انشائیہ – آنکھوں کا نور :- جمشید احمد میاں

جمشید احمد میاں

انشائیہ
آنکھوں کا نور

جمشید احمد میاں
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر۔

نور کی ایک کرن اندھیروں کو چیر دیتی ہے لیکن یہاں تو سارا مہتاب ہی آنکھوں میں بسا کر خدا نے اپنے نور کو عام کر دیا۔ظاہر ہے جو نعمت جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی عام،خدا نے اپنے دست قدرت سے اس ارض و سما کی میزان میں ہر شئے بے خلل اور بے مثال پیدا کر دی،قدرت کی نعمتیں نہ گنی جائے گئی نہ انکا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح یہ آنکھوں کی نعمت دست قدرت کی دلیل ہے۔سارے جہاں کا حسن ان آنکھوں میں سمانے کی قدرت اللہ کی شان ہیں۔یہ زمین و آسمان کا حسن ،چاند تاروں کے حسن کی میزان،شمس و قمرکا نور،پہاڑ دریا، سمندر کوہ و بیا بان کا دلفریب عکس،سر سبز وادیاں یہ ریگستان،برفیلی اونچی چوٹیاں،ہر مخلوق کا الگ الگ نقش و نگار ،پھولوں کی حسین تصویریں،انسانوں کے جدا گانہ رنگ و روپ جن پر نہ جانے کتنے ہی عقلمند انسان پروانوں کی طرح مٹ گئے ،ان تمام چیزوں کا دلفریب حسن ان آنکھوں کے نور کی دلیل ہے۔
آنکھوں کا صحیح استعمال کمال زندگی ہے اور آنکھوں کا غلط استعمال نکھرتے پھول کو بکھرا دے ۔یہ آنکھیں زندگی کے درخت کو غذا فراہم کرتے ہیں یہ وہ راستہ ہے جو علم و ادب کا خزانہ بھی بن سکتا اور ظلم و اندھیروں کا ٹھکانہ بھی،ذہن کو بنانے یا بگاڑنے کا زریعہ ،انسان کے نیک و بدکی کنجی یہ آنکھیں ہی تو ہیں،جن انسان ان آنکھوں کا غلط استعمال کرتا ہے تو اندر بھی ویرانی بر آتی ہے،یہ دل کو شاد بھی کر سکتی ہے اور خستہ بھی۔قدرت کا قانون یہی ہے جو نعمت بے قدر ہو جاتی ہے چھین لی جاتی ہے اور بدلے میں سزا دی جاتی ہے،پھر آنکھیں نور کی منزل سے اتر کرروشنی تک محدود رہ جاتی ہیں،یہ آنکھیں دیکھ تو لیتی ہیں لیکن نور کی نظرسے نہیں بلکہ بینا ہو کر بھی اندھی،ان پر مہر لگ جاتی ہیں،یہ حق بات تسلیم نہیں کرتی،یہاں نہ حیا باقی رہ جاتی ہے نہ شرم۔نظر کی ندامت خارج ہو جاتی ہے،یہ آنکھوں کی آوارگی بہت بڑی آوارگی ہیں۔دلوں کو تباہ کرنے کے لئے اس سے زیادہ خوفناک کوئی نہیں۔ان کے غلط استعمال سے جو زہر اندرجاتا ہے اس کا دریا کوئی نہیں،آنکھوں میں حیا کا سرمہ لگا کر دل کو روشن کرنے کے لئے اس پردے کو جھکانے سے زیادہ کوئی چیز نہیں،جس کی نظر نیچی ہوتی ہے پوری دنیا کے شیاطین مل کر اسے گمراہ نہیں کر سکتے اور جس کی نظراٹھ جاتی ہے پوری دنیا کے خدا دوست اس کے دل کو پانی نہیں لگا سکتے۔نظروں کو جھکانے سے جو طاقت اندر جاتی ہیں کوئی ہتھیار اسے تباہ نہیں کر سکتی،یہ ایسی طاقت بن جاتی ہیں کہ انسان کو عرش تک پہنچا دیتی ہے،فرشتوں کو اس کے قدموں میں جھکا دیتے ہیں،یہ ایسا نور ہے جب تمہاری آنکھ بند ہوتی ہے تو اللہ کی قسم سورج اور چاند کا نور بھی تمہارے آگئے شر ما جائے،یہ وہ نورہے جو جوانی کو داغ نہیں لگنے دیتا۔شباب کی خوبصورت آنکھوں کو بڑھاپا کھا سکتاہے۔دنیا کے حسن کی دلیل یہی ہیں کہ ہر نکھرتا پھول ایک دن بکھر جاتا ہے۔لیکن خدا کی شکر گزار آنکھیں نور کی منزل سے گزر کر ایک دائمی حسن کا روپ لیتے ہیں جو کبھی زوال کا شکار نہیں ہوتی،ا ن آنکھوں کی غزا خدا کی چاہ جو بن گئی تھی اب کیسے مٹ جائے گئی،اور حق بات یہ ہے کہ ان کا مقام نبی کے غلاموں میں لکھ دیا جاتا ہے،یہ نسبت جا کے نبی پاک سے مل جاتی ہے۔خداکے نور کی ایک کرن پہاڑپر پڑی تو سوختہ ہو گیا۔لیکن قربان جاؤں نبی پاک پرخدا کا سارا نورخود میں سما گئے۔ایسے حسن کے نسبت والوں کے نصیب میں آ نکھوں کا حسن نہ ہو تو کیاہو!ایسی نسبت جو جنت میں تھام کے لے جائے اور یہ سفر آنکھوں کے نور سے جا کر آنکھوں کا حسن بن جاتا ہے۔گر یہ آنکھیں بھٹک جائیں،خدا کے حکم کو چیر دے،ممانعت کو بھی خود پر حلال کر دے،ساری گندگی اپنے دل و روح میں اتار کر اپنی زندگی و آخرت کوویراں کر دے اور اپنی ساری زندگی کے اعمال کو غلاظت کا ڑھیر بنا کر شیطان کی نسبت اختیار کر دے تو آکر یہ منزل جہنم سے ہی ملے گی۔یہ پر ہیز ،شرم و حیا،خدا کا ڑر،آنکھوں کی روک ٹوک،پرہیز گاری کے عالم میں اوروں سے کٹ جانا،خدا کی یاد میں برسنا،دین حق کی کتابوں پر نظریں تھرتی جانا،خدا کی ہر آزمائش کے درد کو سہ جانا،خدا کے شوق اور خدا کے ذوق میں رو پڑنا ہی ندامت کی نمی،ان آنکھوں کے نور کا گزا بن ہے۔جس طرہر برائی آنکھ سے شروع ہوتی ہے اسی طرح ہر اچھائی بھی وارث بنا دے۔یقینی طور پر ہر راز بے پردہ ہو جاتا ہے۔ایسی ہی بات ہے ان آنکھوں کے نور کی،ان آنکھوں کی وسعت کرامات و معجزات کی مثال بن جاتی ہیں،یہ وہ آنکھں بن جاتی ہیں جو بند چشموں سے فلک تک پہنچ جاتی ہے،ایسے حسن والے ہزاروں میں ایک کہاں،یہ وہ حسن ہے جو خدا کے نور سے دیکھتی ہیں جو اپنے نظر کی قوت سے دل تک اتر جاتی ہے۔وہ نور جو روحانیت کا جام پی پی کر نکھر آتی ہے وہ نور جو خدا کے اٹھتے آزمایش کے درد کو سہ جاتی ہیں۔یہ آنکھوں کا نور آگ میں ابراہیم کو جلا نہ سکی۔ان آنکھوں کے نور کی خیانت سے قومیں مٹ گئی،نسلوں کی نسلیں ویراں ہو گئی،تاریخ گواہ ہے،پست وخوار ہو کر رسوا ہو گئی،وہی اس نور کی نعمت کے محافظ عظمتوں کا تاج پہن کر بلند مقام پا گئے،خدا کی رضا اور نارضگی ان آنکھوں کا کرم ہے۔خدا کے ڈر سے آنکھ کا اک قطرہ گرنا،اپنے گناہوں پر ندامت کی نمی،آسمان کی چھت سے لگے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں۔اللہ تعالی نے مفت میںآنکھوں کے نور کی انمول نعمت عطا کی کبھی اس پر منت ظاہر بھی نہ کی،بس اتنا بتا دیاان سے وہ دیکھ جو میں چاہتا ہوں،وہ مت دیکھ جو میں نہیں چاہتا۔اس لئے یہ بات غور و فکر کا مقام رکھتی ہے-