اردو کے ممتاز شاعر بشر نواز کا انتقال

بشر نواز
بشر نواز

اردو کے ممتاز شاعر بشر نواز کا انتقال

رپورٹ : ضامن علی حسرت ۔ نظام آباد
موبائل : 09440882330

یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جاے گی کہ اردو کے ممتازشاعر بشرنواز آج ۹ جولائی ۲۰۱۵ کو انتقال کرگئے ۔ انشااللہ آج ہی بعد نمازعصر جامع مسجد اورنگ آباد میں نمازجنازہ پڑھی جاے گی اور نچ کنواں قبرستان میں تدفین عمل میں آے گی ۔
بشر نواز 18 اگست 1935ء کو اورنگ آباد کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے.
والد امیر نواز خاں، علی گڑھ کے فارغ التحصیل تھے اور اورنگ آباد میں ناظر تعلیمات تھے.
والدہ ممتاز فاطمہ، عالمہ تھیں اور خواتین کے ہفتہ واری اجتماعات سے خطاب اور درس قرآن ان کے معمولات میں شامل تھے.
بشر نواز کی نانی مقبول بیگم، ایک سرکاری مدرسہ میں معلمہ تھیں.

بشر نواز اپنے پانچ بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے. مرحوم کے بڑے بھائی سعادت نواز خاں، بمبئی پریذیڈنسی کے پوسٹ ماسٹر تھے.
تیسرے نمبر کے بھائی رفعت نواز خاں ہندوپاک کے مشہور افسانہ نگار ہیں.
چوتھے نمبر کے بھائی شجاعت نواز خاں وٹرنری ڈاکٹر ہیں.
بشر نواز کی چار بہنوں میں اعجاز فاطمہ؛ محمود احمد خان سے. افتخار سلطانہ؛ یوسف علی انصاری سے. صدیقہ دردانہ؛ محمد مجیب سے اور حمیدہ فرقانہ؛ میر مکرم علی سے بیاہی گئی ہیں. یہ تمام لوگ پڑھے لکھے اور معاشرے میں اونچا مقام رکھتے ہیں.
بشر نواز اورنگ آباد ہی نہیں بلکہ اردو ادب کا قیمتی سرمایہ تھے. مرحوم نئی شاعری کے معتبر شاعر بھی تھے اور ناقد بھی. ہجو گوئی کی طرف بھی انھوں نے توجہ دی تھی لیکن نا معلوم کن وجوہات کی بناء پر وہ تنقید اور ہجو گوئی سے دست بردار ہو گئے تھے.
غزل کے علاوہ انھوں نے پابند اور آزاد نظمیں بھی کہی ہیں.
بشر نواز کا پہلا شعری مجموعہ "رائیگاں ” 1972ء میں اور تنقیدی مضامین پر مشتمل مجموعہ 1973ء میں شائع ہوا تھا. مختلف رسائل میں نقد و تبصرے شائع ہوتے رہے ہیں، جن سے ان کے تنقیدی شعور کا پتہ چلتا ہے.
بشر نواز کی شاعری میں رومانیت کے ساتھ ساتھ عصری حسیت بھی پائی جاتی ہے. مرحوم نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا اور برتا ہے.
بشر نواز کے حصے میں کئی اعزازات اور انعامات آئے. آپ کو ریاستی حکومت نے بھی ایوارڈ سے نوازا.
بشر نواز کے منتخب اشعار دیکھیں :
چپ چاپ سلگتا ہے دیا تم بھی تو دیکھو
کس درد کو کہتے ہیں دَوا تم بھی تو دیکھو
نہ مَوت مانگی نہ تو زندگی طلب کی تھی
ہمارے دل نے تمنّا ہی کب کوئی کی تھی
مہتاب بکف رات کسے ڈھونڈ رہی ہے
کچھ دور چلو آؤ ذرا تم بھی تو دیکھو
رفتید و لیک نہ از دلِ ما
(تم تو چلے گئے لیکن ہمارے دل سے نہیں)