آنحضور ﷺ بحیثیت سربراہ خلافت الٰہیہ :- مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

آنحضور ﷺ بحیثیت سربراہ خلافت الٰہیہ

مفتی کلیم رحمانی
8329602318 Mob:

جس طرح آنحضور ﷺ اللہ کے رسول ہیں اسی طرح آپ ﷺ حکومتِ الٰہیہ کے سربراہ بھی تھے اور رسول ہونے کے ساتھ حکومتِ الٰہیہ کا سربراہ ہونا آپ ﷺ کی ایک اہم خصوصیت ہے جو کم ہی نبیوں کی زندگی میں نظر آتی ہے ، اور آپ ﷺ کی سیرت کو قیامت تک کے لئے تمام اہلِ ایمان کے لئے نمونہ قرار دیا جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ حکومتِ الٰہیہ کے سربراہ بھی تھے۔

کیوں کہ اسی کی سیرت اہلِ ایمان کے لئے نمونہ بن سکتی ہے جس میں حکومتِ الٰہیہ کی سربراہی بھی رہی ہو۔ لیکن آج مسلمانوں نے آنحضور ﷺ کی اس صفت کو ایسے بھُلا دیا گویا یہ صفت آپ ﷺ کی سیرت کا حصّہ ہی نہیں ہے۔ چنانچہ اس وقت بہت سے مسلمان حکومتِ الٰہیہ کے نام اور کام سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ستم ظریفی یہ کہ وہ مسلمان بھی حکومتِ الٰہیہ سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جو عشقِ رسول اور پیروئی رسول کے لمبے چوڑے دعوے کرتے ہیں ، جب کہ سچے عاشق رسول اور پیروں رسول حکومتِ الٰہیہ کے قیام و بقا کے لئے خون و پسینہ ایک کردیتے ہیں ، جس طرح صحابہ کرامؓ نے حکومتِ الٰہیہ کے قیام و بقا کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کردیا تھا۔
آنحضور ﷺ کی سیرت میں یہ بات بہت ہی نمایاں ہے کہ حکومتِ الٰہیہ کی سربراہی پر فائز ہونے کے بعد بھی آپ ﷺ کے تعلق باللہ میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوا، اور حقیقت میں حکومتِ الٰہیہ کے قیام و بقا کی کوشش ہی تعلق باللہ میں اضافہ کرنے والی چیز ہے اس کوشش کو چھوڑ کر صرف دوسرے اعمال میں تعلق باللہ کو تلاش کرنا شیطان کے دھوکہ کے سوا کچھ نہیں، دین کے دوسرے اعمال اسی وقت تعلق باللہ کا باعث بن سکتے ہیں جب کہ وہ حکومتِ الٰہیہ کی فکر و عمل کے ساتھ انجام دیے جائیں۔ لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ آج بہت سے مسلمان حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی کوشش کو تقویٰ و پرہیزگاری کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جب کہ آنحضور ﷺ سب سے بڑے متقی
ہونے کے ساتھ زندگی بھر حکومتِ الٰہیہ کے قیام کی کوشش میں لگے رہے ، اور دراصل یہی کوشش ایک مومن کو متقی بناتی ہے۔
یوں تو اللہ تعالیٰ نے پہلی ہی وحی میں آنحضور ﷺ کو حکومتِ الٰہیہ کے سربراہ کی حیثیت سے پیش کردیا تھا، اور آپ ﷺ نے بھی پہلی ہی دعوت میں اپنے آپ کو سربراہ کی حیثیت سے پیش کردیا تھا۔ لیکن چوں کہ دورِ مکّی میں کم ہی لوگوں نے آنحضور ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم کیا اس لئے دورِ مکیّ میں آپ ﷺ کی سربراہی کو غلبہ حاصل نہیں ہوا، تاہم یہ حقیقت ہے کہ دورِ مکّی میں جتنے بھی تھوڑے لوگوں نے آپ ﷺ کو اللہ کا رسول مانا وہ آپ ﷺ کو اپنا سیاسی سربراہ بھی مانتے تھے یہ نہیں تھا کہ آنحضور ﷺ کو اللہ کا رسول تو تسلیم کرتے تھے لیکن آپ کو سیاسی سربراہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اس لیے کہ کسی کو رسول ماننے کا لازمی تقاضہ یہ ہے کہ اس کو سیاسی سربراہ بھی مانا جائے، چاہے اس کی سربراہی کو غلبہ حاصل ہو یانہ ہو۔ دورِ مکّی میں چوں کہ آنحضور ﷺ کی سیاسی سربراہی کو غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا اور نہ حکومتِ الٰہیہ کا کوئی مرکز قائم ہواتھا۔ اس لئے آپ ﷺ کو دورِ مکّی میں سیاسی سربراہی کا کردار ادا کرنے کا زیادہ موقع نہیں ملا، لیکن جیسے ہی آپ ﷺ مکّہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے مدینہ پہنچتے ہی مدینہ حکومتِ الٰہیہ کا مرکز بن گیا اور آپْ ﷺ کی سیاسی سربراہی کو غلبہ حاصل ہونا شروع ہوگیا اور یہ غلبہ بڑھتا ہی گیا، یہاں تک دس سال کے اندر پورے عرب پر آپ ﷺ کی سیاسی سربراہی کا سکّہ قائم ہوگیا۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے سیاسی کردار کو قرآن و احادیث میں محفوظ فرمادیا، تاکہ اُمّت مسلمہ آپﷺ کے سیاسی کردار سے رہنمائی حاصل کرے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو دُنیا کی قیادت کے لئے پیدا کیا، اس لحاظ سے دُنیا کی قیادت اُمّت مسلمہ کا حق بھی ہے اور فریضہ بھی ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ اُمّت مسلمہ نے اپنا یہ حق و فریضہ بھلادیاجس کی بناء پر آج کافر و مشرک دنیا کی قیادت کررہے ہیں۔ اور المیہ یہ ہے کہ مسلمان ان کی قیادت سے نفرت و بیزاری کا اظہار کرنے کی بجائے ان سے محبت و عقیدت وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ مدینہ پہنچنے کے بعد آنحضور ﷺ نے بحیثیت سربراہ کے سب سے پہلے جو
کام انجام دیا وہ مسجدِ نبوی ﷺ کی تعمیر تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکومتِ الٰہیہ کے سربراہ کی اوّلین ذمّہ داری مساجد کی تعمیر ہے، کیوں کہ مساجد مسلمانوں میں دینی روح پھونکنے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔
سربراہ کی حیثیت سے آپ ﷺ نے دوسرا کام مسجد نبوی ﷺ سے بالکل متصل ایک سائبان قائم کیا، تاکہ اس میں ٹھہر کر مسلمان اپنی تعلیم و تربیت کرسکیں، اسلامی تاریخ میں اس سائبان کو صفہ کہا جاتا ہے، اور اس میں تعلیم پانے والوں کو اصحاب صفہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح سے سب سے پہلی اسلامی یونیورسٹی تھی اور اس میں تعلیم پانے والوں نے اسلام کے مختلف محاذوں پر قائدانہ رول انجام دیا۔ یہیں سے کوئی سپہ سالار بن کر نکلا تو کوئی قاضی القضاٰۃ بن کر نکلا تو کوئی دین کا مبلغ و معلم بن کر نکلا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ حکومتِ الٰہیہ کے سربراہ کی یہ بھی اہم ذمّہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا باضابطہ نظم کریں، جہاں سے دین کے مختلف میدانوں میں کام کرنے والے افراد تیار ہوں۔
سربراہ کی حیثیت سے آنحضور ﷺ نے تیسرا کام انصار و مہاجرین کے درمیان مواخات قائم کرکے انجام دیا۔ مواخات کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تاکہ مہاجرین صحابہ کو مدینہ میں بہتر ٹھکانہ مل سکے۔ چنانچہ انصار صحابہ نے اس رشتہ کو ایسے بحسن و خوبی نبھایا کہ انسانی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، اور مہاجرین نے بھی انصار کے اس جذبہ کی ایسی قدر کی کی اس کی بھی مثال نہیں ملتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی اسلامی ریاست میں مسلمان ہجرت کرکے آئیں تو ریاست کے سربراہ کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ ان کے رہنے اور کھانے کا انتظام کرے۔ لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ آج بہت سے مسلم سربراہان بے سر و سامان مہاجرین کے رہنے کھانے کا کوئی انتظام نہیں کرتے ، یہاں تک کہ انہیں اپنے ملک میں ٹھہرنے کی اجازت تک نہیں دیتے۔ آنحضور ﷺ نے سربراہ کی حیثیت سے چوتھا کام یہ کیا کہ مدینہ کے اطراف میں جو یہود کے قبیلے تھے ان سے معاہدے کیے تا کہ مدینہ کے اندرون کا نظام صحیح طور پر
چل سکے اور بیرون کے حملے سے مدینہ کی حفاظت ہوسکے۔ لیکن ان معاہدوں میں جو خاص بات تھی وہ یہ کہ اہلِ ایمان غالب فریق کی حیثیت سے تھے اور یہود مغلوب فریق کی حیثیت سے ، یہی وجہ ہے کہ جب ان یہود قبائل نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو آنحضور ﷺ نے کچھ کو قتل کردیا اور کچھ کو جلاوطن کردیا۔ بحیثیت سربراہ کے آنحضور ﷺ کا پانچواں کام حکومتِ الٰہیہ کے قیام و بقا کے لئے دشمنوں سے جنگ کرنا تھا۔ چنانچہ آنحضور ﷺ کے دس سالہ دور مدنی میں آپ ﷺ کی سربراہی میں چھوٹی بڑی تقریباً چھیاسی(۸۶) جنگیں ہوئیں، جن میں سے ستائیس(۲۷) جنگوں میں آپ ﷺ خود بفس نفیس شریک تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دینی سربراہ کا ایک اہم کام اسلام کے دشمنوں سے جنگ کرنا ہے۔ لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ آج اپنے آپ کو دینی سربراہ کہنے والے مسلمان ، دشمنانِ اسلام سے جنگ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے، اور جو اہلِ ایمان دشمنانِ اسلام سے جنگ کررہے ہیں انھیں بُرا بھلا کہتے ہیں۔ بحیثیت سربراہ کے آنحضور ﷺ کا چھٹا کام اللہ کے قوانین توڑنے والوں پر اسلامی سزاؤں کا جاری کرنا تھا۔ جیسے شادی شدہ زانی و زانیہ کو سنگسار کرنا، اور غیر شادی شدہ زانی و زانیہ کو سو (۱۰۰) کوڑے مارنا، جھوٹی تہمت لگانے والے کو اسّی (۸۰) کوڑے مارنا، چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹنا، اسی طرح شراب پینے والے کو دُرے لگانا، اور ناحق قاتلوں سے قصاص لیناہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی سزاؤں کا نفاذ ایک دینی فریضہ ہے۔ لیکن یہ افسوس کی بات ہے کہ آج مسلمانو ں کے ذہنوں سے اسلامی سزاؤں کا تصّور ہی نکل گیا۔
بحیثیت سربراہ کے آنحضور ﷺ کا ساتواں کام لوگوں کے مقدمات کو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصل کروانا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا یہ دینی فریضہ ہے کہ وہ ایسی عدالت قائم کریں ، جس میں مقدمات کا فیصلہ قرآن و حدیث کے مطابق ہو۔ لیکن یہ تعجب کی بات ہے کہ اس وقت بہت سے مسلمان اسلامی عدالتی نظام کو قائم کرنے کے بجائے باطل کے عدالتی نظام کو قائم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
بحیثیت سربراہ کے آنحضور ﷺ کا آٹھواں کام مسلم معاشرہ میں پنج وقتہ نمازوں کی ادائے گی کا نظام قائم کرنا تھا۔ چنانچہ دورِ نبوی میں کسی مسلمان کی یہ جراء ت نہیں تھی کہ وہ بلا عذر نماز چھوڑ سکے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلم معاشرہ میں پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کا نطام قائم کرنا مسلم سربراہان کی دینی ذمّہ داری ہے۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ اس وقت بیشتر مسلم سربراہان خود بھی نماز نہیں پڑھتے۔
بحیثیت سربراہ کے آنحضور ﷺ کا نواں کام مسلم معاشرہ میں زکوٰۃ کی ادائیگی کا نظام قائم کرنا تھا۔ چنانچہ دورِ نبی میں آنحضور ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے باضابطہ عامل مقرر کئے تھے جو زکوٰۃ وصول کرکے بیت المال میں لاکر جمع کرتے اور یہاں سے یہ زکوٰۃ مستحقین میں صرف کی جاتی۔
بحیثیت سربراہ کے آنحضور ﷺ کا دسواں کام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو انجام دینا تھا، یعنی بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے فریضہ کی انجام دہی کو اتنی اہمیت و اوّلیت دی تھی کہ آپ ﷺ کی پوری زندگی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پیکر نظر آتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم سربراہان کی یہ دینی ذمّہ داری ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو حکومت کی طاقت و قوت سے انجام دیں۔ لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ اس وقت بہت سے مسلم سربراہان بھلائی کا حکم دینے اور بُرائی سے روکنے کی بجائے ، بُرائی کا حکم دینے اور بھلائی سے روکنے میں لگے ہوئے ہیں۔
غرض یہ کہ آنحضور ﷺ کی پوری زندگی دنیا کی سربراہی و قیادت میں گزری ہے اور آپ ﷺ نے کبھی اللہ کے سوا کسی انسان کی محکومی و غلامی اختیار نہیں کی۔ اس لئے اُمّت مسلمہ کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ دُنیا کی سربراہی و قیادت کے لئے اُٹھ کھڑے ہو، اور دُنیا کے انسانوں کی محکومی و غلامی کا پھندا اپنی گردن سے نکال کر پھینک دے۔

جواب دیجئے