کالم : بزمِ درویش – اللہ کا فضل :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
اللہ کا فضل

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

مو لوی صاحب کے منہ سے آگ برس رہی تھی اور میں خا موشی سے سن رہا تھا مو لو ی صاحب پچھلے کئی گھنٹے سے اپنی لمبی چوڑی عرصہ دراز سے جا ری عبا دات کا ذکر کر رہے تھے کہ انہوں نے اتنے سالوں سے کو ئی نماز نہیں چھوڑی روزہ تو وہ بچپن سے رکھتے آئے ہیں تہجد نوافل بھی ان کی عبا دت کا حصہ ہیں ۔

کئی عمرے اور حج کی سعادت کا نشہ بھی مو لوی صاحب کو چڑھا ہوا تھا مولوی صاحب اپنی عبادات کے نشے میں غرق زور بازو سے اسلام اب دوسروں پر طاری کرنا چارہے تھے پہلے تو انہوں نے اپنی عبادات کا رعب اچھی طرح مجھ پر جھا ڑا جب انہوں نے دیکھا کہ میں ان کی عبا دت اور تقوے سے زیا دہ متا ثر نہیں ہو رہا تو انہوں نے پینترا بدلا اب انہوں نے براہ راست میری ذات پر حملہ کر دیا کہ آپ کو تو کسی کو تسبیحات دینی ہی نہیں چاہیں یہ جس کا کام ہے اسی کو کرنا چاہیے اب انہوں نے میری ذات پر تابڑ تو ڑ حملے شروع کر دئیے میں مسلسل خو ش مزاجی کا اظہار کر رہا تھا جب مو لوی صاحب نے دیکھا کہ یہ تیر بھی نشانے پر نہیں لگا تو اب انہوں نے اپنا علمی بخار مجھ پر اتارنا شروع کر دیا کہ ان کا علمی مقام کیا ہے انہوں نے قرآن مجید کس قرآت میں پڑھا ہے کن اکابر اساتذہ سے انہوں نے مذہبی فقہی علم حا صل کیا ہے پھر انہوں نے مختلف کتابوں کا ذکر شروع کر دیا کہ میں نے فلاں فلاں کتاب پڑھی ہے اب وہ اپنی علمی دھا ک مجھ پر بٹھا نے لگے تھے میں یہاں بھی خا موشی سے سنتا رہا ۔ میری خا مو شی اس کے لیے چیلنج بن چکی تھی وہ پہلوان کی طرح ہر صورت مجھے ہر انا چاہتا تھا اب اس نے اپنے تعلقات گنوانے شروع کر دیئے کہ میرے بہت اوپر تک تعلقات ہیں میری جما عت میں بہت اہم جگہ ہے با اثر لوگوں سے ملنا جلنا اور دوستیاں ہیں پھر اس نے اپنی دولت کی نمائش شروع کر دی کہ میرے پا س بہت پیسہ اور پراپرٹی ہے مجھے اس کے انداز اور جا رحیت سے لگ رہا تھا کہ وہ ہر صورت میں مجھے تسخیر کرنے کے چکر میں تھا وہ چاہ رہا تھا کہ میں اس سے ہر صورت میں مرعوب ہوجاوں اور اس کے ہاتھ پاوں چومنا شروع کردوں اس کی قصیدہ گو ئی شروع کردوں وہ اپنی تاش کے تما م پتے آزما چکا تھا لیکن میرے چہرے کا سپا ٹ پن اس کو تکلیف دے رہا تھا میرے پا س اس کے آنے کی وجہ صرف اتنی تھی یا میری گستاخی صرف اتنی تھی کہ اس کے نوجوان بیٹے کا دوست میرے پاس آتا تھا اس نے اِس کے بیٹے کے سامنے میری تعریف کردی تو اِس کا بیٹا بھی میرے پاس آگیا بیٹے میں تصوف کا فطری رحجان بھی تھا میری کتابیں پڑھ کر اور بھی متا ثر ہو گیا اب جب بیٹے نے گھر میں میرا ذکر شروع کیا تو یہ کسی زلزلے سے کم نہ تھا پہلے تو مو لوی صاحب اپنے بیٹے کو سمجھاتے رہے لیکن جب بیٹا باز نہ آیا تو یہ خود میرے پاس آگیا ۔ جب مو لوی صاحب بہت بو ل چکے اپنی بھڑاس نکال چکے تومیں نے نہا یت شیریں مدھم لہجے میں ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہو ئے پہلے سوال کی جسارت کی مو لوی صاحب میں اقرار کرتا ہوں کہ میں ایک گنا ہ گار سیا ہ کا ر ہوں روحانیت کا طالب علم ہوں لیکن کیا ہما ری بخشش ہمارے اعمال پر ہو گی یا خدا کے فضل سے کیونکہ عدل کا مطلب ہے ترازو کے دو پلڑوں کو برابر رکھا جا ئے نظام عدل دو انسانوں میں تو قائم ہو سکتا ہے اِس لیے کہ دونوں برابر ہیں کبھی ایک غلطی کر سکتا ہے تو کبھی دوسرابشری تقا ضوں کا شکا ر ہو سکتا ہے مدعی اور ملزم بدلتے رہتے ہیں کیونکہ حق دار اور حق ما ر کبھی ایک نہیں ہو تا لہذا انسانوں کے درمیان عدل کا معاملہ سمجھ آتا ہے جب کہ خدا ئے بزرگ و بر تر جو رحمان و رحیم ہے بندے اور خدا کا تعلق بلکل ہی مختلف ہے رب کعبہ جو روز اول سے محسن ہے اور انسان جو ازل سے احسان مند ہے اب محسن اورممنون میں اگر انصاف کا ترازو رکھ دیا جائے تو ممنون ہی خسارے میں رہے گا اگر کائنات کا اکلوتا وارث میزان عدل قائم کر دے تو یہ بندے کی قسمت ہے وہ اعتراض نہیں کرسکتا لیکن اگر بندہ اپنے مالک سے عدل کا مطالبہ کر دے تو پھر انسان پکڑا گیا کیونکہ رب ذوالجلال کے احسانات میں سے صرف ایک احسان کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے تو ترازو کے اس پلڑے کو جھکا ئے رکھنے کے لیے کا فی ہے دوسرے پلڑے میں بندے کی تہجد گزاری مجا ہدے سخاوت عبادات تو کیا کبھی خود جنید با یزید کو بھی رکھ دیا تو فرق نہیں پڑے گاکو ئی عبا دت گزار سینکڑوں سال عبادت میں گزار دے تو اللہ کی صرف ایک نعمت کا حق ادا نہیں ہوسکتا اِسی لیے تو حیدر کرار حضرت علی نے ہمیشہ دعا اسطرح کی اے میرے اللہ میرے ساتھ وہ معاملہ فرما جو تیرے شایان ہے نہ کہ وہ جس کا میں حقدار ہوں جہاں سردار اولیا کی عاجزی کا یہ حال ہو تو ہم جیسے سیا ہ کاروں کا کیا کہنا اگر کو ئی اپنے طویل قیام مرا قبے مجا ہدے تزکیہ نفس پر نازاں ہے تو اس سے پو چھا جائے کہ یہ تو فیق کس نے دی اور اگر کو ئی اپنے سجدوں کے خشوع و خضو ع کے زعم میں مبتلا ہے تو اس سے عرض ہے کہ تمہارے ماتھے کو قشقے اور گلے کو زنار کی ذلت سے کس نے بچا یا اگر کسی کو اپنی گریہ زاری کا گھمنڈ ہے تو اس سے دریا فت کیا جاسکتا ہے کہ اسے یہ لذت گر یہ کس نے عطا کی کسی کو اپنی جان جوانی طا قت کا فخر ہے تو اس سے یہ سوال ہے کہ اگر تم نے جان اللہ کے راستے میں دی تو یہ بتا یہ جان دی کس نے تھی سچ تو یہ ہے کہ اگر کسی کو خدا عمر خضر عطا کرے تو وہ ہزاروں سال عبا دت و ریا ضت میں گزار دے تو پھر بھی وہ عدل الہی کے معیار پر پورا نہیں اتر سکتا بندے کو ہر حال میں فضل خدا وندی کا ہی طلب گار رہنا چاہیے انسان کی ساری عبادات بجا لیکن یہ بھی تو سچ ہے اِن عبادتوں ریا ضتوں کے مقا بلے میں اللہ تعالی کی عنا یتوں کا کیا عالم ہے زندگی دی اسباب زندگی مہیا کئے بے پنا ہ صلا حیتوں والا دما غ عطا کیا انسان کی تفریح کے لیے کائنات کو رنگ و نور سے سجادیا پھولوں پھلوں میں مہک اور ذائقے بھر دیئے صحت اولاد ماں باپ بیوی بچے احساسات کیا نہیں دیا کیا اِن نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے یہ زندگی کا فی ہے بلکل نہیں وہ رحیم کریم جس نے بند ے پر اپنی نعمتوں کی برسات برسادی وہ کونسی چیز ہے جو انسان کے لیے ضروری تھی لیکن خدا نے پوری نہیں کی انسان کی عبا دات ضروری سہی لیکن اس کی شان ربوبیت کے کیا کہنے مجھ عاجز کی با تیں سن کر مو لوی صاحب کا غرور اڑ چکا تھا آنکھوں میں شرمندگی کی نمی تیر رہی تھی مو لوی صاحب کی جھو ٹی اکڑ رخصت ہو چکی تھی وہ اپنی شخصیت اور علم کے خول سے باہر آچکے تھے اب ان کے چہرے اور آنکھوں میں غرور کی آنچ نظر نہیں آرہی تھی بلکہ شرمندہ شرمندہ سے بیٹھے تھے میں نے ان کی طرف دیکھا اور مدہم لہجے میں کہا اگر کو ئی غلطی ہو گئی ہو تو معافی کا طلب گا ر ہوں مولوی صاحب اٹھے مجھے گلے سے لگا یا اور کہا میں اپنے بیٹے سے کہوں گا آپ کے پا س آتا جا تا رہے اورمیں خو د بھی چکر لگا تا رہوں گا مو لوی صاحب تو چلے گئے لیکن مجھے مو لوی اور صوفی میں فرق یا د آگیا حضرت ابو عبداللہ درزی کا پیشہ اپنائے ہوئے تھے عشق الہی کے مسافر تھے ایک مجو سی آپ سے کپڑے سلا ئی کرا تا لیکن جب بھی اجرت دیتا تو جان بو جھ کر ایک درہم کھو ٹا دیتا یہ وہ جان بو جھ کر اور ضد میں کرتا حضرت ابو عبداللہ ہر بار خاموشی سے یہ کھوٹا درہم لے لیتے اور اعتراض بھی نہ کرتے ایک دن وہ مجوسی آپ کی غیر موجو دگی میں دوکان پر آیا کپڑے مانگے اور حسبِ معمول ایک درہم کھوٹادیا آپ کے شاگرد نے یہ دیکھا تو غصے سے کہا یہ واپس لو اب جب حضرت ابو عبداللہ واپس آئے تو شاگرد نے سارا واقعہ ان کے گوش گزار کیا توآپ نے فرمایا تم نے یہ بہت برا کیا تمہیں کھو ٹا درہم لے لینا چاہیے تھامیں پچھلے کئی سالوں سے اس کی یہ بری عادت برداشت کر رہا ہوں اور تمہیں خبر تک نہ ہو نے دی کیونکہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ کسی اور مسلمان بھا ئی کو یہی دھوکا دے اِس لیے میں اِس کا دھوکا خوشی سے برداشت کر رہا ہوں ۔

جواب دیجئے