کالم : بزمِ درویش – کشمیر کا مجذوب ( قسط چہارم ) :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
کشمیر کا مجذوب ( قسط چہارم )

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک عشق مجازی کے سمندر میں غرق جوان ناصر درویش کی بات سن کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا ‘ آج پہلی بار عاشق کا آشنا ملا تھا جس نے اُس کے روگ کو پہچان لیا تھا ‘ ناصر کی گریہ زاری دیکھ کر درویش کی آنکھوں میں بھی ساون بھادوں کروٹ لینے لگا ‘ درویش بھی تو پچھلے کئی سالوں سے عشق حقیقی کی آگ میں جل رہا تھا ‘

درویش حق تعالی کے عشق میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر موت سے مل کر زندگی کی طرف آیا تھا‘ اُس نے بھی تو عشق روگ میں راتیں جاگ کر گزاری تھیں ‘ درویش کی آنکھوں سے بھی اِسی روگ کے نتیجے میں آبشار ابلتے رہتے تھے ‘ ایک روگی ہی دوسرے کے روگ کو بہتر جان سکتا ہے ‘ دو سوختہ دل ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے ایک دوسرے کے درد کو جانتے ہوئے درویش نے جوان عاشق کی کمر پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کردیا ‘ اِس طرح درویش جوان کو حوصلہ دے رہا تھا ‘ درویش کی روحانی آنکھ جوان عاشق کو دیکھ رہی تھی کہ کل کو اِس جوان نے اُس عشق مجازی کے پل صراط سے گزر کر عشقِ حقیقی کا جام پینا ہے ‘ جس طرح چرسی کے پاس چرسی ‘ کبوتر باز کے پاس کبوتر باز ‘ مخنث کے پاس مخنث جاتا ہے اُسی طرح قدرت کے عظیم پلان اور جوان عاشق کی تربیت کے لیے اُسے دوسرے عاشق کے پاس پہنچا دیا ‘ وہ درویش جس نے آگے جاکر اُس کا مرشد بننا تھا جس کے عشق میں فنا فی شیخ کی بھٹی سے گزر کر خدا کے عشق میں فنا کا لازوال مقام پانا تھا ‘ درویش جوان عاشق کے ظاہر باطن کو دیکھ کر فیصلہ کر چکا تھا کہ اِس جوان عاشق کے ساتھ کیا برتاؤ کر نا ہے اور کس طرح اِسے عشق الٰہی کے میدان میں لے کر جانا ہے اب مرشد نے اپنے منصوبے کے پہلے مرحلے پر کام شروع کیا شفیق محبت بھرے لہجے میں عاشق سے کہا بتاؤ یہ روگ کب سے لگا اور میں اِس میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں اور تم بے فکر ہو جاؤ آج کے بعد تم نے بلکل بھی پریشان نہیں ہونا ‘ میں تمہارا مکمل ساتھ دوں گا اور تمہارا کام اللہ کی مدد سے ضرور کروں گا ‘ درویش کا شفیق لہجہ دیکھ کر ناصر پر اعتماد ہو گیا پھر الف سے ے تک ساری داستان عشق سنا دی درویش نے عاشق کی ساری داستان بہت توجہ اور پیار سے سنی ‘ دونوں کے اند ر عشق کی آگ زوروں پر جل رہی تھی اِ س لیے دو دیوانوں نے خوب کھل کر بات چیت کی ‘ درویش نے جوان عاشق کو مصروف کر نے کے لیے چند تعویز اور وظائف دئیے کہ جاکر یہ کرو ‘ جلدی تمہارا کام ہو جائے گا ‘ جوان عاشق کو امید کا چراغ روشن ہوتا نظر آیا جاکر پوری تو جہ سے وظائف شروع کر دئییدرویش نے چالاکی سے کہا تھا کہ دو تین مہینے لگ جائیں گے لیکن تمہارا کام بن جائے گا تم بس جاکر وظائف کرو ‘ اب جوان عاشق نئے جوش اور ولولے سے وظائف کر رہا تھا اِس دوران اُس کا جب دل کرتا جاکر درویش سے مل آتا ‘ اپنے محبوب کی باتیں کرتا بار بار ایک ہی سوال کرتا مجھے میرا محبوب مل جائے گا نا تو درویش ہر بار اُسے حوصلہ تسلی دے کر بھیج دیتا کہ تم فکر نہ کروبہت جلد تم اپنی منز ل پالو گے ‘ درویش کی نظر میں اُس کی منزل عشقِ حقیقی تھی جبکہ عاشق کی نظر میں اُس کی منزل اُس کا محبوب تھا ‘ ناصر نے اب ریگو لر درویش کے پاس جانا شروع کر دیا تھا جوان عاشق کو بچپن سے آج تک کسی نے حقیقی عزت اور احترام نہیں دیا تھا وہ جب بھی درویش کے پاس جاتا وہ اُسے خوب پیار محبت احترام سے ملتا ‘ گھنٹوں اُس کے محبوب کی باتیں کرتا ‘ درویش کی شہرت مری سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل چکی تھی پو رے ملک سے لوگ درویش سے ملنے آتے تھے وہ کسی کو بھی لفٹ نہ کرا تا ‘ درویش اپنی بے نیازی مستی میں غرق رہتا تھا کوئی آئے نہ آئے کون وزیر صدر آیا امیر آیا اُسے اِن چیزوں کی کوئی پرواہ نہ تھی اور نہ ہی وہ کسی کو لفٹ کراتا تھا لیکن ناصر جب بھی ملنے جاتا درویش اُس کو خوب لفٹ بھی کراتا اُس سے ڈھیروں باتیں بھی کرتا ‘ درویش کا والہانہ پن شفقت محبت اب ناصر کے دل میں اُترنا شروع ہو گئی تھی اِسی دوران ناصر کی زندگی میں ایک اور طوفان آگیا جب درویش کی ٹرانسفر مری سے لاہور ہو گئی یہ حادثہ ناصر کے لیے جان لیوا تھا اب تو اُس کی منزل چند قدم کے فاصلے پر تھی کہ درویش صاحب اب لاہور چلے گئے ہیں جوان عاشق درویش کی جدائی سے ٹوٹ کر رہ گیا اُس کا وجود ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گیا تھا کیونکہ اُسے درویش سے محبت بھی ہو چکی تھی اب درویش اسے بہت اچھا لگتا تھا درویش کے قریب رہ کر اُسے درویش کی بہت ساری خوبیوں کااحساس ہو چکا تھا درویش کا عشق خدا ‘ خدمت خلق اور اُس کی محبت اِن چیزوں کی وجہ سے جوان عاشق درویش کے بہت قریب ہوگیا تھا لیکن پھر اِس اداسی کاحل اُس نے یہ نکالا کہ اب وہ ریگولر تھوڑے تھوڑے وقفے سے لاہور جاتا اور جاکر اپنے دل کا غبار نکال آتا ‘ اِس دوران اُس نے اپنی محبوب کو بھی درویش سے جاکر ملا دیا‘ ناصر کی محبوب سے مل کر درویش نے اُس لڑکی کو اچھی طرح سمجھایا کہ جب تم اچھی طرح جانتی ہو کہ تمہارا باپ تمہارا رشتہ کبھی بھی ناصر کو نہیں دے گا تو پھر تم نے اُسے لارا کیوں لگایا ہوا ہے جب یہ کام ممکن ہی نہیں ہے تو آہستہ آہستہ اُس سے دور ہونے کی کوشش کرو ورنہ وہ دیوانہ عاشق تمہارے عشق میں اندھا ہو کر کسی دن تمہیں نہ پاکر جان دے جائے گا اور تم ساری عمر پچھتاتی رہو گی پھر لڑکی چلی گئی اِس کے بعد درویش نے جان بوجھ کر ناصر سے محبت بھرے تعلقات قائم کر لیے کیونکہ ناصر کے وجود کی تخلیق عشق کی مٹی سے ہوئی تھی اُس کو ہر حال میں ایک محبوب چاہیے تھا جس کی ذات میں فنا ہو کر وہ حق تعالیٰ کے دربار میں کھڑا ہو سکے اب لڑکی محبوب کے متوازی اُس کو درویش سے بھی عشق ہو گیا تھا بلکہ اب اُس نے درویش کو اپنا مرشد ماننا شروع کر دیا تھا ‘ جیسے جیسے مرشد کا عشق بڑھتا جارہا تھا ویسے ویسے مجازی عشق کی آگ ٹھنڈی پڑتی جا رہی تھی ۔ اب ایک طرف مجازی عشق تھا دوسری طرف مرشد کا عشق تھا جو اب روز بروز بڑھتا جا رہا تھا ۔ اب جب عشق مجاز کا رنگ پھیکا پڑنا شروع ہوا تو تھوڑ ی تھوڑی دونوں میں لڑائی بھی شروع ہو گئی ‘ اب ناصر کا زیادہ جھکاؤ اپنے مرشد کی طرف ہو تا جا رہا تھا ‘ مرشد کے عشق کی خوبی یہ تھی کہ یہاں پر نہ پانے کا خطرہ بلکل بھی نہیں تھا اِسی راستے سے ہو کر عشق حقیقی کا دریا تھا مرشد نے اب ناصر کو ایسے اذکار بھی شروع کرادیے جو عشقِ حقیقی کی منزل کی طرف لے جاتے ہیں ‘ شروع میں تو ناصر کو عامل بننے کا شوق تھا لیکن جب مرشد نے کہا تم پیدائشی فقیر ہو اور تمہاری منزل عشق الٰہی ہے تو ناصر نے اِس بات پر غور کرنا شروع کر دیا ‘ روح میں عشق حقیقی کے تمام اجزا پیدائشی طور پر تھے اِسے مرشد کی باتوں پر یقین آنا شروع ہو گیا اب ناصر کو ایسے ورد کرائے جارہے تھے جس سے روحانی خواب آتے ہیں حجاب اٹھ جاتے ہیں ‘ سالک عالم ارواح باطن کی پھر آسمانوں کی سیر کر تا ہے پھر ایک رات ناصر کو بہت بڑی ہستی کی زیارت ہوئی تو خوشی خوشی مرشد کے پاس جاکر بتا یا کہ آپ ہی اب میری منزل ہیں تو مرشد نے ناصر سے کہا کیا تم اپنی محبوب کو چھوڑ سکتے ہو تو ناصر نے روتے ہوئے کہا آپ کا اشارہ سمجھ گیا ہوں آج کے بعد آپ اُس لڑکی کا نام نہیں سنیں گے اب میرے محبوب میرے مرشد آپ ہیں مجھے صرف آپ چاہئیں میری منزل اب آپ ہیں ۔(جاری ہے )

One thought on “کالم : بزمِ درویش – کشمیر کا مجذوب ( قسط چہارم ) :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی”

Comments are closed.