افسانوں کا مجموعہ – نقو شِ قلم :- مصنف: خان ضیاء – مبصر: ڈاکٹر عزیز سہیل

افسانوں کا مجموعہ
نقو شِ قلم

مصنف: خان ضیاء،جگتیال
مبصر: ڈاکٹر عزیز سہیل،حیدرآباد

اردو زبان و ادب اور تعلیم و صحافت کے حوالہ سے خان ضیاء ( افتخار محمد خان) کا نام محتاج تعارف نہیں ہے۔بیک وقت شاعر ۔ ادیب ۔ صحافی اور مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی اس ہمہ جہت شخصیت کا تعلق تلنگانہ کے ایک اہم تاریخی مقام جگتیال سے ہے۔ جگتیال اردو تعلیمی اداروں،اردو زبان وادب کے فروغ کے لئے کام کرنے والی انجمنوں کے علاوہ اردو مشاعروں کی سر زمین ہیں۔

کل ہند مشاعروں کا انعقاد ہوکہ قومی سطح پر اردو کے سمیناروں کا انعقاد جگتیال میں اردو تہذیبی میلوں کی بھی دھوم رہتی ہے۔غرض اردو زبان و ادب کے حوالہ سے جگتیال کو ملک بھر میں ایک منفرد مقام کی حیثیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔جگتیال کو ملک کے علمی و ادبی نقشہ پر ابھارنے میں جہاں کئی ایک اہم شخصیات کی خدمات اور سر گرمیاں شامل رہی ہیں وہیں ایک نام خان ضیاء کا بھی ہے۔جنوبی ہند میں اردو کے گڑھ تلنگانہ میں اردو زبان و تعلیم کے فروغ کے لئے خان ضیاء نے ۲۸؍ سال قبل ۱۹۹۱ ء میں تحریک اردو تلنگانہ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جو آج بھی سر گرم ہے ۔ اس تنظیم کے بیانر تلے خان ضیاء نے تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں اردو زبان اور تعلیم کے فروغ کے لئے کئی ایک نمایاں خد مات انجام دیں ۔ ان کی تنظیم تحریک اردو تلنگانہ کے بیشتر ارکان ان کے اپنے شاگرد ہیں جو تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں۔تحریک اردو تلنگانہ کے زیر اہتمام گذشتہ کئی برسوں میں تلنگانہ کے مختلف اضلاع میں اردو تہذیبی میلوں اور تمثیلی مشاعروں کا انعقاد عمل میں آیا ۔اردو تعلیمی اداروں کے قیام اردو اسکولس اور کالجس میں اساتذہ کے تقررات کے لئے خاں ضیاء کی جد وجہد اور کامیاب نمائندگیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں ۔
خان ضیاء اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ۔انہوں نے اپنی تصنیف و تالیف کا کام صرف ادب تک محدود نہیں رکھا۔بلکہ انہوں نے اعلیٰ تعلیمی سطح پر اردو میڈیم کے طلباء کے لئے نصابی کتابوں کی تیاری اور ترجمہ جیسا اہم کارنامہ بھی انجام دیا۔چنانچہ ڈگری کے نصاب میں ۲۰۰۳ ء میں جب ماحولیاتی مطالعہ کے مضمون کو لازمی قرار دیا گیا تو قومی سطح پر اس موضوع پر اردو میں کوئی کتاب موجود نہیں تھی۔خان ضیاء نے یو نیورسٹی گرانٹس کمیشن کے جدید نصاب کے عین مطابق اردو میں اس موضوع کی اولین کتاب شائع کی۔اس کے علاوہ بی ایڈ دو سالہ جدید نصاب کا اردو ترجمہ کرنے اور اسے مفت تقسیم کرنے کا سہرا بھی خان ضیاء کے سر ہے۔ انہوں نے ایم ۔اے اکنامکس اور ایم ۔اے پولٹیکل سائنس کے مضامین کے ترجمہ اور نوٹس کی تیاری کا اہم کارنامہ انجام دیا۔ جس کے نتیجہ میں آج تلنگانہ اضلاع میں 370 سے زائد اردو میڈیم کے طلباء اور طالبات نے پوسٹ گرائجویٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ یہ طلباء مختلف اضلاع کے اردو میڈیم کالجس میں تدریسی خد مات انجام دے رہے ہیں۔خان ضیاء نے اردو میڈیم لکچررس کی عدم موجودگی میں گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں کریمنگر ، گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں جگتیال کے بشمول مختلف کالجس میں بلا معاوضہ خدمات بھی انجام دی ہیں ۔خان ضیاء اکاڈمی کے نام سے وہ ایک پی جی سنٹر بھی چلاتے ہیں ۔ یہ اکاڈمی صرف اردو میڈیم کے طلباء و طالبات کو فاصلاتی طرز پر یم اے اکنامکس ، یم اے پولٹیکل سائنس ، یم اے ہسٹری اور یم اے سوشیالوجی کے مضامین میں پوسٹ گرائجویٹ کے کلاسس اور اردو نوٹس کی فراہمی کی بلا معاوضہ خدمت انجام دے رہی ہے۔خان ضیاء اردو جرنلزم کا مفت کورس بھی چلاتے ہیں ۔طالبات کے لئے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے نسواں جگتیال میں یہ کورس چلایا جاتا ہے۔
فروغ اردو کی ان سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خان ضیاء نے ادبی تصنیف و تالیف کا کام بھی جاری رکھا ہے۔حالیہ دنوں ان تازہ افسانوی مجموعہ ’’نقوش قلم‘‘ کے عنوان سے شائع ہو اہے اس کتاب کا اجراء بدست کے کویتا،رکن پارلیمنٹ نظام آبادنے جگتیال میں منعقدہ ایک تقریب میں انجام دیا، اس موقع پر ڈاکٹر ایم ۔سنجے کمار ایم ایل اے جگتیال،تلا اوما چیر مین ضلع پریشد بھی موجود تھے۔افسانوی مجموعہ ’’نقوش قلم‘‘ سے قبل خان ضیاء کا ایک اور افسانوی مجموعہ ’’روشن اندھیرا‘‘ ۱۹۸۸ ء میں شائع ہوا۔ شاعری کے دو مجموعے’’ اوراق ضیا ء‘‘ ۲۰۰۸ء اور’’ اظہارِ سخن‘‘ ۲۰۱۸ء شائع ہوچکے ہیں ساتھ ہی ان کے طنزیہ و مزاحیہ مضامین کے دو مجموعے ’’زور قلم‘‘ ۲۰۱۰ء اور ’’رگ ظرافت‘‘ ۲۰۰۵ ء شائع ہوکر اردو دنیا میں مقبول ہوچکے ہیں ۔ایک تاریخی و تحقیقی کتاب جگتیال تاریخ کے جھروکے سے ۱۹۹۸ ء میں شائع ہوئی تھی۔
زیر نظر افسانوی مجموعہ ’’نقوش قلم‘‘ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ اس افسانوی مجموعہ میں شامل ان کے بیشتر افسانے پاکیزہ آنچل نئی دہلی اور مشرقی آنچل ۔ گلابی کرن ۔ پالیکا سماچار وغیرہ میں شائع ہوچکے ہیں ۔خان ضیاء نے اپنے افسانوں کے کردار اپنے اطراف و اکناف کے معاشرہ کی جیتی جاگتی تصویروں سے چنے ہیں ۔ان کی تحریر نکھری ہوئی اور دلچسپ ہے۔انہوں نے اپنے افسانوں میں معاشرتی اور سماجی مسائل کی عکاسی کی ہے۔خان ضیاء نے انسانی رشتوں ۔ جذبات اور فطرت کو اپنی تحریروں میں بڑے ہی اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔ان کے افسانوں میں ہلکے پھلکے مزاح کی چاشنی بھی نظر آتی ہے۔زیر نظر افسانوی مجموعہ میں بیمار مسیحہ ۔ مہکتے خواب ۔ مہربان قسمت اور ہم سفر جیسے طویل معاشرتی افسانوں کے علاوہ رات کے دو رخ ۔ اپنا تیر اور پونم کا خط جیسے مختصر افسانے بھی شامل ہیں جو ہمارے معاشرہ کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں ۔اپنا تیر ان دہشت گردوں کے لئے ایک سبق ہے جو بلا سونچے سمجھے لا علمی میں اپنوں ہی کو کھودیتے ہیں ۔رات کے دو رخ میں غریب اور امیر کی نیند کا فرق بتایا گیا ہے۔ جاہل انسان شہر کی کھوکھلی تہذیب کا پول کھولنے والا افسانہ ہے۔ بیمار مسیحہ ایک دلچسپ ناولٹ ہے۔ اس ناولٹ میں انسانی ہمدردی ، سادگی اور ہم شکل محبوبہ سے وابستگی جیسے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ مہربان قسمت دو خاندانوں کے درمیان رشتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کے بعد رشتوں کی تجدید کی کہانی ہے۔اس کہانی میں نئی نسل کی اس جدت کو بتایا گیا ہے جو رشتوں کو جوڑنے کا کردار ادا کرسکتی ہے۔بدگمان ایک ایسی کہانی ہے جو انسانی فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔حسد ۔ جلن جیسی بیماری کس طرح رشتوں کے درمیان بد گمانی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے اس کہانی میں بہتر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔’ مہکتے خواب ایک روٹھے ہوئے سادگی پسند امیر زادے کی کہانی ہے جو گھر سے نکل جاتا ہے اور گمنامی کی زندگی اختیار کر لیتا ہے ۔لیکن قسمت اس کو دوبارہ اپنوں سے ملا دیتی ہے۔ہم سفر ایک انتہائی امیر لڑکی ے ٹرین میں سفر کی کہانی ہے جو اتفاق سے دوران سفر اپنے ہی کمپنی کے ایک ملازم سے الجھ پڑتی ہے ۔لیکن اس نوجوان کا بہتر رویہ آخر کار امیر زادی کو غریبوں کے تعلق سے اپنے خیالات بدلنے پر مجبور کردیتا ہے۔ غرض نقوش قلم‘‘ خان ضیاء کے افسانوں کا ایک بہترین مجموعہ ہے۔اس افسانوی مجموعے کو خان ضیاء سے 9440743164 سیل فون پر رابطہ کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
—-

ڈاکٹرعزیز سہیل
خان ضیا