اردوتنقید کا سقراط : وارث علوی ۔ ۔ ۔ ۔ پروفیسربیگ احساس

وارث علوی
وارث علوی
بیگ احساس
بیگ احساس

اردوتنقید کا سقراط : وارث علوی

پروفیسر بیگ احساس
حیدرآباد ۔ دکن
موبائل : 09849256723
ای میل :
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
وارث علوی کی تنقید پڑھ کر پتہ نہیں کیوں مجھے بار بار سقراط کا خیال آتا ہے جس نے حق کی راہ میں خود کو قربان کردیا یہ ثابت کردکھایا کہ سچے فلسفی اور دانش ور کے قول اور عمل میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔ جب اس کے دولت مند اور بااثر شاگرد کریٹو نے جیل خانے کے محافظوں کو رشوت دے کر اسے قید سے نکال لیے جانے کی پیش کش کی تو سقراط نے مخصوص انداز میں بحث کرکے اسے قائل کردیا کہ اگر وہ قانون توڑ کر اپنی جان بچالے گا تو اخلاق کا جو اعلیٰ نمونہ پیش کرنے کی کوشش جو وہ عمر بھر کرتا رہا ہے ناکام ہوجائے گی اور اس کی زندگی اکارت جائے گی۔ سقراط نے نہایت بے پروائی سے سزا کا حکم سنا اور ہنستے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں زہر کا پیالہ پی کر دنیا سے رخصت ہوگیا۔ وارث علوی نے بھی یہی کیا۔ وہی لکھتے رہے جسے انہوں نے حق سمجھا۔ کبھی کسی مصلحت سے کام نہیں لیا۔ اس لیے ان سے نہ ان کے ہم عصر نقاد خوش رہے نہ ان سے بزرگ نقاد و ادیب اور نہ نئے لکھنے والے! انہوں نے وہی کیا جو انہیں بہتر لگا۔ انہوں نے اپنے فن کے ساتھ پوری ایمان داری برتی۔ وہ ترقی پسند تحریک کے ہم نوا تھے لیکن جدیدیت کے آغاز کے ساتھ ان کے خیالات میں تبدیلی آئی۔ انہوں نے ترقی پسند تحریک کی کوتاہیوں کو بڑی شدت کے ساتھ بے نقاب کیا۔ ترقی پسند تحریک سے علحیدگی کو وہ اپنے مخصوص انداز میں لکھتے ہیں:

’’بھیونڈی شریف کا اجتماع ترقی پسند تحریک کے لیے گورکنوں اور غسالوں کا اجتماع ثابت ہوا۔ شری رام بلاس شرما گھٹنوں سے نیچے چڈی پہن کر آئے (جو مارکسی درویشوں کا خرقۂ سالوس تھا) اور اپنے دست مبارک سے لاش کو غسل دیا۔ شری ملک راج آنند کفن پہنانے کے لیے خود کپڑے پہن کر آئے اچھا ہوا۔ تلنگانہ کے غازیوں نے بمبئی کے شاعروں کی لہراتی صفوں کو سیدھا کیا۔ مولانا ڈاکٹر عبدالعلیم مرحوم نے نماز جنازہ پڑھائی اور اس طرح وہ فطری ادب کا دوسرا نام تھا فطرت کو لوٹا دیا گیا۔اناللہ وانا الیہ راجعون
انہوں نے ترقی پسند نقادوں کی ساری خامیاں نمایاں کیں۔ ان کے اسلوب کے سقم کو واضح کیا۔ وارث علوی جدیدت سے بھی بہت خوش نہیں رہے جدیدیت کے دور میں جب دوسرے نقاد افسانہ اور شاعری کی نئی نئی تعبیریں کررہے تھے وارث علوی نے ہۂتی اور اسلوبیاتی تنقید کی مخالفت کی۔ جدید افسانے کو انہوں نے مکمل رد کیا، اور پورے دلائل کے ساتھ رد کیا۔ وارث علوی نے کسی آئیڈیالوجی، کسی خاص تنقیدی مکتب کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے زندگی کے تجربات، مشاہدے، مطالعے اور علم کو اپنی تنقید کا رہنما بنایا۔ وہ تنقید کو اُبالی کھچڑی نہیں بلکہ دلچسپ بنانے کے قائل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ تنقید سے آدمی فرحت حاصل کرنا چاہتا ہے جو ایک مہذب اور شائستہ آدمی کی گفتگو میں ہوتی ہے۔ تنقید بھی وہی اچھی لگتی ہے جس میں بصیرت کے ساتھ ساتھ مسرت ہو۔ بے تکلفی، برجستگی اور خوش طبعی ہو۔ اور یہ سارے اوصاف وارث علوی کی تنقید میں پائے جاتے ہیں۔۔۔! ان کی تنقید پڑھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی ہم سے گفتگو کررہا ہے۔ کوئی بات پورے استدلال کے ساتھ پیش کررہا ہے۔ وہ جو کچھ محسوس کرتے ہیں اسے سمجھانے کے لیے خوب تشبیہات کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ بے تکلفی کی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہیں ان کی تحریر میں بے ساختگی اور برجستگی ہے وہ بر محل فقرے چست کرتے ہیں ان کی تنقید پڑھتے وقت اکتاہٹ نہیں ہوتی۔ ان کے اس انداز کو انشا پردازی سے تعبیر کیا گیا۔ ان کی تنقید تاثراتی تنقید ہے لیکن پورے وثوق سے یہ کہنا بھی مشکل ہے ان کی تنقید پر کسی دبستاں کا لیبل لگانا بے حد دشوار ہے۔ ایک اچھے تاثراتی نقاد کے لیے جو اوصاف وہ ضروری سمجھتے ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ صاحب فکر اور صاحب ذوق ہو۔ اس کا مطالعہ بے حد وسیع ہو۔ ادب کو پرکھنے اور اپنے خیالات کو دل کش اور موثر اسلوب میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ان سارے اوصاف کا انطباق وارث علوی کی تنقید پر ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی انہوں نے انحراف بھی کیا۔ تنقید کے لیے وہ صرف تاثرات کا اظہار ضروری نہیں سمجھتے بلکہ اس کے تجزیے پر بھی زود دیتے ہیں۔ سماجی علوم سے ادب کی وابستگی کو تسلیم کرتے ہیں۔ عملی تنقید میں وہ اس نظریے پر پوری طرح قائم نہیں رہتے کبھی ایک تمدنی نقاد کا روپ دھارلیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے:
’’تنقید میں عقاب کی اڑان کی بجائے میں ان تتلیوں کے رقص کا قائل ہوں جو فن پاروں کی شگفتہ کلیوں کے گرد منڈلاتی رہتی ہیں۔ یہی رقص تنقید کو وہ لطافت اور رنگینی عطا کرتا ہے جو بقراطی عالموں کے مقطع مقالوں کے نصیب میں نہیں۔ ادب اگر حسن و مسرت کا سرچشمہ ہے تو اس کی گفتگو بھی حسن و مسرت سے لبریز ہونی چاہیے۔
۔۔۔ لہذا میرے متعلق ان (نقادوں) کا یہ فرمانا سو فیصدی درست ہے کہ مجھے مضمون کے تنقیدی مزاج کی اتنی فکر نہیں رہتی جتنی اسے نہایت دلچسپ بنانے کی۔‘‘ (خندہ ہائے بیجا ص ۱۰۹)
وارث علوی نے اس پر عمل بھی کیا۔ کسی خاص مکتب یا آئیڈیالوجی کی اصطلاحوں کا استعمال کرنے کے بجائے انہوں نے خوب صورت تشبیہات سے کام لیا۔ وہ حسب ضرورت مغربی ادب سے تقابل اور مغربی تنقید سے استفادہ بھی کرتے ہیں لیکن اردو ادب کو انہوں نے مغرب کی وضع کردہ تنقیدی اصطلاحوں سے نہیں پرکھا۔ ان کی تنقید فن پارے کے بطن سے پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے فن پارے کے اوصاف نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
وارث علوی نے اپنے ہم عصر نقادوں سے بھی کھل کر اختلاف کیا۔۔۔ شمیم حنفی کی کتاب ’’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس‘‘ پر طویل مضمون لکھا اور کسی مروت سے کام نہیں لیا۔ وزیر آغا کی تنقید نگاری پر بھی تفصیلی مضمون قلم بند کیا اور دھجیاں اڑادیں۔ اس کے لیے بڑی ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے جو وارث علوی کے پاس ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ بغیر دلائل کے انہوں نے ایسی تنقید کو یکسر رد کردیا ہو۔ جہاں جہاں انہیں اس کے اچھے نمونے نظر آئے ان کی تعریف کرنے میں بھی بخالت سے کام نہیں لیا۔ یہی نہیں بلکہ شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، محمود ہاشمی اور قمر رئیس کے علاوہ علی سردار جعفری، ممتاز حسین اور محمد حسن سے بھی اختلاف کیا۔ ان کا یہ اختلاف بے بنیاد نہیں ہے۔ جدیدیت کے دور میں بعض نقادوں نے شاعری کے مقابلے میں افسانے کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کی تو ان کو سخت جواب وارث علوی نے ہی دیا۔ فکشن کی تنقید کا المیہ اس کی روشن مثال ہے۔ انتظار حسین کے افسانے ’’نرناری‘‘ اور راجند رسنگھ بیدی کے افسانے ’’کوارنٹین‘‘ کی جو تعبیریں علیٰ الترتیب پروفسیر گوپی چند نارنگ اور قمر رئیس نے پیش کیں اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انتظار حسین کا اسطور سیاست کے چوکھٹے میں نہیں سماتا اور بیدی کی حقیقت نگاری علامت بننے سے انکار کرتی ہے۔۔۔ بو‘، ’’بھولا‘‘ اور ’’پانچ دن‘‘ کا جو تجزیہ ممتاز شیریں نے کیا اس سے بھی اختلاف کرتے ہیں۔ ’’بو‘‘، پر ان کا پورا مکمل مضمون موجود ہے۔ ’’پانچ دن‘‘ کا بھی تجزیہ انہوں نے بڑی عمدگی سے کیا۔ وہ افسانے کو شاعری سے کم تر نہیں سمجھتے۔ وہ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ تخلیقی تخیل افسانہ نگار کے پاس بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا شاعر کے پاس۔۔۔! وہ لکھتے ہیں :
’’خیال فن کار کے ذہن میں استعارے ہی کے پیکر میں جلوہ افروز ہوتا ہے زبان کے بغیر خیال کا وجود ممکن نہیں تحت لسانی سطح پر خیالات محض واہمے یا دھندلے احساسات ہوتے ہیں تو اگر خیال اور زبان کا رشتہ روح و جسم کا رشتہ ہے۔ ذرا دیکھیے کہ خود زبان کی ساخت ہی اپنی اصل اور اپنی فطرت میں استعاراتی اور علامتی ہے لفظ شئے کی علامت ہی ہے۔ میں جب گھوڑا کہتا ہوں تو میرے منہ سے لفظ ہی نکلتا ہے گھوڑا دوڑتا ہوا باہر نہیں آتا ذہن میں پوری کائنات بسی ہوتی ہے‘‘۔
ایسا محسوس ہوتا ہے یہ وارث علوی کے نہیں کسی مابعد جدید نقاد کے الفاظ ہیں لیکن شعر و افسانے کی بحث میں وہ اصلی رنگ میں آجاتے ہیں۔
’’کسی چیز کا دوسرے سے مختلف ہونا اس کے کمتر ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ عورت مرد سے مختلف ہے اس لیے یہ سمجھنا کہ وہ کمتر ہے مردانہ پندار کی علامت ہے۔‘‘
آگے چل کر اسی بات کو کیسے منفرد انداز میں سمجھاتے ہیں:
’’نثر میں استعارہ عموماً مرد کے سینے کی مانند سپاٹ ہوتا ہے اور نظم میں عورت کے سینے کی مانند ابھرا ہوا۔ مرد کو چوڑا سپاٹ سینہ ہی زیب دیتا ہے اور عورت کو ابھرا ہوا۔ یہ کہنا کہ شاعری کی مانند نثر کے پاس استعارہ کا ابھار نہیں ہے مضحکہ خیز ہے‘‘۔
نظم اور افسانے کا فرق واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اجمال اور ابہام اس (نظم) کے حسن کی نشانیاں ہیں اس کا پورا طریقہ کار حقائق سے بلند ہوکر تجرید تعمیم اور افاقیت کی دنیاوں میں بلند پردازی کا ہے۔ افسانہ تجرید نہیں تنزیل ہے خیال سے حقیقت کی طرف نزول ہے عالم خیال سے عالم مثال کی طرف!‘‘
وارث علوی نے فکشن کا بہت ڈوب کر مطالعہ کیا۔ فکشن کی تنقید میں ان کی ہمسری بہت کم نقاد کرتے ہیں۔ اردو ناول اور افسانے پر ان کی گہری نظر ہے۔
اردو میں بڑے ناول نہ لکھے جانے کی وجہ وہ اردو کے شاعرانہ مزاج کو سمجھتے ہیں۔ وہ فکشن میں سفاک حقیقت نگاری کے طرف دار ہیں۔ وہ ناول کو مذہبی حکایتوں، جاتک کہانیوں اور داستانوں کی ارتقائی شکل نہیں سمجھتے۔ وہ کہتے ہیں یہ بالکل ایسی بات ہوگی کہ بیل گاڑی کو جدید موٹر کی ابتدائی شکل کہا جائے۔ لیکن وہ نذیر احمد، مرزا رسوا سے قرۃ العین حیدر اور انتظار حسین تک لکھے گئے ناولوں کو داستانوی خصوصیات کا حامل بتاتے ہیں وہ لکھتے ہیں:
’’پریم چند اور عزیز احمد نے ناول کے بیانیہ کو حقیقت نگاری سے قریب کیا۔ Narration کے ساتھ ساتھ Description کو اپنایا۔ کردار کی نفسیاتی اور جذباتی زندگی کی عکاسی کی راہ کشادہ کی۔ گویا ناول کو ضرورت تھی اس زبان کی اس لب و لہجہ اور اسلوب بیان کی جو اس کی شناخت قائم کرے۔ یہ اسلوب ناول کو بڑی مشکل سے حاصل ہوا۔ اور ابھی اس اسلوب سے اس نے پورا کام بھی نہیں لیا تھا کہ اردو میں جدیدیت نے افسانہ کو ماردیا اور ناول کے تمام امکانات ختم کردیے۔‘‘ (۔۔۔۔۔۔ ص ۴۵)
اردو کے اچھے ناولوں کی فہرست میں وارث علوی کے پاس صرف تین چار نام ہیں۔ انہوں نے ’’آخر شب کے ہم سفر‘‘، ’’راجہ گدھ‘‘ اور ’’کسی دن‘‘ پر تفصیلی مضمون لکھے۔ قرۃ العین حیدر، بانو قدسیہ اور اقبال مجید کوئی بھی ان کے معیار پر پورا نہیں اترتا لیکن ان کا خیال ہے کہ بعض ناول مسلمہ ناولوں کے معیار پر پورے نہ اترنے کے باوجود بڑے ہوتے ہیں ، مس حیدر کے ناول بھی ان معنٰی میں عظیم ہیں۔ نئے ناول نگاروں کے ناول بھی اپیل نہیں کرتے۔ وہ الیاس احمد گدی کے ناول ’’فائر ایریا‘‘ کو معمولی ناول قرار دیتے ہیں۔ ’’آخری داستاں گو‘‘ (مظہر الزماں خاں) پانی (غضنفر) آخری درویش (عشرت صغر) کو بے کیف اور بے بصیرت مصنوعی اور غیر تخیلی سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ قاری کے لیے نہیں بلکہ نقادوں کے لیے لکھے گئے ہیں۔ وارث علوی کی اس حق گوئی سے سبھی ناراض ہیں۔ کیا ترقی پسند کیا جدید اور کیا مابعد جدید لکھنے والے۔۔۔! لیکن وارث علوی کو اس کی پرواہ نہیں ہے وہ لکھتے ہیں:
’’مجھے نئے لکھنے والوں کی خوش نودی نہیں چاہیے میں ان کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا لیکن حوصلہ افزائی کے تحت کھری تنقید سے گریز بھی پسند خاطر نہیں‘‘
اسی لیے میں وارث علوی کو اردو تنقید کا بقراط کہتا ہوں۔
وارث علوی کا اصل میدان اردو افسانہ ہے۔ افسانے کی شعریات ان کی اپنی مرتب کردہ ہے جس پر سعادت حسن منٹو کھرے اترتے ہیں ان کے بعد راجندر سنگھ بیدی۔۔ کبھی کبھی وہ عصمت، غلام عباس اور کرشن چندر کے بھی نام لے لیتے ہیں۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’افسانہ بنیادی طور پر Social Gossip کا آرٹ ہے اور غپ شپ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نئے کھنڈروں میں جھانکتا رہے۔ کن سوئیاں لیتا رہے۔ پڑوسی کی دیوار پر چڑھ کر یا بالاخانہ میں چھپ کر یا کھڑکی کی دراز سے جھانک کر کسی کے گھر کا حال دیکھیے اور اسے افسانے میں طشت ازبام کرے۔ اسی لیے افسانہ کا آرٹ بنیادی طور پر زندہ انسانوں اور ان کے تعلقات اور مسائل میں کانا پوسی کرتی ہوئی عورتوں کی طرح دل چسپی لینے کا آرٹ ہے۔ Social Documentation کے بغیر افسانہ وجود میں آہی نہیں سکتا اور زندہ انسان، مکانوں، خاندانوں، طبقوں، فرقوں اور مذہبوں اور چھوٹی چھوٹی تہذیبی اکائیوں کی دلدل میں سر تک دھنسے ہوتے ہیں۔‘‘ (۔۔۔۔۔۔ ص ۴۶)
اس کسوٹی پر صرف حقیقت نگاری ہی پوری اترتی ہے۔ خاص طور پر پر وہ افسانہ جو منٹو اور بیدی نے لکھا، ان کا خیال ہے کہ دراصل جدید افسانہ کا پورا بحران حقیقت نگاری کی ذمہ داری قبول نہ کرنے کا نتیجہ تھا۔ وہ جدید افسانے سے کبھی مانوس نہ ہوسکے۔ وارث علوی نے سعادت حسین منٹو کو فکشن کی کسوٹی بنالیا ہے۔ فکشن پر لکھے ہر مضمون میں منٹو کا ذکر آجاتا ہے اور تعریفی انداز میں چاہے وہ مضمون ناول پر ہی کیوں نہ ہو۔ منٹو کے فن کو وارث علوی نے اپنے وجود کا حصہ بنالیا ہے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ بھی منٹو شناسی ہے۔ منٹو کے فن پر انہوں نے پوری ایک کتاب لکھی۔ ممتاز شیریں نے منٹو تنقید کا آغاز کیا اور وارث علوی نے اسے منتہا تک پہنچادیا۔ ان کی دوسری کتاب بیدی پر ہے۔ دوسرے افسانہ نگاروں پر بھی طویل مضامین لکھے لیکن ان میں اتنا خون جگر صرف نہیں کیا۔ کرشن چندر پر ان کا طویل مضمون ہے۔ اوپندر ناتھ اشک، بلونت سنگھ، رام لعل، عزیز احمد اور ضمیرالدین احمد پر ان کے مضامین ہیں۔ وہ کسی پر مضمون لکھتے ہیں تو اس کے سارے افسانے پڑھتے ہیں۔ ابتدا میں افسانہ نگار کے محاسن بیان کرتے ہیں۔ پھر افسانوں کے تجزیے کے دوران وہ ہر افسانے کی قدر و قیمت طئے کرتے ہیں، فنی خامیوں کا محاسبہ کرتے ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ افسانہ کیوں اچھا افسانہ نہیں بن سکا اور کیا کمی رہ گئی۔ اختتام پر وہ دوبارہ محاسن بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے خود لکھا ہے:
’’اب ہم نے ادب میں قلعی گری کا ہی دھندا شروع کیا ہے تو مضامین کا پیٹ پالنے کے لیے برتنوں کی ضرورت تو پڑے گی، منٹو پر لکھا تو کرشن چندر پر لکھا اب بیدی پر لکھیں گے۔ کرشن چندر نے فن کی دیگچی کا استعمال احتیاط سے نہیں کیا تو کچھ ٹھوکنا بجانا بھی پڑتا ہے، ہم پروہت تو ہیں نہیں کہ برتن کا استعمال عصری آگہی کا پرشاد باٹنے کے لیے کریں۔ کرشن چندر کے متعلق میرا فیصلہ یہ تھا کہ وہ اردو کے بڑے افسانہ نگار ہیں ان کا نام ہمیشہ منٹو، بیدی، عصمت، غلام عباس وغیرہ کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ دوئم درجے کے لکھنے والے نہیں ہیں اول درجے کے لکھنے والے ہیں گو ان کی تمام تخلیقات اول درجے کی نہیں بس اسی قسم کی داروگر اپنا معاملہ ہے جس فن کار میں رطب ویابس زیادہ ہوتا ہے اس پر مضمون بھی ایسا ہوتا ہے، جیسا کہ رام لعل پر تھا، لوگ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہم بغل گیر ہورہے ہیں یا گریبان گیر۔۔۔‘‘
کیا کوئی نقاد اپنے فن کے بارے میں اتنی صاف گوئی بے رحمی اور سفاک سچائی سے یہ سب کچھ کہہ سکتا ہے؟ خود اپنی قلعی کھول دی۔ وہ بہت کم افسانہ نگاروں کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے پسندیدہ افسانہ نگاروں کا وہ پوری طرح دفاع کرتے ہیں۔ حیات اللہ انصاری اور شمس الرحمن فاروقی نے بیدی کے افسانے ’’گرہن‘‘ کو معمولی درجے کا افسانہ قرار دیا تو وارث علوی نے ’’گرہن‘‘ پر پورا ایک مضمون تحریر کردیا۔ اس کا عنوان ’’اردو کا ایک بدنصیب افسانہ‘‘ رکھ کر اس کے نصیب کو حیات اللہ انصاری اور شمس الرحمن فاروقی کی تنقید سے جوڑدیا۔ انہیں اپنے عہد کے ادبی رویے پر سخت ملال تھا۔
وہ کہانی پن کو بہت ضروری قرارا دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بہت سے لکھنے والوں کو کہانیاں سوجھتی نہیں ہیں اسی لیے ان کے یہاں انشائیہ نگاری شاعرانہ پن، میلو ڈرامائیت، رومانیت، جذباتیت اور پلاٹ کے داؤ پیچ ملتے ہیں۔ ادب لطیف کے لکھنے والوں نے زبان کا کمال ہی دکھایا۔ پریم چند کے مقلدین نے پلاٹ پر زیادہ انحصار کیا۔ پریم چند کو وہ ایسے فن کاروں میں شامل کرتے ہیں جنہیں زیادہ کہانیاں سوجھتی تھیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ عصمت، منٹو، بیدی، غلام عباس کو بھی وافر تعداد میں معنی خیز کہانیاں سوجھتی تھیں کرشن کے یہاں سڈول کہانیوں کی تعداد کم ہے۔
وہ انور سجاد اور بلراج مین را کو کہانی کار نہیں مانتے، انتظار حسین، قرۃ العین حیدر، سریندر پرکاش اور محمد منشایاد کو ان فن کاروں کے زمرے میں رکھتے ہیں جنہیں کہانیاں سوجھتی تھیں، انھیں سریندر پرکاش کے یہاں صحافت کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں اس معاملے میں وہ سب سے زیادہ تخلیقی فن کار محمد منشایاد کو مانتے ہیں۔ راجندر سنگھ بیدی کے ’’بھولا‘‘ اور غلام عباس کا ’’ہمسائے‘‘ کو وہ کہانی کا اعلیٰ ترین نمونہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی تنقید کے مطابق کہانی کو بے ساختگی سے پلاٹ میں بدل کر پے چیدہ اور تہہ دار ناول بنانے کی سب سے اچھی مثال ’’ایک چادر میلی سی‘‘ کے ذریعہ بیدی نے پیش کی ہے۔
آج کے افسانہ نگاروں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان کے پاس بے ساختگی نہیں ہے، بلکہ وہ نقاد کے وضع کردہ اصولوں کے مطابق افسانہ لکھنا چاہتے ہیں۔
’’آج کا ادیب حمل ٹھہرنے سے قبل ہی وہ تمام کتابیں پڑھنا شروع کردیتا ہے جو ایام حمل میں بچہ نگہداشت کے لیے ادب کے عطائیوں نے ضروری قرار دی ہیں‘‘۔
آج کے فن کار کا نقادوں کی خوشنودی حاصل کرنا اور ایوارڈ کی ریس میں شامل ہونے کی للک پر شدید طنز کرتے ہیں۔ جدیدیت کے بعد لکھنے والوں پر وارث علوی نے مضامین لکھے جن میں خالد جاوید، ترنم ریاض، ثروت خاں، لالی چودھری اور یہ خاک سار بھی شامل ہے۔ شوکت حیات کی کتاب ’’گنبد کے کبوتر‘‘ کا پیش لفظ لکھا لیکن یہ سارے مضامین مروت اور حوصلہ افزائی کے زمرے میں آتے ہیں، یہاں حقیقی وارث علوی نظر نہیں آتے۔
ہۂتی اور اسلوبیاتی تنقید کی طرح وہ ساختیاتی، پس ساختیاتی وقاری اساس تنقید سے بھی مطمئن نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر متن عبارت ہے لسانی نشانیوں سے، جن کی تعبیر کرنے میں قاری آزاد ہے متن کا پابند نہیں یا دوسرے الفاظ میں دال کی تعبیر مدلول کے حوالے کے بغیر بھی ہوسکتی ہے تو پھر شعر یا افسانہ کی تعبیر میں قاری یعنی نقاد کا ذہن آزاد ہے۔ تعبیر پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ گویا کسی تعبیر کو دور ازکار، اٹکل، ترنگی، لامرکز، گمراہ کن اور مضحکہ خیز کہنے کا قاری کے پاس کوئی عقلی جواز نہیں رہتا۔ ہمارے پاس کوئی نہ کوئی معیار اور پیمانہ ایسا ہونا چاہیے جو تعبیر کے اچھے برے ہونے کی نشان دہی کرے۔ اس خیال کو غلط ثابت کرے کہ ہر امکانی تعبیر صحیح تعبیر ہوتی ہے۔ وہ مصنف کی موت کے مفروضے سے بھی اتفاق نہیں کرتے۔
وارث علوی نے ’’لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر‘‘ لکھ کر سچائی کے زہر کا پیالہ پیا ہے۔ یہ مضمون ان کی ساری ادبی زندگی کا نچوڑ ہے۔ انہوں نے اردو کا موجودہ منظر نامہ پیش کیا ہے اور بڑے کرب کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جس سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے لیکن انکار ممکن نہیں ہے۔ اس مضمون میں نقادوں کی حکمرانی، گروہ بندی، ادیبوں کی کمزوریاں، اردو معاشرے کی نفسیات، بے ضمیری، بے قدری خود اپنا محاسبہ وہ سب کچھ ہے جس کے اظہار کے لیے ایک صوفیانہ بے نیازی ضروری ہے ۔ کہیں کہیں وارث علوی کا فرسٹریشن بھی جھلکتا ہے جسے وہ طنز کا پردہ ڈال کر چھپاتے ہیں۔ وہ تنقید پر تخلیق کی بالادستی کو تسلیم کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ انہوں نے مصلحتوں سے اونچا اٹھ کر تلخ حقیقتوں کو پیش کیا، توازن برقرار رکھنے کی پوری کوشش کی۔ کہیں لڑکھڑاے، ڈگر سے ہٹے پھر سنبھلے اور سچائی کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ اپنی اسی کھری سچائی کی وجہ سے وہ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اردو ادب میں ان کی وہی حیثیت ہے جو یونانی ادب میں سقراط کی تھی ایک ایسا فن کار جس نے سچائی اور اصول پسندی پر اپنا سب کچھ قربان کردیا۔