معروف رسالے ’ ہندستانی زبان ‘ کے پچاس سال مکمل ہونے پر پروگرام کا انعقاد

بائیں سے: سنجیو نگم ‘ سوشیل گیتا ‘ فیروز پیچ ‘ اطہر عزیز‘ اروند دیگویکر ‘ سید علی عباس ‘ ریتا کمار‘ منجولا دیسائی اور راکیش ترپائھی

معروف رسالے ’ ہندستانی زبان ‘ کے پچاس سال
مکمل ہونے پر پروگرام کا انعقاد

ممبئی: ہندستانی پرچار سبھا کے زیرِ اہتمام جاری رسالہ’ ہندستانی زبان‘اپنے ۵۰؍سال مکمل کر رہا ہے۔ اس موقع پر گزشتہ دِنوں ہندستانی پرچار سبھا ، واقع مہاتما گاندھی میموریل بلڈنگ ، چرنی روڈ پر منعقد ایک شاندار پروگرام میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے برِّ صغیر کی مایہ ناز ادیبہ پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی نے کہا کہ ’’رسالہ ہندستانی زبان نہ صرف ایک ادبی رسالہ ہے بلکہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا دیرینہ ترجمان بھی ہے۔

اس کے پچاس سال مکمل کرنے پر ہم دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ خود ہندستانی پرچار سبھا نے حال ہی میں اپنے ۷۵؍سال مکمل کئے ہیں۔ جدید طرز سے منعقد کئے گئے اس پروگرام میں شہر و اطراف کے ہندی اور اردو ادباء و شعرا نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مہمانان خصوصی میں گریش پنکج نے ہندی اور اردو زبان کے میل جول پر گفتگو کی ۔ انھوں نے پرچار سبھا کی سرگرمیوں کو خوب سراہا جب کہ سینئر ادیب اور مدیر پروفیسر یونس اگاسکر نے اس ادارے سے اپنی دیرینہ وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی یادوں سے محفل کا رنگ دو چند کردیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں سے بحیثیت ریسرچ فیلو اپنی شروعات کرچکے ہیں ، اسی لیے اس ادارے سے ا ن کی قلبی وابستگی ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوگئی ہے۔ سکریٹری فیروز پیچ نے اگلے عزائم اگلے پروجیکٹ کی بات کہی۔ اسی طرح اروِند دیگویکر نے ادارے کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا۔ اس موقع پر اطہر عزیز (’ہندستانی زبان‘اردو کے ایڈیٹر) ، ڈاکٹر سشیلا گپتا (ادارتی مشیر ) ، منجولا دیسائی (’ہندستانی زبان ‘ہندی کی ایڈیٹر) اور جے شری سنگھ وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ نظامت کے فرائض سنجیو نگم نے اداکیے جب کہ رسم شکریہ ڈاکٹر ریتا کمار نے ادا کی۔