ملک میں بڑھتا ہوا تعصب :- ظہیر احمد مصباحی

ظہیر احمد مصباحی

ملک میں بڑھتا ہوا تعصب

ظہیر احمد مصباحی
دہار گلون مہنڈر (پونچھ)جموں وکشمیر
فون نمبر 6005625723

ہندستان کی سر زمین دنیا کی واحد ایسی سر زمین ہے جہاں برسوں سے مختلف کلچر اور زبانیں بولنے والی قومیں آباد ہیں اور کئی مذاہب وادیان کے لوگ بستے ہیں ان سب کے باوجود ہندستان کئی سالوں سے اتحاد اور بھائی چارگی کا بے مثال ملک رہا ہے-

یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو لوگ قدر واحترام کی نظرسے دیکھتے ہیں ؛لیکن کچھ سالوں سے یہاں کی معطرفضا بدلی ہوئی نظرآرہی ہے ۔آج سے چند سال پہلے یہ کسی کے ذہن و گمان میں نہ تھا کہ ملک کے اتنے برے دن آ جائیں گے اور تعصب و نفرت کاماحول پروان چڑھے گا۔ مسلمان ہونے کی وجہ سے دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دے کر سزائے موت دی جائے گی ۔خاص طور پر شمالی ہند کی ریاستوں میں مسلمان عدم تحفظ اورتعصب کا شکارہیںیہ تعصب خواہ قوم ونسل کی بنیاد پر ہو یا ادیان و مذاہب کی بنیاد پریا پھر تہذیب وتمدن ہی کی بنیاد پر کیوں نہ ہو یہ ملک اور ملکی باشندوں کے حق میں نقصان کا باعث ہے دنیا کا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا اورنہ ہی کوئی تہذیب اسے پسند کرتی ہے غور طلب بات یہ ہے کہ یہ کھلے عام جمہوریت کا مزاق اڑایا جا رہا ہے جبکہ حق مساوات کے تحتRight to equality مذہب ونسل کی بنیاد پر امتیازی سلوک برتنے پر پابندی کی بات کہی گئی ہے اسی طرح آرٹیکل (۲۵) میں حق آزادی مذہب Right to freedom of religion کی بات اس طرح کہی گئی ہے کہ ملک کے ہر شہری کو آزادئ مذہب اور اس کی عبادت کا مکمل حق حاصل ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں حکومتی سطح پر ہر معاملے میں امتیاز برتا جارہا ہے ۔جو لوگ قانون و آئین کے محافظ کہلاتے ہیں وہی مذہب و دھرم کے نام پر اس کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں آئین ساز اسمبلی کے ذہن میں بھی نہ آیا ہو گا کہ ہمارا تشکیل دیا ہوا قانون تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا ۔.موجودہ حکومت اس طرح کے دل سوز واقعات پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے ملک کی موجودہ سنگین صورت حال اور عدم تحفظ جیسے واقعات سے متاثر ہو کر سابق نائب صدر جمہوریہ ڈاکٹر حامد انصاری کو اپنی الوداعی تقریب میں یہ کہنا پڑا تھا کہ’’ ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کا احساس جا گزیں ہے‘‘ ڈاکٹر حامد انصاری کے اس اظہار تشویش پر حکومت کوچاہئے تھا کہ تحفظ کا یقین دلائے ۔ لیکن حامد انصاری پر بے جا تنقیدیں اور تبصرے ہونے لگے ،اس ملک کے حالات اس سے زیادہ اور کیاخراب ہو سکتے ہیں کہ جہاں کے ناہب صدر جمہوریہ کو عدم تحفظ اور عدم رواداری کو لے کر اظہا ر تشویش کرنا پڑے،ان حالات کے پیش نظر ایسا لگتا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میںیہاں کے حالات ملک کے حق میں بہتر نہیں ہوں گے تین طلاق کا مسئلہ جو کہ شرعی واسلامی ہے وہ بھی تعصب اورنفرت کی نظر ہو گیا ۔سپریم کورٹ نے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا اور چھ ماہ کے لیے اس پر پابندی عائد کر کے حکومت کو قانون بنانے کی پیش کش کی ۔یقیناًایسے حالات ملک کی سا لمیت کے لیے خطرہ ہیں ۔ ملک جہاں معاشی اور بے روز گاری کے لہاظ سے پسماندگی کی طرف جارہا ہے ۔حکومت اس سے غیر متفکرہو کر اپنا سیاسی سکہ چمکانے میں مشغول ہے الیکشن قریب آتے ہی مذہبی مقامات سے کھلواڑ کی کوشش عروج پر ہوتی ہے حکومت کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی برابر کا ذمہ دار ہے جو حقائق سے چشم پوشی کر رہا ہے ایسے وقت میں ﷲہی مدد گار ہے ۔
ایک ہنگامۂ محشر ہو تو اس کو بھولوں
سینکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتاہے

جواب دیجئے