کالم : بزمِ درویش – جگنو :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
جگنو

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

میں پچھلے آٹھ گھنٹوں سے بنا کھائے پئے آرام کے بغیر لوگوں سے مسلسل مل رہا تھا ‘ صبح کا ناشتہ نظام ہضم کے عمل سے گزر گیا تھا مسلسل لوگوں سے ملنے لوگوں کی باتوں پر مسلسل دھیان دینے سے جسم کی تازگی دم توڑ رہی تھی ‘ گرم جوشی پھرتی کی جگہ سستی اکتاہٹ نے لینی شروع کر دی تھی ‘

لوگوں کے ایک جیسے مسائل ڈیپریشن حالات کاروبار زندگی کی تلخ حقیقتیں ‘ انسان کی بے صبری ‘ شارٹ کٹ کی تلاش ‘ ٹوٹتے خواب ‘ خوابوں کی تعبیریں ‘ امیدوں کے ماند پڑتے چراغ ‘ دوستوں رشتہ داروں حتیٰ کہ خدا سے بھی شکوے شکایتیں اور میں حسبِ معمول اُمید کی کرنیں بیدار کر تا ہوا اب ایک حساس منفی سوچ والے نوجوان کے ساتھ بیٹھا تھا جو صبح سے ایک ہی بات کی فرمائش کر رہا تھا کہ آپ مجھے چاہے آرام سے ملیں لیکن مجھے زیادہ وقت چاہیے آپ تمام لوگوں سے مل لیں لیکن میں آرام سے تفصیل سے بات کروں گا ‘ وہ کافی دیر انتظار بھی کرتا رہا لیکن جب کئی گھنٹے گزر گئے لوگوں کی مسلسل سپلائی جاری دیکھی تو تھک ہار کر بولا جناب لوگ تو آتے جا رہے ہیں آپ برائے مہربانی اب مُجھ سے مل لیں مجھے اور بھی کام ہیں ‘ مجھے واپس بھی جانا ہے لہٰذا میں جوان کی کار کی اگلی نشست پر آکر بیٹھ گیا تو اُس نے اپنی رام کہا نی شروع کر دی ‘ میں اُ س کی داستان حیات کئی بار سن چکا تھا ہر بار وہ یہی فرمائش کرتا کہ مجھے علیحدگی میں خاص وقت چاہیے میں ہر بار اُس کی تسلی کے لیے اُس کی داستان سنتا ‘ اب مجھے اُس کی ہر بات زبانی یاد ہوچکی تھی لیکن میں نے اُس کی بات سننے کی بور ڈرل آج بھی کر نی تھی ‘ میں نے سُچے موتیوں سے بنی نرم ملائم تسبیح نکالی میری زبان اسماالحسنیٰ اور انگلیاں تسبیح کے دانوں پر گردش کر نے لگیں ‘ سیٹ کو پیچھے کر کے آرام دہ حالت میں کیا ‘ جسم کو آرام دہ حالت میں ریلیکس ہو نے کے لیے چھوڑ دیا سورج کی دھوپ گاڑی کے شیشوں سے اندر آرہی تھی سورج کی حرارت سے جسم آرام دہ حالت میں ڈوبنے لگا ‘ میں نے آنکھیں موند لیں جوان اپنی کہانی سنائے جارہا تھا میں نیم مراقباتی حالت میں اِس دنیا اور اُس دنیا کے درمیان پنڈولم کی طرح جھولنے لگا کبھی نیند کا ہلکورا آتا کبھی آس پاس جوان کی آواز بیداری کی وادی میں کھینچ لیتی کبھی آنکھیں کھولتا کبھی بند کر تا وقت کو گزرنے دے رہا تھا ‘ آج کا سارا دن یکسانیت کا شکار اور اِس وقت جوان اپنا ڈیپریشن اندرونی اضطراب بھڑاس مجھ پر نکا ل رہاتھا ‘ میں اُس کی خو شی کے لیے اُس کی باتیں سن رہا تھا وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں اُس کی زندگی کے انتہائی مشکل سوالوں مسئلو ں کے حل کے لیے استخارہ کی سی کیفیت میں ہوں جبکہ میں تو وقت کو غنیمت جان کر آرام کر رہا تھا ‘ مجھے پتہ تھا اُس کی داستان ایک بار پھر سن کر میں نے اُسے امید افزا باتیں کرنی ہیں ‘ حوصلہ دینا ہے زندگی بہت جلد کامیاب خوشگوار ہونے والی ہے کہہ کر شیک ہینڈ کرنا ہے کیونکہ جوان امیر خاندان سے تھا ‘ روپے پیسے کی کو ئی کمی نہ تھی اپنی حساسیت اور انجانے خوفوں کا علاج کر انے آجا تا تھا ‘ میں بھی سن لیتا تھا میں بیزاری اکتاہٹ کے جھولے میں جھول رہا تھا کہ اچانک سامنے دیکھا تو مجھے جمال نظر آیا اُسے دیکھتے ہی میری ساری بیزارگی اکتاہٹ بوریت تھکاوٹ دور ہو گئی زندگی جو چند لمحے پہلے بلیک اینڈ وائٹ چل رہی تھی اچانک اُسے دیکھ کر رنگوں سے بھر گئی تھی میں نے جلدی سے جوان کی بات سنی اُسے حوصلہ دیا اچھے دنوں کی نوید سنا ئی اور جاکر جمال سے بغل گیر ہوگیا وہ جب بھی آتا میں کافی وقت اُس کے ساتھ گزارتا ‘ زندہ لاشوں کے اِس شہر میں ہر انسان نفسا نفسی کی دوڑ میں اندھا دھند دوڑ رہا ہے ‘ وہ زندگی کی علامت کے طور پر آتا مجھے آج بھی اُس کی پہلی ملا قات یاد ہے جب وہ عشق مجاز کی آگ میں جھلس کر کباب بن کر میرے پاس آیا تھا محبوب کو پانا اِس نے زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہواتھا میرے پاس آنے والے ملاقاتیوں میں زیادہ تر تعداد عشق نگری کے اِن دیوانوں کی ہو تی ہے جن کی زندگی مذہب ایمان خدا اول آخر صرف اور صرف محبوب کو پانا ہوتا ہے ‘ عشق کی امربیل میں یہ اِس طرح جکڑے ہو تے ہیں کہ اِن کی رگوں میں خون کی جگہ عشق کے جراثیم ہی گردش کر تے نظر آتے ہیں عشق کی تکمیل اِن کا اُوڑھنا بچھونا ہوتا ہے ‘ اِن کی سانسیں خیال یار سے چلتی ہیں میرے پاس بھی محبوب کا سوالی بن کر آیا ‘ شروع میں میں نے زیادہ توجہ نہ دی لیکن یہ محبوب کو پانے کے لیے ضدی تھا آرام شرافت سے آتا درخواست دے کر چلا جاتا ‘ مجھے چند ملاقاتوں میں ہی پتہ چل گیا تھا کہ یہ شراب اور زنا کی سیاہ راتوں کا پرانا کھلاڑی ہے چند ملاقاتوں کے بعد جمال اب مجھے اچھا لگنے لگا تھا میں نے اب اِس سے دوستی بڑھائی تو جہ دینی شروع کی تو اِس نے بتایامیری عمر تیس سال سے میں پچھلے دس سالوں سے شراب زنا کاری میں مبتلا ہوں ان کے تمام اڈوں سے واقف ہوں جہاں پر شراب پانی کی طرح بہتی ہے ‘ بنت حواکو ڑیوں کے بھاؤ بکتی ہے میرا تعلق درمیانے طبقے سے ہے میں والدین کی اکلوتی اولاد ہوں اکلوتا ہو نے کی وجہ سے لاڈ پیار ضد نے میری عادتیں بگاڑ دیں ‘ جوان ہو تے ہی چند بد کردار دوستوں کے گروپ کا حصہ بن گیا جو شراب جوائے زنا کی لت میں مبتلا تھے ‘ مجھے بھی انہوں نے یہ لت ڈال دی مجھے جوئے سے سروکار نہیں تھا لیکن جنسی بد کاری اور شراب میرے منہ کو لگ چکی تھی والد صاحب کی انار کلی میں دوکان تھی جو اچھا خاصا کما لیتی تھی خرچہ مجھے اچھا خاصا مل جاتا تھا اِس لیے میں ایک اڈے سے دوسرے اڈے پر بد کاری کے شب و روز گزارتا رہا میں چند دن ایک لڑکی کے ساتھ گزار کر دوسری لڑکی کی طرف لڑھک جاتا ‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ شراب اور زنا کی دلدل میں دھنستا چلا گیا پھر شراب تھی اور جسم فروشی کے شہرمیں پھیلے ہوئے اڈے تھے اِسی آوارہ گردی میں اِس کی زندگی کا سب سے اہم کریکٹر سامنے آیا ملتان شہر کی لڑکی جس سے اِس کی ملاقات جسم فروشی کے اڈے پر ہو ئی اُسے یہ دل دے بیٹھا ‘ لڑکی سے محبت کا اظہار کیا تو اُس نے بھی جھوٹ موٹ کا محبت کا ڈرامہ رچانا شروع کر دیا ‘ محبت کی آگ بڑھی تو میں نے اُسے کہا یہ گناہ کی زندگی چھوڑ دو ‘ میں تمہیں اپنا کر شریف پاکباز زندگی دینا چاہتا ہوں ‘ لڑکی پہلے تو ہاں میں ہاں ملاتی رہی پھر اچانک غائب ہوگئی میں نے بہت تلاش کی وہ نہیں ملی تو آپ کے پاس آیا مجھے خدا کے لیے میرا بچھڑا محبوب ملادیں اُ سکی نیت صاف تھی ‘ میں نے وظائف دئیے تو چند دن بعد ہی لڑکی کا فون آگیا کہ مجھے اڈے کی مالکہ نے تمہارے خلاف کر کے دوسرے اڈے پر بھیج دیا تھا لیکن یہاں آکرتمہاری یاد نہیں بھولی ‘ میں تیارہوں شادی کے لیے آؤ اور مجھے لے جاؤ ‘ جمال بہت خوش تھا کہ وہ مل گئی پھر اِس نے شادی کی اُسے لے کر مڈل ایسٹ چلا گیاتوبہ کا نور اندر تک اجالا بکھیرتا گیا دونوں توبہ کر کے خوشگوار زندگی گزارنے لگے اِس کے دوبچے ہیں شادی کو چھ سال ہو گئے ہیں لیکن ہر سال ایک مشن کے طور پر پاکستان آتا ہے ایک یا دو جسم فروش لڑکیوں کو رات کے لیے بک کرتا ہے رات کو انہیں توبہ کی تلقین کر تا ہے مالی مدد کر تا ہے اگر کو ئی پڑھی لکھی ہو تو اُسے مڈل ایسٹ جانے میں مدد کر تا ہے اِس کی زندگی کا مشن ہے جس طرح اُس نے جسم فروشی کے اڈوں سے جان چھڑائی ‘ باقی لڑکیوں کو بھی گناہ کی دلدل سے نکالے وہ جب بھی پاکستان آتا ہے تومجھ سے ملنے ضرور آتا ہے تو بہ نے اُس کے ظاہر باطن کی سیاہی دھو کر نور کا اجالا بھر دیا ہے ‘ جمال ون مین آرمی کی طرح اکیلا اِس اعلیٰ مشن پر لگا ہوا ہے وہ جب بھی آتا ہے میں اُسے سے خوب پیار کر تا ہوں کیونکہ زندہ لاشوں کے اِس شہر میں کبھی کبھار ہی جمال جیسا کوئی زندہ انسان نظر آتا ہے جو ہڑپہ موہنجو داڑوجیسے بنجر ویران شہر کے تاریک اندھیروں میں تنہا جگنو کی مانند اپنی روشنی بکھیر رہا ہے اسے دیکھ کر ہاتھ دعا کو اٹھ جاتے ہیں کہ کب ایسے ہزاروں جگنو بد کاری کی سیاہ رات میں اسلام اور پاکبازی کا نور بھر کر چاروں طرف ایمان کا اجالا پھیلا دیں ‘ ہزاروں جگنوؤں کی روشنی دھرتی کے اِس سیاہ گناہ کو دھو کر توبہ کا نور پھیلا دیں گے ۔