصوص لفظیات کے تناظر میں جس خوبصورتی اور کمال ہنر سے پیش کیا ہے کہ دیگر فیمی نسٹ شاعرات کو نصیب نہیں۔ فیمی نسٹ نظریات کے تناظر میں مردوں کی بالادستی سے انحراف، بت شکنی، روایتوں سے بغاوت ، جھلاہٹ، نفرت اور مرد کے خلاف اعلان جنگ جیسے شدید رویوں کے برعکس پروین شاکر نے نسائی احساسات وادراک کی ترجمانی کے ساتھ احترام نسواں کے تصورکو لطیف پیرائیے میں، شاعرانہ نزاکت اور تہذیب کے ساتھ پیش کر کے تانیثیت نگاری کے نئے اسلوب کی ترجمانی کی بناء رکھی ہے۔ پروین شاکر کا فیمی نزم چاندنی کی طرح نرم جنون کی طرح طاقتور پھولوں کی طرح خوبصورت ، شبنم کی طرح درخشاں اور فرحت بخش ہے جو مرد کے دل میں عورت کے لئے جذبہ محبت اور دماغ کو احترام نسوان کی تربیت دیتا ہے۔ آشوب آگہی کے زہر نے پروین شاکر کی شاعرانہ مٹی میں جذب ہو کر غم وغصے نفرت واحتجاج کے اظہار کی بجائے پھول کھلائے خوشبوئیں بکھیریں اور لذت غم سے آشنا کردیا۔ یہاں ہم نے پروین شاکر کی شاعری اور نثر سے چند جوابات اخذ کئے ہیں اور انہیں ایک گفتگو کا روپ دیا ہے۔ تا کہ شاعرہ کے شعری رویے اور نظریات کی ترجمانی دلچسپ پرائے میں ہو ۔ ( ق۔ س )
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon آہ!جمیل الدین عالی ۔ ۔ علامہ اعجازفرخ

جمیل الدین عالی

جمیل الدین عالی
اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے 

تحریر:علامہ اعجازفرخ
حیدرآباد ۔ دکن

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نوٹ : اردو کے ممتاز شاعر جمیل الدین عالی کے سانحہ ارتحال پر علامہ اعجازفرخ کا مضمون پیشِ خدمت ہے ۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرماے ۔
 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عالی کے مطابق انہوں نے دوہا ستمبر 1944ء میں کہا ہے۔ وہ ہندی نہیں جانتے تھے مگر لوہارو میں قریبی گاؤں میں جو جئے پور کی حدود میں واقع ہے کچھ بھاٹ فقیر آجاتے تھے اور میرا بائی کے دوہے سناتے تھے اور عالی کو اس سے بڑا لطف آتا تھا۔ لیکن جب اگست 1944ء میں اپنے چچازاد بھائی صمصام الدین فیروز کی دعوت پر بلند شہر گئے تو انہیں چھوٹے چھوٹے میلوں میں جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں دو چیزیں ان کے من کو بھاگئیں ایک تو لوگ گیت جو بھاٹوں کی ٹولیاں اونچی تان میں گاتیں اور دوسری چیز جو انہیں اس سے زیادہ بھاگئی وہ ان کے چچا زاد بھائی جن کے یہ مہمان تھے ان کی صاحبزادی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon افتخارعارف : کسی کی چپ کا بھی مطلب الگ الگ نکلا ۔ ۔ علامہ اعجازفرخ

Ifteqar Arif

افتخار عارف

افتخارعارف
کسی کی چپ کا بھی مطلب الگ الگ نکلا

علامہ اعجازفرخ – حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09848080612 –
ای میل :

نوٹ : بقول شخصے: افتخارعارف‘ اپنی نسل کے شعراء میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ وہ عام شعراءکی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہارپرقناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ اسے سمیٹتے ہیں۔اپنے مواد پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا ، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کرسکتے اورسوچ اوراحساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان کی ان خصوصیات کی بناء پر جب میں ان کے کلام کو ہم دیکھتے ہیں تو یہ احساس کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو بیک وقت اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمیں ایک ایسی آسودگی بخشتی ہے جو عارف کے سوا شاید ہی کسی ایک آدھ شاعر میں مل سکے۔اس حوالے سے علامہ اعجازفرخ کا مضمون پیشِ خدمت ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon منور رانا ۔ عمربھردھوپ میں پیڑجلتا رہا ۔ ۔ ۔ علامہ اعجازفرخ

munawwar rana

منوررانا

علامہ اعجاز فرخ

علامہ اعجاز فرخ

منور رانا ۔ عمر بھردھوپ میں پیڑجلتا رہا

علامہ اعجازفرخ – حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09848080612
ای میل :
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نوٹ : منوررانا ‘ اردو کا وہ عظیم شاعر ہے جس نے اردوغزل کومحبوب کی چنری سے نکال کرماں کے آنچل سے باندھ دیا۔ انہوں نے غزل کے تقدس کوبحال کیا اوریہ ثابت کیا کہ غزل صرف معشوق کی اداؤں کا نام نہیں بلکہ ماں کی دعاؤں کا انعام بھی ہے ۔ان کی شاعری میں نہ صرف ماں کی محبت چھپی ہوئی ہے بلکہ ماں کی عظمت بھی پوشیدہ ہے۔ اس حوالے سے محترم علامہ اعجازفرخ کا مضمون پیشِ خدمت ہے جس میں انہوں نے ایک نئے انداز سےمنوررانا کومحسوس کیا ہے اور ان کے شعری فکری ابعاد کو سمیٹنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ بقول منورراناؔ :
ماں لاشعوری طور پہ شعروں میں آگئی
جنت میں ایک پیڑ غزل کا بھی لگ گیا
(یحیی خان )
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک حقیقت افروزاورمایوس کن قول نے زندگی بھرآزردہ رکھا۔ یونان میں کسی فلسفی نے کہا تھا، شاید ارسطو نے یا افلاطون نے یا سقراط نے۔ اس نے کہا تھا ’’میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا‘‘ اس حقیقت کا اظہار میں نے بارہا کیا اور اس سچ پر جھٹلایا گیا۔ جھٹلا نے کی وجہ نہ یہ قول ہے نہ میرا وجود بلکہ جھٹلانے کی وجہ یہ ہے کہ اگر میرے اس سچ کو نہ جھٹلایا جائے تو میری صف میں وہ تمام اندھے جو رقص کی تعریف کر رہے ہیں۔ وہ تمام بہرے جو موسیقی کی نہ صرف داد دے رہیں بلکہ ان کی دادسر رس کا ساتواں در کھول رہی ہے۔ وہ گونگے جو ایوان خطابت میں اپنی خطابت کا رس گھول رہے ہیں اوروہ بونے جو قد آوروں کا قد ناپ رہے ہیں، وہ جاہل جن کی ماؤں نے اپنی محبت سے میرے نام کے جز کی طرح اپنی اولادوں کوعلامہ کہا سب معرض بحث میں آجائیں گے۔میں تو تمام عمراس عقدہ کشائی میں گم رہا کہ میں ہوں بھی یا نہیں مگرفرانسیسی مفکر
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon علی سردارجعفری کا التہابی شعری آہنگ اورفکری ما خذ – -ڈاکٹرقطب سرشار

ali-sardar-jafri

علی سردارجعفری

قطب سرشار

ڈاکٹرقطب سرشار

علی سردارجعفری کا التہابی شعری آہنگ اور فکری ما خذ

ڈاکٹر قطب سرشار
موظف لکچرر، محبوب نگر، تلنگانہ
موبائل : 09703771012

اُردو شعری اظہارکی تاریخ کا دور متقدمین کا رہا ہے اوردوسرا متاخرین کا ۔ غالبؔ ، میر حسنؔ ، انیس دوبیرؔ اور سودا ؔ اپنے شعری اظہار کے لئے جن مو ضو عات کو چنا ان کے حوالے سے اردو شاعری کی شرو عات نہا یت و قیع تراور فنّی اظہار کا اعلیٰ ترین اعتبار ثابت ہو ئی ہے ان شاعروں نے غزل ، مثنوی مر اثی اور قصیدے کے سانچوں میں فکر و فن کے شاہکار تخلیق کئے غالب نے فکر وفلسفہ میر حسن نے تہذیبی منظر نامے انیس ودبیر نے شجا عت، شہادت اور حریت پسند جذبات کے نمائندہ کر داروں کے ایسے پکے اور روشن نقوش ابھار ے ہیں کہ جن میں شعری اظہار کے تمام تر داخلی و خارجی محاسن سے معمور بے پنا ہ کمال تخلیق کے گو نا گوں رنگوں کے انکشافات ہوئے ہیں ۔ مرزامحمد رفیع سوداؔ نے ذات و صفات کے رو شن پہلو ؤں کواس درجہ طاقتوراسلوب میں اُجاگر کردئیے کہ صدیوں کے بعد بھی ان کے رنگ پھیکے پڑ تے نظرنہیں آتے ۔ تا ہم شعرائے متقدمین و متا خرین کی سینکڑوں کی بھیڑ ، روایتی تقلید ی رجحانات کے باعث ، حر ف و ہنرکے اکتا دینے والے بے فیض سیلاب کے مترادف رہی ہے جمو د اور زوال پذیر رجحان اور بے سمت فکری میلا ن ، تکنیکی ور زش تخلیقی اظہار کے فقدان کے سبب پیدا شدہ یکسا نیت کو محسو س کر وا نے اور شاعری کے جمو د کو توڑنے کے سنجیدہ مشن کولے کرحالی اورمحمد حسین آزاد نے ترکےغزل اورنظم گوئی کے رجحان کی داغ بیل ڈالی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon سسکتے لمحوں کا امانت دارشاعر:مصحف اقبال توصیفی ۔ ۔ ڈاکٹرمسعود جعفری

Dr masood jafri

ڈاکٹرمسعود جعفری

Mushaf Iqbal Tausifi

مصحف اقبال توصیفی

سسکتے لمحوں کا امانت دار شاعر – مصحف اقبال تو صیفی

ڈاکٹر مسعود جعفری
حیدرآباد ۔ دکن
09949574641

ہم سمجھ رہے تھے کہ تلنگانہ تخلیق کاروں سے خالی ہو تا جا رہا ہے۔جو کچھ ہے وہ رطب و یابس ہے۔استعارے ،تشبیہیں اور علا متیں غائب ہو گئی ہیں۔ تخلیقی سو تے خشک ہو گئے ہیں۔اب شاعری صرف قا فیہ پیما ئی بن گئی ہے۔فکر و آگہی کہیں کھو گئی ہے۔اس کی جگہ سطحیت آگئی ہے۔ تخلیقات بانجھ ہو گئی ہیں۔سپاٹ پن شاعری کا مقدر بن چکا ہے۔یہ ساری با تیں ایک واہمہ ثابت ہو نے لگیں جب ہمارے سامنے جدید لب و لہجہ کے دلگداز شاعر مصحف اقبال تو صیفی نمو دار ہو ئے ۔ہمیں اپنے خیالات اور شکوک و شبہات پر نظر ثانی کر نی پڑی۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اردو کے ممتاز شاعر بشر نواز کا انتقال

بشر نواز

بشر نواز

اردو کے ممتاز شاعر بشر نواز کا انتقال

رپورٹ : ضامن علی حسرت ۔ نظام آباد
موبائل : 09440882330

یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جاے گی کہ اردو کے ممتازشاعر بشرنواز آج ۹ جولائی ۲۰۱۵ کو انتقال کرگئے ۔ انشااللہ آج ہی بعد نمازعصر جامع مسجد اورنگ آباد میں نمازجنازہ پڑھی جاے گی اور نچ کنواں قبرستان میں تدفین عمل میں آے گی ۔
بشر نواز 18 اگست 1935ء کو اورنگ آباد کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے.
والد امیر نواز خاں، علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے اور اورنگ آباد میں ناظر تعلیمات تھے.
والدہ ممتاز فاطمہ، عالمہ تھیں اور خواتین کے ہفتہ واری اجتماعات سے خطاب اور درس قرآن ان کے معمولات میں شامل تھے.
بشر نواز کی نانی مقبول بیگم، ایک سرکاری مدرسہ میں معلمہ تھیں.
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon کلامِ شاعربہ زبانِ شاعر:شاذتمکنت

شاذتمکنت

شاذتمکنت

کلامِ شاذتمکنت

سید مصلح الدین شاذ تمکنت ۳۱ جنوری ۱۹۳۳ کو پیدا ہوے۔۱۹۸۳میں مخدوم محی الدین :شخصیت اور فن پر مقالہ لکھ کر
عثمانیہ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ پونے کالج ‘انوارلعلوم کالج پھر جامعہ عثمانیہ میں درس و تدریس
کی خدمت انجام دیں۔آپ کا شمار حیدرآباد کے نمائندہ شاعروں میں ہوتا ہے۔آپ کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ کے علاوہ امتیازِ میر ایوارڈ
سے سرفراز کیا گیا۔آپ کے شعری مجموعوں میں تراشیدہ ‘بیاضِ شام اور نیم خواب قابلِ ذکر ہیں جبکہ مخدوم محی الدین ِخصیت اور فن
پر آپ کی تحقیقی کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔
شاذ تمکنت کا انتقال ۱۸ اگست ۱۹۸۴ کو ہوا۔

ميرا ضمير بہت ہے مجھے سزا کيلئے
تو دوست ہےتو نصيحت نہ کر خدا کيلئے

PostHeaderIcon ڈاکٹرقطب سرشار: تعمیری ادب کا نمائندہ شاعر

 قطب سرشار

ڈاکٹر قطب سرشار

ڈاکٹرعزیز سہیل،لیکچرا ر

ایم وی ایس ڈگری کالج محبوب نگر

عصرحاضرمیں تعمیری ادب کا نمائندہ شاعرڈاکٹر قطب سرشار
اردو ادب کی تاریخ میں انیسویں صدی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔کیونکہ یہی وہ صدی تھی جس میں اردو ادب کے تعمیری پہلو وں پر بہت زیادہ زور دیا گیا ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ اردو زبان کے آغاز کے ابتدائی نقوش کا تعلق بھی تعمیری ادب سے ہی رہاہے۔ عصر حاضر میں علاقہ دکن کی چندمعروف شخصیات میں ایک معتبر نام ڈاکٹر قطب سرشار ؔ کا ہے ۔جو تعمیری ادب کی تخلیق میں اپنے آپ کومنہمک رکھے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے اپنی زند گی کے قیمتی پچاس سال اردو ادب کی خدمات میں گزارا۔جو کہ کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔
سوانحی خاکہ : نام سید قطب الدین سرشارؔ ولدیت سید محبوب علی1945ء میں ضلع محبوب نگرمیں پیدا ہوئے۔جامعہ عثمانیہ سے ایم اے کے بعد پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔شعبہ تدریس سے وابستہ رہے اور بحیثیت ڈگری کالج اردو لیکچرار کے سبکدوش ہوئے۔اپنے ادبی سفر کا آغاز 15 سال کی عمر میں شاعری سے کیااور 1990ء سے تبصرہ نگاری و مصاحبہ نگاری کی جانب مائل ہوئے۔ان کی تخلیقات میں انفس و آفاق(شعری
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon شمیمؔ کرہانی: شخصیت اور شاعری ۔ محمد عمران

شمیمؔ کرہانی

شمیم کرہانی

شمیمؔ کرہانی: شخصیت اور شاعری

محمد عمران
استاد،اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول،اجمیری گیٹ،دہلی۔ 110006

شمیمؔ کرہانی کا پورا نام سید شمس الدین حیدر تھا۔شمیم ؔ ان کاتخلص تھا اور اترپردیش کے مؤ ضلع کے کَرہان گاؤں میں پیدا ہونے کی وجہ سے کرہانی لکھتے تھے۔ اپنے قلمی نام سے اس قدر مشہور تھے کہ ایک انٹرویو کے دوران خود بھی اپنا اصل نام یکلخت یاد نہیں کرسکے تھے۔ 8؍جون 1913ء کو ایک سادات زمیندار گھرانے میں ان کی ولادت ہوئی تھی۔ان کے والد ماجد کا نام سید محمد اختراور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ امتہ الزہرا تھا۔سید ہ کاظمی بانو سے ان کا نکاح ہوا تھا۔ان کے فرزندان کے نام سلمان کرہانی ،مراد کرہانی و عابد کرہانی ہیں۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن میں خاندانی طور طریقے سے حاصل کی ،اس کے بعد فیض آباد کے وثیقہ عربک اسکول میں داخلہ لیا ۔ علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے انہوں نے فارسی اور اردو زبا ن میں آنرس کیا تھا ۔ اور مولوی کامل منشی کی ڈگری بھی حاصل کی تھی۔
شاعری کا شوق بچپن ہی سے تھا۔محض آٹھ سال کی قلیل عمر میں شعر کہنا شروع کیاتھا۔اور یہ سلسلہ تادم مرگ باقی رہا۔ انہوں نے اپنے اس سفر میں کبھی بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔وہ بخوبی جانتے تھے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کو شاعرانہ صلاحیتیں عطا کی ہیں اور اس کا بھرپور استعمال کرناہی ان کی زندگی کا مقصد ہے۔شمیمؔ کرہانی دنیا کو یہ بتا نے میں کامیاب رہے کہ انہوں نے خدا کی دی ہوئی اس امانت میں ذرہ برابر بھی خیانت نہیں کی ہے۔اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں انہوں نے انگریزوں کے تسلط کا زمانہ بہت ہی قریب سے دیکھا ، زور و جبر کی شدت کو محسوس کیا۔اوراس طرح وطن دوستی کا جذبہ اور انگریزوں سے بیزاری کا احساس ان کے خون میں شامل ہو گیااورشاعری کے سانچے میں ڈھلنے لگا ۔ان کی اس قسم کی متعدد نظمیں اور نغمے آزادی کی تحریک میں لکھنؤ اور بنارس جیسے شہروں میں ’پربھات پھیریوں‘ میں گائے جانے لگے۔رفتہ رفتہ ان کا شہرہ بنارس اور لکھنؤسے باہر بھی پہنچا اور ان کی نظمیں خواص و عوام میں یکساں طور پر مقبول ہونے لگیں اور سب کو یکساں طور پر متاثر بھی کرنے لگیں۔
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon اردو کی ممتاز شاعرہ ادا جعفری نہیں رہیں

ada

اردو کی ممتاز شاعرہ ادا جعفری نہیں رہیں۔ انّا الللہ و انّا الیہ راجعوں

ادا جعفری 22 اگست 1924ء کو بدایوں میں پیدا ہوئیں۔ آپ کا خاندانی نام عزیز جہاں ہے۔ آپ تین سال کی تھیں کہ والد مولی بدرالحسن کا انتقال ہو گیا۔ جس کے بعد پرورش ننھیال میں ہوئی۔ ادا جعفری نے تیرہ برس کی عمر میں ہی شاعری شروع کر دی تھی ۔وہ ادا بدایونی کے نام سے شعر کہتی تھیں۔ اس وقت ادبی رسالوں میں ان کا کلام شائع ہونا شروع ہوگیا تھا ۔ آپ کی شادی 1947ء میں نور الحسن جعفری سے انجام پائی شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ ادا جعفری عموماً اختر شیرانی اور اثر لکھنوی سے اصلاح لیتی رہی ۔ ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ایوارڈ ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی ‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغا امتیاز سے نوازا۔ آج کل کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔ادا جعفری موجودہ دور کی وہ شاعرہ ہیں جن کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اول کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ کم و بیش پچاس سال سے شعر کہہ
مزید پڑھیں »

PostHeaderIcon کلام شاعر بہ زبان شاعر۔ عبدالحمیدعدم

Capture

کلام شاعر بہ زبان شاعر
اردو کے ممتاز اور مقبول شاعر عبدالحمید عدم 10 اپریل 1910ء کو تلونڈی موسیٰ خان، ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے۔
وہ ایک قادر الکلام شاعر تھے۔ وہ شاعری کی ہر صنف پر عبور رکھتے تھے مگر غزل اور رباعی ان کی خاص پہچان تھی۔ ان کی شاعری کے لاتعداد مجموعے شائع ہوئے جن میں نقش دوام، زلف پریشاں، خرابات، قصر شیریں، رم آہو، نگار خانہ، صنم کدہ، قول و قرار، زیر لب، شہر خوباں، گلنار، جنس گراں، گردش جام، عکس جام، ساز و صدف، آب رواں، شہر فرہاد، آب زر، سر و سمن اور بط مے کے نام سرفہرست ہیں۔ ان کے کلام کی کلیات بھی شائع ہوچکی ہے۔
10 مارچ 1981ء کو عبدالحمید عدم طویل علالت کے بعد لاہور میں وفات پاگئے اور لاہورکینٹ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

PostHeaderIcon ساحر لدھیانوی – ایک فیچر

image002

8 مارچ اُردو کے نامور شاعر "ساحر لدھیانوی” کا یومِ ولادت ہے ۔

ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا اور وہ 8 مارچ 1921ءکو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ساحر لدھیانوی کے شعری مجموعوں میں تلخیاں، گاتا جائے بنجارہ اور آﺅ کہ کوئی خواب بنیں کے نام شامل ہیں۔
انھوں نے متعدد فلموں کے لیے نغمات بھی لکھے تھے جن میں نوجوان، بازی، جال، ٹیکسی ڈرائیور، دیوداس، گھر نمبر 44، منعم جی، انگارے، جورو کا بھائی، تاج محل،ریلوے پلیٹ فارم، میرین ڈرائیو، نیا دور، پیاسا، پھر صبح ہوگی اور کبھی کبھی کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔ ساحر نے اپنی شاعری اور نغمہ نگاری پربے شمار انعامات اور اعزازات حاصل کیے جن میں لینن امن انعام، دو فلم فیئر ایوارڈز اور پدم شری کے خطابات سرفہرست ہیں۔
ساحر لدھیانوی نے جن نغمات پر فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے ان میں فلم تاج محل کا نغمہ جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا اور فلم کبھی کبھی کا نغمہ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے،شامل تھے۔
ساحر لدھیانوی کا انتقال 25 اکتوبر 1980ءکو ہوا ،وہ ممبئی میں آسودہ خاک ہیں-

سوشل میڈیا



تلاش
آپ کی رائے؟

جہان اردو کا کونسا/کونسے ورژن آپ ملاحظہ فرماتے ہیں؟

  • نوٹ :ایک سے زائد جواب دینے کی گنجائش ہے

View Results

Loading ... Loading ...
اردو آمیز- طریقہ کار
اگر آپ کو جہان اردو کا نستعلیق میں مشاہدہ کرنا ہو یا اپنے کمپیوٹر پر اردو میں ٹائپ کرنا چاہتے ہیں؟ہاں؟! تو یہاں سے نستعلیق فونٹ اور کی بورڈ ( کلیدی تختہ ) ڈاؤن لوڈ کریں ِ

Windows XP اور Windows 7 اردو آمیز کرنے کا طریقہ کار
موبائل ایپ – Apps
Download from Amazon App Store
Scan the QR-Code to download Android App
Scan the QR-Code to download iPhone App
محفوظات
مقبول ترین مضامین
نیوز لیٹر
نئے مضامین آنے پر مطلع ہونا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں!تو اس فارم کو پُر کریں۔
محفوظات
↓