مسواک ‘ سائنسی وطبی تحقیق – – – محمد رضی الدین معظم

محمد رضی الدین معظم
محمد رضی الدین معظم

مسواک ‘ سائنسی وطبی تحقیق

محمد رضی الدین معظم
مکان نمبر 20-3-866 ’’رحیم منزل ‘‘ ، شاہ گنج ، حیدرآباد ۔2
سیل: +914069990266, 09848615340

عہد عتیق سے آج تک ساری دنیا میں خواتین و حضرات منہ کی صحت وصفائی کے لئے ہمہ اقسام کی اشیاء استعمال کرتے آرہے ہیں ۔ جب ہم اوراق گذشتہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو کرہ ارض کے مختلف حصوں میں آثار قدیمہ کے ذریعہ جو کھدائیاں ہوئی ہیں ان میں اس بات کا مشاہدہ وصداقت پائی گئی ہے کہ ان کھدائیوں کے ذریعہ’’ بطور خلال چبائی جانے والی شاخیں ‘ درختوں کی کونپلیں‘ کپڑوں کی دھجیاں ‘ جانوروں کی ہڈیوں پرندوں کے پر‘ نیم کی کاڑیاں اور خرپشتوں ( سیہہ) کے کانٹے دستیاب ہوئے ہیں۔ لیکن ان سے تعلق رکھنے والی اشیاء ‘ جنہیں جدید دور کے ٹوتھ برش Tooth Brush کی پیش رو سمجھی جاتی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ سترہ اقسام کے پودے Plants ایسے دستیاب ہوئے جو انسانی جسم کی صحت و حفاظت کے ساتھ ساتھ منہ دانتوں مسوڑوں کے لئے ممدو معاون ہیں۔ لیکن ان پودوں میں جو سب سے زیادہ استعمال میں ہے بلکہ آج بھی بکثرت مستعمل ’’ پیلو‘‘ ( جال) کا درخت ہے جس کو عربی زبان میں ادراک اور انگلش میں Salvadora Persica سلواڈورا پرسیکا کہا جاتا ہے ۔ یہ پوداسرزمین حجاز مقدس مکہ کے قرب وجوار اور مشرق وسطی میں بکثرت دستیاب ہے ۔ یہ پودا ہندوستان میں بھی میوات کے علاقہ میں پایا گیا ۔

’’ مسواک ‘‘ دانتوں کی صفائی و تحفظ کی ضامن: سائنسی وطبی محقق کا کہنا ہے کہ دانتوں کی مکمل صفائی کا خیا ل نہ رکھا گیا تو دانتوں اور مسوڑوں پر ایک چکنی میل کی پتلی سی تہ چڑھ جاتی ہے ۔ جس کو پلیک کہتے ہیں پلیک ہی دراصل دانتوں او رمسوڑوں کی خرابی کا سبب ہے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہر صبح ٹوتھ برش سے دانتوں کی اچھی طرح صفائی کے بعد بھی پلیک کی یہ تہ باقی رہ جاتی ہے اگر دوسرے روزتک منہ کو اچھی طرح صاف نہ کیا جائے تو یہی پلیک کی تہ بڑھ کر دانتوں کے ساتھ مسوڑوں کو متورم کرنا شروع کردیتی ہے ۔ ایسی صورت میں بعض اوقات مسوڑوں میں سڑن پیدا ہوکر سوجن آجاتی ہے ۔ بلکہ اس میں پیپ سا مادہ بھر جاتا ہے اور ایسی خطرناک صورت میں ماہرین دندانDentist Experts کا مشورہ ناگزیر ہوجاتا ہے اور ماہرین دندان کی ہدایت کے مطابق عمل آوری ہی دانتوں کی صفائی وصحت کو برقرار رکھ سکتی ہے لیکن پھر بھی تجارتی منجنوں اور ٹوتھ پیسٹسTooth Pastes کے استعمال سے پلیک کی صفائی بہت حد تک کامیاب تو ہوجاتی ہے لیکن کثرت استعمال سے مسوڑوں کے ورم کی شرح میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے ۔ یہاں صرف پلیک کی صفائی کے لئے خطرہ مول لینا نہیں ہے بلکہ مسوڑوں کی بافتوں کو نقصان پہنچائے بغیر منہ دانتوں اور مسوڑوں کا تحفظ بھی ناگزیر ہے علاوہ ازیں جب ہم غذا استعمال کرتے ہیں ۔ تو غزا میں شامل ننھے ننھے ذرات دانتوں کی ساندوں و دراڑوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اور ان ذرات کی وجہ سے بیکٹیریاBacteria پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں بیکٹیریا کی پیدائش سے دانتوں کی صحت و حفاظت پر برا اثر پڑتا ہے اور دانتوں کے گرد ایک باریک سی تہہ چڑھ جاتی ہے جس کے باعث منہ سے بدبو آنے لگتی ہے دانت پہلے پہل خراب ہو کر پیلے ہوجاتے ہیں ایسی صورت میں ماہرین دندان کا کہنا ہے کہ جب کبھی بھی کوئی سی میٹھی اشیاء وغیرہ Sweets Etc. کا استعمال رہے تو صرف پانچ منٹ بعد ہی دانتوں کے گرد بیکٹیریا جمع ہو کر دانتوں کے ساتھ لپٹ جاتے ہیں اور ایک تہ سی بن جاتی ہے ۔ جس کو پلیک کہا جاتا ہے جس سے حالت نیند میں بخارات بنتے رہتے ہیں اور یہی بخارات معدے اور منہ کی طرف اٹھتے ہیں۔ انہیں بخارات کی وجہ منہ میں بدبو اور ذائقہ میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے ۔ لہذا ایسی صورتوں میں مسواک ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے تمام قسم کی خرابیاں ونقائص منہ سے دور ہوکر انسان کو روحانی مسرت وفرحت سے مشرف تاباں وشاداں اعزاز بخشتی ہیں ۔ اسی طرح مسواک کا استعمال حضرت انسان کے لئے عطیۂ اکرم ہے ۔
مسواک‘ اور انبیاء کرام کا طریق حسنہ : الحمد اللہ فرش زمین پر حضرت ابوالبشر سیدنا آدم صفی اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر حضورنبی آخر الزماں رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم تک جتنے بھی انبیاء کرام ومرسلین عظام علیہم الصلوٰۃ اجمین مبعوث ہوتے رہے ان تمام پیغمبروں کا طریق مسواک ورثہ وسنت رہی ہے حضور نبی کریم ممتاز معظم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مقدس تو یہ ہے کہ حضرت جبرائیل امین علیہ السلام مجھے ہمیشہ مسواک کی تاکید فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے قیاس ہوا کہ کہیں مجھ پر اورمیری امت پر مسواک فرض نہ ہوجائے ۔ حضور اکرم کو اپنی امت کی دشواریوں کا احساس نہ ہو تا توسچ مانئے کہ پنچ وقتہ نمازوں کی طرح مسواک بھی فرض بن جاتی ۔ حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مسواک کے استعمال سے نہ صرف منہ کی پاکیزگی حاصل ہوتی ہے بلکہ پاگیزگی اسلام میں نصف ایمان ہے تم لوگ اپنے کپڑوں کو دھولیا کرو بالوں کی اصلاح کیا کرو کنگھی کیا کرو مسواک کرکے زینت وپاکیزگی حاصل کرو( مشکوٰۃ شریف)‘ جب سے حضور پر نور نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک کے فضائل واہمیت کو واضح فرمایا ہے اس وقت سے آج تک الحمد للہ مسلمانان عالم نہ صرف مسواک کا بہ کثرت استعمال کررہے ہیں بلکہ مسواک جیسی طہورہ تقدیس آفریں شئی عطیہ اکرم ہے اس طرح سے دانتوں کی صحت وصفائی دین کے اعتبار سے بھی رہنمائی کا باعث بنی ۔ اگر چہ کہ مسواک کا ذکر قرآن مکرم میں نہیں ہے تاہم مسواک کے متعلق ذکر حضور اکرم کی احادیث مبارکہ میں موجود ہیں حدیث شریف کی معروف کتاب مشکوٰۃ شریف میں تو ایک پورا باب ملتا ہے جس میں صرف مسواک ہی سے متعلق چودہ احادیث شریف درج ہیں۔ ان احادیث مبارکہ میں سے صحیحین کی ایک روایت یہ ہے کہ حضور نبی ممتاز معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں اپنی امت پر اس بات کو گراں نہ سمجھتا تو حکم دیتا کہ نمازیں دیر سے پڑھیں اور ہر نماز کے لئے مسواک کرلیا کریں ( مشکوٰۃ شریف) حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس تعلیمات ہی کے فیوض وبرکات کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمانان عالم منہ کو صاف رکھنے مسواک کو دن رات کئی بار استعمال کرکے روحانی مسرت سے مشرف تاباں وشاداں اعزاز حاصل کئے ہوئے ہیں۔
’’ مسواک‘‘ احادیث نبوی کی روشنی میں :
(۱) مسواک کی فضیلت واہمیت میں بکثرت احادیث مروی ہیں حضور رسول معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر امت پر دشوار ہونے کا خوف نہ ہوتا تو میں ان پر نماز کے لئے مسواک واجب قرار دیتا ( بخاری ومسلم )
(۲) مسواک کرنا منہ کی پاکیز گری کا ذریعہ ہے اور بموجب رضائے حق سبحانہ وتعالیٰ وتقدس ہے ( بخاری) اور فرمایا جب بھی جبرئیل علیہ السلام آئے تو انہو ں نے مجھے مسواک کرنے کے لئے ضرور کہا کہ ( جبرئیل کی بار بار تاکید اور وصیت پر ) میں اپنے منہ کے اگلے حصہ کو مسواک کرتے کرتے گھس نہ ڈالوں( مسند احمد)
(۳) حضور اکرمؐ جب قرات قرآن کرنا یا سونے کا ارادہ فرماتے تو مسواک کرتے اور گھر میں داخل ہوتے ہی مسواک کرتے چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم کا شانہ اقدس میں داخل ہونے کے بعد سب سے پہلا کام جو کرتے وہ مسواک کرنا ہوتا تھا اور وضو اور نماز کے وقت بھی مسواک کرتے تھے
(۴) ابو نعیم اور بیہقی روایت کرتے ہیں کہ حضور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم دانتوں کے عرض پر مسواک کرتے تھے ۔ اور مواہب لدنیہ میں ہے کہ مسواک داہنے ہاتھ سے کرنا چاہئے یہ مستحب ہے ۔بعض شارح حدیث نے کہا ہے کہ مسواک میں یمن سے مرادیہ ہے کہ ابتداء داہنی طرف سے کرے ۔
(۵) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسواک رکھ دی جاتی تھی ۔ جب رات کو اٹھتے تو مسواک کرتے وضو کرتے ( بخاری ومسلم ۔ ابن سعد)
(۶) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول معظم کا معمول تھا کہ دن یا رات میں جب بھی آپ سوتے تو اٹھنے کے بعد وضو کرنے سے پہلے مسواک ضرور فرماتے ( معارف الحدیث ۔ مسند احمد ۔ سنن ابوداود)۔
پیلویا ادراک کی ’’ مسواک‘‘ کلمہ طیبہ سے مشرف ہونے کا اعزاز: سرزمین حجاز مقدس کے علاقوں میں دستیاب پیلویا ادراک کی ’’ مسواک‘‘ استعمال کرنے سے نہ صرف منہ دانتوں اور مسوڑوں کی صفائی ہوتی ہے بلکہ دانتوں کی بوسیدگی دور ہوکر دانتو ں کو مضبوط کرکے تقویت پہنچاتی ہے ۔ قوت حافظہ میں اضافہ کرتی ہے روزی کا سبب بنتی ہے ۔ ذائقہ کو تقویت بخشتی ہے ۔سب سے بڑھ کر پیلوکی ’’ مسواک‘‘ نہ صرف سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکمیل ہے بلکہ دم آخر’’ کلمہ طیبہ ‘‘ سے مشرف تاباں ہونے کا اعزاز ملتا ہے ۔ اس لئے یہی مسواک عالم انسانیت کے لئے عطیہ اکرم ہے ۔
’’ مسواک ‘‘ کی سائنسی وطبی تحقیق: سائنسی وطبی تحقیقات کی روشنی میں ’’ پیلو یا ادراک ‘‘ ایک چھوٹا سا جھنڈی دار پودا ہے ۔ جس کی لکڑی کو ’’ مسواک ‘‘ کانام دیا گیا ہے ۔اس کا تنا خمدار اور موٹائی قطر میں قریب ایک فٹ ہوتی ہے ۔ چھال کھردوری ‘شگاف دار اور قدرے سفید رنگ کی ہوتی ہے ۔ ذائقہ کسی قدر تیز و ترش ہوتا ہے ۔کیمیائی طور پر خشک شدہ تنے کی چھال کا جب تجربہ کیا گیا تو اس میں اسی (۸۰) فیصد الکحل اور باقی ایتھر نکلا‘ طویل کیمیائی تجزئے سے اجزائے ترکیبی کی نشاندہی عمل میں آئی
(۱) ٹرائی میتھیل امائینTrimetyIAmine
(۲) سلوا ڈورین Salvadorine
(۳) کلورائیڈCholoride
(۴) فلورائیڈFlouride اور سلیکاSilica کی وافر مقدار
(۵) گندھکSulphar
(۶) حیاتینVitamic
(۷) ٹینائینTannineسیاپونائین Saponine فلاوے نائیڈوFlavenide اور اسیٹرالSterol کی معمولی مقدار۔
’’ مسواک ‘‘ کی اقسام : یوں تومسواک کسی بھی درخت کی ہو مسواک کے فوائد سے بہرہ ور ہے لیکن کچھ مخصوص بیماریوں وعوارضات کے لئے قدرت نے بعض پودوں و درختوں میں خاص طور پر شفارکھی ہے ۔ پیلویعنی ادراک ایک ایسا پودا ہے جو سرزمین حجاز مقدس میں بکثرت دستیاب ہے ۔ ذیل میں چند پودوں ودرختوں کی مسواک کے بارے میں معلومات ملاحظہ فرمائیے:
(۱) نیم کی مسواک: اگر منہ سے بدبوآئے کیڑلگ جائے جھاگ یا کف بہتا رہتا ہو یا چہرے وجسم پر پھوڑے پھنسیاں ہوجانے پر ان تمام صورتوں میں نیم کی مسواک بے حد اکسیر ہے ۔
(۲) بادام و اخروٹ کی مسواک : بادام واخروٹ کی مسواک نظر کی کمزوری کے لئے خصوصاً فائدہ مند ہے اور دانتوں کے لئے بھی اکسیر ہے۔
(۳) پیپل کی مسواک: تپ دقT.B سل ‘ خونی بواسیر اور السر کے مریضوں کے لئے نہایت اکسیر ہے ۔
(۴) اسگندھ کی مسواک : اسکندھ کی مسواک دانتوں کے میل کچیل دور کرکے دانتوں کو موتیوں کی طرح چمکدار بنتادیتی ہے او رمسوڑؤں کا ورم اور زائد گوشت زائل ہوجاتا ہے ۔
ضروری نوٹ: یادرہے کہ انار‘ بانس‘ ریحان ‘ چنبیلی ‘ بوریا وغیرہ کی لکڑی وکاڑیوں سے مسواک کے طور پر دانتوں میں کرنا مکروہ ہے اور اس سے افلاس آتا ہے ۔
مسواک کے استعمال کا طریقہ : حضور نبی ممتاز معظم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم فرمان ہے کہ مسواک کوہمیشہ دانتوں کے اندر باہر اور اطراف خوب پھرا کر صاف کرلیا کرو۔ مسواک پہلے اوپر کی جبڑوں میں دائیں جانب ( سیدھی طرف) پھر بائیں جانب اس کے بعد نیچے دائیں جانب پھر بائیں جانب مسواک کو پھرایا کرو۔ مسواک کو مٹھی میں پکڑکر ہر گز استعمال نہ کریں بلکہ ہمیشہ سیدھے ہاتھ کی انگلیوں اور انگوٹھے سے تھام کر مسواک کرنی چاہئے ۔ بائیں ہاتھ سے مسواک کرنے کی بھی سخت ممانعت آئی ہے البتہ بحالت عذر شرعی ومجبوری بائیں ہاتھ سے مسواک کرنا درست ہے ۔ مروی ہے کہ جو کوئی لفظ ’’ شہیدٌ‘‘ کومسواک کرنے کے دوران بار بار دہراتیرہے تو انشاء اللہ دانت بڑھا پے میں بھی قائم رہیں گے ۔ بندہ عاجز عاصی محمد رضی الدین معظم کو جب اس بات کا علم بہ عمر چالیس سال ہوا تو الحمدللہ آج تک اپنی ناپائیدار کتاب زیست کے ۸۰ اوراق الٹنے کے باوجود بحمد اللہ ’’ شہید‘ شہید‘‘کاوردرکھتے ہوئے مسواک اور ٹوتھ برش کے استعمال سے بہ فضل تبارک و تعالیٰ ونبی رحمت کے صدقہ میں دانت صحیح وسلامت ہیں۔علاوہ ازیں لفظ شہیدٌ کے ساتھ سورہ انعام کے الفاظ لکل نباء مستقر و سوف تعلمون بھی بار بار دہراتے رہیں ۔
’’ مسواک‘‘ کے آداب : مسواک کے آداب کے بارے میں بھی چند باتیں یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسواک کا منہ نہ زیادہ نرم ہو نہ زیادہ سخت بلکہ درمیانی درجہ کا ہو ۔ مسواک ہمیشہ سیدھی لکڑی کی ہو گرہ درانہ ہو۔ سائز کے لحاظ سے مسواک کی موٹائی انگلی برابر ہونی چاہئے ۔ اور مسواک کا عام سائز ایک بالشت ہو ہمیشہ مسواک کھڑی حالت میں اور چھیلا ہوا حصہ اوپری جانب رہے ۔ مسواک کو دونوں جانب سے چھیلنا مکروہ ہے لیٹ کر مسواک کرنے کی ممانعت آئی ہے ۔ اس قسم کے عمل سے تلی یعنی طحال بڑھ جاتی ہے اور انگلی سے کم سائز کی مسواک کے استعمال سے پیچش کا عارضہ لاحق ہوتا ہے ۔ مسواک کو زمین پر نہ ڈالئے ۔ مسواک خشک ہوتو پانی سے تر کرکے نرم کرلیجئے ہر وضو کے ساتھ مسواک کی عادت ڈالئے یا پھر کم از کم دن میں تین مرتبہ مسواک کرتے رہئے ۔ ہر مرتبہ مسواک پانی سے بھگولینا چاہئے جس برتن لوٹا وغیرہ میں وضو یا پینے کا پانی ہواس میں مسواک کو ڈبا نے کی سخت ممانعت آئی ہے ۔ اسی طرح مسواک بیت الخلاء میں کرنا بھی سخت منع ہے ۔ حمامBath Room کے ساتھ ملحقہ بیت الخلاء ہو تو مضائقہ نہیں حمام میں غسل کے وقت مسواک کا استعمال درست ہے مسواک کو دونوں جانب سے استعمال کرنے کی سخت ممانعت آئی ہے۔
’’ مسواک‘‘ زرین مشورے ۔ ان اوقات میں ’’ مسواک ‘‘ کرنا مستحب ہے :
(۱) سونے کے بعد اٹھنے پر (۲) وضوکرتے وقت (۳) قرآن مجید کی تلاوت کے لئے (۴) حدیث شریف پڑھانے کے لئے (۵) منہ میں بدبو ہوجانے کے وقت یا دانتوں کے رنگ میں تغیر پیدا ہونے پر (۶) نماز میں کھڑے ہونے کے وقت اگر وضو اور نماز میں زیادہ فصل ہوگیا ہو ( ۷) ذکر الٰہی کرنے سے پہلے (۸) خانہ کعبہ یا حطیم میں داخل ہونے کے وقت ( ۹) اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد (۱۰) بیوی سے مقاربت سے پہلے (۱۱) کسی بھی مجلس خیر میں جانے سے پہلے (۱۲)بھوک پیاس لگنے کے وقت(۱۳) موت کے آثار پیدا ہوجانے سے پہلے(۱۴) سحر کے وقت(۱۵) کھانا کھانے سے قبل (۱۶) سفر میں جانے سے قبل (۱۷) سفر سے آنے کے بعد(۱۸) سونے سے قبل (۱۹) انگلی سے ’’ مسواک‘‘ کرنا بھی کافی ہے خواہ اپنی سے ہو یا دوسرے کی انگلی سے اور سخت ودرشت کپڑے سے ہوتب بھی کافی ہے (۲۰) مرض الموت میں حضور رسول معظم کا آخری عمل ’’مسواک‘‘ تھا۔
’’ مسواک‘‘ اور اقوال زرین:مسواک کی بے پناہ افادیت واہمیت کے پیش نظر ذیل میں انبیاء ‘ صدیقین‘ شہداء وصالحین کے اقوال زرین پیش ہیں۔
(۱) حضور نبی ممتاز معظم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حضرت جبرئیل امین ہمیشہ مسواک کی تاکید کرتے رہے سب سے پہلے جب میں رب تبارک وتعالیٰ کے قرب سے مشرف ہوا تو حضرت جبرائیل نے مجھے سب سے پہلے مسواک کروایا تھا ۔ لہٰذا تم بھی مسواک کو اپنا طریق بنالو کہ مسواک مجھے بے حد محبوب ومرغوب ہے ۔ بلکہ دم آخر مسواک کی پابندی تمہیں کلمہ طیبہ سے مشرف رکھے گی ۔
(۲) حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ حمیرا صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ مسواک موت کے سوا منہ کے ہر مرض کے لئے شفا ہے ۔
(۳) حضرت امیر المومنین سیدنا علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ مسواک حافظہ کو بڑھاتی ہے اور بلغم کو دور کرکے نظر کی کمزوری کو دور کرتی ہے ۔
(۴) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مسواک انسان کی فصاحت میں اضافہ کرتی ہے ۔
(۵) حضرت ابو درداؓء فرماتے ہیں کہ مسواک میں۲۴ خوبیاں ہیں جس میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بندہ خاص طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔(۶) حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ مسواک میں ۱۰ خوبیاں ہیں جن میں قابل ذکر دانتوں کی خوبصورتی کو بحال کرنا ‘ بینائی کی کمزوری کو رفع کرنا اور موت کو موخر کرنا ہے۔
(۷) ممتاز عالم دین حضرت علامہ مولانا الحاج مفتی محمد رحیم الدین صاحب فرماتے ہیں کہ مسواک منہ کو صاف رکھتی ہے اس کی مداومت سے روزی آسان ہوجاتی ہے ۔ عقل فہم و فراست میں خوب اضافہ ہوتا ہے اور بدنی حرارت دور کرکے کمر کو مضبوط کرتی ہے ۔
دانتوں کے امراض کا مجرب علاج :
(۱) داڑھ کا درد ہو تو انگشت شہادت داڑھ پر رکھ کر سورہ یٰسین اور آیت ۶۷ سورہ انعام پڑھنے سے انشاء اللہ فوری آرام ہوگا ‘ آزمودہ ہے ۔
(۲) رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے حسنہ میں سے ایک اسم مبارک شہید بھی ہے لہٰذا دانت مانجھتے وقت خواہ ٹوتھ برش ہو یا مسواک شہید شہید اور آیت ۶۷ سورہ انعام کا ورد مسلسل رکھنے سے انشاء اللہ دانتوں کے امراض سے محفوظ رہیں گے بلکہ بڑھا پے میں بھی دانت قائم رہیں گے۔
(۳) قرآنی آیت : لکل نبا مستقر و سوف تعلمون( آیت ۶۷ سورہ انعام پارہ ۷) کو انگشت شہادت پر دم کرکے دانت پر رکھنے سے انشا ء اللہ دانت کا درد دور ہوجائے گا ۔
(۴) سورہ فاتحہ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کے آخری میم سے ملاکر اکتالیس مرتبہ نماز فجر کی سنت اور فرض کے درمیان پڑھ کر دم کرکے دانتوں پر پھیر نے سے انشاء اللہ درد فوری دور ہوجائیگا۔
(۵) جب بھی منہ پک جائے تب ایک گلاس بھر پانی لیجئے اس پر وَالجُرُوْحُ ۲۱ بار پڑھ کر پانی پر دم کرکے ایک گھونٹ پانی الگ کرلیجئے اور باقی ماندہ پانی سے باربارکلیاں کیجئے پھرآخر میں جو پانی نکال کررکھے تھے وہ پی لیجئے انشاء اللہ ایک ہی روزمیں فائدہ ہوگا ۔ یہ عمل نہارپیٹ کرنا زیادہ بہتر ہے –
Article : Miswak
Written by : Md Razi Uddin Moazzam

۲ thoughts on “مسواک ‘ سائنسی وطبی تحقیق – – – محمد رضی الدین معظم”

Comments are closed.