سنبھل میں اکابر علماء اور دانشورانِ قوم وملت کے بدست النور پبلک اسکول کی سنگ بنیاد


مسلمان ‘ مدارس کی حفاظت کے ساتھ انگلش میڈیم اسکول قائم کریں ۔
ڈاکٹر اے نصیب خاں

سنبھل میں اکابر علماء اور دانشورانِ قوم وملت کے
بدست النور پبلک اسکول کی سنگ بنیاد

سنبھل (نامہ نگار) النور ایجوکیشنل وسوشل ویلفےئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام شہر سنبھل میں نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا عبد الخالق سنبھلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ سیکنڈری اسکول (نئی دہلی) کے پرنسپلجناب ڈاکٹر اے نصیب خان، مہتمم وشیخ الحدیث مدرسہ امدادیہ مرادآباد مولانا ڈاکٹر محمد اسجد قاسمی ندوی، استاذ دارالعلوم دیوبند مولانا اشرف عباس قاسمی، مولانا مزمل حسین مرادآبادی، مولانا عبد الرحمن عمری، ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی اور دیگر مقامی وبیرونی وعلماء کرام ودانشورانِ قوم ملت کے بدست عمدہ تعلیم وتربیت کے لیے سنبھل شہر میں النور پبلک اسکول کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ بعد میں اِس مناسبت پر ایک پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا، پروگرام کا آغاز قاری عبد الملک نے قرآن کی تلاوت سے کیا۔ بعدہ نعت پاک قاری نعمان نے پیش کی۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی جو طبیعت کے علیل ہونے کی وجہ سے شریک محفل نہ ہوسکے، مگر انہوں نے ایک پیغام اس تاریخی پروگرام کے لیے تحریر فرماکر ارسال فرمایا، جو دارالعلوم دیوبند کے استاذ حضرت مولانا اشرف عباس قاسمی نے پڑھا، جس میں مہتمم صاحب نے فرمایاکہ ڈاکٹر نجیب قاسمی بچوں اور بچیوں کو عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے سلسلے میں ایک وسیع پروگرام ہندوستان میں شروع کرنے جارہے ہیں، النور ایجوکیشنل ٹرسٹ کا قیام اسی مقصد کے لیے عمل میں آیا ہے، ابتدائی مرحلہ کا آغازآج بتاریخ ۲۱ دسمبر ۲۰۱۸ء بروز جمعہ ہونے جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کے عزائم کے مطابق ہر ہر مرحلہ میں کامیابی عطا فرمائے اور اُن کی خدمات کو ملت کے لیے نافع بنائے۔ ٹرسٹ کے بانی ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی نے ٹرسٹ کے عزائم ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ صرف ایک اسکول کھولنے نہیں جارہے ہیں بلکہ علماء کی سرپرستی میں پورے ملک میں ایک ایسی تحریک شروع کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے زیادہ سے زیادہ اسکولوں وکالجوں کا قیام کرکے آنے والی نسلوں کو دینی ضروری معلومات فراہم کرکے انہیں عصری علوم سے آراستہ کیا جائے۔ موصوف نے مزید کہا کہ صرف بچیوں کے لیے ۱۲ویں کلاس تک انگریزی میڈیم اسکول وکالج سنبھل میں جلدی ہی قائم کیا جائے گا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ( نئی دہلی ) کے سینئر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر اے نصیب خان نے ڈاکٹر نجیب قاسمی کے مشن کو سراہتے ہوئے مسلم بچوں اور بچیوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ نیز انہوں نے اسکولوں وکالجوں کے ذمہ داران سے اچھے اساتذہ رکھنے کو کہا کیونکہ باصلاحیت اساتذہ ہی تعلیم کے اصل مقصد کو پورا کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر اے نصیب خان نے مزید کہا کہ مدارس کی بقا کی کوشش کے ساتھ ہمیں زیادہ سے زیادہ اچھے اسکول قائم کرنے چاہئیں تاکہ ہماری نسلیں دنیا میں بہتر مقام حاصل کرکے آخرت میں کامیابی حاصل کرنے والی بنیں ۔ انھوں نے اُمید ظاہر کی کہ النور پبلک اسکول علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دارالعلوم دیوبند کی طرح قوم و ملت کی رہنمائی کرے گا۔ نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا عبد الخالق سنبھلی نے اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر نجیب قاسمی کی اس تحریک کی تایید کرتے ہوئے اُن کی ہر ممکن مدد کرنے کو کہا۔ مولانا عبد الخالق سنبھلی نے علم پر روشنی ڈالتے ہوئے ایسے اسکولوں وکالجوں کے قیام کی اپیل کی جس میں بچوں کی دینی تعلیم وتربیت کا بھی معقول انتظام کیا جائے تاکہ ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کی حفاظت ممکن ہوسکے۔ مدرسہ امدادیہ مرادآباد کے مہتمم مولانا ڈاکٹر محمد اسجد قاسمی ندوی قرآن وحدیث کی روشنی میں علم پر گفتگو فرماکر عصری ودینی درسگاہوں کے قیام کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی ۔ سماجی کارکن اور مسلم ایجوکیشن فاؤنڈیشن (دہلی) کے صدر ڈاکٹر شفاعت اللہ خان نے تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی پسماندگی کی اصل وجہ تعلیم کا فقدان ہے جیسا کہ سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے عباسی دور خلافت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں نے اس وقت بھی عصری تقاضوں کی اہمیت کے مد نظر تعلیمی ادارے قائم کئے تھے۔ مولانا محمد سہیل قاسمی نے کہا کہ ہمارے علماء کرام کو نئی ٹکنالوجی کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے کیونکہ اقرا باسم ربک الذی خلق کے مفہوم میں اپنی ذات سے تعلیم حاصل کرکے تمام جائز مہیا ذرائع سے پیغام الٰہی کو دوسروں تک پہنچانا بھی داخل ہے۔ سابق ایم پی ڈاکٹر شفیق الرحمن برق نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی دالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ایک سازش کے تحت تعلیمی ادارے قائم کرنے میں رکاوٹ کی جارہی ہے، ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پروگرام کی نظامت ریاض (سعودی عرب) سے تشریف لائے مولانا عبد الرحمن عمری نے بحسن خوبی انجام دی۔ سنبھل کی کثیر تعداد خاص کر علماء کرام نے پروگرام میں شرکت فرماکر پروگرام کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ مولانا عبد المعید قاسمی کی دعا پر اختتام کے بعد نجیب قاسمی سنبھلی کی متعدد کتابیں مفت تقسیم کی گئیں۔ حاجی یامین برکاتی، مفتی جنید قاسمی، مولانا تنظیم قاسمی، مولانا عیسیٰ، ڈاکٹر مجیب، ، محمد حسیب، سلمان راغب، بابو عرفان، خالد نعمان، سلمان انجینئر، نواب سعد عادل، مولاناعتیق، مولانا محمد میاں، مولانا مملوک الرحمن برق، مفتی فرقان قاسمی، مفتی مہر الہی قاسمی، مولانا رفاقت قاسمی، مولانا نیر، صفوان راغب اور سعد نعمانی شریک رہے۔
—-