محمد قمر سلیم کے افسانوں کے مجموعے ’ کچھ درد سوا ہوتا ہے ‘ کا اجرا


سلام بن رزاق کے ہاتھوں محمد قمر سلیم کے
افسانوں کے مجموعے ’ کچھ درد سوا ہوتا ہے ‘ کا اجرا

انجمنِ اسلام ،ممبئی کی کریمی لائبریری میں محمد قمر سلیم کی کتابوں ’کچھ درد سوا ہوتا ہے‘ اور ’کِرییٹی وِٹی اِن دی رائٹنگس آف اردو‘ نیز پروفیسر حنیف کیفی کی بچوں کی نظموں کی کتاب ’ بچپن زندہ ہے مجھ میں‘ کا اجرا عمل میں آیا۔’ کچھ درد سوا ہوتا ہے ‘ کا اجرا کرتے ہوئے برصغیر کے معروف افسانہ نگار سلام بن رزاق نے کہا، ’’ سوشل میڈیا کے سہارے جمالیاتی ذوق و شوق کی آبیاری ممکن نہیں لیکن بد قسمتی سے ادب تخلیق کرنے والوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا کے دام میں گرفتار ہے۔ ایسے میں کتابی شکل میں تخلیق کی افادیت اور معنویت بڑھ جاتی ہے۔ قمر سلیم کے افسانوں کی زبا ن اس قدر رواں اور سلیس ہے ایسا محسوس ہوتا ہے پڑھتے ہوئے قاری جیسے کسی شکارے میں بیٹھا سبک خرامی کے ساتھ کشاں کشاں چلا جا رہا ہے۔‘‘ ان کی دوسری کتاب ’ ’کِرییٹی وِٹی اِن دی رائٹنگس آف اردو‘‘ کا اجرا کرنے کے بعد صدرانجمنِ اسلام ڈاکٹر ظہیر قاضی نے اپنے صدارتی خطبے میں محمد قمر سلیم کی تخلیقی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے دورمیں انسان مادہ پرست ہوگیا ہے اور اپنی ذات کے حصار کا قیدی ہوگیا ہے۔ ایسے میں دوسروں کے بارے میں سوچنا اور اس پر طبع آزمائی کرنا لائق تحسین ہے۔ صاحب کتاب محمد قمر سلیم کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظہیر قاضی نے مزید کہا کہ’’ اردو زبان کی حلاوت اور چاشنی کو انگریزی کے قلب میں ڈھال کر ایک منفرد نظیر قائم کی ہے۔‘‘ ڈاکٹرشیخ عبداللہ ، اقبال کوارے، ڈاکٹر مسرت صاحب علی اور ڈاکٹر اسما شیخ نے بھی مصنف کے فن کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
پروفیسر حنیف کیفی کی کتاب ’’بچپن زندہ ہے مجھ میں‘‘ کا اجرا اردو کے شیدائی ڈاکٹر شیخ عبداللہ، نائب صدر انجمنِ اسلام نے کیا۔ اس موقع پر نوی ممبئی کے انجمن اسلام بورڈ کے چیر مین برہان حارث نے کہا ،’’مجھے اس کتاب کے ٹائٹل نے بہت متاثر کیا ہے، لوگ مجھ سے کہتے ہیں تم کب بڑے ہوگے۔‘‘ صاحب کتاب محمد قمر سلیم نے کہا، ’’افسانے لکھتے وقت میرے ذہن میں کوئی واضح تصویر نہیں تھی۔میں نے وہی لکھا جو سماج میں دیکھا اور محسوس کیا۔میں نے سماج کے درد کو اپنے افسانوں میں سمیٹنے کی کوشش کی ۔میرے افسانے دورِ حاضر سے مطابقت رکھتے ہیں اور میرے افسانوں میں صنفِ نازک کی بالادستی ہے۔‘‘ انھوں نے اپنے والد کی کتاب پر بولتے ہوئے کہا، ’’۸۵ سال کی عمر میں ، بچپن زندہ ہے مجھ میں لکھنا کمال کی بات ہے اور وہ بھی اس مصنف کے لیے جس نے جو بھی لکھا بہت سنجیدہ لکھا۔ میں نے دیکھا ہے وہ جب بچوں کے درمیان ہوتے ہیں توایک بچہ پوری طرح ان کی شخصیت میں سما جاتا ہے جو ہنستا ہے ہنساتاہے، روتا ہے رلاتاہے، کھیلتا ہے کھلاتا ہے اورروٹھتا ہے ، سجتا ہے اورسنورتا بھی ہے۔‘‘
اس موقع پر مسز شرمین سید اور ڈاکٹر ظہیر انصاری، مدیر تحریر نو نے قمر سلیم کی کتابوں کا تجزیہ پیش کیا۔پروگرام کا آغاز قاری رضوان خان کی تلاوت سے ہوا۔رسمِ شکریہ اعجاز عبدالغنی نے ادا کی۔ اس موقع پر انجمنِ اسلام بی ایڈ کالج کے سابق او رموجودہ طلبا سمیت شہر کی معزز شخصیات بھی شریک محفل تھیں۔