نئی نسل کو غالب کے کارناموں سے واقف کرایا جائے :- قمر الدین صابری اردو فاؤنڈیشن


نئی نسل کو غالب کے کارناموں سے واقف کرایا جائے

قمر الدین صابری اردو فاؤنڈیشن
کے زیر اہتمام ’’ جشن غالب ‘‘ پروگرام

حیدرآباد( 30ڈسمبر۔ای میل) غالب انیسویں صدی کی ایک عبقری اور عہد ساز شخصیت تھے۔انہوں نے اپنی شاعری اپنے مکاتیب اور اپنی شخصیت کی گوناگوں خصوصیات کے سبب نہ صرف اردو بلکہ عالمی ادب پر گہرے نقوش چھوڑے جس کے سبب ہر عہد میں ان کی یاد منائی جاتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ فکر غالب کے اہم پہلوؤں کو نئی نسل سے متعارف کرایا جائے اور غالب کی انفرادیت کو سمجھا جائے ان خیالات کا اظہار مختلف دانشوروں ‘شعرا‘ادیبوں اور اساتذہ نے اردو کے نامور شاعر مرزا اسداللہ خان غالب کے یوم پیدائش کے ضمن میں قمر الدین صابری اردو فاؤنڈیشن حیدرآباد کے زیر اہتمام اشرف المدارس ہائی اسکول یاقوت پورہ حیدرآباد میں منعقدہ ایک روزہ ’’جشن غالب ‘‘ پروگرام سے خطاب کے دوران کیا۔ پروفیسر ایم ایم انور پرنسپل سائنٹسٹ و سرپرست اعلیٰ قمر الدین صابری اردو فاؤنڈیشن حیدرآباد نے تقریب کی صدارت کی۔ڈاکٹر محمد ناظم علی پرنسپل موظف ‘ پروفیسر محمد انور الدین سابق صدر شعبہ اردو یونیورسٹی آف حیدرآباد اور نامور شاعر اور صدر اشرف المدارس ہائی اسکول جناب اسلم فرشوری نے بہ طور مہمان خصوصی اس پروگرام میں شرکت کی۔ پروگرام کے آغاز کے موقع پر اشرف المدارس ہائی اسکول کے طلباء نے غالب کی غزلیں تمثیلی انداز میں پیش کیں۔ ڈاکٹر محمد ناظم علی نے غالب شخصیت اور فن پر گفتگو کی اور کہا کہ غالب شخصیت اور کارناموں کے اعتبار سے منفرد تھے۔ وہ خود دار شخصیت کے مالک تھے انہوں نے کبھی اپنی ذات سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ شاعری میں انہوں نے جو فکر و فلسفہ پیش کیا وہ آج بھی عالمی سطح پر نئے افکار کو جنم دیتا ہے۔ انہوں نے مکتوب نگاری کے ذریعے دور رہ کر آپسی گفتگو کو جو انداز پیش کیا وہ ان سے شروع ہو کر ان ہی پر ختم ہوتا ہے۔بہ حیثیت انسان غالب ظریف مزاج اور ہمدرد تھے غریبوں کی دل کھول کر مدد کرتے تھے۔ اسکولی طلباء غالب کی شخصیت کو پروگراموں کے ذریعے پیش کریں۔ پروفیسر محمدا نور الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری جامعات میں آج بھی غالب پر نئے انداز سے تحقیق ہورہی ہے جو غالب کی انفرادیت کی دلیل ہے۔ غالب ایک جئنیس شاعر تھے انہوں نے اپنی ذہانت سے فطرت اور قدرت کے کارخانوں سے پردہ اٹھایا۔ عالمی ادب میں غالب کا اہم مقام ہے۔ پروفیسر ایم ایم انور نے کہا کہ غالب کے شعری و ادبی سرمایے سے استفادے کی ضرورت ہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ غالب کے پیغام کو دیگر زبانوں میں پیش کیا جائے۔ اور ہماری نئی نسل کو غالب کی عظمت سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے قمر الدین صابری فاؤنڈیشن اور انجمن قلم کاران دکن کے تحت منعقدہ ماہانہ ادبی اجلاسوں کی اہمیت اجاگر کی اور فروغ اردو کے لیے جہد مسلسل پر زور دیا ڈاکٹر نکہت آرا شاہین پرنسپل اورینٹل اردو کالج حمایت نگر نے غالب کی حیات اور خدمات پر مقالہ پیش کیا اور انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔نامور شاعر جناب اسلم فرشوری نے غالب کی شعری انفرادیت کو اجاگر کیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ غالب کے پیغام کو نئی نسل تک پہونچانے کے لیے ان کی حیات اور خدمات کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے طلباء کو مشورہ دیا کہ اردو مادری زبان میں اظہار خیال کی صلاحیت کو پرون چڑھائیں۔ ادبی اجلاس کے بعد مدعو شعرا ولی محمد زاہد ہریانوی ‘زعیم ذومر ؔ اور اسلم فرشوری نے غالب کے مصرعہ طرح پر غزلیں پیش کیں۔ اشرف المدارس ہائی اسکول کے اساتذہ محترمہ نازیہ فاطمہ نے تقریب کی نظامت انجام دی۔اور جناب مجاہد صاحب نے شکریہ ادا کیا ۔ اس پروگرام میں طلباء اور سامعین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔