معاصرتحقیقی رویّے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرحبیب نثار

habeeb nisar معاصر
ڈاکٹرحبیب نثار

معاصرتحقیقی رویّے

ڈاکٹرحبیب نثار
شعبہ اردو ‘ یونیورسٹی آف حیدرآباد
گچی باولی ‘ حیدرآباد ۔ دکن
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نوٹ : ڈاکٹر حبیب نثار بذات خود ایک محقق ہیں اورتحقیق کے نگران کار بھی ۔انہوں نے جامعاتی تحقیق سے متعلق اپنے کسی مقالے کی تلخیص ارسال کی ہے جس پر گفتگو کی جانی چاہیے کہ عصر حاضر میں اردو تحقیق و تدوین کا معیار و مرتبہ کیا ہے اور اس میں بہتری لانے میں کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تحقیق ‘ حق کی بازیافت کرتی ہے‘ تلاش اور کھوج کے ذریعہ ادب میں اضافہ کرنے کا باعث ہوتی ہے۔ تحقیق معلوم سے اپنی تلاش شروع کرتی ہے اور نامعلوم کی دریافت کا فرض ادا کرتی ہے۔ تحقیق کی دو جہتیں ہیں۔ بازیافت ودریافت اور تدوین متن‘ رشیدحسن خاں تدوین متن کو تحقیق سے آگے کی منزل قرار دیتے ہیں کہ تدوین و ترتیب متن کا عمل تحقیق متن/ بازیافت ودریافت متن کے بعد شروع ہوتاہے۔ پروفیسر گیان چند جین ‘ مالک رام ‘پروفیسر نذیر احمد وغیرہ رشید حسن خاں کے اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اس اختلافِ رائے کے باوصف ہمیں یہہ تسلیم کرنا ہوگا کہ دریافت کھوج اور بازیافت سے یکسر مختلف تدوین وترتیب متن کا عمل ہوتاہے ۔ یہاں ایک نکتہ کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتاہے کہ تدوین بھی دراصل مصنف اور منشائے مصنف کے متن کی بازیافت ہی ہے۔

محققین ‘ دوطرح کے ہیں ۔ ایک وہ جو اپنے ذوقِ سلیم کی بنا پر تحقیق کو اپنا تے ہیں اور دوسرے جامعات کے اسکالرز ہیں۔ اپنی فطری مناسبت سے تحقیق کو اپنانے والے محققین فی زمانہ ’’اقلیدس کے نقطہ‘‘ کی طرح ہیں کہ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ جامعات سے تعلق رکھنے والے اساتذہ اور اسکالرز اپنی اسناد کے لیے تحقیق کو گلے لگائے ہوئے ہیں ا ور سچ پوچھے تو معاصر تحقیق انہی اساتذہ اور اسکالرز سے معمور و مشہور ہے۔
جامعات کے اسکالرز ( ہندوستان کی بیشتر جامعات کے حوالے سے میں یہہ بات کہہ رہاہوں) ماسٹرآف فلاسفی اور ڈاکٹر آف فلاسفی کے لیے تحقیق سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایم فل کی ڈگری کے لیے جو اسکالرز مقالہ لکھتے ہیں وہ وقت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں کہ مقالہ لکھنے کے لیے ان کے پاس وقت بہت کم ہوتاہے کسی موضوع کامطالعہ ‘ تجزیہ ‘ تقابلی مطالعہ اور اُسے ضبط تحریر میں لانے کے لیے کہیں ایک سمسٹر (چھ ماہ) اور کہیں دو سمسٹر (ایک برس ) کا وقت ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایم فل سکالرز ایسے آسان موضوع کا انتخاب کرتے ہیں جن کی اکثر حالات میں ادب اور اس کے ارتقاء میں اہمیت نہیں ہوتی ہے یعنی کسی ہم عصر شاعر یا افسانہ نگار / ناول نگار کی کسی ایک تصنیف کو موضوع بناکر مقالہ لکھ دیاجاتاہے اور عموماًتخلیق کار چونکہ ملکی سطح پر غیر معروف ہوتاہے ایسی صورت میں خود مقالہ نگار کی محنت رائیگاں جاتی ہے۔ پی ایچ۔ڈی کی صورت حال معاصر تحقیق میں کسی حد تک معیاری نظر آتی ہے ۔ یہاں موضوع کی وسعت یا پھیلاؤ اور اس کی مختلف جہتوں کی بناپر تحقیق اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ ملتی ہے لیکن تحقیق کی اس سطح پر بھی عموماً افسانہ و ناول کے موضوع ترجیحی حیثیت رکھتے ہیں ۔شاعری اور اس کے فن کو اکثر اسکالرز منہ لگانا نہیں چاہتے۔ جس کی وجہ سے اکثر ایک ہی جامعہ کے شعبہ میں موضوعات کی تکرار ہوجاتی ہے اور مختلف جامعات کے اسکالرز کے موضوعات میں تو اس طرح کی یکسانیت لازمی ہوچکی ہے۔
۱۹۷۰ء تک اُردو محققین کی ایک کہکشاں نظر آتی ہے۔ جہاں تحقیق اور تدوین کے ایسے ایسے ستارے موجود تھے کہ ان کے کارناموں پر ایک نظر ڈالتے ہوئے آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ معاصر تحقیق میں جامعات سے باہر اور جامعات کے حوالے سے بھی یہ بات پورے و ثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ تدوینِ / ترتیبِ متن شجرِممنوعہ بن گیاہے اورجامعات کے اسکالرز جن موضوعات پر مقالے تحریر کرتے ہیں ان کا مطالعہ کیاجائے تو بیشتر مقالوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تلاش وکھوج کاتصور ہی ختم ہوگیا ہے۔
معاصر تحقیق میں ایک صورت حال جو سارے ہندوستان میں بیک وقت ابھر کر سامنے آئی ہے اور جو اچھی علامت بھی ہے وہ یہ ہے کہ علاقائی فنکاروں پر زیادہ توجہ دی جار ہی ہے علاوہ از یں جامعات سے تعلق رکھنے والے بیشتر اساتذہ قدماء کے کلیات مرتب و شائع کرنے کا فرض اداکررہے ہیں۔
اکیسویں صدی کے آتے ہی رشید حسن خاں، ابو محمد سحر، نثار احمد فاروقی، گیان چند جین، تنویر احمد علوی اور حنیف نقوی جو کہ اُردو تحقیق کی آبرو تھے، ہم سے بچھڑ گئے۔ فی زمانہ چند بزرگ اساتذہ / محقق ایسے بھی موجود ہیں جو تحقیق میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں جیسے سیدہ جعفر، عبدالستار دلوی، گوپی چند نارنگ ، نورالسعید اختر، م۔ن ۔سعید، محمد علی اثر ،نسیم الدین فریس وغیرہ ۔ آزادانہ طورپر تحقیق کے تیشہ سے کو ہکنی کرنے والے چندنام ہیں۔ڈاکٹر ذاکر حسین،ڈاکٹر عطاخورشید،ڈاکٹر عبدالرشید، شمس الرحمن فاروقی اور اسلم مرزا۔ معاصر اُردو تحقیق کی صورت حال کا جب ہم خوردبینی جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تحقیق اپنے عروج پر ہے لیکن ضرورت کے نام پر انجام دی گئی تحقیق تلاش و چھان بین اور کھوج و دریافت سے کسی طورپر تعلق نہیں رکھتی ہے۔

One thought on “معاصرتحقیقی رویّے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرحبیب نثار”

Comments are closed.