ماں – – – ! :- عظمت علی

عظمت علی

ماں – – – !

عظمت علی

ممتا،لاڈ ،پیار ،محبت ،چاہت ،الفت ،عطوفت،مہربانی ،ہمدردی ،دلاسے ،تسلیاں۔اگر محبت کی دنیا کے سارے الفاظ یکجاہوجائیں تو صرف تین حروف کے مجموعہ میں آکر جمع ہوجائیں گے ۔ماں ایسا لفظ ہے جس کے تصور سے چہرے پر خوشی کی لہر یں دوڑجاتی ہیں ۔آنکھوں کو ٹھنڈک میسر ہوجاتی ہے ۔ قلب کو قرار مل جاتاہے ۔دل پاک جذبےسے سرشار ہوجاتاہے۔

ماں! اقوام عالم کی سب سے بااحترام ذات کا نام ہے ۔ ماں کا کردار اس ابدی حیثیت کاحامل ہوتاہے جس کاانداز ہ لگانا ہمارے ادراک سے پر ےہے ۔
شیرخواری کے زمانہ میں جسم پر ایک مکھی تک نہیں بیٹھنے دیتی ۔ اس اہتمام سے پالتی پوستی ہے کہ خود مصائب برداشت کرلیتی ہے لیکن نور عین کو ہر صورت میں ہنستا کھیلتا ہی دیکھنا پسند کرتی ہے۔ ۔اپنے طفل نو خیزکو بولنا،چلنااورکھیلنابڑے ہی پیار سے سکھاتی ہے اور اگر خطابھی کرجائے تو ماں ہنس کر ٹال دیتی ہے۔
ماں کی عظمت کا اندازہ لگانا تو شعور و ادراک سے پرے ہے۔ خرد سالی کے ایا م میں اپنے نونہال کی خاطر مصائب وآلام کاسامناکرتی ہے۔نو ماہ حمل ،دوبرس شیرخواری ۔ جھلسادینے والی گرمی اور یخ بستہ سرد راتیں۔ ناشتہ اورکھانے میں پسندیدہ غذائیں آمادہ کرنا۔پہلے بچے کو کھلانا اور اگر بچ جائے تو کھالینا ورنہ ساری رات بھوکے پیٹ گزار دینا ۔ اپنی زندگی نچھارور کردینا۔اس امید پر کہ یہ بڑے ہوکر ہماری ضروریات پوراکرے گا۔
ماں کو اپنے لاڈلے کا اس حد تک خیال رہتاہے کہ یونہی کبھی اگر وہ اسکو ل سے دیر گھر پہونچتا تو اشک آلود آنکھوں سے سبب دریافت کرنے لگتی کہ بیٹا ! سب خیریت تو ہے نا!؟
اگر بیٹا!کھیل کود کے واسطے باہر نکل جائے تو ماں اپنی دونوں پتلیاں درخانہ پر رکھ جاتی ہے کہ کب نورعین آئے کہ آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب ہو ۔ راہ تکتی رہتی ہےکہ کب دل کا ٹکڑا آئے کہ قلب کو سکون ملے۔اگر کبھی اس کے ننھے اور معصوم چہرے پر احساس پژمردگی نظر آجائے تو بیتاب ہوکر سوال کر بیٹھتی ہے۔ کیا ہوا میرے دل کے چین ! میرے نورعین ! اداس کیوں ہو! کچھ ہوا کیا۔۔۔!؟کس نے مارا میرے بیٹے کو ۔۔۔! ؟
اگر کبھی اپنے لخت جگر کےمومی جسم پر کوئی چوٹ یا رخم دیکھ لےتو تڑپ اٹھتی اور آن کی آن میں علاج کا بندوبست کردیتی۔
کیا ماں مہر و محبت کامجسمہ نہیں !؟
لیکن حالیہ دور میں مغربی بے غیرتی نے یوں کروٹ لی کہ مشرق میں بھی آگئی ہے ۔ حالات کچھ اس طرح بگڑے کہ لوگوں نے عظمت مادر کو طاق نسیاں کے حوالہ کر دیا ۔آج کے دور میں انسانیت و اخلاق کا اس قدر فقدان ہو چکاہے کہ جو ماں اپنے بچوں کی خدمت میں دن رات ایک کئے رہتی تھی آج وہی بیٹا اسی ماں کے تمام احسانات یکسر بھلا بیٹھتا ہے ۔ اسے اب یہ تصور بھی نہیں رہا کہ وہ کیا تھا اور اب کیا ہے ؟
کہاں تھااور اس وقت کہاں ہے ؟
کس کی زحمتوں کا صلہ اور کس کی مرہون منت ہے ؟
اگر ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت بڑھ کر اپنے فرزندکو ہدا یت کرنا چاہے تو وہ آپے سے باہر ہوجاتاہے اور یہ کہنے لگتاہے کہ آپ ہماری زندگی میں دخل اندازی نہ کریں ۔بعض اولاد تو اس حدتک تجاوز کر جا تی ہیں کہ والدین کو کچھ سمجھتی ہی نہیں ۔ ان سے زبان لڑانے لگتے ہیں ۔ بسااوقات الٹا انہیں ہی تہذیب وتمدن کا سلیقہ بتانے لگتے ہیں ۔
جب یہ ماں ضعیفی کوعمر کو پہونچتی ہے تو پھر ناتوانی ،مجبوری ،بیچارگی اور بیماریوں کے ایام شروع ہوجاتے ہیں ۔ پھر بس اللہ کے بھروسہ زندگی بسر ہوتی ہے ۔نہ کوئی سہارا اور ناہی کوئی پرسان حال ہوتاہے۔ !اب اس کو صرف ملک المو ت کاانتظار رہتاہے۔
البتہ اب بھی لائق اولاد موجود ہیں جو اپنی ماں کی خاطر دن رات خدمتیں کر رہی ہیں ۔درحقیقت خدمت احسان نہیں بلکہ اس کی ممتاکی کچھ ادائیگی ہے ۔اگر کوئی اپنی ماں کی خدمت انجام دیتاہے تو گویا جنت میں بسیراکرتا ہے اور جو ا س کا دل دکھاتا ہے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بناتا ۔ لہذا! اگر جنت حاصل کرنی ہے تو ماں کی خدمت فرض ہے۔