حیدرآبادی لٹریری فیسٹیول 2019 میں مذاکرے نمائش اور شعری نشست


حیدرآبادی لٹریری فیسٹیول 2019 میں مذاکرے نمائش اور شعری نشست
بارش کے باوجود سامعین کی کثیرتعداد‘کتابوں کی ریکارڈ فروخت

حیدرآباد لٹریری فیسٹیول کے آخری دن تلنگانہ ٹورازم پویلین اور کاروی پویلین میں مختلف موضوعات پرمذاکرے منعقدہوئے۔ ارود کی نمائندگی پروفیسر بیگ احساس نے کی۔

انہوں نے ’’لٹریری کلچر آ ف تلنگانہ‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں حصہ لیا۔ اس مذاکرے کی خصوصیت یہ تھی کہ تینوں فن کار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ تھے۔ لوسی مارگریٹ ( ساہتیہ اکاد می یواپُرسکار)‘پروفیسر بیگ احساس (ساہتیہ اکادمی یواپُرسکار) اور اشوک تُنکاسالہ(ساہتیہ اکادمی برائے ترجمہ) نے گفتگو کی۔ لوسی مارگریٹ نے اپنی شاعری کے بارے میں بتایاکہ وہ ایک کرسچن ہیں ‘کرسچنوں میں بھی دلتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک دلت لڑکی کے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ پروفیسر بیگ احساس نے کہا انہوں نے اپنے افسانوں میں حیدرآباد کی ملی جلی تہذیب کے ختم ہوجانے کے المیے کوپیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ شاہی دور میں بہت سی خرابیاں تھیں لیکن رواداری تھی۔ یہاں کے محلوں کے نام‘ زبان اور عمارتوں میں یہ مشترکہ تہذیب صاف دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی ایک کہانی کے حوالے سے کہاکہ ہندو مسلم مشترکہ بستیاں ختم ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کے لیے کہاجاتا ہے۔ جن لوگوں نے اپنے ملک میں رہنے کوترجیح دی وہ کسی او رملک کو کیوں جائیں۔ انہوں نے تلنگانہ تہذیب کی مثالیں پیش کیں جس کی سامعین نے گرم جوشی سے تائید کی۔ اشوک تنکاسالہ نے کہاکہ انہوں نے تیلگو لٹریچر اور تہذیب کو ترجمے کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچانے کا کام کیا۔ تلگو ادب کے کئی شاہکار انہوں نے انگریزی اور دوسری مغربی زبانوں میں ترجمہ کیے۔ سامعین نے مختلف سوالات کیے۔ پروفیسر وجئے کمار نے موڈریٹر کے فرائض عمدگی سے انجام دیئے اور تینوں فن کاروں کاتعارف پیش کیا۔ مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی نے مذاکرہ ’’کاروان کیفی‘‘ میں حصہ لیا اورکیفی اعظمی کی زندگی کے مختلف واقعات بیان کیے۔ سامعین کے اصرار پرانہوں نے اردو میں گفتگو کی اور مذاکرے کے آخر میں ایلا ارون کے ساتھ سرور ڈنڈا کی دکنی نظم ترنم سے پیش کی۔ انیتادیسائی نے موڈریٹر کے فرائض انجام دیئے۔ شبانہ اعظمی نے پروگرام ’’کاویہ دھارا‘‘ میں بھی حصہ لیا۔ ’’کاویہ دھارا‘‘ کے سارے عنوان اردو۔ھندی میں رکھے گئے جیسے ’’شروعات‘جوشِ حیدرآباد ‘مدھیہ انتر اور چراغِ حرف ‘‘وغیرہ ۔مشہورہندی ‘اردوشاعر حسین حیدری کی نظم’’ہندوستانی مسلمان‘‘ کو بے حدپسند کیاگیا ۔ اختتامی تقریب میں ملیکا سارا بھائی نے کہاکہ پانچ مسائل کا انتخاب کیجئے اورانہیں حل کرنے کے لیے اپنے علاقے کے ایم۔ ایل۔ اے سے اصرار کیجئے۔ انہوں نے کہاکہ سوشیل میڈیا سے فوائد توہوئے لیکن انسان حقیقی دنیا سے دور ہوگیا اور اس دنیا کوحقیقی سمجھنے لگا جودکھائی جارہی ہے۔ بارش کے باوجود شائقین کی کثیرتعداد نے شرکت کی اور بڑی تعداد میں کتابیں فروخت ہوئیں۔
—–
محسن خان
ای میل:
موبائیل:9397994441