پروفیسر حبیب ضیاء نامور محقیق ، ممتاز طنز و مزاح نگار :- ڈاکٹر ضامن علی حسرتؔ

ڈاکٹر ضامن علی حسرت

پروفیسر حبیب ضیاء
نامور محقیق ، ممتاز طنز و مزاح نگار

ڈاکٹر ضامن علی حسرتؔ
نظام آباد ۔ تلنگانہ
موبائل: 9440882330

پروفیسر حبیب ضیاء اُردو ادب کی نامور محقیق و ممتاز طنزومزاح نگار ہیں۔ ادب کی دونوں ہی صِنفوں میں اِنھوں نے اپنی ادبی صلاحیتوں کے ایسے انمٹ نقش چھوڑے ہیں،جنہیں بُھلایا نہیں جاسکتا۔ ہندوپاک کے دبی حلقوں میں انکی سبھی تصانیف بے حد مقبول ہیں۔ دونوں ملکوں کے قارئین اِن کی تصانیف کے منتظر رہتے ہیں۔

اَب تک اِن کی گیارہ تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہیں، جنھیں ادبی حلقوں میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اِ ن تصانیف کے نام یہ ہیں
(۱) دکنی زبان کی قوائد (تحقیق ،1969) (۲) مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ ( تنقید 1978) (۳) گوئم مشکل ( طنز و مزاح 1981)
(۴) انیس بیس (طنز ومزاح1988) (۵) شادؔ و نیاز ( تنقید 1993) (۶) جومژگاں اُٹھائے (طنز و مزاح 2001)
(۷) حیدرآباد کی طنز و مزاح نگار خواتین (تذکرہ 2005) (۸) بڑے گھر کی بیٹی ( خودنوشت سوانح 2006)
(۹) گلدستہ شادؔ ( ترتیب بہ تعاون ڈاکٹر نارائین ریڈی، ڈاکٹر بھاسکر راج سکسینہ،2009)
(۱۰) نذر شاد ( تربیت بہ تعاون ڈاکٹر نارائین ریڈی 2009) اور گیارہویں تصنیف ’’مضامین نو (تنقید ۔2009)
اِن ساری ہی تصانیف پر ڈاکٹر حبیب ضیاء نے کافی محنت کی اور انھیں بڑے سلیقے کے ساتھ ادبی دنیا میں متعارف کروایا۔ وہ اپنی اِن تصانیف سے متعلق اپنی گیارہوں تصنیف ’’ مضامین نو ‘‘ کے پیش لفظ میں لکھتی ہیں ’’ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میری کتابین ہندو پاکستان کے اہلِ قلم دلچسپی سے پڑھتے ہیں، ہندوستان کی مختلف جامعات کے سربراہوں نے اپنی قیمتی آراء بھیجی ہیں جن سے بڑا حوصلہ ملا اور جب حوصلہ افزائی ہوئی تو جی چاہتا ہے کہ لکھنے کے سلسلے کوجاری رکھنا چاہیئے۔‘‘ پروفیسر صاحبہ ایک کہنہ مشق و ممتاز قلم کارہ ہیں، اس کے باوجود اُن کی صاف گوئی ، عاجزی و انکساری قابل تعریف ہے۔ جو ان کے دل میں ہوتا ہے وہی اُن کی زبان پر ہوتا ہے۔ تب ہی تو انھوں نے ایک قلم کار کے دل کی بات کی کسی بھی ادیب یا قلم کار کے لئے حوصلہ افزائی نہایت ضروری ہے۔ اگر قلم کار کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے اُس کے فن کو سراہا نہ جائے تو اُس کا قلمی سفر رُک سا جاتا ہے۔ چاہے وہ فنکار بڑا ہو یا چھوٹا۔ محترمہ حبیب ضیاء صاحبہ پچھلے چاردہوں سے بھی زائد عرصہ سے لکھتی چلی آرہی ہیں۔ اور اِنھیں اپنے چاہنے والوں کا پیار اس قدر ملا ہے کہ اُن کا دامن تنگ دامنی کا شکوہ کرتا نظر آتا ہے۔ اُنھوں نے اپنی گیارہ تصانیف اپنے قارئین کو تحفہ کی شکل میں دی ہیں۔
پروفیسر حبیب ضیاء جتنی بلند پایہ ادیبہ ہیں،اُتنی ہی بہترین انسان بھی ہیں۔ جن کے دل میں اپنے دوستوں ، قارئین اور عزیروں کے لئے بے پناہ پیار اور خلوص ہے۔ وہ اپنے ہر ملنے والے کا استقبال نہایت ہی خندہ پیشانی کے ساتھ کرتی ہیں۔ اور اُن کی جی بھر کے خاطر تواضع کرتی ہیں، اُن سے نہایت ہی اپنائیت کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں۔ اُن سے جو بھی شخص ایک بار ملتا ہے ، وہ اُنکی وضعداری، سادگی، ملنساری اور مہمان نوازی کا دل سے قائل ہوجاتا ہے۔ اور وہ اِن اوصاف کی بناء پر اُن سے بار بار ملنا چاہتاہے۔ میری اُن سے پہلی ملاقات اکٹوبر 1994 ؁ء میں ہوئی تھی جب وہ اکبر ٹاور ملک پیٹ میں قیام پذیر تھیں۔دراصل میں اُن سے اپنی دوسری طنز و مزح کی تصنیف ’’ توبہ میری توبہ‘‘ پر ایک مضمون لکھوانا چاہتا تھا۔ جب میری اُن سے ملاقات ہوئی تواُنھوں نے اپنی حسبِ عادت میر ی خوب میزبانی کی میرا حوصلہ بڑھایا اور میری کتاب کے لئے ایک مضمون بھی لکھنے کا وعدہ کرلیا۔ جب دوبارہ دوہفتے بعد میری اُن سے ملاقات ہوئی تو اُنھوں نے کہا ’’ یہ لیجئے ضامن صاحب آپکی کتاب کے لئے میر ا مضمون‘‘ ، میں اُن کے اخلاق اور اُن کے خلوص سے بے حد متاثر ہوا۔ وہ مضمون میری تصنیف میں شامل ہے۔ مضمون بڑا ہی خوبصورت اورحوصلہ افزا ہے۔ ان دوملاقاتوں کے بعد جب بھی مجھے موقع ملتا ہے اُن سے فون پر ملاقات کا وقت لے کر اُ ن سے ملاقات کرلیتاہوں، جب جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی ہے وہ اپنی کوئی نہ کوئی کتاب مجھے تحفتاً دیتی ہیں۔ ابھی حالیہ ملاقات میں اُنھوں نے اپنی اہم تصنیف ’’ دکنی اُردو قوائد‘‘ بطور تحفہ مجھے دیا۔ میں جب جب بھی محترمہ حبیب ضیاء صاحبہ سے ملا ہوں مجھے رفیعہ آپا ( رفعیہ منظور الامین) کی یاد آجاتی ہے۔ رفیعہ آپا سے میری پہلی ملاقات (1992) ،میں اُن کی قیام گاہ بنجارہ ہلز پر ہوئی تھی۔ میں اُن سے اپنی پہلی تصنیف ’’ ریت کی دیوار(افسانوی مجموعہ)‘‘ پر ایک مضمون لکھوانا چاہتا تھا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میرے ادبی سفر کاآغاز ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے۔ رفیعہ آپا نے ملاقات کا وقت دیا میں مقررہ وقت پر پہنچ گیا۔ وہ مجھے دیکھ کر مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئیں اور پوچھا کہیئے میں آپ کے لئے کیا کرسکتی ہوں، میں نے اپنی کتاب پر مضمون لکھنے کی خواہش کی تو اُنھو ں نے کچھ دیر سونچنے کے بعد کہاٹھیک ہے ضامن صاحب مجھے کچھ دن کاوقت دیں ابھی میں اپنے ٹیلی ویژن کے پہلے اُردو سیریل ’’فرمان‘‘ کے سلسلے میں مصروف ہوں۔ کچھ دنوں بعد رفعیہ آپا کا ٹیلیفون آیا اور کہا کہ فرصت ہے تو میرے گھر آجائیے میں فوراً اُن کے گھر پہنچا تو اُنھوں نے حسب روایت مسکراکر میرا ستقبال کیا اورمجھے میرا مضمون دیتے ہوئے کہا ’’ یہ لیجئے آپ کی کتاب کے لئے میرا مضمون‘‘ اتنی بڑی بلند پائے کی قلم کارہ اوراتنی سادگی پسند، غرور اورتکبر سے قطعی پرے۔ مجھے رفیعہ آپا کی پُر وقار اور شاندار شخصیت نے بھی بے حد متاثر کیا ہے۔ رفعیہ آپا کے بعد مجھے پروفیسر حبیب ضیاء صاحبہ کی پروقار و وضعدار شخصیت نے متاثر کیاہے۔ دونوں ہی خواتین ممتاز و نامور ادیبہ ہیں۔ اوراُتنی ہی عظیم اِنسان بھی ہیں۔ آج رفعیہ آپا ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں۔ لیکن اُن کا فن اور اُن کی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔ جہاں تک پروفیسر حبیب ضیاء صاحبہ کا تعلق ہے تو وہ آج بھی متحرک ہیں اور اپنے ادبی سفر کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔بقول شاعر ۔۔۔
نئی سحر اور نیا آفتاب دینا ہے
ہمیں جہاں کو ایک انقلاب دینا ہے
میں اسے اپنی خوش قسمتی کہونگا کہ مجھ جیسے اد ب کے ادنیٰ طالب علم کی تصانیف پر ملک کی نامور دانشوروں ، نقادوں و قلم کاروں نے اپنے مرصّع مضامین لکھ کر میری اور میری کتابوں کی توقیر میں اِضافہ کیاہے۔خاص طور پر میں اپنے ان کرم فرماؤں و کہنہ مشق قلم کاروں مسرز قاضی مشتاق احمد، پروفیسر بیگ احساس، محترمہ رفیعہ منظور الامین، محترم منظور الامین، پروفیسر حبیب ضیاء نامور مزاح نگار یوسف ناظم، پروفیسر نسیم الدین فریس اور پروفیسر فضل اللہ مکرم کا مشکور و ممنون ہوں جنھوں نے مجھے اور میری تحریروں کو اس قابل سمجھا کہ اس پراپنی قیمتی رائے مضامین کی شکل میں دی جائے۔
محترمہ حبیب ضیاء صاحبہ نے اپنی پوری زندگی اُردو کی مختلف اشکال میں خدمت کی ہے۔ وہ برسوں ویمنس کالج کوٹھی حیدرآباد پر صدر شعبہ اُردو اور مختلف عہدوں پر فائز ہوکر اپنی طالبات کو پڑھاتی رہیں۔ اِن کے بہت سارے شاگروں نے ان کے فن پر اِن کی شخصیت پر اپنے تحقیقی مقالے پیش کرکے حیدرآباد کی مختلف یونیورسٹیوں سے ایم ۔فل اور پی ایچ ڈی کی پر وقار ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ اِنھوں نے پڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے قلم کے سفر کو بھی جاری رکھا۔ جس میں ایک طرف تو یہ اپنے تحقیقی کام کو جاری رکھے ہوئے تھیں اور دوسری جانب بحیثیت طنز و مزاح نگار قہقہوں کے گلوں کو کھلاتے ہوئے روتے بِسورتے اور مرجھائے ہوئے چہروں پر مسکراہٹیں لانے کا کارِ خیر کرتی ر ہیں۔ پروفیسر حبیب ضیاء کے تحقیقی کام کی بات کی جائے تو اِنھوں نے اپنا زیادہ تر تحقیقی کام مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ کے فن پر اُن کی شخصیت پر کیا ہے۔ جسے ہم اِن کا غیر معمولی کارنامہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس بہترین تحقیقی کام کے نتیجے میں ان کی اہم تصانیف دکنی زبان کی قوائد، مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ شاز نیاز ، گلدستہِ شاد اور نذرِ شاد زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ ان تمام تصانیف کو ہم اُردو ادب میں ایک غیر معمولی اِضافہ بھی کہہ سکتے ۔ ان تصانیف نے پروفیسر حبیب ضیاء کے ادبی قد کو مضبوط و مستحکم کیا ہے۔زندگی کے اتار چڑھاؤ اور نشیب وفراز میں بھی محترمہ حبیب ضاء کا قلم ثابت قدم رہا اور انھوں نے اپنی تصنیف ، مضامین نومیں اپنے ہمعصر مصنفوں و قلم کاروں سے متعلق سے جو مضامین لکھے ہیں اُنھیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حبیب ضیاء صاحبہ اپنے ہمعصر قلمکاروں کے تعلق سے اپنے دل میں کس قدر نرم گوشہ رکھتی ہیں۔اپنے مضامین میں اُنھوں نے اپنے ساتھی قلمکاروں کی دل کھول کر نہ صرف ستائش کی ہے بلکہ اُن کے ادبی کام کو اوراُن کی تحریروں کو سراہتے ہوئے اپنی تحریر کے ذریعہ اُنھیں بھرپور خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ اس سے بڑی اعلیٰ ظرفی اور وضعداری کیا ہوسکتی ہے۔ میری جب بھی ان سے ملاقات ہوئی میں نے اِن کی زبان سے اپنے ساتھی و ہم عصر ادیبوں کی ہمیشہ تعریف ہی سنی ہے اِنھوں نے اپنے دوستوں کے تعلق سے ایک لفظ بھی بُرا یا غلط نہیں کہا ، اِن کی اِ ن ہی خوبیوں و ثابت قدمی کی وجہہ سے راقم انھیں بڑے دل کی مصنفہ کا خطاب دینے پر مجبور ہے۔ بقول شاعر ؂
وفا خلوص محبت کو عام کرتا ہوں
کوئی کرے نہ کرے میں یہ کام کرتا ہوں
حبیب ضیاء نے اپنی تصنیف ’’ مضامین نو‘‘ میں جن ادبی شخصیات پر مضامین لکھے ہیں اُن میں ڈاکٹر زینت ساجدہ، پروفیسر عبدالقادر سروری، ڈاکٹر عبدالحفیظ قتیل ، سر محمد اقبال حیدرآباد اور فاطمہ عالم علی ، عظمت عبدالقیوم ، نسیم نیازی ، واجد ندیم، صالحہ الطاف، مرزا شکور بیگ، نسیمہ تراب الحسن شمیم علی، سید اکرام حسین ترمذی، عارف قریشی ، انجمن آرا بیگم، خیرات ندیم، آشا کرن، رشید الدین ، عوض سعید اور امجدؔ حیدرآبادی کے نام قابل ذکر ہیں۔یہ سارے ہی قلم کار حبیب ضیاء صاحبہ کے نہ صرف ہمعصر ہیں ، بلکہ یہ سبھی لوگ اِن کی بے حد عزت بھی کرتے ہیں(ان نامور ادبی ہستیوں میں چند آج بقید حیات نہیں ہیں)، اور ان کے بارے میں اپنی مثبت رائے رکھتے ہیں۔ دورِ حاضر میں ادبی دنیا تنگ نظر ی اورتعصب پسندی کا شکار نظر آتی ہے۔ لوگ مسکراکر ایک دوسرے سے ہاتھ تو ملاتے ہیں لیکن اپنے ساتھی قلم کاروں کے ادبی خدمات کی دل کھول کر نہ ستائش کرتے ہیں اور نہ ہی اُن کے فن کی مناسب انداز سے پذیرائی کرتے ہیں۔ ایسے گھٹن زدہ اور مخدوش ماحول میں جب حبیب ضیاء صاحبہ اپنے ساتھی قلمکاروں کے فن کی اُن کی شخصیت کی اپنی تحریروں کے ذریعہ ستائش کرتے ہوئے اُن کے ادبی کارناموں کو سراہتی ہیں تو پرھنے والوں کا جی خوش ہوجاتا ہے۔ راقم کی جب بھی ان سے ملاقات ہوئی وہ زیادہ تر سنجیدہ ہی نظر آئیں اُن کی گفتگو میں بھی مزاح کا عنصر بہت کم محسوس ہوا اس کی وجہہ یہ ہوسکتی ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز نے انھیں سنجیدہ بنا دیا ہو۔ لیکن اُنھوں نے اپنی تین طنز و مزاح سے بھرپور تصانیف گوئم مشکل ، انیس بیس اور جو مژگاں اُٹھایئے کا میں طنزو مزاح کابھر پور حق ادا کیا ہے۔راقم نے جب اُن تصانیف کا مطالعہ کیا تو پتہ چلا کہ اس خاموشی اور سنجیدگی کے پیچھے بلا کا مزاح اور غضب کا طنز موجود ہے۔ انھوں نے زیادہ تر اپنی مزاحیہ تصانیف میں سماج کی ، معاشرے کی اُس گندگی کو صاف کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ہمارا معاشرہ ہمار ا سماج واقف توہے لیکن توجہہ دینا نہیں چاہتااور ایسے حساس مسائل سے اپنا دامن بچانا چاہتا ہے ٹھیک اُسی طرح جب ریگستان میں طوفان آتا ہے تو شُتر مرغ اپنا مُنہ ریت کے اندر دھنسالیتے ہیں۔نامور مزاح نگار محترم یوسف ناظم محترمہ حبیب ضیاء کی ظرافت نگاری سے متعلق لکھتے ہیں ’’ حبیب ضیاء کی مزاح نگاری میں صبح سویرے چٹکلے والی کلیوں کا زیرِ لب تبسم اور سرِ شام دکھائی دینے والی شفق کی گلنار جھلک ان کے قاریوں کو مسرور و محظوظ کرکے اور ان سے داد تحسین حاصل کرنے میں کبھی نہیں چونکتی ‘‘ یوسف ناظم جیسے عظیم مزاح نگار کی رائے کسی بھی طنز و مزاح کے قلم کار کے لئے ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بات سے قطعی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ حبیب ضیاء نے تحقیقی میدان کے ساتھ ساتھ طنز و مزاح کے میدان میں بھی اپنی فنکاری اور مہارت کا لوہا منوالیا ہے۔ (2001) میں حبیب ضیاء صاحبہ کی آخری تصنیف ’’ جو مژگاں اُٹھایئے شائع ہوئی تھی۔ اس تصنیف کے بعد اِن کی دوسری تصانیف (تحقیقی ادب سے متعلق) منظرِ عام پر آئیں ہیں لیکن پچھلے (17) سالوں سے اُن کی کوئی طنزیہ و مزاحیہ تصنیف منظرِ عام پر نہیںآئی۔ طنز و مزاح کے قاری منتظر ہونگے کہ کب اِن کی طنزیہ و مزاحیہ تصنیف منظرِ عام پر آئے اور اُس کا مطالعہ کریں۔ حبیب ضیاء صاحبہ کوطنز و مزاح سے کسقدر دلچسپی ہے اس بات کا اندازہ اُنکی تصنیف’’ حیدرآبادکی طنز و مزاح نگار خواتین ‘‘سے لگایا جاسکتا ہے۔ اپنی اس تصنیف میں اُنھوں نے حیدرآباد کی طنز و مزاح نگار تقریباً سبھی خواتین کا ظریفانہ و شگفتہ تحریروں کا تذکرہ نہایت ہی دلچسپ انداز میں کیا ہے اِس تصنیف سے بہت سارے قاری جو حیدرآباد کی طنز و مزاح نگار خواتین سے واقف نہیں تھے، اُن کی معلومات میں یقیناً اضافہ ہوا ہوگا بہت سارے قاری اور وہ بعض ناموں پر چونک بھی پڑے ہونگے مثلاً محترمہ جیلانی بانو اورمحترمہ رفعیہ منظور الامین کے نام پر یہ دونوں ہی خواتین سنجیدہ ادب (فکشن رائیٹرہیں) کے لئے بین الاقوامی شہرت کی حامل ہیں۔پوری اُردو دنیا میں اِن دونوں کو اِن کی پختہ اوردلچسپ تحریرووں کے ذریعہ جانا جاتاہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ رفیعہ منظورالامین اورجیلانی بانو نے سنجیدہ ادب کے ساتھ ساتھ طنز ومزاح سے بھر پور تحریریں بھی لکھی ہیں۔ اس راز کو حبیب ضیاء صاحبہ نے طشتِ ازبام کردیا اپنی تصنیف کے ذریعہ۔ مضمون کے آخر میں میں ان کی تصنیف ’’ بڑے گھر کی بیٹی‘‘ ( خود نوشت) کا تذکرہ نہ کروں تو یقیناًتشنگی کا احساس ہوگا۔’’ بڑے گھر کی بیٹی ‘‘ اس کتاب میں حبیب ضیاء صاحبہ نے اپنی نجی زندگی کے اُن اوراق کو منظرِ عام پر لایا ہے جنہیں ان کے اور اُن کے خاندان والوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔ حالانکہ اس کتاب میں تما م باتیں نجی ہیں۔ لیکن اُنھوں نے جس خوبصورتی اور سلیقہ سے تمام باتوں کو ضبطِ تحریر میں لایا ہے اُنھیں پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تو ہر گھر کی کہانی ہے۔ کتاب کا عنوان ’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘ کو پڑھنے سے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مصنفہ نے خود کو برتر اور اہم بتلانے کی خاطر کتاب کا یہ عنوان رکھا ہوگا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بڑے گھر کی بیٹی کا خطاب اِ ن کی ساس صاحبہ نے انھیں دیا تھا۔ بعض بعض دفعہ گھرکے بزرگ غصّہ اور ناراضگی کے عالم میں ایسا کچھ کہہ جاتے ہیں کہ وہ ’’میل کا پتھر‘‘ ثابت ہوتا ہے۔ اورایسا ہی ہوا جب حبیب ضیاء صاحبہ کی خوش دامن صاحبہ نے انھیں ’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘ کے خطاب سے نوازا تو یہ عنوان اِن کی تصنیف کیلئے اسقدر موزوں و مناسب ثابت ہوا کہ یہ کتاب غیرمعمولی شہرت کی حامل بن گئی۔بقول حبیب ضیاء صاحبہ کے میرے پاس اس کتاب کا بس ایک نسخہ باقی رہ گیا ہے۔ ساری کتابیں یا تو فروخت ہوگئیں یا پھر تحفتاً لوگوں کو دی گئیں ہیں۔ اِس تصنیف کے تعلق سے بہت سارے نقادوں ، دانشوروں اور قلم کاروں نے بڑے ہی دلچسپ و پُر مغز مضامین لکھے ہیں جو حبیب ضیاء صاحبہ کی تازہ تصنیف ’’مضامین نو‘‘ میں موجود ہیں۔ اس تصنیف ’’ بڑے گھر کی بیٹی‘‘ سے متعلق ڈاکٹر حسن الدین حمد اپنے دلچسب مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’’ راقم الحروف اس خود نوشت سوانح کو اُردو کے بلند پایہ ادیب مرزا فرحت اللہ بیگ کی خودنوشت سوانح ’’میری داستان‘‘ کے مماثل قرار دیتا ہے۔ہر دو نے اپنی صلاحیتوں ، کوششوں اور کارناموں کا ذکر اس انداز میں کیا ہے جس سے نقلی اورخودستائی کا شائبہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر دو کے قلم کی عظمت اور حق گوئی کا جواحساس ہے اس کے پیش نظر بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ ہر دو نے اپنی زندگی کے حالات کو بلا کم و کاست بیان کیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر حسن الدین نے حبیب ضیاء صاحبہ کی خودنوشت سوانح کو عظیم ادیب مرزا فرحت اللہ بیگ کی خودنوشت ’’ میر ی داستان‘‘ کے مماثل قرار دیا ہے۔ اب اس سے بڑی اور کیا بات ہوسکتی ہے۔ اس سے زیادہ کسی تصنیف کی ستائیش اور کیا کی جاسکتی ہے۔ بہر حال یہ محترمہ حبیب ضیاء صاحبہ کی جادوئی تحریروں کا کمال ہے کہ انھیں اردو کی دونوں ہی صفتوں میں زبر دست کامیابی ملی ہے۔ اورآج بھی ان کی تحریروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مستقبل میں یقیناًان کی بہترین تصانیف منظرِ عام پر آئیں گی۔ ہم تو بس اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ کرے کہ زور قلم اور زیادہ۔ اپنی بات اس شعر پر ختم کرنا چاہونگا۔۔۔
چند یادوں کے دیتے، تھوڑی تمنا، کچھ خواب
زندگی تجھ سے زیادہ نہیں مانگا ہم نے