ایک روزہ قومی کانفرنس’’مرزا اسد اللہ خان غالب:ادبی و فکری جہات


ایک روزہ قومی کانفرنس’’مرزا اسد اللہ خان غالب:ادبی و فکری جہات

ڈاکٹر تہمینہ عباس
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ اردو،
جامعہ کراچی

شعبۂ اردو جامعہ کراچی کے زیر اہتمام مورخہ ۱۸ ، فروری؍ ۲۰۱۹ء ، بروز پیر کو ایک روزہ قومی کانفرنس ’’مرزا اسد اللہ خان غالب: ادبی و فکری جہات ‘‘ کا انعقادکلیہ فنون و سماجی علوم کی سماعت گاہ میں کیا گیا۔افتتاحی اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول سے ہوا۔

افتتاحی نشست کی نظامت شعبۂ اردو جامعہ کراچی کی استادڈاکٹر راحت افشاں اور صدارت شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل نے کی۔اس اجلاس میں مہمانِ خصوصی محمود شام ایڈیٹر انچیف روزنامہ جنگ اور ڈاکٹر خالد ندیم ، شعبۂ اردو ،سرگودھا یونیورسٹی تھے۔شعبۂ اردو کی صدر نشین پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے خطبۂ استقبالیہ میں غالب کے ڈیڑھ سو سالہ یوم وفات کے حوالے سے تہذیبی اور فکری تناظر میں غالب کی شاعری کے اثرات کا جائزہ پیش کیا اورتمام مہمانوں ، طلبہ و طالبات، اساتذہ اور معززین کو خوش آمدید کہا۔پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے ’’ ایک روزہ قومی کانفرنس ’’ مرزا اسد اللہ خان غالب: ادبی و فکری جہات‘‘ کو سراہتے ہوئے کہا کہ کانفرنسز تحقیق اور نئے مباحث کو جنم دیتی ہیں اور ایک چھوٹا سا خیال ایک نئی ایجاد کا سبب بن جاتا ہے۔اس لیے دیگر شعبوں کو بھی خیالات کے تبادلے اور تحقیق کے لیے اس قسم کی کانفرنسز کا انعقاد کرنا چاہیے۔محمود شام ایڈیٹر انچیف روزنامہ جنگ نے اپنے خطبے میں غالب کے موجودہ معاشرے پر اثرات کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا۔ڈاکٹر خالد ندیم نے غالب کی فکری جہات پر روشنی ڈالی۔پہلی علمی نشست کی نظامت ڈاکٹر شمع افروز نے اور صدارت ڈاکٹر خالد ندیم (سر گودھا)نے کی۔اس نشست میں ڈاکٹر طاہر قریشی ،ڈاکٹر صدف فاطمہ ،ڈاکٹر عظمی حسن،ڈاکٹر راحت افشاں اور ڈاکٹر عبدا لوہاب سوری نے اپنے مقالات پیش کیے۔دوسری علمی نشست کی نظامت ڈاکٹر تہمینہ عباس نے اور صدارت ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے کی۔اس نشست میں نزہت انیس،شبنم امان ، ڈاکٹر شمع افروز،ڈاکٹر ذکیہ رانی ،ڈاکٹر سمیرا بشیر نے اپنے مقالے پیش کیے۔تیسر ی علمی نشست کی نظامت محمد سلمان نے اور صدارت ڈاکٹر شاداب احسانی نے کی۔اس نشست میں شہنیلا نازنین ، ڈاکٹر انصار احمد، ڈاکٹر تہمینہ عباس ، ڈاکٹر رخسانہ صبا، ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے اپنے مقالے پیش کیے۔اس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے مقالوں کے عنوانات درج ذیل ہیں۔
غالب کی زمین میں عدم کی ایک غزل:چند معروضات،
خطوط غالب کے لسانی زاویے،
غالب اور چند ہم عصر شعراء،
اقدار، امکانات اور تغلب غالب ،
غالب کی بے زبانی :غالب کی شوخی یا بے بسی،
غالب کی نعت گوئی اور کچھ نقاد،
غالب بحیثیت مؤرخ،
غالب اور میں،
مرزا اسد اللہ خان غالب کے شعری پیمانے،
غالب کی شاعری میں ذکر وفا،
غالب اور دستنبو،
غالب کے چند اشعار اور ان کے شارحین،
غالب کے ظریفانہ رنگ میں المیہ اور نشاطیہ عناصر،

اختتامی نشست کی صدارت رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے کی۔اس نشست کے مہمانِ خصوصی بے نظیر بھٹو(شہید )یونیورسٹی لیاری کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر اختر بلوچ تھے۔ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ اور ڈاکٹر اختر بلوچ نے اپنے خطبات میں شعبۂ اردو جامعہ کراچی کے تحت منعقد ہونے والی اس کانفرنس کو بے حد سراہا۔ اور صدر نشین شعبۂ اردو ڈاکٹر تنظیم الفردوس کو بے حد مبارکباد پیش کی۔
مہمان خصوصی اور رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم نے مقالہ نگاروں، مہمانوں اور شعبۂ اردو کے اساتذہ کوشعبۂ اردو ،جامعہ کراچی کی جانب سے یادگاری شیلڈز پیش کیں۔صدر نشین شعبۂ اردو ،پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے آخر میں اظہار تشکر پیش کیا اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ جن کے تعاون اور محنت کے باعث یہ کانفرنس بے حد کامیاب رہی
—-

One thought on “ایک روزہ قومی کانفرنس’’مرزا اسد اللہ خان غالب:ادبی و فکری جہات”

Comments are closed.