میرے محسن میرے مربی :- محمد سرفراز صابری

محمد سرفراز صابری

میرے محسن میرے مربی

محمد سرفراز صابری
پرنسپل’ الجامعۃ العلیمیۃ الاسلامیۃ

جن لوگوں کو آپ کی ہم جلیسی اور کلام کا شرف حاصل ہے وہ آپ کی عادات حسنہ سے بخوبی واقف ہیں اور اس بات کی تائیدوتوثیق کریں گے کہ آپ کی زبان پُرتاثیر اور لہجہ شیریں سے کبھی کسی کی کوئی برائی نہیں سنی۔نہ آپ خود کسی کی برائی کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی برائی وغیبت سنتے ہیں ۔آپ ہمیشہ Positive کو اختیار کرنے اور Negative کو ترک کرنے کا درس دیاکرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ پوزیٹو Positive جہاں سے بھی ملے لے لو اور نیگیٹو Negative سے دور رہو۔

وَعِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ہَوْناً وَإِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُونَ قَالُوا سَلَاماً (الفرقان:٦٣)ترجمہ: اللہ کے بندے زمین پر بڑی آہستگی سے چلتے ہیں ، ان میں عاجزی اورانکساری ہوتی ہے ۔ جب جاہل ان سے بات کرتے ہیں تو وہ ان کو دور سے سلام کردیتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے جب ختم نبوت کا اعلان فرمایا کہ ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین” تو ساتھ ہی اپنے حبیب مکرم حضرت محمد مصطفی کی زبان حق ترجمان سے یہ اعلان بھی کرادیا کہ ”ان العلمآء ورثۃ الانبیآء”ترجمہ: بے شک علماء انبیائے کرام کے وارث ہیں ۔یعنی کہ اب تبلیغ دین اور دعوت وارشاد کی ذمہ داری انبیاء علیہم السلام کے وارثین ونائبین پر ہے۔ اب احیاء دین کا عمل بجائے انبیآء علیہم السلام کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی کی امت کے صلحاء اورعلماء کیاکریں گے ۔ یہی مضمون ایک اور حدیث میں اس سے بھی زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے ”علماء امتی کأنبیاء بنی اسرائیل” میری امت کے علماء ربانیین عملاً انبیآء بنی اسرائیل کے مشابہ ہیں یعنی ان علماء و صلحاء کی عملی زندگی انبیاء کی زندگیوں کا پر تو اور عکس ہے۔ رجال اللہ کی یہ جماعت کارنبوت کی انجام دہی پر بطور تکوین مامور ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حمایت و نگرانی میں اپنے فرائض انجام دیتی ہے اور قیامت تک دیتی رہے گی ۔ یہ اپنی جرأت و ہمت اور عزم و استقلال میں انبیآء کی آئینہ دار ہوتی ہے یہ اسلام دشمن طاقتوں پر اس قدر بھاری ہوتے ہیں کہ بڑی سے بڑی قوت و شوکت ان کے پائے استقلال میں ذرا سی جنبش بھی پیدانہیں کرسکتی اور بڑے سکون وتندہی کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہتے ہیں۔ انہی عظیم ہستیوں میں سے ایک ہستی میرے پسندیدہ،محبوب،ہردلعزیز اور ممدوح استاذ العلماء والمحققین جناب استاذی المکرم ابو فہیم محمد انوار اللہ خان صاحب دام ظلہ شیخ التفسیر والحدیث پرنسپل و ڈائریکٹر انچارج الجامعہ العلیمیہ الاسلامیہ کی ذات والا صفا ت ہے۔جن کے بارے میں پچیس سالہ مشاہدات وتاثرات یہاں نقل کروں گا۔
آپ نہایت مخلص اورملنسار انسان ہیں اور اپنے کام کے بہت دھنی ہیں ۔ بلا امتیاز قرابت داری وتعلق کسی کے کام آنااور اللہ کے بندوں کی خدمت کرنا کتنا بڑااعزازو شرف ہے۔ اس کا ایک بڑا انعام یہ بھی ہے کہ ایسا شخص دوسروں کی ناگوار اورمکروہات کو درخوراعتناء نہیں سمجھتا اور اپنے مقصد سے غافل نہیں ہوتا۔یہ خوبی بھی آپ میں بدرجہ اتم ہے کہ آپ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی وجہ سے اپنے کارخیر سے دلبرداشتہ نہیں ہوتے بلکہ مزید لگن ومحنت سے اپنے کام مصروف ہوجاتے ہیں اورہمہ وقت اپنے مقصد پر نظر رکھتے ہیں ۔
آپ خوش طبع،خوش اخلاق،خوش مذاق، ظریف اوربذلہ سنج ہیں زندگی اور حرارت آپ کی مجلس کا طرہ امتیاز ہے ، اخلاق واخلاص ،علم و حلم، خدمت انسانیت، کردارکی پاکیزگی ، بصیرت دین ، اصابت فکری ، مستقبل شناسی ، دوراندیشی، بالغ نظری ، سرفرازی ، اعلیٰ ظرفی وبلند خیالی ، حق گوئی و بے باکی، حق آگاہی ، صفتِ درویشی ، علم نوازی ، روشن دماغی،مستقل مزاجی اور احساس قلب جیسی انگنت ونایاب صفات کے مالک ہیں ۔ آپ صورت و سیرت اورظاہر وباطن میں بلندپایہ اسلاف کا نمونہ ہیں ۔ دردمندوں، غمگساروں اور عشق مصطفی کے داعیوں کے لئے مشعل راہ ہیں ۔ دینِ اسلام کے پرجوش ،حاضر دماغ اور باہوش، صاحب بصیرت، دانشور مبلغ ہیں ، آسمانِ علم و حکمت کے کوکب درخشاں اوربدرمنیر ہیں ، گم کردہ راہ نوجوانوں کے لئے مشعل اورچراغِ راہ ہیں ، علیمیہ کافخر اور اس کے فاضلین کے سرکاتاج ہیں ۔ ڈاکٹر انصاری علیہ الرحمۃکی دعاؤں اورشفقتوں کی بہار ہیں اور فیڈریشن کے ہر فرد کے نورِ نظر ہیں ۔ اداروں میں شاذونادر ہی کسی کو یہ مقام حاصل ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطافرمایا ہے۔
آپ تعصب سے بالکل پاک ہیں اور کبھی مذہبی ومسلکی تفریق کے الجھاؤ میں گرفتارنہیں ہوتے۔ سچ اور عمدہ بات سنتے ہیں تو اس کی قدر اور تعریف فرماتے ہیں ،خواہ کسی نے بھی کہی ہو اورالحکمۃ ضالۃ المؤمن(حکمت و دانائی مومن کی گمشدہ میراث ہے) کے ارشاد کے تحت اس کوقبول فرماتے ہیں ۔
استاذی مکرم کی پوری زندگی اعتدال پر مبنی ہے آپ کبھی بھی افراط وتفریط کا شکار نہیں ہوئے۔ ہمیشہ اعتدال کو قائم رکھا اور اپنے طلباء کو بھی ہمیشہ راہ اعتدال اختیار کرنے اور اس پر چلنے کی تلقین فرمائی۔آپ کے نزدیک افراط وتفریط دونوں ہلاکت وبربادی کا باعث ہیں ۔اس ہلاکت سے بچنے اور محفوظ رہنے کاواحد حل صرف اعتدال اور توسط ہی کی راہ اپنانے میں ہے۔ بقول شاعر
نہ تفریط بہتر نہ افراط اچھی
توسط کے درجہ میں ہر بات اچھی
میں نے طالب علمی کی زندگی اور بعد میں آپ کے زیر سایہ تدریس کے دوران کبھی بھی استاذ صاحب کو متعصب نہیں پایا۔ دوران تدریس یا عام گفتگو میں جب کبھی بھی کسی عالم دین کا نام لیا بڑے ادب و احترام سے نام لیا خواہ اس کا تعلق کسی بھی مسلک یا فرقہ سے ہو۔آپ کے نزدیک فرقہ واریت اور مسلکی تعصب اس امت کے لئے زہر قاتل ہیں ۔ جس کا کوئی تریاق نہیں ۔یہ اسلام دشمن عناصر کی سوچی سمجھی سازش ہے جس کا ہم شکار ہیں۔
جن لوگوں کو آپ کی ہم جلیسی اورکلام کا شرف حاصل ہے وہ آپ کی ان عادات حسنہ سے بخوبی واقف ہیں اور اس بات کی تائیدوتوثیق کریں گے کہ آپ کی زبان پُرتاثیر اور لہجہ شیریں سے کبھی کسی کی کوئی برائی نہیں سنی۔نہ آپ خود کسی کی برائی کرتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی برائی وغیبت سنتے ہیں ۔ آپ اس بات کے قائل ہیں کہ اپنی خوشیوں کے لئے دوسروں کو مذاق اور مزاح کا نشانہ مت بنائیں ۔آپ ہمیشہ Positive کو اختیار کرنے اور Negative کو ترک کرنے کا درس دیاکرتے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں کہ پوزیٹو Positive جہاں سے بھی ملے لے لو اور نیگیٹو Negative سے دور رہو۔
میری آپ سے پہلی ملاقات علیمیہ کی پرانی بلڈنگ میں ٦ اگست ١٩٩١؁ء کو ہوئی جب میں داخلہ کے حصول کی خاطر حاضر ہوا تھا۔ پہلی ملاقات سے تاحال آپ کی شفقتوں ، محبتوں ، عنایتوں اور رشد و ہدایات کا سلسلہ جاری ہے زمانہ طالبعلمی جو کم وبیش سات سال پر محیط ہے اس کا ہر ہر لمحہ آپ کی نوازشوں کا امین ہے۔ آپ اپنے تمام طلباء سے یکساں سلوک اور رویہ رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر شاگرد یہ محسوس کرتا ہے کہ جو محبت اور شفقت اس کے ساتھ ہے شاید کسی دوسرے طالبعلم (شاگرد) کو یہ مقام حاصل نہیں ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اکثر تحدیثِ نعمت کے طور پر بیان بھی کرتا ہوں کہ ١٩٩٧؁ء کو جب میرا ایکسیڈنٹ ہوا اور بقائی ہسپتال میں ١٨ روز تک زیر علاج رہامجھے نہیں یاد کہ ان ١٨ دنوں میں سے کوئی ایک دن بھی ایسا ہو کہ جب استاد صاحب اپنی دعاؤں ، محبتوں اور شفقتوں کے گلدستہ کے ساتھ بقائی ہسپتال کی غالباً تیسری منزل پر میری عیادت کے لئے تشریف نہ لائے ہوں حتی کہ جب میں ہسپتال سے گھر شفٹ ہوا تو استاذ صاحب نے گھر پر آنے کی خواہش کااظہار فرمایا۔یہ اپنے ایک طالبعلم کے لئے عظیم استاد و مربی کی محبت وشفقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کا یہی رویہ ہر طالبعلم کے ساتھ کئی بار دیکھنے میں آیا ہے۔ آپ کی سخاوت اور طلباء کے ساتھ اعانت کا یہ عالم تھا کہ جب استاذ صاحب نے اپنی علالتِ طبع اور جسمانی ضعف کے باعث پرنسپل شپ سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اس منصب عالیہ کے لئے مجھ ناچیز کو منتخب فرمایا اور کارِ علیمیہ کو چلانے کاحکم ارشاد فرمایا تو ساتھ ہی طلباء کی ایک لسٹ بھی عطافرمائی جن کی استاذ صاحب ماہانہ بنیادوں پر اعانت فرماتے تھے۔اور اس طرح آپ ایسے طلباء کو جوباوجود اپنی ذہانت وخداداد صلاحیت کے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن اپنی ناداری و غربت کی وجہ سے شاید اعلیٰ تعلیم سے محروم ہوجاتے ایک عظیم تحفہ وعنایت تھی۔ استاذ صاحب کو علیمیہ سے ملنے والے وظیفہ کااکثر حصہ ان طلباء میں ہی تقسیم ہوجاتاتھا۔
استاذ صاحب کے دوبارہ علیمیہ جوائن کرنے تک اس امداد کو آپ کی طرف سے میں تقسیم کرتا رہا۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے پرزور اصرار پر علیمیہ کو دوبارہ جوائن کرنے کے بعد استاذ صاحب حسبِ سابق خود تقسیم کرتے رہے جوشاید تاحال جاری ہو۔ نہ صرف طلباء بلکہ کسی بھی شخص نے کبھی بھی استاذ صاحب سے کچھ طلب کیا ہوتو آپ نے کبھی بھی نہ صرف انکار نہیں فرمایا بلکہ واپسی کا تقاضا بھی کبھی نہیں کیا۔ واپس کردیا یا نہ کیا کبھی پرواہ نہیں فرمائی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ہر خواہش اورتمنا پوری فرمائی جس کا تذکرہ بطور تحدیثِ نعمت استاذ صاحب اکثر یوں بیان فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے میری ہر خواہش ہر آرزو پوری فرمائی اب کوئی خواہش باقی نہیں سوائے اس کے کہ ایمان کے ساتھ خاتمہ ہو”۔اور ویسے بھی نیکی سدا بہار چیز ہے کبھی ضائع نہیں جاتی اس ابدی صداقت کا ثبوت خود قرآن مجید میں بھی موجود ہے۔ان اللہ لایضیع اجر المحسنین۔ترجمہ:بے شک اللہ رب العزت نیکوکاروں کے نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا۔
علیمیہ سے استاذی مکرم کا تعلق نصف صدی سے زائد عرصہ پر مشتمل ہے آپ علیمیہ کے پہلے تین اساتذہ میں سے ایک ہیں جنہوں نے سفر علیمیہ کا آغاز فرمایا۔اور واحد استاذ ہیں جنھوں نے علیمیہ کی گولڈن جوبلی کے بعد تک بھی پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک اس ادارے کی خدمت کی۔ حضرت قبلہ ڈاکٹر انصاری صاحب کی دوربین اور دوررس نگاہوں نے آپ کی ذہانت، فطانت، دیانت،صداقت، علمیت، استقامت، ہمت،طاقت،اخلاص،تحمل اوربردباری کی وجہ سے علیمیہ کے آغاز سے قبل ہی آپ کو چن رکھاتھا جس کاتذکرہ حضرت انصاری صاحب کے خطوط جو آپ علیہ الرحمۃ نے استاذ صاحب کوتحریر فرمائے ہیں میں ملتاہے۔ سیدی واستاذی کوبھی حضرت ڈاکٹر انصاری صاحب سے والہانہ عقیدت ومحبت تھی اور ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے ٥٠ سال سے زائد عرصہ شجرعلیمیہ کی آبیاری میں بے لوث صرف فرمایا وہ بھی اس انداز سے کہ ہمہ وقت علیمیہ کی ترقی ، کامیابی و کامرانی کے لئے مصروف عمل رہے اب جب کہ آپ کی علالت کے باعث علیمیہ تشریف لانا مشکل ہوگیا ہے اس کے باوجود ہدایات و رہنمائی فرماتے رہتے ہیں اور ہمہ وقت علیمیہ کے احوال سے آگاہی حاصل کرتے رہتے ہیں اور جہاں جہاں مناسب خیال فرماتے ہیں ہدایات ارشاد فرماتے رہتے ہیں یعنی کہ اگرچہ آپ کی ظاہری آمد کا سلسلہ فی الحال منقطع ہے لیکن آپ کا قلبی اور روحانی تعلق مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔اس حدتک اخلاص وانسیت !(سبحان اللہ)
استاذ محترم کاتعلیم وتربیت کا اسلوب وانداز بھی سب سے منفرد اورجداگانہ ہے ۔ آپ انتہائی محبت و شفقت،دلکشی اورذمہ داری سے فرائض معلمی اداکرتے ہیں ۔ اورآپ کے آسان، سادہ مگر پُراثر اندازتعلیم سے طلباء میں غیر محسوس طریقے سے علم کے انوارات سرایت کرتے جاتے ہیں ۔ اس لئے یہ کہنا بجاہوگا کہ تعلیم و تربیت کے میدان میں آپ مشعل اور قندیل رہبری کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
تپش سہہ کراجالے دوسروں میں بانٹ دیتے ہیں
اندھیری رات میں چمکیں وہی ماہتاب ہوتے ہیں
استاذی مکرم ہمیشہ اپنے طلباء کی حوصلہ افزائی فرماتے رہتے ہیں اور مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ میں ان چند خوش نصیب طلباء میں سے ہوں جنہیں استاذی مکرم نے اپنی مسجد”جامع مسجد نور” واقع پی ای سی ایچ ایس بلاک ٢ میں اپنی موجودگی اور عدم موجودگی میں خطبہ جمعہ دینے کا موقع دیا یہ بھی ایک طرح کی تربیت کا انداز ہے آپ جب بھی دنیا کے کسی ملک کے تبلیغی دورے پر تشریف لے جاتے یا عمرہ کی سعادت کے لئے حرمین شریفین تشریف لے جاتے تو مجھے ہی حکم فرماتے کہ خطبہ جمعہ آپ کی عدم موجودگی میں اداکروں اسی طرح جب کبھی آپ کی طبیعت ناساز ہوتی یا خطبہ جمعہ میں گفتگو کاارادہ نہ ہوتاتوبھی آپ مجھ عاجز کو خطبہ جمعہ کے لئے حکم فرماتے ہیں جو میرے لئے سرمایہ افتخار اورباعث شرف ہے۔ الغرض استاذی مکرم نے مجھ پر اتنے احسانات اور کرم نوازیاں فرمائی ہیں کہ جن کو شمار کرنا اور احاطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
بھیڑ میں دنیا کی جانے وہ کہاں گم ہوگئے
کچھ فرشتے بھی رہاکرتے تھے انسانوں کے ساتھ
آخر میں آپ کی توجہ شاعر رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اس نعتیہ کلام کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جس میں حضرت حسان نے ان خیالات کا اظہار فرمایا کہ میری یہ تاب و تواں کہاں کہ میں حضور نبی مکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعریف وثناکرسکوں ، البتہ آپ کی تعریف کرنے سے میرابیان اورمقالہ قابل تعریف ہوجائے گا۔
ما ان مدحت محمداً بمقالتی
ولکن مدحت مقالتی بمحمد
راقم نے بھی اسی جذبہ کے تحت ان تاثرات کااظہار کیا ہے ورنہ بے مایہ علم کی یہ ہمت کہاں کہ سیدی استاذی مکرم جناب ابوفہیم محمد انواراللہ خان صاحب حفظہ اللہ کی شخصیت اور آپ کی خدمات دینیہ پر کچھ اظہار خیال کرسکے بلکہ مقصد صرف یہ ہے کہ چند سطور تحریر کرکے شاید یہ خاکسار اور عاجز بندہ بھی استاذی مکرم کے عقیدت مندوں کی صف میں شامل ہونے کا اہل ہوجائے ۔
دعا ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ استاذی مکرم کو صحت کاملہ عطافرمائے اور آپ کا سایہ ہم پر تادیر قائم رکھے اور ہمیں آپ سے مزید مستفیض ہونے کی توفیق عطافرمائے اور اللہ تعالیٰ آپ کی تمام مساعی جلیلہ و جمیلہ کوقبول فرمائے اور آپ کے فیوض وانوار سے ہم سب کو منور فرمائے اور ہمیں استاذ صاحب کی زندگی کو مشعل راہ بنانے کی توفیق عطافرمائے جس طرح استاذی مکرم نے ہماری تعلیم و تربیت فرمائی ہمیں اس امانت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔