خلافت الٰہیہ ایک نعمت :- مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

خلافت الٰہیہ ایک نعمت

مفتی کلیم رحمانی
8329602318 Mob:

اس دُنیا میں اللہ کی جو نعمتیں ہیں ان میں سے ایک نعمت حکومت ہے، یہ بات اور ہے کہ کچھ لوگ یہ نعمت پانے کے بعد اس کا غلط استعمال کرتے ہیں، لیکن جو مومن ہوتے ہیں اس کا صحیح استعمال کرتے ہیں، اس نعمت کا صحیح استعمال یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ کے دین کو غالب کیا جائے اور باطل ادیان کو مغلوب کیا جائے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنی جن اہم نعمتوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک نعمت حکومت ہے ، چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
واِقَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یا قَوْمِ اذْ کُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَےْکُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْ کّمْ اَنْبِےَآءَ وَ جَعَلَکُمْ مُلُوْکاً وَ اٰتٰا کُمْ مَالَمْ ےُوْتِ اَحَدًا مِنَ الْعٰلَمِےْنَ ۰
(سورۃ المائدہ: ۲۰)
’’ اور جب کہا موسی ؑ نے اپنی قوم سے اے قوم ! یاد کرو اللہ کی نعمت جو تم پر ہے جب کہ اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ دیا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں دیا۔‘‘
مذکورہ آیت میں حضرت موسیؑ نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اللہ کی جن کی نعمتوں کے یاد کرنے کا حکم دیا ان میں سے ایک نعمت بادشاہت ہے۔ اس نعمت کی اہمیت کو علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ان الفاظ میں واضح کیا :
’’ اس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کی بری نعمت حکومت و سلطنت اور دُنیا کی سیاست ہے یہاں تک کہ کتاب اور نبوت کی دولت کے بعد اسی کا درجہ ہے۔ ‘‘ ( سیرت النبی جلد ہفتم صفحہ ۱۹)
سورہ یوسف کی آیت سے بھی حکومت کا نعمت ہونا واضح ہوتا ہے ۔ چنانچہ ارشاد ربّانی ہے:
وَکَذَالِکَ مَکَّنَّا لِےُوْسُفَ فِیْ الْاَرضِ ےَتَبَوَّأُمِنْھَا حَےْثُ ےَشَآءُ نُصِےْبُ بِرَحْمَتَناَ مَنْ نَشَآءُ وَلاَ نُضِےْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِےْنَ ( سورۃ الیوسف : ۵۶ )
’’ اور اسی طرح ہم نے حکومت دی یوسف کو زمین میں ، وہ جیسا چاہتے تصّرف کرتے ، ہم پہنچاتے ہیں ہماری رحمت جسے چاہتے ہیں اور ہم بھلائی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے ۔‘‘
اسی طرح قرآن میں حضرت سلیمان ؑ کی جو دعا بیان کی گئی ہے اس سے بھی حکومت کا ایک نعمت ہونا واضح ہوتا ہے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے :
قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَھَبْ لِیْ مُلْکاً لَّا یَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ م بَعْدِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّبُ (سورہ ص : ۳۵) ’’ حضرت (سلیمان ؑ نے )کہا اے رب! مجھ کو معاف کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کو نہ ملے بے شک تو سب کچھ دینے والا ہے۔‘‘
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمانؑ کی یہ دعا قبول فرمائی اور آپؑ کو ایسی عظیم بادشاہی عطا فرمائی جو آپؑ کے بعد کسی کو نہیں ملی ، یہاں تک کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جنوں اور چرند پرند پر بھی آپؑ کا حکم چلتا تھا۔
حضرت سلیمان ؑ کی مذکورہ دعا سے معلوم ہوا کہ حکومت کی دعا و طلب کوئی بری چیز نہیں ہے، اگر حکومت کی دعا و طلب بری چیز ہوتی تو اللہ کے نبیؑ حضرت سلیمانؑ اس کی دعا کیوں کرتے؟ اور اللہ آپؑ کی دعا کیوں قبول فرماتا ؟
البتہ غیر اسلامی حکومت کی دعا و طلب نہ صرف بری چیز ہے بلکہ بہت ہی بری چیز ہے، لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ آج کچھ مسلمان غیر اسلامی حکومت کی دعا و طلب کو برا نہیں سمجھتے ، لیکن اسلامی حکومت کی دعا و طلب کو برا سمجھتے ہیں۔
قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حکومت کو نعمت و احسان سے تعبیر فرمایا ان میں چند آیات ملاحظہ ہوں : یٰدَاو‘دُ اِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْاَرضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْعَدْلِ (ص : ۲۶) ’’اے داؤد ! ہم نے تجھ کو زمین میں خلیفہ بنایا پس تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ حکومت کر۔‘‘
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ؑ کی حکومت کے متعلق ارشاد فرمایا : وَشَدَدْنَا مُلْکَہ‘ وَاٰتَیْنَاہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ (ص : ۲۰) ’’ اور ہم نے قوت دی اس کی حکومت کو اور ہم نے دیا اسے حکمت اور فیصلہ کن بات کرنے کا سلیقہ ۔ ‘‘
بنی اسرائیل پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ کُمْ خَلٰٓءِفَ الْاَرْضِ (سورہ انعام : ۱۶۵) ’’اور اسی نے تم کو بنایا زمین کے خلیفہ۔‘‘
حضرت ہود ؑ نے اپنی قوم عاد کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا :
وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّزَادَکُمْ فِیْ الْخَلْقِ بَصْطَۃً (سورہ اعراف: ۶۹) ’’اور یاد کرو جب کہ اس نے تم کو سردار بنایا نوح کی قوم کے بعد اور زیادہ کردیا تمہارے بدن کا پھیلاؤ۔‘‘
حضرت صالح ؑ نے اپنی قوم ثمود کو اللہ کی نعمتیں یاد دلاتے ہوئے فرمایا :
وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءُ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّاَکُمْ فِیْ الْاَرْضِ(اعراف : ۷۴) ’’اور یاد کرو جب کہ اس نے تم کو سردار بنایا عاد کے بعد اور تم کو ٹھکانا دیا زمین میں۔‘‘
ذوالقرنین بادشاہ پر اپنی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اِنَّا مَکَّنَّا لَہ‘ فِیْ الْاَرْضِ وَاٰتَیْنَاہ‘ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ سَبَباً (کھف : ۸۴)
’’بے شک ہم نے دیا اس کیلئے زمین میں حکومت اور دیا اس کو ہر چیز کا سامان۔‘‘
اسی طرح مہاجرین صحابہؓ کی تعریف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنَا ھُمْ فِیْ الْاَرْضِ اَقَامُوْا الَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاٰمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ۔ (سورۃ الحج : ۴۱)
’’ اگر ہم ان کو زمین میں حکومت دیں تو وہ نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ دیں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے، اور انجام کار اللہ ہی کے لیے ہے۔ ‘‘
چنانچہ مذکورہ آیت میں دی گئی خبر بہت جلد پوری ہوئی اور جن صحابہؓ کو ایمان کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکال دیا گیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسی ایمان کی بدولت انہیں ایسا اقتدار عطا کیا کہ چند ہی سالوں میں بڑے بڑے بادشاہوں کے تخت و تاج ان کی ٹھوکروں میں تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مقام تک پہنچنے میں ہزاروں صحابہؓ کو اپنا خون و پسینہ بہانا پڑا۔ لیکن یہ حقیقت کسی
کو فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ خون و پسینہ غلبہ دین کے راستہ کا توشہ ہے اور اس توشہ کے بغیر اس راستہ پر ایک قدم بھی نہیں رکھا جاسکتا۔ جو لوگ خون و پسینہ کے بغیر غلبہ دین کا خواب دیکھتے ہیں دراصل وہ خواب ہی کی دنیا میں رہنا چاہتے ہیں اور حقیقت سے کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہتے۔
مذکورہ آیت سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ حکومت اور اقامت صلوۃ ، ایتائے زکوۃ، امر بالمعروف نہی عن المنکر میں بہت گہرا تعلق ہے ، کیوں کہ مذکورہ اعمال کی ادائیگی کو اللہ تعالیٰ نے حکومت سے متعلق کرکے بیان فرمایا ، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مذکورہ اعمال پر مکمل عمل حکومت کے بعد ہی ہوسکتا ہے ، حکومت کے بغیر کچھ مسلمان نماز و زکوٰۃ ادا کرسکتے ہیں اور کررہے ہیں ، لیکن پورے مسلمانوں میں نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی کا مکمل نظام حکومت کے ذریعہ ہی قائم کیا جاسکتا ہے، اس سلسلہ میں ہندوستان ہی مثال کو لے لیجیے ایک محتاط اندازہ کے مطابق اس وقت صرف دس فیصد مسلمان نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی پر عمل پیرا ہیں ، جب کہ اس ملک میں برسوں سے مسلمانوں میں صرف نماز کی ادائیگی کے لیے مستقل ایک تحریک چل رہی ہے۔ اسی طرح امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ حکومت کے ذریعہ ہی انجام دیا جاسکتا ہے ، حکومت کے بغیر لوگوں کے سامنے معروف و منکر کو بیان تو کیا جاسکتا ہے یا معروف کے اختیار کرنے اور منکر سے بچنے کی تلقین کی جاسکتی ہے ، لیکن معروف کا حکم دینے اور منکر سے روکنے کے لیے بہرحال حکومت کی قوت ضروری ہے۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ انسانوں پر اللہ کی جو نعمتیں ہیں ان کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ جس کا تعلق انسانوں کی تخلیق سے ہے جیسے مرد، عورت، دل ، دماغ، ہاتھ پیر، کالا، گورا، وغیرہ۔ اور دوسری قسم وہ ہے جس کا تعلق ضروریاتِ زندگی سے ہے جیسے کھانا، پینا، اُٹھنا، بیٹھنا وغیرہ۔ تو جن نعمتوں کا تعلق تخلیق سے ہے تو ان میں انسان کے ارادہ و عمل کا کوئی دخل نہیں ہے۔ لیکن جن نعمتوں کا تعلق ضروریاتِ زندگی سے ہے ان کے حصول میں انسان کے ارادہ و عمل کا بھی دخل ہے ، اور حکومتِ اللہ کی وہ نعمت ہے جس کا تعلق ضروریاتِ زندگی سے ہے، اس لئے اُس کے قیام و بقا میں انسان کے ارادہ و عمل کا بھی دخل ہے ، اور اس میں بھی بطور خاص حکومتِ الٰہیہ ایسی چیز ہے جو اہلِ ایمان کی
کوشش کے بغیر نہ قائم ہوتی ہے اور نہ باقی رہتی ہے۔
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ حکومتِ الٰہیہ اگرچہ اللہ کی ایک نعمت ہے لیکن اس کے حصول کے لئے اہلِ ایمان کو جدوجہد کرنا ضروری ہے، بغیر جدوجہد کے یہ نعمت حاصل نہیں ہوسکتی۔
لیکن یہ المیہ ہی ہے کہ آج بہت سے مسلمان حکومت الٰہیہ کے متعلق یہ تصّور رکھتے ہیں کہ وہ بغیر کوشش کے خود بخود حاصل ہونے والی چیز ہے، یا بغیر چاہے کے اللہ خود بخود عطا کردے گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتِ الٰہیہ کے قیام و بقا میں ضرور اللہ کے فیصلہ کا بھی دخل ہے لیکن اس میں اللہ کا فیصلہ بھی تب ہی شاملِ حال ہوتا ہے جب کہ ایمان والے اس کے قیام و بقا کی کوشش کریں۔ اس اُصول کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں مختلف انداز میں بیان فرمایا ،
ایک جگہ فرمایا :
اِنْ تَنْصُرُوْا اللّٰہَ ےَنْصُرُکُمْ
’’ یعنی اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا۔ ‘‘
اور اللہ کی مدد یہ ہے کہ اس کے دین کو دنیا میں غالب کرنے کی کوشش کرے۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اِنَّ اللّٰہَ لاَ ےُغَیَّرُمَا بِقَوْمِٖ حَتّٰی ےُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ ( سورہ رعد : ۱۱)
’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل لیں۔ ‘‘