ویب میڈیا اوراسلام دشمنی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مولاناسید احمد ومیض ندوی

islam-a6-web
ویب میڈیا اوراسلام دشمنی
ایک لمحہ فکریہ

مولاناسید احمد ومیض ندوی
Email:
Mob: 09440371335

ابھی گزشتہ 19ا گست2016کے اخبارات میں شائع شدہ ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا بھر میں سوشیل میڈیا کا استعمال سب سے زیادہ اسلام دشمنی کے لئے ہورہا ہے، چنانچہ تازہ رپورٹ کے مطابق :’’گزشتہ ماہ جولائی میں دنیا بھر میں ہر روز صرف انگریزی زبان میں تقریبا 7ہزار اسلام دشمن ٹوئٹس بھیجی گئی، اس کے مقابلہ پر اپریل میں ڈھائی ہزار ایسی ٹوئٹس کی گئی تھیں، تاہم فرانسیسی شہر نیس میں حملہ اور ترکی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ان میں تیزی آگئی، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تھنک ٹینک ڈیموس کو ایسے 49الفاظ اور ہیش ٹیگ ملے جن سے اسلام دشمنی ظاہر ہوتی تھی، ٹوئٹر نے اس پر تاحال تبصرہ نہیں کیا، ڈیموس نے مارچ اور جولائی میں کی جانے والی ٹوئٹس کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ایسی 215,247 انگریزی ٹوئٹس ہیں جو اسلام دشمنی، حقارت آمیز یا نفرت انگیز ہیں،

یورپ میں سب سے زیادہ ایسی ٹوئٹس برطانیہ سے کی گئیں جب کہ اس کے بعد نیدر لینڈ فرانس اور جرمنی تھے، 15جولائی ایسا دن تھا جب سب سے زیادہ یعنی 21,190ٹوئٹس بھیجی گئیں، اس سے ایک روز پہلے ایک شخص نے نیس میں ساحل پر موجود لوگوں پر ٹرک چڑھا کر 85افراد کو ہلاک کردیا تھا، ایک اور تیزی 17جولائی کو ترکی میں ناکام بغاوت کے ایک روز بعد دیکھنے کو ملی جب ایسی 10,610ٹوئٹس بھیجی گئیں، اس کے علاوہ 26جولائی بھی اس حوالہ سے سرگرم دن تھا ‘‘ ( روزمانہ راشٹریہ سہارا ،۱۹؍ ا گست ۲۰۱۶ء ؁)
موجودہ دور کو اگر میڈیا کا دور کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو، الیکٹرانک میڈیا کی حیرت انگیز ترقی نے پوری دنیا کو عالمی گاؤں بنا کر چھوڑ دیا ہے، اب میڈیا زندگی کا ایک ایسا لازمہ بن چکا ہے کہ اس کے بغیر عصری زندگی کا تصور ممکن نہیں، عصری زندگی کا کوئی شعبہ میڈیا کے اثرات سے محفوظ نہیں، رائے عامہ کی ہمواری بچوں کی ذہن سازی، فکروسوچ کی تبدیلی اور اخلاق وکردار کی تعمیر وتخریب میں میڈیا کلیدی رول ادا کرتاہے، صلیبی اور صہیونی طاقتوں کو انسانی زندگی پر میڈیا کے اثرات کا بخوبی اندازہ تھا، چنانچہ صہیونی کار پردازوں نے روز اول سے میڈیا کو اہمیت دی۔1988میں سوئزرلینڈ کے شہر باسل میں 300یہودی دانشوروں نے ہرٹزل کی زیر قیادت جمع ہوکر پوری دنیا پر حکمرانی کے منصوبہ کے لئے جو 19نکات بنائے تھے، جنہیں پروٹوکولز کہا جاتا ہے، ان میں میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو غیر معمولی اہمیت دی گئی تھی، بارہویں پروٹوکول میں میڈیا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا:
’’اگر ہم یہودی پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے سونے کے ذخائر پر قبضے کو مرکزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقاصد کے حصول کے لئے دوسرا درجہ رکھتے ہیں، ہم میڈیا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوکر اس کی باگ کو اپنے قبضے میں رکھیں گے، اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا موثر اور طاقتور اخبار نہیں رہنے دیں گے کہ وہ رائے کو موثر ڈھنگ سے ظاہر کرسکیں اور نہ ہی ہم اس کو اس قابل رکھیں گے کہ ہماری نگاہوں سے گذرے بغیر کوئی خبر سماج تک پہنچ سکے، ہم ایسے قانون بنائیں گے کہ کسی ناشر اور پریس والے کے لئے یہ ناممکن ہوگا کہ وہ پیشگی اجازت لئے بغیر کوئی چیز چھاپ سکے، اس طرح ہم اپنے خلاف کسی بھی سازش یا معاندانہ پروپیگنڈے سے باخبر ہوجائیں گے، ہم ا یسے اخبارات کی سرپرستی کریں گے جو انتشار وبے راہ روی اور جنسی واخلاقی انار کی پھیلائیں گے اور استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدافعت اور حمایت کریں گے، ہم جب چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کریں گے، اور جب مصلحت دیکھیں گے انہیں پرسکون کردیں گے، سچی اور جھوٹی خبروں کا سہارا لیں گے، ہم ایسے اسلوب میں خبروں کو پیش کریں گے کہ قومیں اور حکومتیں ان کو قبول کرنے پر مجبور ہوجائیں، ہمارے اخبارات ورسائل ہندؤوں کے معبود وشنو کی طرح ہوں گے جس کے سیکڑوں ہاتھ ہوتے ہیں، ہمارے پریس کا یہ بنیادی کام ہوگا کہ وہ مختلف موضوع اور کالموں کے ذریعہ رائے عامہ کی نبض پر ہاتھ رکھیں گے، ہم یہودی ذرائع ابلاغ کو خبر رساں ایجنسیوں کے زیر کنٹرول رکھ کر دنیا کو جو کچھ دکھانا چاہتے ہیں وہی دکھائیں گے‘‘
یہودی پروٹو کولز کی بارہویں شق میں دی گئی ان تفصیلات سے واضح ہوتا ہے کہ صہیونی کار پردازوں کے یہاں روز اول سے میڈیاکو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ اس وقت عالمی میڈیا کے 90فیصد حصے پر یہودیوں کا قبضہ ہے، دنیا بھر کے الیکٹرانک میڈیا کا سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ٹی وی اور ریڈیو کی 99فیصد پر یہودیوں کا قبضہ ہے، اسی طرح فلمی دنیا کے 80فیصد پر یہودی قابض ہیں، جہاں تک پرنٹ میڈیا کا تعلق ہے تو امریکہ سے شائع ہونے والے ڈیڑھ ہزار اخبارات میں سے 75فیصد اخبارات یہودیوں کے پاس ہیں، یہودی پرنٹ میڈیا کو بھی بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایک ایک یہودی فرم 50-50اخبارات ومیگزین شائع کرتی ہے، ’’نیوہاؤس‘‘ یہودیوں کا ایک اشاعتی ادارہ ہے، جو 26روز نامے اور 24میگزین شائع کرتا ہے، امریکہ کے تین مشہور اخبارات جن میں سے ہر ایک کی اشاعت 90لاکھ سے متجاوز ہے، یہودیوں کی ملکیت میں ہیں جہاں تک نیوز ایجنسیوں کا تعلق ہے تو اہم ایجنسیاں جیسے ’’اے ایف پی‘‘،’’رائٹر‘‘ اور ’’اے پی‘‘ پر یہودیوں ہی کا قبضہ ہے، انٹر نیٹ کے تمام سرچ انجن یہودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔
میڈیا پر یہودی کنٹرول ہی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کی سپر پاور طاقت امریکہ مکمل طور پر یہودیوں کے زیر اثر ہے، امریکی وائٹ ہاؤز صہیونی مملکت کے خلاف ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا، یہ یہودی عالمی میڈیا ہی کا کمال ہے کہ کوئی مسلم ملک چاہے وہ اپنے موقف میں کتنا ہی حق بجانب ہو وہ عالمی سطح پر معذرت خواہانہ رویہ اپنانے پر مجبور ہوجاتا ہے، عالم اسلام میں یہودی میڈیا جب چاہے اپنی مرضی کے حکمرانوں کو مسلط کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور جب کسی ناقابل قبول مسلم حکمراں سے بد ظن ہوتا ہے تو یہودی میڈیا عالمی طاقتوں کی ملی بھگت سے ایسے حکمراں کی ذاتی زندگی کے تعلق سے ایسی من گھڑت تفصیلات شائع کرنے لگتا ہے کہ لمحوں میں مقبول حکمراں عوام کی نگاہ میں قابل نفرت بن جاتا ہے، حالیہ ترکی کی ناکام بغاوت میں مغربی میڈیا نے اردغان کے خلاف اسی قسم کا منفی کردار ادا کیا، انٹر نیٹ پر چوں کہ صہیونی قابض ہیں اس لئے اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کے لئے وہ انٹر نیٹ کا بھر پور استعمال کرتے ہیں، ایک اطلاع کے مطابق یہودیوں نے انٹر نیٹ پر جعلی اسلام کی 103سائٹس بنا رکھی ہے جس کے ذریعہ عام غیر مسلموں اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، یہ تو یہودیوں کی خاص نگرانی میں بنائی گئی سائٹس ہیں، ویسے مختلف اسلام دشمن گروپوں کی جانب سے اسلام کے نام سے پائی جانے والی سائٹس کی تعداد ہزاروں میں ہے، نیٹ پر جب کبھی اسلام کا لفظ مارا جاتا ہے تو یا تو یہود ونصاریٰ کے بنائے سائٹس کھلتے ہیں یا پھر قادیانیوں کے سائٹس۔آغاز مضمون میں ذکر کردہ تازہ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ اب سوشیل میڈیا کو بھی اسلام دشمنی کے لئے خوب استعمال کیا جانے لگا ہے۔
امریکہ میں ا سلام کے خلاف نفرت انگیز مہم کس شدت کے ساتھ چلائی جارہی ہے اس کا اندازہ امریکی مسلمانوں کی ایک معروف تنظیم کی رپورٹ سے کیا جاسکتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں اسلام مخالف گروپس اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے پر یومیہ 81ہزار 860ڈالر خرچ کررہے ہیں جو ماہانہ ڈھائی ملین اور سالانہ 30ملین ڈالر بنتے ہیں۔ہمارا ملکی میڈیا بھی یہودی میڈیا کے شانہ بشانہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منفی کردار ادا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا، چنانچہ ڈاکٹر ذاکر نائک کے معاملہ میں قومی میڈیا کا گھناؤنا کردار سب پر عیاں ہوچکا ہے۔
ایک ایسے وقت جب کہ اسلام دشمن لابیاں پوری شدت کے ساتھ اسلام کے خلاف الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کررہی ہیں، مسلمانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھی شرعی دائرہ میں رہتے ہوئے الیکٹرانک میڈیا بالخصوص انٹر نیٹ کا اسلام کے لئے مثبت استعمال کی بھر پور کوشش کریں، سوشیل میڈیا کا اسلام کے دفاع کے لئے مؤثر استعمال کیا جاسکتا ہے، میڈیا کے ماہرین کو چاہئے کہ و ہ ا سلام کے لئے سوشیل میڈیا کے مؤثر ا ستعمال کی منصوبہ بندی کریں۔
اسلام ایک کامل ومکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے، میڈیا جو کہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے والا موثر شعبہ ہے وہ بھی اسلامی رہنمائی کے دائرہ سے خارج نہیں ہے، خبروں کی ترسیل اور ذرائع ابلاغ کے تعلق سے قرآن وحدیث میں واضح اصول پائے جاتے ہیں، نبی کریمﷺ کا اسوۂ حسنہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کواسلام کی اشاعت اور دعوت دین کے فریضہ کی ادائیگی کے لئے اپنے زمانہ کے میڈیا سے بھر پور استفادہ کرنا چاہئے، نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد ابتدائی چند سالوں تک آپ خفیہ دعوت دیتے رہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے کھلے عام دین کا پیغام سنانے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم فرمایا تو آپ نے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کے لئے اس زمانے کا میڈیا استعمال فرمایا، دور جاہلیت میں جب دشمن کا خطرہ در پیش ہوتا تو آدمی صفا پہاڑی پر چڑھ کر زور سے یا صباحاہ کی آواز لگاتا، جسے سن کر سب لوگ جمع ہوجاتے، آواز لگانے والا صفا پہاڑی پر چڑھ کر مادر زاد برہنہ ہو کر نعرہ لگاتا جسے ’’النذیر العریان‘‘ کہا جاتاتھا، یہ گویا اس زمانہ کا میڈیا تھا، نبی رحمتﷺ نے اسے استعمال فرمایا، البتہ اس کا جو ممنوع حصہ تھا، یعنی بے لباس ہوجانا،اس سے گریز کیا، جب آپ نے یا صباحاہ کی ندا لگائی تو سب لوگ اکٹھے ہوگئے، پھر آپ نے ان تک اپناپیغام پہنچایا، اس کے علاوہ شاعری اور خطابت بھی اس زمانہ کا میڈیا تھا، عرب شعراء اسلام اور پیغمبر اسلام پر رکیک حملے کرتے تو شاعری کا ذوق رکھنے والے صحابہ اپنی شاعری کے ذریعہ اسلام اور پیغمبر اسلام کا دفاع کیا کرتے تھے، قرآن پاک میڈیا سے متعلق زریں اصول کی رہنمائی کرتا ہے، قرآن کی رہنمائی کے مطابق میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو غیر جانبدارہی نہیں بلکہ حق کا طرفدار ہونا چاہیے، اللہ تعالیٰ کا ا رشاد ہے: وإذا قلتم فاعدلوا‘‘ او رجب کہو تو عدل وانصاف کی بات کہو۔
قرآن کی تاکید ہے کہ کسی سے دشمنی تمہیں عدل وانصاف کی راہ سے نہ ہٹائے، ارشاد ہے: وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ.(المائدہ: ۸)اور کسی خاص قوم کی عداوت تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہوجائے کہ تم عدل نہ کرو، قرآن، حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کرنے سے اور حق کو چھپانے سے روکتا ہے، ارشاد ہے: وَلاَ تَلْبِسُواْ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَکْتُمُواْ الْحَقَّ.(البقرہ:۴۲) اور مخلوط مت کرو حق کو ناحق کے ساتھ اور حق کو مت چھپاؤ، قرآنی ہدایت کے مطابق میڈیا کے وہ حلقے انسانیت کے مجرم ہیں، جو ذاتی مفادات کے لئے باطل کی کمانڈری کرتے ہیں یا حق کو چھپاتے ہیں، اسی طرح میڈیا کو بھلائی اور اخلاقی وانسانی اقدار کے فروغ کا ذریعہ ہوناچاہئے، قرآن صاف کہتا ہے کہ اس امت کا اصل مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، ارشا دہے: کُنْتُمْ خَیْْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ.(آل عمران: ۱۱۰)
قرآن صاف کہتا ہے کہ لوگوں کی آپسی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں سوائے ان لوگوں کی سرگوشیوں کے جو صدقہ کا حکم دیا کرتے ہیں یابھلائی کا حکم کرتے ہیں یا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی بات کرتے ہیں، قرآنی ہدایت کے مطابق میڈیا کو فحاشی کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: إِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِیْ الَّذِیْنَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ.(النور: ۱۹) جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچہ ہو ان کے لئے دنیا وآخرت میں درد ناک سزا مقرر ہے، یہ اور ان جیسی بہت سی آیات میں میڈیا کے تعلق سے صاف رہنمائی ملتی ہے، ایسے میں مسلمانوں کی میڈیا سے غفلت نہ صرف اسلام بلکہ پوری انسانیت کے حق میں بہت بڑا جرم ہے، اس وقت میڈیا کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو انسانیت کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کاتہیہ کرچکے ہیں، چنانچہ میڈیا ان کے لئے ہر اول دستے کا کام دے رہا ہے، میڈیا کے ذریعہ ہر وہ چیز پھیلائی جارہی ہے جو انسانیت کے لئے سراسر ہلاکت ہی ہلاکت ہے، میڈیا کی سب سے موثر قسم انٹر نیٹ ہے جسے حق کو کچلنے اور عام انسانوں کو اسلام سے متنفر کرنے کے لئے خوب استعمال کیا جارہا ہے، نیٹ پر سینکڑوں سائٹس ہیں جسے باطل پرستوں نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے شروع کیا ہے، نیز بعض نام نہاد باطل جماعتیں بھی میڈیا کو خوب استعمال کررہی ہیں، نیٹ پر اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنا اور لوگوں کو صراط مستقیم دکھانا وقت کا اولین تقاضہ ہے، اگر چہ علماء حق نے کئی ایک سائٹس کا آغاز کیا ہے جن سے تعارف اسلام کا کام ہورہا ہے لیکن ابھی اس میدان میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔