کالم : بزمِ درویش – مزدوری :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
مزدوری

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

نوجوان ‘خوفزدہ ‘ معصوم عبائے میں ملبوس لڑکی کے منہ سے نکلے الفاظ کوڑوں کی طرح میرے جسم و روح کو اُدھیڑرہے تھے ‘ بے بسی لاچارگی میں ڈوبی آواز کرب میں لپٹے ہو ئے الفاظ نہیں پگھلا ہوا سیسہ تھا جو میری سماعتوں کو مسلسل جھلسا رہا تھا-

اُ س کے جسم پر اندرونی کرب اورگناہ کے احساس سے مسلسل لرزا طاری تھا وہ جب بھی بولنے کی کو شش کر تی پہلے اندرونی کرب سے اُس کی آنکھوں سے آنسو چھم چھم برستے ‘ اچھی طرح رونے کے بعد پھر وہ اپنی بکھری ہو ئی قوت کو اکٹھا کرتی ادھر ادھر دیکھتی کہ کہیں کوئی اُس کے دامن پر لگا ہوا داغ نہ دیکھ لے ‘ کو ئی اُس کی داستان مجبوری سن نہ لے ‘ خوف درد دکھ کر ب بے بسی لاچارگی نے آسیب کی طرح اُسے جکڑا ہوا تھا اِس آسیب کی وجہ سے وہ معصوم ننھے منے زخمی پرندے کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی غم کی شدت سے اُس کی سانسیں تھمنے لگیں تو وہ ساتھ لائی ہوئی بوتل سے چند بوندیں پانی کی اپنے خشک حلق پر گرا کر دوبارہ بولنے کی کوشش کرتی ‘ میں عرق ندامت میں غرق نظریں جھکائے مجرموں کی طرح اُس کے سامنے بیٹھا تھا کیونکہ میرا تعلق بھی تو مرد ذات سے تھا جس نے اُسے لہولہان کر کے زندہ لاش میں تبدیل کر دیا تھا ‘ حضرت انسان کی درندگی کا ایک گھناؤ نا پہلو مجھے بھی اندر تک تار تار کر رہا تھا انسا ن اپنی درند گی کااظہاراس طرح بھی کر سکتا ہے ‘ کربناک حیرت نے مجھے جکڑا ہو اتھا ‘ میری زبان جو سارا دن فر فر چلتی ہے وہ جب بھی بولنے کی کوشش کرتی لکنت کا شکار ہو جاتی ‘ الفاظ ہوامیں تحلیل ہو جاتے میں گو نگا بنا اُس کے سامنے بیٹھا تھا ‘ راہ تصوف عشق الٰہی کا میں جب سے مسافر بنا ہوں انسانوں سے شفقت پیار میری رگ رگ میں دوڑتا ہے اُس محبت کی وجہ سے میں دن رات انسانوں کے دکھ کے مداوے کی ناکام کو شش کر تا ہوں ‘ ستر ماؤں سے زیادہ شفیق رب تعالیٰ اِ س فقیر کی ادنیٰ کو ششوں میں کبھی کبھی برکت ڈال کر مجھ سیا ہ کار کو رب رحیم کریم سرخرو کردیتا ہے لیکن اِس مظلوم بچی کے سامنے میرا بو لنے کا آرٹ الفاظ کی جادوگری دم توڑ چکا تھا میں مجرموں کی طرح سر جھکائے اُ س کے سامنے بیٹھا تھا حوصلہ ہمت امید کے چراغ کیسے روشن کروں ‘ میں تہی دامن زبان گنگ کے ساتھ اُس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ خدمت خلق کی ادنیٰ سی کوشش جو میں پچھلے کئی سالوں سے کر رہا ہوں اُس کی بدولت مجھے ہزاروں انسانوں سے ملنے کا موقع ملا کیونکہ لوگ مجھ گناہ گار کو مسیحا سمجھ کر آتے ہیں اِس لیے آکر اپنے دل کا حال اندرونی بیرونی سارا بتا دیتے ہیں لیکن اِس لیے میں انسانوں کے ظاہر باطن سے خوب اچھی طرح واقف ہو چکا ہوں ‘ نیکیاں ایسی کرتے ہیں کہ فرشتے بھی رشک کریں اور جب گناہ پر آتے ہیں تو یقیناًایسے سیاہ کاروں کے کارنامے دیکھ کر شیطان بھی بھاگ جاتا ہوگا نیکی اچھائی رواداری محبت پیار یہ تو اب پرانے قصے کہانیاں ہی ہو گئے ہیں ‘ کبھی کبھی کوئی انسان خوشبو کے جھونکے کی طرح آکر قلب و روح کو معطر کر جا تا ہے ورنہ انسان جو مادی جانور کا روپ دھار چکا ہے ایسے ایسے گناہ فریب کاریاں چالاکیاں جھوٹ ظلم منافقت کے بدبو کے بھبھو کے رکھتے ہیں کہ سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے ‘ جب بھی کوئی ایسا غلیظ واقعہ سامنے آتا ہے تو لگتا ہے ہماری جدید آبادیاں جدید شہر ہڑپہ موہنجودڑارو کے کھنڈرات بن چکے ہیں جہاں پر صرف شکستہ ہڈیاں اور پرانے آثار ہی نظرآتے ہیں یہ شہر بے حس لاشوں اور درندوں سے بھرے پڑے ہیں جہاں کسی کو موقع ملتا ہے درندگی کے سیاہ بالوں میں خوفناک دل ہلا دینے والا واقعہ رقم کر دیتا ہے ایسی کی درند گی بر بریت جنسی ہوس کی داستان غم میرے سامنے بیٹھی معصوم لڑکی سنا رہی تھی ۔ میں حسب معمول دفتر پہنچا تو مجھے سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ وہ بینچ پر بیٹھی لڑکی دو گھنٹے سے آپکا انتظار کر رہی ہے کوئی اور ملا قاتی ابھی نہیں آیا تھا میں اُس لڑکی کی طرف بڑھ گیااور جاکر اُس کے سامنے بینچ پر بیٹھ گیا اور بولا جی بیٹی بتاؤ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں ‘ چند لمحے گزر گئے جب وہ نہ بو لی تو میں نے پھر اپنا فقرہ دہرایا تو اچانک مجھے سسکیوں آہوں دبی دبی ہچکیوں کی آواز آنا شروع ہو ئی تو میں نے بچی کے سراپے پر نظر دوڑائی جو سر سے پاؤں تک عبائے میں لپٹی تھی ہاتھ پر دستانے پاؤ ں میں جرابیں آنکھوں پر عینک اُس نے پردے کے لوازمات پو رے کئے ہوئے تھے اُس کی دبی دبی سسکیوں سے لگ رہا تھا وہ غم کے ریگستان سے گزر کر آئی ہے وہ کو شش کر رہی تھی لیکن اُس سے بولا نہیں جا رہا تھا آخر کار بہت اذیت نا ک لمحوں سے گزرنے کے بعد اُس کے تھر تھراتے کپکپاتے ہونٹوں سے الفاظ کی ادائیگی کا عمل شروع ہوا ‘ سر کیا خدا زانی کو معاف کر دیتا ہے ‘ سر زنا کی سزا کیا ہے ‘ سر خود کشی حرام ہے ورنہ میں کر جاتی لیکن میں نے زنا کیا ہے اُس کی سزا اور معاشرے کے سامنے اقرار کی مُجھ میں ہمت نہیں ہے تو اِس کی سزا اور معافی کیا ہو گی اور سر یہ زنا میں نے اپنی مرضی سے خود کیا ہے مجھے کو ئی اغوا کر کے نہیں لے گیا بلکہ میں چل کر خود کسی کے بستر کی زینت بنی ہوں ‘ جب میں خود تیار ہو کر گئی ہوں تو قصور وار تو میں ہوں نا گناہ تو میرا بنتا ہے ناں ۔ اب خدا مجھے کبھی بھی معاف نہیں کرے گا اُس کی بات سن کر میں مولوی بن گیا اگر تم نے خود زنا کیا ہے تو میرے پاس کیا لینے آئی ہو میں تمہاری کیا مدد کر سکتا ہوں ‘ تم نے اپنی مرضی کا سودا کیاہے تو وہ بو لی سر کیا آپ میری پو ری بات سنیں گے پھرآپ میری سزا کا تعین کریں گے تو میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں ۔ اب اُس نے بولنا شروع کیا جہاں سے انسانی درندگی کا ایک اور درد ناک خوفناک پہلو سامنے آیا سر ہم پانچ بہنیں ہیں چار جوان ہو چکی ہیں ماں باپ غریب ہیں کرائے کے تین مرلے کے گھر میں رہتے ہیں باپ گردوں کی بیماری کا پرانا مریض ہے محنت مزدوری نہیں کر سکتا ہمارا کو ئی بھائی بھی نہیں ہے میں سب سے بڑی ہوں ‘ میں نے ایف اے کیا ہواہے باپ گھر بیٹھ گیا تو نوکری کی تلاش میں در در کے دھکے کھائے جب نوکری نہ ملی تو ایک فیکٹری سے کام مل گیا کام بھی آسان تھا فیکٹری کے لوگ سامان اور خالی ڈبیاں ہمارے گھراتار جاتے ہم ان کو پیک کر دیتیں وہ آکر لے جاتے اِسطرح ہما رے گھر کا چولہا جلنے لگا اِسطرح ایک سال گزر گیا پہلے تین ماہ تو ہماری اجر ت ہمیں پو ری دی جاتی رہی ‘ پھر آدھے پیسے دیئے جاتے آدھے رکھ لیے جاتے ایک سال تک ہمارے فیکٹری کی طرف تقریبا ایک لاکھ روپے بنتے تھے چھوٹی بہن کا خالہ کی طرف بچپن سے رشتہ طے تھا اِس ایک لاکھ کے لیے ہم نے اُس کی تاریخ طے کر دی اب میں اور میری ماں فیکٹری والوں کی منتیں کرنے لگے کہ ہمارا ایک لاکھ دے دیں تاکہ ہم اپنی بہن کی شادی آسانی سے کرسکیں فیکٹری والے اپنے پلان کے تحت ٹال مٹول کر تے رہے پھر ہمیں کہا گیا جا کر مالک سے مل لو میں اور میری ماں فیکٹری مالک کے پاس چلی گئیں ‘ فیکٹری مالک نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا میں اُس کی آنکھوں میں شکاری چمک دیکھ چکی تھی اُس نے اپنا فون نمبر دیا کہ آپ کل اِس پر کال کرو میں پیسے دے دوں گا ‘ میں نے اگلے دن فون کیا تو اُس نے میری تعریفیں شروع کردیں میں پیسوں کا تقاضہ کر رہی تھی وہ میرے حسن کی تعریفیں کررہا تھا اور ساتھ میںآج کل کے لارے بھی لگاتا جا رہا تھا دس دن گزرگئے تھوڑے بہت پیسے دے دیتا اِس طرح دو ماہ گزر گئے بہن کی شادی میں دس دن رہ گئے تو مالک نے کہا تم اکیلی آکر ملو ‘ میں مجبور اُس کے سامنے بیٹھی تھی وہ بولا دیکھو تم مجھے پسند ہو اگرتم اپنی مزدروی کے پیسے چاہتی ہو تو اپنا جسم مجھے دے دو ‘ پیسے مل جائیں گے اُس کی بات سن کرمیری روح تک کانپ گئی میں نے یہ بات گھر والوں کو نہیں بتائی اب میں اور امی نے رشتہ داروں سے قرضہ مانگا ‘ محلے داروں سے پیسے مانگے کسی نے ایک روپیہ بھی نہ دیا تو بہن کی شادی سے دو دن پہلے میں نے فیکٹری مالک کے پاس جا کر اپنی عز ت بیچ دی اور مزدوری کے پیسے لے کر واپس آگئی ‘ بہن کی شادی ہو گئی آج ایک مہینہ ہو گیا میں سارا دن غسل خانے میں جاکر اپنے جسم کو پاک کر نے کی کوشش کرتی ہوں پھر سجدے میں سر رکھ کر آنسوؤں سے اپنا گناہ پاک کر نے کی کوشش کرتی ہوں ‘ سر ناپاکی کے تصور نے مجھے ذہنی مریضہ بنا دیا ہے میں نے اپنی مزدوری لینے کے لیے خود جاکر اپنا آپ بیچا ہے میں زانی ہوں کیا خدا مجھے معاف کر ے گا پھر آہوں سسکیوں ہچکیوں میں لپٹی معصوم لڑکی چلی گئی میری آنکھوں میں بھی ساون بھادوں مچلنے لگا اور میں سوچنے لگا پتہ نہیں فرعون کے اس دیس میں مو سیٰ کب آئے گا کب اِن بچیوں کو مزدوری کے لیے اپنی عزت تار تار نہیں کر نا پڑے گی کب کوئی مسیحا ان بچیوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے گا خدا وہ دن جلدی لائے ۔