کھانے، پینے، سونے اور لباس کے احکام و مسائل :- ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی

کھانے، پینے، سونے اور لباس کے احکام و مسائل

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی

خالق کائنات نے دنیا کے نظام کو اس طرح بنایا ہے کہ چھوٹی بڑی کروڑوں مخلوقات انس وجن کے تابع کردی گئی ہیں۔ اور حضرت انسان کو اشرف المخلوقات بناکر اللہ تعالیٰ انس وجن کی تخلیق کا مقصد واضح طور پر بیان فرمادیا: ’’میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں‘‘۔ (سورۃ الذاریات ۵۶)

عبادت زندگی کے لیل ونہار کو اللہ کے حکم اور نبی کے طریقہ پر بجالانے کا نام ہے ۔ یعنی اللہ کے اوامر پر عمل کرکے اور منہیات سے بچ کر انسان اپنی تمام ضرورتوں (کھانا، پینا، سونا، پہننا، تعلیم وتعلم، شادی، ملازمت، کاروبار اور کھیتی وغیرہ )کو پیغمبر کے قول وعمل کی روشنی میں انجام دے۔ یہ ضرورتیں انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اس طرح کی ہے کہ وہ اِن کاموں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ اور ان کاموں کو صحیح یا غلط طریقہ سے انجام دینے کے باوجود اس کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ لہٰذا ہمیں صبح اٹھنے سے لے کر رات کو سونے تک یہ فکر کرنی چاہئے کہ ہم اپنے مقصد اصلی سے نہ ہٹ جائیں۔
سونے کے آداب: انسان عمومی طور پر روزانہ چھ سے آٹھ گھنٹے تک سوتا ہے، جو اُس کی ضرورت ہے، جیساکہ فرمان الٰہی ہے: تمہاری نیند کو تھکن دور کرنے کا ذریعہ ہم نے بنایا ہے۔ (سورۃ النبا) اگر سونے میں پیغمبر اسلامﷺ کے طریقہ کو اختیار کرلیا جائے تو انسان کی ایک تہائی یا ایک چوتھائی زندگی عبادت بن جائے گی۔ نبی اکرم ﷺ مختلف اذکار پڑھ کر سوتے تھے، لیکن آپﷺ کی تعلیمات میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ عشا اور فجر کی نماز کی وقت پر ادائیگی ہونی چاہئے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: جو شخص عشا کی نمازجماعت کے ساتھ پڑھے، گویا اس نے آدھی رات عبادت کی اور جو فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ پڑھ لے گویا اس نے پوری رات عبادت کی۔ (مسلم) دیگر احادیث میں نبی اکرمﷺ کی واضح تعلیمات مذکور ہیں کہ خواتین اپنے گھروں میں ہی نماز کا اہتمام کریں۔ غرضیکہ نماز عشا ونماز فجر کی وقت پر ادائیگی ایک تہائی یا ایک چوتھائی زندگی کی عبادت بننے کے لیے ضروری ہے۔ نیز احادیث میں وارد ہے کہ خاتم الانبیاء وسید الرسل ﷺ نماز کے وضو کی طرح وضو فرماتے اوراپنا دایاں ہاتھ اپنے دائیں رخسار کے نیچے رکھ کر دائیں کروٹ پر لیٹتے تھے۔ سونے سے قبل مختلف اذکار کے ساتھ یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے: (اَللّٰہُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْےَا) اے اللہ آپ کے نام کے ساتھ مرتا اور جیتا ہوں۔ جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو یہ فرماتے: (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْےَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَےْہِ النُّشُوْرُ) تمام تعریفیں اُس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔ احادیث مبارکہ میں عشا کے بعد جلدی سونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ چنانچہ حضوراکرم ﷺ اور صحابۂ کرام عشا کے بعد جلدی سوکر رات کے بڑے حصہ میں نماز تہجد پڑھا کرتے تھے۔ آج دیر رات تک جاگنے کی وجہ سے ہمارے لیے نماز فجر پڑھنا بھی دشوار ہوتا ہے۔ حالانکہ نبی اکرم ﷺکے سامنے ایسے شخص کا تذکرہ کیا گیا جو صبح ہونے تک سوتا رہتا ہے (یعنی فجر کی نماز ادا نہیں کرتا ہے)، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایسے شخص کے کانوں میں شیطان پیشاب کردیتا ہے۔ (بخاری ومسلم) نبی اکرم ﷺ نے پیٹ کے بل لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداود)، اگرچہ چت لیٹ کر سویاجاسکتا ہے۔ (بخاری) نبی اکرم ﷺ نے سونے سے قبل چراغ (یعنی لائٹ)، آگ (یعنی چولہا) اور بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کرنے اور برتنوں کو ڈھکنے کا حکم دیاہے۔ (بخاری ) سونے سے قبل چاروں قل، آےۃ الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھنے کی بھی آپ ﷺ نے تعلیمات دی ہیں۔ (بخاری ومسلم) نماز فجر کے بعد اور مغرب اور عشا کے درمیان سونے کو نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں علماء کرام نے مکروہ کہا ہے۔ نماز عصراور مغرب کے درمیان سونے کو پسند نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا حتی الامکان اِن اوقات میں سونے سے بچنا چاہئے اگرچہ حرام نہیں ہے۔ دوپہر کو آرام کرنا یعنی قیلولہ کرنا سنت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے آج سے چودھ سو سال قبل سونے کا جو طریقہ بیان کیا ہے، آج کے اطباء بھی اس کو صحت کے لیے انتہائی مفید تسلیم کرتے ہیں۔
کھانے پینے کے آداب: کھانے کے مختلف آداب حضور اکرم ﷺ کے اقوال وافعال کی روشنی میں کتابوں میں مذکور ہیں، مگر ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارے پیٹ میں حرام مال کا کوئی لقمہ بھی نہ جائے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ صرف حلال وسائل پر ہی اکتفاء کرے، جیساکہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حرام مال سے جسم کی بڑھوتری نہ کرو کیونکہ اس سے بہتر آگ ہے۔ (ترمذی) اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ انسان جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (مسند احمد) نیز نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ حرام کھانے، پینے اور حرام پہننے والوں کی دعائیں کہاں سے قبول ہوں۔ (مسلم ) جس طرح آجکل ہم ناشتہ، دوپہر کا کھانا، شام کی چائے اور رات کا کھانا پابندی سے کھاتے ہیں، غالباً حضور اکرم ﷺ کی پوری زندگی میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا۔ لہٰذا ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہئے، لیکن محتاج لوگوں کی ضرورت کا بھی ہمیں خیال رکھنا چاہئے۔حضور اکرم ﷺ کا کھانا عموماً روٹی کی شکل میں ہوتا تھا، اگرچہ چاول بھی اُس زمانہ میں کھایا جاتا تھا۔ کھجور، ثرید، گوشت، مچھلی، شہد، سرکہ، زیتون، ککڑی، تربوز، انجیر، انگور، انار اور حلوا کھانے اور پانی و دودھ کے پینے کا ثبوت احادیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔ آپ ﷺ کھانے سے قبل اور کھانے کے بعد ہاتھ دھویا کرتے تھے۔ آپ ﷺ تین انگلیوں (انگوٹھا، شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی) سے کھانا تناول فرماتے تھے۔ آپﷺ کھانے سے فراغت کے بعد اپنی انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ ٹیک لگاکرکھانا نہیں کھاتے تھے۔ آپ ﷺ عموماً بیٹھ کر ہی پانی پیتے تھے، آپﷺ سے کھڑے ہوکر پانی پینا بیانِ جواز کے لئے ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ کھڑے ہوکر پانی پینا حرام نہیں ہے۔ آپ ﷺ کو زمزم کا پانی پلایا گیا تو آپ ﷺنے کھڑے ہوکر نوش فرمایا۔ آپ ﷺ نے کبھی بھی کھانے کو عیب نہیں لگایا۔ اگر پسند ہوتا تو کھالیا اور ناپسند ہوا تو چھوڑ دیا۔ (بخاری ومسلم) نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہمیں دائیں ہاتھ اور اپنے سامنے سے کھانا چاہئے۔ (بخاری ومسلم) بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کرنا چاہئے، اگر بسم اللہ پڑھنا بھول جائیں تو درمیان میں بسم اللہ اوَّلہ وآخرہ پڑھ لیا کریں۔ (ترمذی، ابوداود) نیز نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: برکت کھانے کے درمیان میں اترتی ہے، پس تم اس کے کناروں سے کھاؤ۔ (ترمذی، ابوداود) کھانا کھاتے وقت اس بات کا خاص اہتمام کیا جائے کہ پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا جائے بلکہ دو چار لقمے کم کھانا بہتر ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کا کھانا تین کے لیے اور تین آدمیوں کا کھاناچار کے لیے کافی ہے۔ (بخاری ومسلم) کھانے یا پینے کے برتن میں سانس لینے یا اُس میں پھونک مارنے سے آپ ﷺ منع فرماتے تھے۔ (ترمذی) نبی اکرم ﷺ نے مشک کے منہ (یعنی اِس زمانہ میں جگ یا ٹونٹی) سے پانی پینے کو منع فرمایا ہے۔ (بخاری ومسلم) کھانے سے فراغت کے بعد آپ ﷺ سے مختلف دعائیں ثابت ہیں، اُن میں سے ایک دعا یہ بھی ہے: اَلْحَمُدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا الْمُسْلِمِےْنَ (ترمذی، ابوداود) طبی اعتبار سے بھی کھانے پینے کا یہ طریقہ انسان کی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔
لباس کے آداب: قرآن وسنت کی روشنی میں علماء کرام نے تحریر کیا ہے کہ انسان اپنے علاقہ کی عادات واطوار کے لحاظ سے حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کوئی بھی لباس پہن سکتا ہے کیونکہ لباس میں اصل جواز ہے جیساکہ سورۃ الاعراف آیت نمبر ۳۲ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ لباس اور کھانے کی چیزوں میں وہی چیز حرام ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ لیکن ہمیں اپنے لباس میں حتی الامکان نبی اکرم ﷺکے طریقہ کو اختیار کرنا چاہئے اور وہ لباس جس کی وضع وقطع اور پہننا غیر مسنون ہے اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺکے طریقہ کو کل قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے نمونہ بنایا ہے جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: تم سب کے لئے رسول اللہ کی ذات بہترین نمونہ ہے۔ (سورۃ الاحزاب ۲۱) اللہ تعالیٰ نے لباس کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس بنایا جو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور بہترین لباس تقوی کا لبا س ہے۔ (سورۃ الاعراف ۲۶) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقوی کا لباس پہننے کی تعلیم دی ہے اور لِبَاسُ التقوی سے مراد وہ لباس ہے جس میں شرم وحیا ہو اور لباس کے متعلق حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔
نبی اکرم ﷺکے اقوال وافعال کی روشنی میں علماء کرام نے لباس کے بعض شرائط تحریر کئے ہیں: ۱) مرد حضرات کے لئے ایسا لباس پہننا فرض ہے ،جس سے ناف سے لے کر گھٹنے تک جسم چھپ جائے اور ایسا لباس پہننا مسنون ہے جس سے ہاتھ ،پیر اور چہرے کے علاوہ مکمل جسم چھپ جائے۔ عورتوں کے لئے ایسا لباس پہننا فرض ہے، جس سے ہاتھ ،پیر اور چہرے کے علاوہ ان کا پورا جسم چھپ جائے۔ یہاں لباس کا بیان ہے نہ کہ پردے کا کیونکہ غیر محرم کے سامنے عورت کو چہرا ڈھانکنا ضروری ہے۔ ۲) لباس نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو، مثلاً مرد حضرات کے لئے ریشمی کپڑے اور خالص سرخ یا زرد رنگ کا لباس۔ ۳) ایسا تنگ یا باریک لباس نہ ہو جس سے جسم کے اعضاء نظر آئیں۔ ۴) مردوں کا لباس عورتوں کے مشابہ اور عورتوں کا لباس مردوں کے مشابہ نہ ہو۔ ۵) مردوں کا لباس زیادہ رنگین اور عورتوں کا لباس زیادہ خوشبو والا نہ ہو (خاص طور پر جب وہ گھر سے باہر نکلیں)۔ ۶) مردوں کا لباس ٹخنوں سے اوپر جبکہ عورتوں کا لباس ٹخنوں سے نیچے ہو۔ ۷) کفار ومشرکین کے مذہبی لباس سے مشابہت نہ ہو۔
نبی اکرم ﷺ زیادہ تر سفید لباس پہنا کرتے تھے اگرچہ دوسرے رنگ کے کپڑے بھی آپ ﷺنے استعمال کئے ہیں۔ رنگین لباس عموماً چادر یا عبایہ یا جبہ کی شکل میں ہوا کرتا تھا کیونکہ آپ ﷺکی قمیص اور تہبند عموماً سفید ہوا کرتی تھی۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کپڑوں میں سے سفید کو اختیار کیا کروکیونکہ وہ تمہارے کپڑوں میں بہترین کپڑے ہیں اور سفید کپڑوں میں ہی اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔ (ترمذی ، ابو داود، ابن ماجہ، مسند احمد ، صحیح ابن حبان) حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا قد درمیانی تھا۔ ایک مرتبہ میں نے آپﷺ کو سرخ دھاریوں والی چادر میں ملبوس دیکھا۔ میں نے کبھی بھی اس سے زیادہ کوئی خوبصورت منظر نہیں دیکھا۔ (بخاری،مسلم) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو کپڑوں میں قمیص زیادہ پسند تھی۔ (ترمذی ، ابو داود ) آپ ﷺکی قمیص کا رنگ عموماً سفید ہوا کرتا تھا۔ (ابوداود، ترمذی، ابن ماجہ، نسائی، مسند احمد، صحیح ابن حبان وغیرہ) آپ ﷺ کی قمیص تقریباً نصف پنڈلی تک ہوا کرتی تھی۔ (ابو داود، ابن ماجہ) آپ ﷺ کی قمیص کی آستین عموماً پہونچے تک ہوا کرتی تھی۔ (ابو داود، ترمذی) کبھی کبھی انگلیوں کے سرے تک۔ ازار اس لباس کو کہتے ہیں جو جسم کے نچلے حصہ میں پہنا جاتا ہے۔ عموماً نبی اکرم ﷺ تہبند کا استعمال فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کا تہبند ناف کے اوپر سے نصف پنڈلی تک رہا کرتا تھا۔ صحابۂ کرام بھی عموماً تہبند استعمال کرتے تھے اور آپ ﷺکی اجازت سے پائجامہ بھی پہنتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک پیوند لگی ہوئی چادر اور موٹا تہبند نکالا پھر فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ کی روح مبارکہ ان دونوں کپڑوں میں قبض کی گئی۔ (بخاری ومسلم) آپ ﷺ عمامہ باندھتے تھے اور اس کے نیچے ٹوپی بھی پہنتے تھے، آپ ﷺ عمامہ کے بغیر بھی ٹوپی پہنتے تھے اور آپ ﷺ ٹوپی پہنے بغیر بھی عمامہ باندھتے تھے۔ (زاد المعاد فی ہدی خیر العباد)جیساکہ بیان کیا جاچکا ہے کہ لباس میں اصل جواز ہے، انسان اپنے علاقہ کی عادات واطوار کے مطابق چند شرائط کے ساتھ کوئی بھی لباس پہن سکتا ہے، ان شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ کفار و مشرکین کا لباس نہ ہو۔ پینٹ وشرٹ یقیناًمسلمانوں کی ایجاد نہیں ہے لیکن اب یہ لباس عام ہوگیا ہے چنانچہ مسلم اور غیرمسلم سب اس کو استعمال کرتے ہیں۔ لہذا مندرجہ بالا شرائط کے ساتھ پینٹ وشرٹ پہننا جائز ہے، البتہ پینٹ وشرٹ کے مقابلے میں کرتا وپائجامہ کو فوقیت حاصل ہے۔
——
Mohammad Najeeb Qasmi
http://www.najeebqasmi.com/
MNajeeb Qasmi – Facebook
Najeeb Qasmi – YouTube
Whatsapp: 00966508237446

جواب دیجئے